Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1249

1249 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا حُمَيْدٌ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأنَا رِدْفُ أَبِي طَلْحَةَ، يَقُولُ: «لَبَّيْكَ بِحِجَّةٍ وَعُمْرَةٍ مَعًا» ،

حضرت انس بن مالک ؓبیان کرتے ہیں:میں نے نبی اکرمﷺکو سناء میں اس وقت حضرت ابوطلحہؓ کے پیچھے سوار تھا۔ نبی اکرم ﷺیہ پڑھ رہے تھے۔ "میں حج اور عمرہ ایک ساتھ کرنے کے لیے حاضر ہوں۔"

«لَبَّيْكَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ مَعًا» ← رَسُولَ اللَّهِ وَأنَا رِدْفُ أَبِي طَلْحَةَ، ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1249

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1250

1250 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ سُلَيْمَانَ عِرِّيفُ بَنِي زُهْرَةَ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ هَذَا

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت انس بن مالک ؓ سے منقول ہے۔

رَسُولِ اللَّهِ مِثْلَ هَذَا ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← مُصْعَبُ بْنُ سُلَيْمَانَ عِرِّيفُ بَنِي زُهْرَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1250

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1251

1251 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا حُمَيْدٌ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: «احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَمَهُ عَبْدٌ لحَيٍّ مِنَ الْأَنْصَارِ، يُقَالُ لَهُمْ بَنُو بَيَاضَةَ، يُسَمَّى أَبَا طَيْبَةَ، فَأَعْطَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاعًا، أَوْ صَاعَيْنِ، أَوْ مُدًّا، أَوْ مُدَّيْنِ، وَكَلَّمَ مَوَالِيَهُ فَخَفَّفُوا عَنْهُ مِنْ ضَرِيبَتِهِ» يَعْنِي خَرَاجَهُ

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺنے پچھنے لگوائے انصار کے کسی قبیلے کے ایک غلام نے آپ ﷺکو پچھنے لگائے تھے اس قبیلے کا نام ”بنو بیاضہ "تھا اور اس شخص کا نام ابوطیبہ تھا۔ نبی اکرمﷺنے اسے ایک صاع یا دو صاع، ایک مد یا دومد ( معاوضے کے طور پر )عطا کیے اور آپ ﷺنے اس کے آقاؤں سے بات چیت کی ،تو انہوں نے اس کے ذمے لا زم ادائیگی کوکم کر دیا ،یعنی اس کے ذمے خراج کوکم کردیا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1251

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1252

1252 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَسْهَمَ النَّاسَ الْمَنَازِلَ، فَطَارَ سَهْمُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَلَى سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: تَعَالَ حَتَّى أُقَاسِمَكَ مَالِي، وَأَنْزِلَ لَكَ عَنْ أَيِّ امْرَأَتَيَّ شِئْتَ، فَأَكْفِيَكَ الْعَمَلَ [ص:317]، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ، دُلُّونِي عَلَى السُّوقِ، فَخَرَجَ، فَأَصَابَ شَيْئًا فَخَطَبَ امْرَأَةً، فَتَزَوَّجَهَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَى كَمْ تَزَوَّجْتَهَا؟» ، قَالَ: عَلَى نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ»

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں، نبی اکرمﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے، تو لوگوں کو مختلف جگہ پرٹھہرایا گیا حضرت عبدالرحمان بن عوف ؓ، حضرت سعد بن ابی ربیعؓ کے ہاں مہمان ٹھہر ے تو حضرت سعد ؓنے ان سے کہا: آیئے میں اپنامال آپ کے ساتھ تقسیم کر لیتا ہوں اور آپ میری جس بیوی کے بارے میں چاہیں گے میں اس سے دستبردار ہو جاؤں گا اور آپ کی جگہ کام میں کر لیا کروں گا۔ تو حضرت عبدالرحمان بن عوف ؓنے ان سے کہا: الله تعالیٰ آپ کے اہل خانہ میں آپ کے مال میں برکت نصیب کرے!آپ بازار کی طرف میری رہنمائی کر دیں، پھر حضرت عبدالرحمان بن عوفؓ باز ارتشریف لے گئے انہیں کچھ آمدن حاصل ہوئی تو انہوں نے ایک خاتون کو شادی کا پیغام بھیجا اور اس کے ساتھ شادی کر لی ،تو نبی اکرمﷺنے ان سے دریافت کیا:تم نے کتے مہرکے عوض میں اس کے ساتھ شادی کی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: سونے کی گٹھلی کے عوض میں ،تو نبی اکرم ﷺنے فرمایا:ولیمہ کرو! خواہ ایک بکری ذبح کر کے دعوت دو۔

حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1252

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1253

1253 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا حُمَيْدٌ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَحَكَّهَا، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ مُغْضَبًا، فَقَالَ: «أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يُبْصَقَ فِي وَجْهِهِ» ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا أَقَامَ فِي الصَّلَاةِ فَإِنَّمَا يُوَاجِهُ رَبَّهُ، فَلَا يَبْزُقْ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلَكِنْ لِيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ، أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى، فَإِنْ عَجَّلَتْ بِهِ بَادِرَةٌ، فَلْيَجْعَلْهَا فِي ثَوْبِهِ، وَلَيْقُلْ بِهَا هَكَذَا» ، وَأَشَارَ الْحُمَيْدِيُّ إِلَى طَرْفِ ثَوْبِهِ فَدَلَّكَهُ

حضرت انس بن مالک ؓبیان کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺنے مسجد میں قبلہ کی سمت میں بلغم لگاہوا دیکھا تو اسے کھرچ دیا آپ ﷺغصے کے عالم میں لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور یہ ارشاد فرمایا:کیا کوئی شخص اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کے چہرے کی طرف تھوک دیا جائے؟ جب بندہ نماز کے دوران کھڑا ہوتا ہے ،تو وہ اپنے پروردگار کے سامنے ہوتا ہے اس لیے کوئی شخص اپنے دائیں طرف یا سامنے کی طرف نہ تھوکے ،بلکہ اپنے بائیں طرف یا اپنے بائیں پاوں کے نیچے تھوکے ،اگرا سے زیادہ جلدی اور تیزی میں تھوک آرہا ہو ،تو پھر وہ اسے کپڑے میں تھوک کر اس کو اس طرح مل دے۔حمیدیؒ نامی راوی نے اپنے کپڑے کے کنارے کی طرف اشارہ کر کے اسے مل کر دکھایا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1253

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1254

1254 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ الْقُرْدُوسِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَمَى الْجَمْرَةَ، وَنَحَرَ نُسُكَهُ، نَاوَلَ الْحَالِقَ شِقَّهُ الْأَيْمَنَ، فَحَلَقَهُ، ثُمَّ نَاوَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شِقَّهُ الْأَيْسَرَ، فَحَلَقَهُ، ثُمَّ نَاوَلَهُ أَبَا طَلْحَةَ وَأَمَرَهُ أَنْ يُقَسِّمَهُ بَيْنَ النَّاسِ»

حضرت انس بن مالک ؓبیان کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺنے جب ’’جمرہ‘‘ کی رمی کر لی اور قربانی کا جانور ذبح کر لیا تو آپ ﷺنے اپنے سر کا دایاں حصہ سر مونڈنے والے کی طرف بڑھایا اور اس نے اسے مونڈ دیا پھر نبی اکرم ﷺنے بایاں حصہ اس کی طرف بڑھایا تو اس نے اسے بھی مونڈ دیا پھر نبی اکرم ﷺنے اپنے موئے مبارک حضرت ابوطلحہ ؓکو دیئے اورا نہیں یہ ہدایت کی :وہ انہیں لوگوں کے درمیان تقسیم کر دیں۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانٍ الْقُرْدُوسِيُّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1254

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1255

1255 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُصْعَبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: «أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ فَجَعَلَ يُقَسِّمُهُ، وَهُوَ مُحْتَفِزٌ، وَهُوَ يَأْكُلُ أَكْلًا ذَرِيعًا»

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺکی خدمت میں کھجور یں لائی گئیں، تو آپ ﷺنے انہیں تقسیم کرنا شروع کردیا۔ آپ ﷺغیر آرام دہ حالت میں (یعنی پاؤں کے بل)بیٹھے ہوئے تھے اور آپ ﷺتیزی سے انہیں کھارہے تھے۔

«أَتَى النَّبِيُّ بِتَمْرٍ فَجَعَلَ يُقَسِّمُهُ، وَهُوَ مُحْتَفِزٌ، وَهُوَ يَأْكُلُ أَكْلًا ذَرِيعًا» ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← مُصْعَبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1255

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1256

1256 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، وَأَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُمَا سَمِعَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: «دَبَّرَ رَجُلٌ غُلَامًا لَهُ لَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، فَبَاعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ النَّحَّامِ» قَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ: قَالَ جَابِرٌ: " عَبْدًا قِبْطِيًّا مَاتَ عَامَ الْأَوَّلِ فِي إِمَارَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ زَادَ أَبُو الزُّبَيْرِ: «اسْمُهُ يَعْقُوبُ الْقِبْطِيُّ»

حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں:ایک شخص نے اپنے غلام کومد بر کر دیا ،اس کے پاس اس غلام کے علاوہ کوئی مال نہیں تھا، تو نبی اکرم ﷺنے اس غلام کوفروخت کروادیا حضرت نعیم بن نحامؓ نے اسے خرید لیا۔عمرو بن دینار کہتے ہیں:حضرت جابر ؓ نے یہ بات بیان کی ہے ،وہ ایک قبطی غلام تھا، جو حضرت عبد الله بن زبیر ؓکی حکومت کے پہلے سال میں فوت ہوا تھا۔ابوز بیر نامی راوی نے یہ الفاظ اضافی نقل کیے ہیں۔ اس کا نام "یعقوب قبطی‘‘تھا۔

عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← «دَبَّرَ رَجُلٌ غُلَامًا لَهُ لَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، فَبَاعَهُ النَّبِيُّ فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ النَّحَّامِ» ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُمَا سَمِعَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1256

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1257

1257 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، وَأَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُمَا سَمِعَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ قَائِمٌ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَصَلَّيْتَ؟» ، قَالَ: لَا، قَالَ: «فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ» [ص:320] قَالَ سُفْيَانُ: وَسَمَّى أَبُو الزُّبَيْرِ فِي حَدِيثِهِ الرَّجُلَ سُلَيْكَ بْنَ عَمْرٍو الْغَطَفَانِيَّ

حضرت جابر بن عبد الله ؓبیان کرتے ہیں:ایک شخص مسجد میں داخل ہوا نبی اکرم ﷺاس وقت منبر پر موجود جمعے کا خطبہ دے رہے تھے۔ نبی اکرم ﷺنے اس سے دریافت کیا:کیا تم نے نماز ادا کر لی ہے؟ اس نے عرض کی:جی نہیں ۔ نبی اکرمﷺنے فرمایا:تم دورکعت نماز ادا کرلو۔ سفیان نامی راوی کہتے ہیں ابوزبیر نامی راوی نے اس روایت میں ان صاحب کا نام حضرت سلیک بن عمر عطفانیؓ "بیان کیا ہے۔

«فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ» [ص:320] ← لَا۔ ← النَّبِيُّ «أَصَلَّيْتَ؟» ← دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ وَالنَّبِيُّ عَلَى الْمِنْبَرِ قَائِمٌ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، وَأَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُمَا سَمِعَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1257

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1258

1258 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا حَسَّانُ بْنُ جَعْدَةَ، قَالَ: «رَأَيْتُ الْحَسَنَ بْنَ أَبِي الْحَسَنِ دَخَلَ مَسْجِدَ وَاسِطَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَابْنُ هُبَيْرَةَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَجَلَسَ»

حسان نامی راوی کہتے ہیں: میں نے حسن بن ابوالحسن کو"مسجد واسط "میں جمعہ کے دن داخل ہوتے دیکھا اس وقت ابن ہبیر ہ منبر پر خطبہ دے رہا تھا ،تو انہوں نے پہلے دو رکعت ادا کیں پھر وہ بیٹھے۔

حَسَّانُ بْنُ جَعْدَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1258

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1259

1259 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، فَقَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: كُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرُ أَهْلِ الْأَرْضِ» قَالَ جَابِرٌ: «لَوْ كُنْتُ أُبْصِرُ لَأَرَيْتُكُمْ مَوْضِعَ الشَّجَرَةِ»

حضرت جابر بن عبداللهؓ بیان کرتے ہیں: حدیبیہ کے دن ہم لوگ 1400 کی تعداد میں تھے۔ نبی اکرمﷺنے فرمایا: آج کے دن تم لوگ روئے زمین کے سب سے بہتر فرد ہو۔حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں :اگر میری بصارت کام کرتی ہوتی، تو میں تمہیں اس درخت کی جگہ دکھاتا۔

جابر لو كنت أبصر لأريتكم موضع الشجرة ← لنا رسول الله أنتم اليوم خير أهل الأرض ← کُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1259

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1260

1260 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَخْزُومِيَّ، يَقُولُ: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ، وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ؟ فَقَالَ: «نَعَمْ، وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ»

محمد بن عباد بیان کرتے ہیں:میں نے حضرت جابر بن عبداللہ انصاری ؓ سے دریافت کیا:وہ اس وقت بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے کیا نبی اکرم ﷺنے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا:اس گھر کے پروردگار کی قسم!جی ہاں ۔

صيام يوم الجمعة فقال نعم ورب هذا البيت ← قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ، وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَخْزُومِيِّ ← عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1260

chevron_left Previous
1…101112…112
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter