Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثَا أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 871

871 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا خَرَجَ إِلَى حُنَيْنٍ مَرَّ بِشَجَرَةٍ يُقَالُ لَهَا ذَاتُ أَنْوَاطٍ، يُعَلِّقُ الْمُشْرِكُونَ عَلَيْهَا أَسْلِحَتَهُمْ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اجْعَلْ لَنَا ذَاتَ أَنْوَاطٍ كَمَا لَهُمْ ذَاتُ أَنْوَاطٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُ أَكْبَرُ، هَذَا كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ {اجْعَلْ لَنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ} [الأعراف: 138] ، لَتَرْكَبُنَّ سَنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ "

حضرت ابو اقد لیثی ؓ بیان کرتے ہیں :جب نبی اکرمﷺحنین کی طرف نکلے ،تو آپ ﷺکا گزر ایک درخت کے پاس سے ہوا جس کا نام "ذات انواط "تھا۔ مشرکین اپنا اسلحہ اس پر لٹکایا کرتے تھے۔لوگوں نے عرض کی یارسول اللهﷺ!ہمارے لیے بھی کوئی ذات انواط مقرر کر دیں جس طرح ان لوگوں کاذات انواط تھا، تو نبی اکرم ﷺنے فرمایا:اللہ اکبر! یہ تو اسی طرح ہے ،جس طرح بنی اسرائیل نے کہا تھا:"تم ہمارے لیے بھی اسی طرح کا معبود بنادو جس طرح ان کا معبود ہے۔ "(پھر نبی اکرم ﷺنے فرمایا:) تم لوگ اپنے پہلے کے لوگوں کے طریقوں پرضرورعمل کروگے۔

أبي واقد الليثي ← سنان بن أبي سنان ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 871

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثَا أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 872

872 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا ضَمْرَةُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَازِنِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُتْبَةَ، يَقُولُ: خَرَجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي يَوْمِ عِيدٍ فَسَأَلَ أَبَا وَاقِدٍ اللَّيْثِيَّ «بِأَيَّ شَيْءٍ قَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟» قَالَ أَبُو وَاقِدٍ: «بِقَافٍ، وَاقَتْرَبَتْ»

عبید اللہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: عید کے دن حضرت عمر بن خطابؓ تشریف لائے انہوں نے حضرت ابواقد لیثیؓ سے دریافت کیا: اس دن نبی اکرم ﷺنے کون سی سورت کی تلاوت کی تھی؟ تو حضرت ابواقدؓنے جواب و یا بسورہ ق اور سورہ اقتربت کی۔

أَبُو وَاقِدٍ: «بِقَافٍ، وَاقَتْرَبَتْ» ← اقِدٍ اللَّيْثِيَّ: بِأَيِّ شَيْءٍ قَرَأَ النَّبِيُّ ← خَرَجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي يَوْمِ عِيدٍ فَسَأَلَ أَبَا ← عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُتْبَةَ ← ضَمْرَةُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَازِنِيُّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 872

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 873

873 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ فِي الدُّنْيَا عُذِّبَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

حضرت ثابت بن ضحاک ؓ روایت کرتے ہیں ،نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے:جوشخص دنیا میں جس چیز کے ذریعے خودکشی کرے گا قیامت کے دن اسے اسی چیز کے ذریعے عذاب دیا جائے گا۔

ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 873

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 874

874 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: تَهَبَّطْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ثَنِيَّةٍ، فَقَالَ لِي: «قُلْ يَا عُقْبَةُ» ، فَقُلْتُ: مَا أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، وَتَفَرَّقَنَا، فَقُلْتُ: اللَّهُمَّ رُدَّهَا عَلَيَّ مِنْ نَبِيِّكَ، ثُمَّ الْتَقَيْنَا، فَقَالَ لِي: «قُلْ يَا عُقْبَةُ» ، فَقُلْتُ: مَا أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ ثُمَّ تَفَرَّقْنَا، فَقُلْتُ: اللَّهُمَّ رُدَّهَا عَلَيَّ مِنْ نَبِيِّكَ، ثُمَّ الْتَقَيْنَا، فَقَالَ لِي: «قُلْ يَا عُقْبَةُ» ، فَقُلْتُ: مَا أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: «قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ، وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ، مَا تَعَوَّذَ مُتَعَوِّذٌ وَلَا اسْتَعَاذَ مُسْتَعِيذٌ بِمِثْلِهِنَّ قَطُّ»

حضرت عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں:میں نبی اکرم ﷺکے ساتھ ایک گھاٹی سے نیچے اتر رہا تھا آپﷺنے فرمایا: اے عقبہ اتم یہ پڑھو۔ میں نے عرض کی :یارسول اللہﷺ! میں کیا پڑھوں۔پھر ہم الگ ہو گئے : میں نے دعا کی:اے اللہ! تو اپنے نبیﷺکی طرف سے وہ چیز مجھے لوٹا دے۔ پھر ہماری ملاقات ہوئی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے عقبہ !تم پڑھو میں نے عرض کی یارسول اللہ ﷺ! میں کیا پڑھوں؟ پھر ہم جدا ہو گئے میں نے عرض کی:اے اللہ! تو اپنے نبیﷺکے زریعے وہ چیز مجھ تک لوٹادے۔ پھر ہماری ملاقات ہوئی تو نبی اکرم ﷺنے مجھ سے فرمایا :تم پڑھو! اے عقبہ! میں نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! میں کیا پڑھوں؟ تو نبی اکرم ﷺنے فرمایا :تم سورہ اخلاص، سورہ فلق اور سورہ ناس پڑھو۔ کسی بھی پناہ مانگنے والے نے اور کسی بھی پناہ طلب کرنے والے نے ان کی مانند کلمات کے ذریعے کبھی پناہ نہیں مانگی ہوگی۔

لِي: «قُلْ يَا عُقْبَةُ» فَقُلْتُ: مَا أَقُولُ ← تَهَبَّطْتُ مَعَ النَّبِيِّ مِنْ ثَنِيَّةٍ، ← عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَمَّنْ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 874

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ مُعَاذٍ التَّيْمِيِّ أَوِ ابْنِ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 875

875 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا حُمَيْدٌ الْأَعْرَجُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ يُقَالُ لَهُ مُعَاذٌ أَوِ ابْنُ مُعَاذٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْزَلَ النَّاسَ بِمِنًى مَنَازِلَهُمْ، فَأَنْزَلَ الْمُهَاجِرِينَ وَأَنْزَلَ الْأَنْصَارَ شُعَبَهُمْ، قَالَ: وَعَلَّمَ النَّاسَ مَنَاسِكَهُمْ، قَالَ: وَفَتَحَ اللَّهُ أَسْمَاعَنَا، فَإِنَّا لَنَسْمَعُ وَنَحْنُ فِي رِحَالِنَا، فَكَانَ فِيمَا عَلَّمَنَا أَنْ قَالَ: «إِذَا رَمَيْتُمُ الْجَمْرَةَ فَارْمُوهَا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ»

حضرت معاذؓ یا حضرت این معاذتیمیؓ بیان کرتے ہیں، نبی اکرمﷺنے منی ٰمیں لوگوں کوان کی پڑاؤ کی جگہ پر پڑاؤ کرنے کی ہدایت کی، تو مہاجرین اور انصار نے اپنی مخصوص گھاٹیوں میں پڑاؤ کیا۔راوی بیان کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺنے لوگوں کو مناسک حج کی تعلیم دی۔ راوی کہتے ہیں: الله تعالیٰ نے ہماری سماعت کو کھول دیا تو ہم نے اپنے پڑاؤ کی جگہ پر رہتے ہوئے نبی اکرم ﷺکی آواز سن لی۔ نبی اکرم ﷺنے ہمیں تعلیم دی اس میں یہ بات بھی تھی۔ آپ ﷺنے ارشادفرمایا: "جب تم جمرہ کی رمی کر وتو کنکری کے ذریعے کرنا جو چٹکی میں آجاتی ہو۔“

رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ يُقَالُ لَهُ مُعَاذٌ أَوِ ابْنُ مُعَاذٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 875

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ السَّائِبِ بْنِ خَلَّادٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 876

876 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ السَّائِبِ بْنِ خَلَّادٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ: مُرْ أَصْحَابَكَ أَنْ يَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالْإِهْلَالِ، أَوْ قَالَ: بِالتَّلْبِيَةِ " قَالَ سُفْيَانُ: " وَكَانَ ابْنُ جُرَيْجٍ كَتَمَنِي حَدِيثًا، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ لَمْ أَخْبَرْهُ بِهِ، فَلَمَّا خَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ حَدَّثْتُهُ بِهِ، فَقَالَ لِي: يَا عَوْفُ تُخْفِي عَنَّا الْأَحَادِيثَ، فَإِذَا ذَهَبَ أَهْلُهَا أَخْبَرْتَنَا بِهَا، وَلَا أَرْوِيهِ عَنْكَ، أَتُرِيدُ أَرْوِيهِ عَنْكَ وَكَتَبَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ وَكَانَ ابْنُ جُرَيْجٍ يُحَدِّثُ بِهِ، كَتَبَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ "

حضرت سائب بن خلاد ؓ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے:"جبرائیل ؑ میرے پاس آئے اور بولے: آپ ﷺاپنے ساتھیوں کو یہ ہدایت کیجئے کہ وہ بلند آواز میں تلبیہ پڑھیں" (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) سفیان کہتے ہیں: ابن جریج مجھ سے ایک حدیث چھپا کر رکھتے تھے۔جب عبداللہ بن ابوبکر ہمارے ہاں تشریف لائے ،تو میں نے انہیں اس بارے میں نہیں بتایا جب وہ مدینہ منورہ چلے گئے تو میں نے انہیں اس کے بارے میں بتایا وہ مجھ سے بولے:اے عوف ! کیا تم ہم سے احادیث چھپا کر رکھتے ہو۔اور جب اس کے ابل (یعنی اس کے طلباء) رخصت ہو جا ئیں پھرتم نے ہمیں اس کے بارے میں بتایا ہے۔ میں یہ روایت تمہارے حوالے سے روایت نہیں کروں گا ،کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں اسے تمہارے حوالے سے روایت کروں؟ پھر عبد الله بن ابوبکر نے مجھے خط میں لکھا۔ پھر عبداللہ بن ابوبکر نے ابن جریج کو بھی اس بارے میں خط لکھا تو ابن جریج اس روایت کو یوں بیان کرتے تھے۔ عبدالله بن ابوبکر نے مجھے خط میں یہ روایت بھجوائی تھی۔

أَبِيهِ السَّائِبِ بْنِ خَلَّادٍ، ← خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ ← عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِي بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 876

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ أَبِي الْبَدَّاحِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 877

877 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ، عَنْ أَبِيهِ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لِلرِّعَاءِ أَنْ يَرْمُوا وَيَدْعُوا يَوْمًا»

ابو بداح اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺنے (جانوروں کے) چرواہوں کو یہ اجازت دی تھی کہ وہ ایک دن رمی کریں اور ایک دن چھوڑ دیں۔

أَبِيهِ ← أَبِي الْبَدَّاحِ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 877

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ مُسْتَوْرِدٍ الْفِهْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 878

878 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ أَبِي حَازِمٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْمُسْتَوْرِدَ أَخَا بَنِي فِهْرٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا كَمَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ، ثُمَّ يَنْظُرُ بِمَ يَرْجِعُ إِلَيْهِ» ، قَالَ سُفْيَانُ: " وَكَانَ ابْنُ أَبِي خَالِدٍ، يَقُولُ فِيهِ: سَمِعْتُ الْمُسْتَوْرِدَ أَخِي بَنِي فِهْرٍ يَلْحَنُ فِيهِ، فَقُلْتُ أَنَا: أَخَا بَنِي فِهْرٍ "

حضرت مستور دفہری ؓ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم ﷺکویہ ارشادفرماتے ہوئے سنا ہے: "آخرت کے مقابلے میں دنیا کی حیثیت اسی طرح ہے جیسے کوئی شخص اپنی انگلی کو سمندر میں ڈالے اور پھر اس بات کا جائزہ لے کہ اس انگلی پرکتنا پانی آیا ہے؟ سفیان کہتے ہیں: ابن ابوخالد یہ روایت نقل کرتے ہوئے یہ کہتے تھے کہ میں نے یہ روایت حضرت مستورد ؓ سے سنی ہے جن کا تعلق بنوفہر سے ہے، تو وہ یہ الفاظ استعمال کرتے ہوئےلفظی غلطی کر جاتے تھے۔

المستورد أخا بني فهر ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 878

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ سَلِمَةَ بْنِ قَيْسٍ الْأَشْجَعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 879

879 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ سَلِمَةَ بْنِ قَيْسٍ الْأَشْجَعِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا تَوَضَّأْتَ فَانْتَثِرْ، وَإِذَا اسْتَجْمَرْتَ فَأَوْتِرْ»

حضرت سلمہ بن قیس اشجعیؓ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا ہے: "جب تم وضو کرو ،تو ناک صاف کرواور جب (استنجا کرتے ہوئے) ڈھیلے استعمال کرو، توطاق تعداد میں کرو"۔

سَلَمَةَ بْنِ قَيْسٍ الْأَشْجَعِيِّ، ← هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ← مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 879

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثَا جَرْهَدٍ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 880

880 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ، قَالَ: ثني زُرْعَةُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ جَرْهَدٍ، عَنْ جَدِّهِ جَرْهَدٍ، قَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا فِي الْمَسْجِدِ، وَعَلَيَّ بُرْدَةٌ، وَقَدِ انْكَشَفَتْ فَخِذي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «غَطِّ فَخِذَكَ يَا جَرْهَدٍ، فَإِنَّ الْفَخِذَ عَوْرَةٌ»

حضرت جر ہداسلمیؓ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺمیرے پاس سے گزرے میں اس وقت مسجد میں موجود تھا میں نے اوپر چادر لی ہوئی تھی اور میرے زانوں سے چادر ہٹی ہوئی تھی ،تو نبی اکرمﷺنے فرمایا: اے جر ہد! تم اپنے زانوں کو ڈھانپ لو! کیونکہ زانوں ستر کا حصہ ہے۔

النَّبِيُّ «غَطِّ فَخِذَكَ يَا جَرْهَدٍ، فَإِنَّ الْفَخِذَ عَوْرَةٌ» ← فِي الْمَسْجِدِ، وَعَلَيَّ بُرْدَةٌ، وَقَدِ انْكَشَفَتْ فَخِذي، ← مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ ← جَدِّهِ جَرْهَدٍ ← زُرْعَةَ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ جَرْهَدٍ ← سَالِمُ أَبُو النَّضْرِ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 880

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثَا جَرْهَدٍ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 881

881 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبُو الزِّنَادِ، قَالَ: ثني آلُ جَرْهَدٍ، عَنْ جَرْهَدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔

النَّبِیِّ مِثْلَہُ ← جَرْهَدٍ، ← آلُ جَرْهَدٍ، ← أَبُو الزِّنَادٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 881

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ الْحَكَمْ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 882

882 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ زَيْدٍ: إِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ» فَقَالَ: قَدْ كَانَ يَقُولُ ذَلِكَ عِنْدَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَمْرٍو الْغِفَارِيُّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكِنْ أَبَى ذَلِكَ الْبَحْرُ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ، وَقَرَأَ: {قُلْ لَا أَجِدُ فِيمَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا} الْآيَةَ

عمرو بن دینار کہتے ہیں :میں نے جابر بن زید سے کہا لوگ یہ کہتے ہیں؟ نبی اکرم ﷺنے پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کر دیا تھا، تو انہوں نے بتایا:حضرت حکم بن عمروؓ نبی اکرم ﷺکے حوالے سے یہ بات ہمارے سامنے بیان کی تھی لیکن(علم کے ) سمندریعنی حضرت عبدالله بن عباس ؓنے اس بات کو تسلیم نہیں کیا انہوں نے یہ آیت تلاوت کی:"تم یہ فرما دو !جو چیز میری طرف وحی کی گئی ہے اس میں ،میں اسے حرام نہیں پاتا۔"

قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ زَيْدٍ: إِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 882

chevron_left Previous
1…909192…112
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter