Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 739

739 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مَصَرِّفٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى: هَلْ أَوْصَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: لَمْ يَتْرُكْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا يُوصِي فِيهِ، قُلْتُ: وَكَيْفَ أَمَرَ النَّاسَ بِالْوَصِيَّةِ وَلَمْ يُوصِ؟ قَالَ: «أَوْصَى بِكِتَابِ اللَّهِ» [ص:572] قَالَ طَلْحَةُ: قَالَ الْهُزَيْلُ بْنُ شُرَحْبِيلٍ: أَبُو بَكْرٍ يَتَقَدَّمُ عَلَى وَصَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَّ أَبُو بَكْرٍ أَنَّهُ وَجَدَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ عَهْدًا، فَخَزَمَ بِهِ أَنْفَهُ

طلحہ بن مصرف بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن ابواوفیٰؓ سے دریافت کیا : کیا نبی اکرمﷺنے کوئی وصیت کی تھی انہوں نے جواب دیا:نبی اکرم ﷺنے ایسی کوئی چیز چھوڑی ہی نہیں تھی جس کے بارے میں آپ وصیت کرتے۔ میں نے دریافت کیا: پھر آپ ﷺنے لوگوں کے بارے میں وصیت کرنے کے بارے میں کیوں حکم دیا؟ جبکہ آپ ﷺنے خود وصیت نہیں کی، تو انہوں نے فرمایا: نبی اکرم ﷺنے الله تعالیٰ کی کتاب کے مطابق وصیت کی تھی۔ طلحہ نامی راوی کہتے ہیں: ہزیل بن شرحبیل فرماتے ہیں: کیا حضرت ابوبکرؓ کسی ایسے شخص سے آگے نکل سکتے تھے، جس کے بارے میں نبی اکرم ﷺنے وصیت کی ہو؟ حالانکہ حضرت ابوبکر ؓاس بات کے خواہشمند ہوتے تھے کہ انہیں اللہ کے رسول ﷺکے کسی حکم کا پتہ چلے اور وہ اسے مکمل طور پر تسلیم کرلیں۔

طَلْحَۃَ بن مصرف ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 739

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ · حديث 740

740 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ عِنْدَ مَضْجَعِهِ، أَوْ أَمَرَ أَنْ يُقَالَ عِنْدَ الْمَضْجَعِ، أَوْ أَمَرَنِي أَنْ أَقُولَ عِنْدَ مَضْجَعِي، - شَكَّ فِيهِ سُفْيَانُ لَا يَدْرِي أَيَّتُهُنَّ - قَالَ: «اللَّهُمَّ إِلَيْكَ وَجَّهْتُ وَجْهِي، وَإِلَيْكَ أَسْلَمْتُ نَفْسِي، وَإِلَيْكَ فَوَّضَتُ أَمْرِي، وَإِلَيْكَ أَلْجَأْتُ ظَهْرِي رَغْبَةً، وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ، وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ» ، فَقَالُوا لَهُ: وَبِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ، فَأَبَى، وَقَالَ: «لَا، وَنَبِيِّكَ»

حضرت براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺسوتے وقت یہ پڑھا کرتے تھے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) نبی اکرمﷺنےیہ ہدایت کی ہے کہ سوتے وقت یہ پڑھا جائے۔(راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) نبی اکرم ﷺنے مجھے یہ ہدایت کی کہ میں سوتے وقت یہ کلمات پڑھوں۔ یہ شک سفیان نامی راوی کو ہے کہ ان میں سے کون سے الفاظ ہیں؟ وہ یہ الفاظ ہیں: "اے اللہ! میں اپنارخ تیری طرف کرتا ہوں میں نے اپنا آپ تجھے سونپ دیا ہے میں نے اپنا معاملہ تیرے سپردکردیا ہے میں اپنی پشت کو تیرا سہارادیتا ہوں۔ تیری طرف رغبت کرتے ہوئے بھی اور تجھ سے ڈرتے ہوئے بھی۔ تیرے مقابلے میں صرف توہی پناہ گاہ اور جائے نجات ہے۔ میں تیری اس کتاب پر ایمان لایا جسے تو نے نازل کیا ہے۔ اس نبی پر ایمان لایا جسے تو نے معبوث کیا ہے"۔ تو لوگوں نے ان سے (یعنی سفیان سے) کہا: کہ روایت میں، تویہ الفاظ ہیں: "اس رسول پر ایمان لایا جسے تو نے مبعوث کیا“۔ تو انہوں نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا اور یہ کہا کہ یہی الفاظ ہیں۔"میں تیرے نبی پر ایمان لایا"۔

عِنْدَ مَضْجَعِهِ، أَوْ أَمَرَ ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← أَبُو إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 740

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ · حديث 741

741 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ بِمَكَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ» ، قَالَ سُفْيَانُ: " وَقَدِمَ الْكُوفَةَ فَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ بِهِ، فَزَادَ فِيهِ، ثُمَّ لَا يَعُودُ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُمْ لَقَّنُوهُ، وَكَانَ بِمَكَّةَ يَوْمَئذٍ أَحْفَظَ مِنْهُ يَوْمَ رَأَيْتُهُ بِالْكُوفَةِ، وَقَالُوا لِيَ: إِنَّهُ قَدْ تَغَيَّرَ حِفْظُهُ أَوْ سَاءَ حِفْظُهُ "

حضرت براء بن عازبؓ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺکو دیکھا جب آپﷺنے نماز کا آغاز کیا، تو آپ ﷺنے رفع یدین کیا۔سفیان کہتے ہیں: میرے استاد کوفہ آئے،تو میں نے انہیں یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا۔ اس میں انہوں نے مزید یہ الفاظ نقل کیے پھرنبی اکرم ﷺنے دوبارہ ایسا نہیں کیا۔ (یعنی دوباره رفع یدین نہیں کیا)تو اس سے میں نے یہ اندازہ لگایا ،لوگوں نے انہیں ان الفاظ کی تلقین کی ہوگی ۔حالانکہ جب میں نے انہیں کوفہ میں دیکھا تھا، تو اس دن کے مقابلے میں جب وہ مکہ میں تھے اس وقت وہ روایات کو زیادہ اچھے طریقے سے یادر کھے ہوئے تھے۔ لوگوں نے مجھ سے کہا :کہ ان کے حافظے میں تبدیلی آگئی ہے یا ان کا حافظہ خراب ہوگیا ہے۔

سُفْيَانُ: وَقَدِمَ الْكُوفَةَ ← رأيت رسول الله إذَا افتتَح الصلاةَ رفع يديه ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 741

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ · حديث 742

742 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبَانُ بْنُ تَغْلِبَ، وَكَانَ فَصِيحًا، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: «لَمْ يَكُنْ مِنَّا أَحَدٌ يَحْنُو حَتَّى يَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَّ سَاجِدًا»

حضرت براء بن عازب ؓبیان کرتے ہیں: ہم میں سے کوئی بھی شخص (نماز کے دوران )اس وقت تک نہیں جھکتا تھا، جب تک وہ نبی اکرم ﷺکو سجدے میں جاتے ہوئے نہیں دیکھ لیتا تھا۔

«لَمْ يَكُنْ مِنَّا أَحَدٌ يَحْنُو حَتَّى يَرَى رَسُولَ اللَّهِ قَدْ خَرَّ سَاجِدًا» ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، ← أَبَانُ بْنُ تَغْلِبَ، وَكَانَ فَصِيحًا، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 742

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ · حديث 743

743 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَمِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، أَنَّهُمَا سَمِعَا عَدِيَّ بْنَ ثَابِتٍ يُحَدِّثُ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: " سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ. قَالَ سُفْيَانُ: زَادَ مِسْعَرٌ: فَمَا سَمِعْتُ إِنْسَانًا أَحْسَنَ قِرَاءَةً مِنْهُ "

حضرت براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم ﷺکو مغرب کی نماز میں سورۃ والتین کی تلاوت کرتے ہوئے سنا۔ سفیان کہتے ہیں : مسعر نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: میں نے کسی بھی شخص کو آپ ﷺسے زیادہ اچھی قرأت کرتےہونے نہیں سنا۔

إِنْسَانًا أَحْسَنَ قِرَاءَة مِنْهُ. ← سُفْيَانُ: زَادَ مِسْعَرٌ: فَمَا ← رَسُولَ اللَّهِ وَهُوَ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ. ← الْبَرَاءِ، ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَمِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، أَنَّهُمَا سَمِعَا عَدِيَّ بْنَ ثَابِتٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 743

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ · حديث 744

744 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الْمِنْهَالِ، يَقُولُ: بَاعَ شَرِيكٌ لِيَ بِالْكُوفَةِ دَرَاهِمَ بِدَرَاهِمَ بَيْنَهُمَا فَضْلٌ، فَقُلْتُ: مَا أَرَى هَذَا يَصْلُحُ، فَقَالَ: لَقَدْ بِعْتُهَا فِي السُّوقِ فَمَا عَابَ ذَلِكَ عَلَيَّ أَحَدٌ، فَأَتَيْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ فَسَأَلْتُهُ، قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَتِجَارَتُنَا هَكَذَا، فَقَالَ: «مَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلَا بَأْسَ بِهِ، وَمَا كَانَ نَسِيئَةً فَلَا خَيْرَ فِيهِ» وَأْتِ ابْنَ أَرْقَمَ، فَإِنَّهُ كَانَ أَعْظَمَ تِجَارَةً مِنِّي، فَأَتَيْتُهُ [ص:575] فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: صَدَقَ الْبَرَاءُ، قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: «هَذَا مَنْسُوخٌ وَلَا يُؤْخَذُ بِهِ»

ابومنہال بیان کرتے ہیں: میرے شراکت دار نے کوفہ میں کچھ درہموں کے عوض میں درہم فروخت کیے جن میں اضافی ادائیگی کی گئی تھی، تو میں نے کہا: میرے خیال میں یہ درست نہیں ہے ،تو وہ بولا: میں نے یہ بازار میں فروخت کیے ہیں اورکسی نے مجھ پر کوئی اعتراض نہیں کیا ،تو میں حضرت براء بن عازب ؓکی خدمت میں حاضر ہوا میں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا ،تو وہ بولے:جب نبی اکرم ﷺمدینہ منورہ تشریف لائے ،تو ہمارا تجارت کا طریقہ یہی تھا۔آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو چیز نقد لین دین ہواس میں کوئی حرج نہیں ہے اور جو ادھار ہو تو اس میں کوئی بھلائی نہیں ہے۔ تم حضرت زید بن ارقمؓ کے پاس جاؤ ،کیونکہ ان کا تجارت کا کام مجھ سے زیادہ تھا۔ میں ان کے پاس آیا میں نے ان کے سامنے یہ بات ذکر کی ،تو وہ بولے: حضرت براءؓنے سچ بیان کیا ہے۔ امام حمیدی ؒ بیان کرتے ہیں: یہ حکم منسوخ ہے اور اس کے مطابق فتویٰ نہیں دیا جاتا۔

عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 744

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 745

745 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَأَخَذَ حَصَاةً فَحَكَّهَا، وَنَهَى أَنْ يَبْزُقَ الرَّجُلُ بَيْنَ يَدَيْهِ، أَوْ عَنْ يَمِينِهِ، وَقَالَ: لِيَبْزُقْ عَنْ يَسَارِهِ، أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى "

حضرت ابوسعید خدری ؓبیان کرتے ہیں، نبی اکرمﷺنے مسجد کے قبلہ کی سمت میں بلغم لگا ہوا دیکھا تو آپ ﷺنے کنکری لے کر اسے کھرچ دیا۔ اور آپﷺنے اس بات سے منع کیا کہ ا ٓ دمی (نماز کے دوران)اپنے سامنے کی طرف یا اپنے دائیں طرف تھوکے۔ آپ ﷺنے ارشاد فر مایا:"(نمازی کو) اپنے بائیں طرف یا اپنے بائیں پاؤں کےنیچے تھوکنا چاہیے۔"

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 745

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 746

746 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، أَنَّهُ سَمِعَ عِيَاضَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ [ص:4]، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ هَذِهِ الْعَرَاجِينَ، يُمْسِكُهَا فِي يَدِهِ، وَيَدْخُلُ الْمَسْجِدَ وَهِيَ فِي يَدِهِ، فَرَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَحَكَّهَا، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ مُغْضَبًا، فَقَالَ: «أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يُبْزَقَ فِي وَجْهِهِ» ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ فَإِنَّمَا يُوَاجِهُ رَبَّهُ، فَلَا يَبْزُقْ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيَبْزُقْ عَنْ يَسَارِهِ، أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى، فَإِنْ عَجَّلَتْ بِهِ بَادِرَةٌ وَهُوَ يُصَلِّي، فَلْيَتْفُلْ فِي ثَوْبِهِ، وَلَيْقُلْ هَكَذَا» ، وَدَلَّكَ سُفْيَانُ بِكُمِّهِ

حضرت ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺکویہ عراجین (زرد رنگ کی مخصوص قسم کی لکڑی) پسند تھی۔ نبی اکرم ﷺاسے اپنے ہاتھ میں رکھتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ ﷺمسجد میں تشریف لائے۔ وہ آپ ﷺکے ہاتھ میں تھی۔ نبی اکرم ﷺنے مسجد کے قبلہ کی سمت میں(دیوار پر) بلغم لگا ہوا دیکھا، تو آپ ﷺنے اسے کھرچ دیا۔ پھر آپ ﷺغصے کے عالم میں لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشادفرمایا:"کیا کوئی شخص اس بات کو پسند کرتا ہے ،اس کے چہرے کے سامنے کی طرف تھوک دیا جائے۔" پھر آپﷺنے ارشادفرمایا: "جب بندہ نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے ،تو وہ اپنے پروردگار کی طرف رخ کرتا ہے ،تو اسے اپنے سامنے کی طرف یا اپنے دائیں طرف نہیں تھوکنا چاہیے۔ بلکہ اپنے بائیں طرف یا اپنے بائیں پاؤں کے نیچے تھوک لینا چاہیے۔ اور اگر نماز کے دوران آدمی کو زیادہ شدت کے ساتھ تھوکنے کی ضرورت پیش آجائے ،تو اسے اپنے کپڑے پرتھوک کر پھر اسے اس طرح مل دینا چاہیے۔" سفيان نامی راوی نے اپنی آستین کے ذریعے اسے مل کے دکھایا۔

مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 746

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 747

747 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعَتَيْنِ، وَعَنْ لُبْسَتَيْنِ، فَأَمَّا الْبَيْعَتَانِ: فَالْمُلَامَسَةُ، وَالْمُنَابَذَةُ، وَأَمَّا اللُّبْسَتَانِ: فَاشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ، وَاحْتِبَاءُ الرُّجُلِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ "

حضرت ابوسعید خدری ؓبیان کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺنے دوطرح کے سودے اور دو طرح کے لباس سے منع کیا ہے جہاں تک دوطرح کے سودے کا تعلق ہے تو وہ ملامسہ اور منابذہ ہیں جہاں دو طرح کے لباس کا تعلق ہے، تو وہ اشتمال صماء اور آدمی کا ایک کپڑے کو احتباء کے طور پر یوں لپیٹنا ہے ،کہ آدمی کی شرمگاہ پر کپڑا نہ ہو۔

بَيْعَتَيْنِ ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 747

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 748

748 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا ضَمْرَةُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَازِنِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةٍ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسَ، وَعَنْ صَلَاةٍ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ»

حضرت ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺنے عصر کی نماز کے بعد سورج غروب ہونے تک اورصبح کی نماز کے بعد سورج نکلنے تک کوئی بھی نماز ادا کرنے سے منع کیا ہے۔

صَلَاةٍ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ» ← صَلَاةٍ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسَ، ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← ضَمْرَةُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَازِنِيُّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 748

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 749

749 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي وَكَانَ يَتِيمًا فِي حِجْرِ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ لِي أَبُو سَعِيدٍ: أَيْ بُنَيَّ، إِذَا كُنْتَ فِي هَذِهِ الْبَوادِي فَارْفَعْ صَوْتَكَ بِالْأَذَانِ [ص:6]، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «لَا يَسْمَعُهُ إِنْسٌ، وَلَا جِنٌّ، وَلَا حَجَرٌ، وَلَا شَجَرٌ، وَلَا شَيْءٌ إِلَّا شَهِدَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

عبد الله بن عبد الرحمنٰؓ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: جوحضرت ابوسعید خدری ؓکے زیر پرورش تھے۔ وہ بیان کرتے ہیں:حضرت ابوسعید خدری ؓنے مجھ سے فرمایا: اے میرے بیٹے !جب تم آبادی سے باہر ہو تو تم بلند آواز میں اذ ان دو۔ کیونکہ میں نے نبی اکرمﷺکو یہ ارشادفرماتے ہوئے سنا ہے: ۔"جوبھی انسان، جن، پتھر، درخت یا جو بھی چیز اس کوسنتی ہے۔ وہ قیامت کے دن اس شخص کے حق میں گواہی دے گی“۔

أَبِي وَكَانَ يَتِيمًا فِي حِجْرِ أَبِي سَعِيدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 749

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 750

750 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ يَتْبَعُ شَعَفَ الْجِبَالِ، وَمَواقِعَ الْقَطْرِ، يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ»

حضرت ابوسعید خدری ؓبیان کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺنے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: "عنقریب ایسا وقت آئے گا کہ جب کسی مسلمان شخص کا سب سے بہتر مال بکریاں ہوں گی جنہیں وہ لے کر پہاڑوں کی چوٹیوں پر اور بارش کے نزول کی جگہ (یعنی ویران جنگلات میں)چلا جائے گا۔ وہ اپنے دین کوفتنوں سے بچانے کے لیے بھاگے گا“ ۔

أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← أَبَاهُ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 750

chevron_left Previous
1…798081…112
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter