Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1273

1273 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَرْبُ خُدْعَةٌ» .

حضرت جابر بن عبداللہ ؓروایت کرتے ہیں، نبی اکرمﷺنے ارشاد فرمایا ہے:"جنگ ،وھو کہ دینے کا نام ہے"۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1273

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1274

1274 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ: قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: قَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ: «خُدْعَةٌ، وَأَهْلُ الْعَرَبِيَّةِ يَقُولُونَ خَدْعَةٌ»

عمرو بن دینار کہتے ہیں:لفظ"خدعۃ"کے تلفظ میں اختلاف پایا جاتا ہے۔

عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ: «خُدْعَةٌ، وَأَهْلُ الْعَرَبِيَّةِ يَقُولُونَ خَدْعَةٌ» ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1274

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1275

1275 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ فَكَسَعَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: يَا لَلْأَنْصَارِ، وَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ: يَا لَلْمُهَاجِرِينَ، قَالَ: فَسَمِعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَا هَذَا؟» ، فَقَالُوا: رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ كَسَعَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: يَا لَلْأَنْصَارِ، وَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ: يَا لَلْمُهَاجِرِينَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا بَالُ دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةٍ دَعُوهَا، فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ» ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِيِّ ابْنِ سَلُولَ: أَوَقَدْ فَعَلُوهَا؟، وَاللَّهِ لَإِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ، قَالَ جَابِرٌ: وَكَانَتِ الْأَنْصَارُ بِالْمَدِينَةِ أَكْثَرَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، حِينَ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ كَثُرَ الْمُهَاجِرُونَ بَعْدُ، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعْهُ لَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ»

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں:ہم لوگ ایک جنگ میں نبی اکرمﷺکے ساتھ تھے مہاجرین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے ایک انصاری کی پیٹھ پرہاتھ (یا پاؤں )مارا ،تو انصاری نے کہا:اے انصار ( میری مدد کے لیے آو) اور مہاجر نے کہا:اے مہاجرین ( میری مدد کے لیے آو) راوی کہتے ہیں:نبی اکرم ﷺنے یہ بات سن لی۔ آپ ﷺنے دریافت کیا:کیا ہوا ہے؟ لوگوں نے بتایا: مہاجرین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو مارا، تو انصاری نے یہ کہا: اے انصار ( میری مدد کے لیے آو) تو مہاجر نے بھی یہ کہا:اے مہاجرین (میری مدد کے لیے آؤ)تو نبی اکرم ﷺنے فرمایا: یہ زمانہ جاہلیت کا طرزعمل ہے تم اسے چھوڑ دو، کیونکہ یہ گندگی والا ہے (جب اس بات کا پتہ عبد الله بن اُبی کو چلا) تو عبداللہ بن اُبی بولا: کیا ان لوگوں نے ایسا کیا ہے؟ اللہ کی قسم !جب ہم مدینہ واپس جائیں گے ،تو وہاں کے عزت دارلوگ ذلیل لوگوں کو وہاں سے نکال دیں گے۔حضرت جابرؓ کہتے ہیں:انصار ،مدینہ منورہ میں مہاجرین سے زیادہ تھے، جب نبی اکرم ﷺمدینہ منورہ تشریف لے آئے تو مہا جر ین زیادہ ہو گئے ۔ حضرت عمرؓ نے عرض کی آپ ﷺمجھے اجازت دیجئے کہ میں اس منافق کی گردن اڑا دوں۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا:اسے چھوڑ دو! ورنہ لوگ یہ کہیں گے حضرت محمد (ﷺ)!اپنے ساتھیوں کو قتل کروارہے ہیں۔

الْمُهَاجِرِيُّ: يَا لِلْمُهَاجِرِينَ، ← الْأَنْصَارِيُّ: يَا لِلْأَنْصَارِ، ← رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ كَسَعَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، ← «مَا هَذَا؟» ← فَسَمِعَهَا رَسُولُ اللَّهِ ← الْمُهَاجِرِيُّ: يَا لِلْمُهَاجِرِينَ، ← الْأَنْصَارِيُّ: يَا لِلْأَنْصَارِ، ← كُنَّا مَعَ النَّبِي فِي غزَاة فَكَسَعَ رجل من الْمُهَاجِرين رجلا من الْأَنْصَار ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1275

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1276

1276 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبُو هَارُونَ الْمَدَنِيُّ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ ابْنِ سَلُولَ، لِأَبِيهِ: " وَاللَّهِ لَا تَدْخُلُ الْمَدِينَةَ أَبَدًا حَتَّى تَقُولَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَعَزُّ، وَأَنَا الْأَذَلُّ، قَالَ: وَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَقْتُلَ أَبِي، فَوَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا تَأَمَّلُتُ وَجْهَهُ قَطُّ هَيْبَةً لَهُ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ آتِيَكَ بِرَأْسِهِ لَأَتَيْتُكَ، فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أَرَى قَاتِلَ أَبِي "

ابو ہارون مدنی بیان کرتے ہیں : عبد الله بن اُبی کے بیٹے حضرت عبد اللہ ؓنے اپنے والد سے کہا:اللہ کی قسم !تم اس وقت تک مدینہ میں داخل نہیں ہو سکتے، جب تک تم یہ نہیں کہو گے کہ نبی اکرم ﷺعزت دار ہیں اور تم ذلیل ترین ہو۔راوی بیان کرتے ہیں وہ شخص نبی اکرم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی یا رسول اللہ (ﷺ)! مجھے پتہ چلا کہ آپ ﷺمیرے والدقتل کروانا چاہ رہے ہیں؟ اس ذات کی قسم ! جس نے آپ ﷺکوحق کے ساتھ مبعوث کیا ہے اپنے باپ کی ہیبت کی وجہ سے میں اس کے قتل میں تامل نہیں کروں گا اگر آپ ﷺچاہتے ہیں ،میں اس کا سر لے کر آؤں تو میں وہ بھی لے آتا ہوں لیکن مجھے یہ بات پسند نہیں ہے ،میں اپنے باپ کے قاتل کو دیکھوں (یا مجھے اپنے باپ کا قاتل سمجھا جائے)۔

أَبُو هَارُونَ الْمَدَنِيُّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1276

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1277

1277 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: قَدِمَ أَعْرَابِيٌّ الْمَدِينَةَ، فَبَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْهِجْرَةِ، ثُمَّ حُمَّ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقِلْنِي بَيْعَتِي، قَالَ: «لَا» ، فَلَمَّا اشْتَدَّتْ بِهِ الْحُمَّى أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقِلْنِي بَيْعَتِي، قَالَ: «لَا» ، ثُمَّ اشْتَدَّتْ بِهِ الْحُمَّى، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقِلْنِي بَيْعَتِي، قَالَ: «لَا» ، ثُمَّ اشْتَدَّتْ بِهِ الْحُمَّى، فَخَرَجَ هَارِبًا مِنَ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا، وَتُنْصِعُ طِيبَهَا»

حضرت جابر بن عبدالله ؓ بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی مدینہ منورہ آیا اس نے نبی اکرم ﷺکے دست اقدس پر ہجرت کی بیعت کی اسے بخار ہو گیا وہ نبی اکرمﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! میری بیعت مجھے واپس کیجئے نبی اکرم ﷺنے فرمایا: جی نہیں! پھر تب اس کا بخار تیز ہو گیا وہ پھر نبی اکرمﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! میری بیعت مجھے واپس کر دیں۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: جی نہیں! پھر اس کا بخار اور تیز ہو گیا وہ نبی اکرم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی:یا رسول اللہ (ﷺ)! آپ ﷺمیری بیعت مجھے واپس کر دیں۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: جی نہیں! پھر اس کا بخار اور شدید ہو گیا تو وہ مدینہ منورہ سے خوفزدہ ہو کر چلا گیا۔ نبی اکرمﷺنے ارشادفرمایا: مدینہ منورہ کی مثال بھٹی کی مانند ہے جوزنگ کو نکال دیتی ہے اور صاف چیز کونکھار دیتی ہے۔

قَدِمَ أَعْرَابِيٌّ الْمَدِينَةَ، فَبَايَعَ النَّبِيَّ عَلَى الْهِجْرَةِ، ثُمَّ حُمَّ، فَأَتَى النَّبِيَّ فَقَالَ: ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1277

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1278

1278 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِ مِائَةِ رَاكِبٍ وَأَمِيرُنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ نَرْصُدُ عِيرًا لِقُرَيْشٍ، فَأَصَابَنَا جُوعٌ شَدِيدٌ حَتَّى أَكَلْنَا الْخَبَطَ، فَسُمِّيَ ذَلِكَ الْجَيْشُ جَيْشَ الْخَبَطِ، قَالَ: فَأَلْقَى لَنَا الْبَحْرُ وَنَحْنُ بِالسَّاحِلِ دَابَّةً تُسَمَّى الْعَنْبَرَ، فَأَكَلْنَا مِنْهَا نِصْفَ شَهْرٍ، وَايْتَدَمْنَا بِهِ وَادَّهَنَّا بَوَدِكِهِ حَتَّى ثَابَتْ أَجْسَامُنَا، قَالَ: فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ فَنَصَبَهُ، ثُمَّ نَظَرَ أَطْوَلَ رَجُلٍ وَأَعْظَمَ جَمَلٍ فِي الْجَيْشٍ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ الْجَمَلَ، ثَمَّ يَمُرَّ تَحْتَهُ، فَفَعَلَ، فَمَرَّ تَحْتَهُ، فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْنَاهُ، فَقَالَ: «هَلْ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ؟» ، قُلْنَا: لَا

حضرت جابر بن عبد الله ؓ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺنے ہم 300 سواروں کو ایک مہم پر بھیجا ہمارے امیر حضرت ابوعبیدہ بن جراح ؓ تھے ہم قریش کے ایک قافلے کی گھات میں تھے، ہمیں شدید بھوک لاحق ہوگئی، یہاں تک کہ ہم پتے کھانے پرمجبور ہو گئے اس لیے اس لشکر کا نام "پتوں والا شکر‘‘ رکھا گیا۔ حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں:سمندر سے ہمارے سامنے ایک سمندری مخلوق کی ہم اس وقت ساحل پر موجود تھے اسے "عنبر" کہا جا تا تھا ہم پندرہ دن تک اس کا گوشت کھاتے رہے، ہم نے اس کے تیل کے ساتھ روٹی کھائی اس کی چربی کو جسم پر ملا یہاں تک کہ ہم موٹے تازے ہو گئے۔ پھر حضرت ابوعبیدہ ؓ نے اس کی ایک پسلی کو کھڑا کیا پھر انہوں نے سب سے طویل ترین شخص اور لشکر کے سب سے اونچے اونٹ کا جائزہ لیا پھر اس شخص کو حکم دیا کہ وہ اس اونٹ پر سوار ہو اور اس پسلی کے نیچے سے گزرے تو اس شخص نے ایسا ہی کیا وہ اس کےنیچے سے گزر گیا ،ہم نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺکو اس بارے میں بتایا تو آپﷺنے دریافت کیا:کیا تمہارے پاس اس کا کچھ حصہ ہے؟ ہم نے عرض کی:جی نہیں!

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1278

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1279

1279 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ وَزَادَ، فَكَانَ فِينَا رَجُلٌ مَعَهُ جِرَابٌ فِيهِ تَمْرٌ، فَكَانَ يُعْطِينَا مِنْهُ قَبْضَةً، ثَمَّ صَارَتْ إِلَى تَمْرَةٍ فَلَمَّا فَنِيَ وَجَدْنَا فَقْدَهُ [ص:330].

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے ،تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں۔"ہمارے درمیان ایک شخص تھا جس کے پاس بوری تھی جس میں کھجور میں موجود تھیں وہ اس میں سے ایک ،ایک مٹھی کھجور یں ہمیں دیا کرتا تھا ،پھر نو بت ایک کھجور تک آ گئی، جب وہ بھی ختم ہوگئی، تو ہمیں اس کی غیر موجودگی کا شدت سے احساس ہوا۔"

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1279

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1280

1280 - قَالَ أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ: " وَلَمْ يَسْمَعْهُ سُفْيَانُ مِنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ: ثنا عَمْرٌو، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: وَكَانَ فِينَا رَجُلٌ، فَلَمَّا اشْتَدَّ الْجُوعُ نَحَرَ ثَلَاثَ جَزَائِرَ، ثُمَّ نَحَرَ ثَلَاثَ جَزَائِرَ، ثُمَّ نَحَرَ ثَلَاثَ جَزَائِرَ، ثُمَّ نَهَاهُ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ "

حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں:ہمارے درمیان ایک شخص موجود تھا، جب بھوک شدید ہوگئی تو اس نے تین اونٹ ذبح کرلیے، پھر تین اونٹ ذبح کیے،پھر تین اونٹ ذبح کیے، پھر حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ؓ نے اسے ایسا کرنے سے منع کر دیا۔

جَابِرٍ: أَنَّہُ سَمِعَہُ ← عَمْرٍو، ← أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ: وَلَمْ يَسْمَعْهُ سُفْيَانُ مِنْ أَبِي الزُّبَيْرِ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1280

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1281

1281 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَمْرٌو، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، قَالَ: " قُلْتُ لِأَبِي وَكُنْتُ فِي الْجَيْشِ جَيْشِ الْخَبَطٍ، فَأَصَابَ النَّاسَ جُوعٌ، قَالَ لِي أَبِي: انْحَرْ، قُلْتُ: نَحَرْتُ، ثُمَّ أَصَابَهُمْ جُوعٌ شَدِيدٌ، فَقَالَ لِي أَبِي: انْحَرْ، قُلْتُ: نَحَرْتُ، ثُمَّ أَصَابَهُمْ جُوعٌ شَدِيدٌ، فَقَالَ لِي أَبِي: انْحَرْ، فَقُلْتُ: نَحَرْتُ، ثُمَّ قَالَ أَبِي: انْحَرْ، قُلْتُ: نُهِيتُ "

قیس بن سعد بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے والد سے کہا: میں اس لشکر میں موجود تھا جسے پتوں والالشکر کا نام دیا گیا ،لوگوں کو بھوک لاحق ہوگئی تو میرے والد نے مجھ سے کہا:تم قربان کرو میں نے جواب دیا:میں قربان کر لیتا ہوں ،پھر لوگوں کو شدید بھوک کا سامنا کرنا پڑا تو میرے والد نے مجھے فرمایا:تم قربان کرو میں نے جواب دیا: میں قربان کر دیتا ہوں ،پھر لوگوں کو بھوک کا سامنا کرنا پڑا تو میرے والد نے مجھے کہا:تم قربان کرو ،تو میں نے کہا: میں قربان کر لیتا ہوں ،پھر میرے والد نے مجھ سے کہا:تم قربان کرو تو میں نے جواب دیا: مجھے (لشکر کے امیر کی طرف سے)اس سے منع کردیا گیا ہے

أَبِي: انْحَرْ، قُلْتُ: نُهِيتُ ← لِي أَبِي: انْحَرْ، فَقُلْتُ: نَحَرْتُ، ثُمَّ ← لِي أَبِي: انْحَرْ، قُلْتُ: نَحَرْتُ، ثُمَّ أَصَابَهُمْ جُوعٌ شَدِيدٌ، ← لِي أَبِي: انْحَرْ، قُلْتُ: نَحَرْتُ، ثُمَّ أَصَابَهُمْ جُوعٌ شَدِيدٌ، ← قُلْتُ لِأَبِي وَكُنْتُ فِي الْجَيْشِ جَيْشِ الْخَبَطٍ، فَأَصَابَ النَّاسَ جُوعٌ، ← قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1281

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1282

1282 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يُشِيرُ إِلَى أُذُنَيْهِ، أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُذُنَيَّ هَاتَيْنِ، يَقُولُ: «إِنَّ نَاسًا يَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ»

حضرت جابر بن عبد الله ؓ اپنے کانوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ بات بیان کرتے ہیں :میں گواہی دے کر یہ بات کہتا ہوں کہ میں نے اپنے ان دوکانوں سے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:”بے شک کچھ لوگ جہنم سے نکالے جائیں گے اور جنت میں داخل کر دیئے جائیں گے۔"

عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1282

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1283

1283 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو كُمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيْصَلِّيَهَا بِقَوْمِهِ، قَالَ: فَأَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، قَالَ: فَصَلَّاهَا مُعَاذٌ مَعَهُ، ثُمَّ رَجَعَ فَأَمَّ قَوْمَهُ، فَافْتَتَحَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ، فَتَنَحَّى رَجُلٌ مِمَّنْ خَلْفَهُ، فَصَلَّى وَحْدَهُ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقَالُوا: نَافَقْتَ، فَقَالَ: لَا، وَلَكِنِّي آتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ أَخَّرْتَ الْعِشَاءَ الْبَارِحَةَ، وَإِنَّ مُعَاذًا صَلَّاهَا مَعَكَ، ثُمَّ رَجَعَ فَأَمَّنَا، فَافْتَتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَ‍لِكَ تَأَخَّرْتُ، فَصَلَّيْتُ وَحْدِي، وَإِنَّمَا نَحْنُ أَهْلُ نَواضِحَ نَعْمَلُ بِأَيْدِينَا، فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مُعَاذٍ، فَقَالَ: «أَفَتَّانٌ أَنْتَ يَا مُعَاذُ، أَفَتَّانٌ أَنْتَ، اقْرَأْ سُورَةَ كَذَا، وَسُورَةَ كَذَا» ، وَعَدَّدَ السُّوَرَ. قَالَ سُفْيَانُ: وَزَادَ فِيهِ أَبُو الزُّبَيْرِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى، وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى، وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوجِ، وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا، وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ» . قَالَ سُفْيَانُ: فَقُلْتُ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ: إِنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْرَأْ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى، وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى، وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا، وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ، وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوجِ» ، فَقَالَ عَمْرٌو: وَهُوَ هَذَا، أَوْ نَحْوُ هَذَا

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں:حضرت معاذ بن جبل ؓ، نبی اکرم ﷺکی اقتداء میں نماز ادا کرتےتھے، پھر وہ(اپنے محلے )واپس تشریف لے جاتے تھے اور اپنی قوم کو نماز پڑھایا کرتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں:ایک رات نبی اکرم ﷺنے عشاء کی نماز تاخیر سے ادا کی ،تو حضرت معاذ ؓنے آپ ﷺکی اقتداء میں عشاء کی نماز ادا کی پھر وہ واپس چلے گئے اور انہوں نے اپنی قوم کو نماز پڑھانا شروع کی ،تو سورة بقرہ کی تلاوت شروع کر دی ان کے پیچھے نماز ادا کرنے والوں میں سے ایک صاحب پیچھے ہٹے انہوں نے تنہا نماز ادا کی اور چلے گئے ۔ لوگوں نے ان سے کہا: تم منافق ہو گئے ہو ،تو وہ بولا: جی نہیں! میں نبی اکرم ﷺکی خدمت میں جا کر آپ ﷺکو اس بارے میں بتاؤں گا پھر وہ شخص نبی اکرم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی:یا رسول اللہ (ﷺ)!گزشتہ رات آپ ﷺنے عشاء کی نماز تاخیر سے ادا کی تھی حضرت معاذ ؓنے آپ ﷺکی اقتداء میں یہ نماز ادا کی پھر وہ واپس آئے اور انہوں نے ہمیں نماز پڑھانا شروع کی اور سورۃ بقرہ پڑھنی شروع کر دی جب میں نے یہ دیکھا تو میں پیچھے ہٹ گیا پھر میں نے اکیلے نماز ادا کر لی ہم اونٹ پالنے والے لوگ ہیں ہم نے اپنے ہاتھوں سے کام کاج کرنا ہوتا ہے (راوی کہتے ہیں) تو نبی اکرمﷺحضرت معاذؓکی طرف متوجہ ہوئے آپ ﷺنے ارشادفرمایا: اے معاذ! کیا تم آزمائش میں مبتلا کرنا چاہتے ہو؟ کیاتم آزمائش میں مبتلا کرنا چاہتے ہو؟ تم فلاں اور فلاں سورت کی تلاوت کیا کرو پھر آپ ﷺنے ان سورتوں کی گنتی کروائی۔سفیان نامی راوی کہتے ہیں۔ ابوز بیر نامی راوی نے اس میں یہ الفاظ مزیدنقل کیے ہیں۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا:تم سورة الأعلىٰ، سورة الیل ، سورة البروج، سورة الشمس اور سورة طارق کی تلاوت کیا کرو‘‘ سفیان کہتے ہیں : میں نے عمرو بن دینار سے کہا:ابو زبیر نےتو یہ بات بیان کی ہے نبی اکرم ﷺنے یہ فرمایا۔ "تم سورة الأعلىٰ، سورة الیل ، سورة الشمس ، سورة طارق اور سورة البروج کی تلاوت کیا کرو‘‘تو عمرو بن دینار نے کہا یہ الفاظ یہی ہیں، یا اس کی مانند ہیں۔

عَمْرُو كُمْ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1283

مسند الحميدي · کتاب ‹ وماتوفیق الا باللہ · حديث 1284

1284 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرٌو، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ ابْنِ سَلُولَ بَعْدَ مَا أُدْخِلَ حُفْرَتَهُ، قَالَ: «فَأَمَرَ بِهِ، فَأُخْرِجَ، فَوَضَعَهُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، فَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ، وَنَفَثَ عَلَيْهِ مِنْ رِيقِهِ» ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ،

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺعبداللہ بن اُبی بن سلول ( کی میت) کے پاس تشریف لائے ،اس وقت جب اسے قبر میں رکھا جا چکا تھا۔ نبی اکرم ﷺکے حکم کے تحت اسے باہر نکالا گیا اور اس کی میت کو آپ ﷺکے گھٹنوں پر رکھا گیا نبی اکرم ﷺنے اپنی قمیص اسے پہنوائی اور اس پر اپنا لعاب دہن ڈالا ۔ باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1284

chevron_left Previous
1…121314…112
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter