Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ جَامِعُ أَبِي هُرَيْرَةَ · حديث 1079

1079 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَاللَّهِ لَأَسْلَمُ، وَغِفَارٌ، وَجُهَيْنَةُ، وَمُزَيْنَةُ، خَيْرٌ مِنَ الْحَلِيفَيْنِ أَسَدٍ، وَغَطَفَانَ، وَمِنْ بَنِي تَمِيمٍ، وَمِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ، يَمُدُّ بِهَا صَوْتَهُ»

حضرت ابو ہر یرہؓ روایت کرتے ہیں:نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا ہے:. "اللہ کی قسم! اسلم ،غفار، جہینہ اور مزینہ قبیلے، دو حلیف قبیلوں بنو اسد اور بنو غطفان اور بنوتمیم اور بنو عامر بن شعثاءسے زیادہ بہتر ہیں۔ نبی اکرم ﷺنے اپنی آواز کوکھینچ کر یہ بات ارشاد فرمائی۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبُو الزِّنَادٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1079

مسند الحميدي · کتاب ‹ جَامِعُ أَبِي هُرَيْرَةَ · حديث 1080

1080 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَلْيَنُ قُلُوبًا، وَأَرَقُّ أَفْئِدَةً الْإِيمَانُ يَمَانٌ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَّةٌ، وَالْجَفَاءُ وَالْقَسْوَةُ وَغِلَظُ الْقُلُوبِ فِي الْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْوَبَرِ، عِنْدَ أُصُولِ أَذْنَابِ الْإِبِلِ مِنْ رَبِيعَةَ، وَمُضَرَ» قَالَ سُفْيَانُ: وَإِنَّمَا يَعْنِي قَوْلُهُ: «أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ أَهْلُ تِهَامَةَ؛ لِأَنَّ مَكَّةَ يَمَنٌ، وَهِيَ تِهَامِيَّهٌ، وَهُوَ قَوْلُهُ الْإِيمَانُ يَمَانٌ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَّةٌ»

حضرت ابو ہریرہؓرروایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺنے ارشاد فرمایا ہے:"اہل یمن تمہارے پاس آئے ہیں یہ نرم دل اور رفیق ذہن کے مالک ہیں ایمان یمانی ہے۔ حکمت یمانی ہے ،جبکہ جفا کاری ،سختی اور دلوں کا سخت ہونار بیعہ اور مضر قبیلے سے تعلق رکھنے والے اونٹوں کے مالکان میں پایا جاتا ہے۔سفیان کہتے ہیں: روایت کے یہ الفاظ" اہل یمن تمہارے پاس آئے ہیں" اس سے مراد اہل تہامہ ہیں کیونکہ مکہ یمن ہے اور یہی تہامیہ ہیں۔ حدیث کے الفاظ سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ "ایمان یمانی ہے اور حکمت یمانی ہے۔“(یعنی یمنی لوگوں کا ایمان مضبوط ہے)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبُو الزِّنَادٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1080

مسند الحميدي · کتاب ‹ جَامِعُ أَبِي هُرَيْرَةَ · حديث 1081

1081 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو الدَّوْسِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَّ دَوْسًا قَدْ عَصَتْ وَأَبَتْ فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهَا، فَاسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِبْلَةَ وَرَفَعَ يَدَهُ، فَقَالَ النَّاسُ هَلَكَتْ دَوْسٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَائْتِ بِهِمْ، مَرَّتَيْنِ»

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں:حضرت طفیل بن عمرو دوسی ؓنبی اکرم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کیا: یا رسول الله ﷺدوس قبیلے کے افراد نے نافرمانی کی ہے اور اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے الله تعالی ٰسے ان کے لیے دعائے ضرر کیجئے۔ تو نبی اکرم ﷺنے قبلہ کی طرف رخ کیا آپ ﷺنے اپنا دست مبارک بلند کیا اور دعا کی، تو لوگوں نے کہا: دوس قبیلہ ہلاکت کا شکار ہو جائے گا لیکن نبی اکرم ﷺنے دعا کی۔ "اے الله !دوس قبیلے کو ہدایت نصیب کر اور انہیں اسلام کے دامن میں لے آ ۔"نبی اکرمﷺنے دو مرتبہ یہ دعا کی۔

جَاءَ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو الدَّوْسِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبُو الزِّنَادٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1081

مسند الحميدي · کتاب ‹ جَامِعُ أَبِي هُرَيْرَةَ · حديث 1082

1082 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ أَهْدَى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَةً، فَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا فَلَمْ يَرْضَ، ثُمَّ أَعْطَاهُ ثَلَاثًا، فَلَمْ يَرْضَ، ثُمَّ أَعْطَاهُ ثَلَاثًا، فَرَضِيَ بِالتِّسْعِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَتَهَبَّ هِبَةً إِلَّا مِنْ قُرَشيٍّ، أَوْ أَنْصَارِيٍّ، أَوْ ثَقَفِيٍّ، أَوْ دَوْسِيٍّ» قَالَ سُفْيَانُ: وَقَالَ غَيْرُ ابْنِ عَجْلَانَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: لَمَّا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْقَوْلَ الْتَفَتَ، فَرَآنِي فَاسْتَحْيَى، فَقَالَ: «أَوْ دَوْسِيٌّ»

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی شخص نے نبی اکرم ﷺکی خدمت میں ایک اونٹنی تحفے کے طور پیش کی، تو نبی اکرم ﷺنے اسے (بدلے کے طور پر )تین اونٹنیاں دیں۔لیکن وہ اس سے راضی نہیں ہوا۔ پھر نبی اکرم ﷺنے اسے مزید تین اونٹنیاں دیں وہ پھر بھی راضی نہیں ہوا۔ پھر نبی اکرم ﷺنے اسے تین اونٹنیاں دیں ۔ و ہ نو اونٹنیاں لے کر راضی ہو گیا۔تو نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا میں نے یہ طے کر لیا ہے کہ اب میں صرف کسی قریشی، انصاری ثقفی یا دوسی شخص کا تحفہ ہی قبول کیا کروں گا۔ سفیان کہتے ہیں: ابن عجلان کے علاوہ دیگر راویوں نے یہ بات نقل کی ہے۔ حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے جب یہ بات ارشاد فرمائی، تو نبی اکرم ﷺنے توجہ کی اور میری طرف دیکھا تو مجھے حیاء آگئی۔ نبی اکرمﷺنے ارشادفرمایا :یا دوسی شخص سے (میں تحفہ قبول کروں گا)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1082

مسند الحميدي · کتاب ‹ جَامِعُ أَبِي هُرَيْرَةَ · حديث 1083

1083 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرٌو، وَابْنُ طَاوُسٍ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا وَهَبَ هِبَةً لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَثَابَهُ، فَلَمْ يَرْضَ، ثُمَّ أَثَابَهُ، فَلَمْ يَرْضَ، ثُمَّ أَثَابَهُ فَرَضِيَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَتَهَبَّ هِبَةً إِلَّا مِنْ قُرَشَيٍّ، أَوْ أَنْصَارِيٍّ، أَوْ ثَقَفِيٍّ»

طاؤس بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی نے نبی اکرمﷺکی خدمت میں کوئی تحفہ پیش کیا نبی اکرم ﷺنے بدلے کے طور پر اسے چیز دی ،تو وہ اس سے راضی نہیں ہوا۔ نبی اکرم ﷺنے بدلے کے طور پر اسے مزید چیز دی تو وہ پھر بھی راضی نہیں ہوا نبی اکرم ﷺنے اسے بدلے کے طور پر اسے مزید چیز دی ،تو وہ راضی ہوگیا۔نبی اکرم ﷺنے فرمایا: میں نے یہ طے کیا ہے کہ آئندہ میں صرف کسی قریشی یا انصاری باثقفی سے تحفہ قبول کروں گا۔

سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1083

مسند الحميدي · کتاب ‹ جَامِعُ أَبِي هُرَيْرَةَ · حديث 1084

1084 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ أَصْدَقَ بَيْتٍ قَالَهُ الشَّاعِرُ: [البحر الطويل] أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلٌ، وَكَادَ ابْنُ أَبِي الصَّلْتِ أَنْ يُسْلِمَ "

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم ﷺنے یہ بات ارشادفرمائی ہے: کسی بھی شاعر نے جو کلام کہا ہے اس میں سب سے سچایہ شعر ہے۔"خبردار ! الله تعالیٰ کے علاوہ ہر چیز فانی ہے اور ہر نعمت نے آخر کار زائل ہو جانا ہے۔" (نبی اکرم نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے:) ابن الوصلت مسلمان ہونے کے قریب تھا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1084

مسند الحميدي · کتاب ‹ جَامِعُ أَبِي هُرَيْرَةَ · حديث 1085

1085 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبُو الزِّنَادِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْأَعْرَجُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: «بَيْنَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَقَرَةً إِذْ أَعْيَا فَرَكِبَهَا، فَضَرَبَهَا، فَقَالَتْ إِنَّا لَمْ نُخْلَقْ لِهَذَا إِنَّمَا خُلِقْنَا لِحِرَاثَةِ الْأَرْضِ» ، فَقَالَ النَّاسُ: بَقَرَةٌ تَكَلَّمُ [ص:239]، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَإِنِّي أُومِنُ بِهِ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَمَا هُمَا ثَمَّ» ، ثُمَّ قَالَ: " بَيْنَمَا رَجُلٌ فِي غَنَمٍ لَهُ إِذْ عَدَا الذِّئْبُ عَلَى شَاةٍ مِنْهَا، فَأَدْرَكَهَا صَاحِبُهَا، فَاسْتَنَقْذَهَا، فَقَالَ الذِّئْبُ: فَمَنْ لَهَا يَوْمَ السَّبُعِ، يَوْمَ لَا رَاعِيَ لَهَا غَيْرِي "، فَقَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ اللَّهِ ذِئْبٌ يَتَكَلَّمُ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَإِنِّي أُومِنُ بِهِ أَنَا، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَمَا هُمَا ثَمَّ»

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی پھر آپ ﷺلوگوں کی طرف رخ کر کے بیٹھے اور ارشادفرمایا: ایک مرتبہ ایک شخص ایک گائے کو ہانک کر لے جارہا تھا۔اسی دوران وہ تھک گیا، تو وہ اس پر سوار ہو گیا اس نے اسے مارا ،تو گائے نے کہا: مجھے اس مقصد کے لیے نہیں پیدا کیا گیا ہے، ہمیں تو زمین میں کھیتی باڑی کرنے کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ تو لوگوں نے کہا: سبحان الله! گائے بھی بات کرسکتی ہے۔ نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا: میں اس بات پر ایمان رکھتا ہوں اور ابوبکر اور عمربھی (اس بات پر ایمان رکھتے ہیں)حالانکہ یہ دونوں صاحبان اس وقت وہاں موجود نہیں تھے۔ پھر نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا: ایک مرتبہ ایک شخص کچھ بکر یوں میں موجود تھا ان میں سے ایک بکری پر بھیڑیے نے حملہ کیا۔ بکری کا مالک وہاں تک پہنچا اور اس نے اس بھیڑیے سے اسے چھڑالیا ،تو وہ بھیڑ یا بولا: درندوں کے مخصوص دن میں اس کا کون رکھوالا ہوگا؟ جب اس کا چرواہا میرے علاوہ اور کوئی نہیں ہوگا۔ لوگوں نے کہا: سبحان اللہ! بھیڑیابھی بات چیت کرتا ہے۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: میں، ابوبکر اور عمراس بات پر ایمان رکھتے ہیں ۔(راوی کہتے ہیں:) حالانکہ یہ دونوں صاحبان اس وقت وہاں موجود نہیں تھے۔

الْأَعْرَجِ ← أَبُو الزِّنَادٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1085

مسند الحميدي · کتاب ‹ جَامِعُ أَبِي هُرَيْرَةَ · حديث 1086

1086 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «فَأُؤْمِنُ بِهِ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ»

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں۔ "میں اس پر یقین رکھتا ہوں اور ابوبکر وعمربھی (اس پر یقین رکھتے ہیں)"

وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ» ← «فَأُؤْمِنُ بِهِ ← النَّبِيِّ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← مِسْعَرٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1086

مسند الحميدي · کتاب ‹ جَامِعُ أَبِي هُرَيْرَةَ · حديث 1087

1087 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ سِنِينَ لَمْ أَكُنْ فِي شَيْءٍ أَحْرَصَ مِنِّي أَنْ أَحْفَظَ شَيْئًا فِي تِلْكَ السِّنِينَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «لَأْنَ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلَهُ، فَيَحْتَطِبَ بِهِ، ثُمَّ يَجِيءَ بِهِ عَلَى ظَهْرِهِ، فَيَبِيعَهُ فَيَأْكُلَهُ أَوْ يَتَصَدَّقَ بِهِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْتِيَ رَجُلًا قَدْ أَغْنَاهُ اللَّهُ مِنْ [ص:240] فَضْلِهِ فَيْسَأَلَهُ، أَعْطَاهُ أَوْ مَنَعَهُ ذَلِكَ، فَإِنَّ الْيَدَ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى»

حضرت ابو ہریرہ ؓبیان کرتے ہیں: میں تین سال تک نبی اکرمﷺکی خدمت میں رہا ہوں ان تین سالوں کے دوران میں کسی بھی معاملے میں اس سے زیادہ حریص نہیں تھا جتنا میں اس بات کا خواہشمند تھا کہ میں احادیث کو یا درکھوں۔میں نے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :کسی شخص کا اپنی رسی کو لے کر اس میں لکڑیاں باندھ کر پھر انہیں اپنی پشت پرلاد کر انہیں فروخت کر کے اسے کھانا یا اسے صدقہ کرنا اس کے لیے اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ کسی ایسے شخص کے پاس آئے جسے الله تعالیٰ نے اپنے فضل کے ذریے غنی کیا ہو، اور وہ اس شخص سے کچھ مانگے تو وہ شخص خواہ اسے کچھ دے یانہ دے۔”بے شک اوپر والا ہاتھ نیچےوالے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے"۔ (یعنی دینے والا ہاتھ لینے والے سے بہتر ہے)۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← قَيْسًا ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1087

مسند الحميدي · کتاب ‹ جَامِعُ أَبِي هُرَيْرَةَ · حديث 1088

1088 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلَهُ، فَيَحْتَطِبَ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَبِيعَهُ، فَيَأْكُلَهُ وَيَتَصَدَّقَ بِهِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْتِيَ رَجُلًا قَدْ أَغْنَاهُ اللَّهُ فَسَأَلَهُ أَعْطَاهُ، أَوْ مَنَعَهُ ذَلِكَ، فَإِنَّ الْيَدَ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى»

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے ارشاد فر مایا ہے:"کسی شخص کارسی لے کر اس میں لکڑیاں باندھ کر اپنی پشت پر رکھ کر انہیں فروخت کر کے اسے کھانا یا اسے صدقہ کرنا اس کےلیے اس سے زیادہ بہتر ہے وہ کسی ایسےشخص کے پاس آئے جسے اللہ تعالی نے غنی کیا ہو اور وہ اس سے کچھ مانگے تو وہ دوسرا شخص اسے کچھ دے یانہ دے۔بے شک اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبُو الزِّنَادٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1088

مسند الحميدي · کتاب ‹ جَامِعُ أَبِي هُرَيْرَةَ · حديث 1089

1089 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ، وَزَادَ فِيهِ: «وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ»

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں۔ . ”تم اپنے زیر کفالت لوگوں سے خرچ کا آغاز کرو‘‘

النَّبِيِّ بِمِثْلِهِ، وَزَادَ فِيهِ: «وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ» ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٌ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1089

مسند الحميدي · کتاب ‹ جَامِعُ أَبِي هُرَيْرَةَ · حديث 1090

1090 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْنَا مِنَ الْهَجَرِيِّ أَحَادِيثَ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، هَذَا أَحَدُهَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي تَرُدُّهُ التَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ، وَلَا اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ، وَلَكِنَّ الْمِسْكِينَ الَّذِي لَا يَسْأَلُ وَلَا يُعْرَفُ مَكَانُهُ فَيُعْطَى»

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا ہے:"مسکین و ہ شخص نہیں ہے جو ایک یا دو کھجور یں لے کر ایک یا دو لقمے لے کر واپس چلا جاتا ہے مسکین وہ شخص ہے جو مانگتا نہیں ہے اور اس کی حالت کا پتہ بھی نہیں چلتا کہ اسے کچھ دے دیا جائے"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، هَذَا أَحَدُهَا، ← أَبِي عِيَاضٍ، ← مِنَ الْهَجَرِيِّ أَحَادِيثَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1090

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter