Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1010

1010 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عُوذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ، عُوذُوا بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، عُوذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، عُوذُوا بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ» [ص:202].

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا ہے:"الله تعالٰی سے اللہ کے عذاب کی پناہ مانگو، الله تعالیٰ سے موت کے فتنے سے پناہ مانگو، الله تعالیٰ سے قبر کے عذاب سے پناہ مانگو۔ اللہ تعالیٰ سے دجال کے فتنے سے پناہ مانگو"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← ابْنِ طَاوُسٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1010

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1011

1011 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔

النَّبِیِّ مِثْلَہُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← طَاوْسٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1011

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1012

1012 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔

النَّبِیِّ مِثْلَہُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبُو الزِّنَادٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1012

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1013

1013 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ، إِمِّا الظُّهْرُ وَإِمَّا الْعَصْرُ، وَأَكْثَرُ ظَنِّي أَنَّهَا الْعَصْرُ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى جِذْعٍ فِي الْمَسْجِدِ فَاسْتَنَدَ إِلَيْهِ وَهُوَ مُغْضَبٌ، وَخَرَجَ سُرْعَانُ النَّاسِ يَقُولُونَ: قُصِرَتِ الصَّلَاةُ، قُصِرَتِ الصَّلَاةُ، وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَهَابَا أَنْ يُكَلِّمَاهُ، فَقَامَ ذُو الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ، أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟» ، فَقَالُوا: صَدَقَ، فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ كَسُجُودِهِ، أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ، ثُمَّ كَبَّرَ وَرَفَعَ [ص:203]. قَالَ مُحَمَّدٌ: فَأُخْبِرْتُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: وَسَلَّمَ.

حضرت ابو ہریرہ ؓبیان کرتے ہیں:نبی اکرم ﷺنے شام کی دونمازوں میں سے کوئی ایک نماز پڑھائی شائد وہ ظہر کی نمازتھی یا شائد عصر کی نمازتھی، ویسے میرا غالب گمان یہ ہے کہ وہ عصر کی نمازتھی نبی اکرم ﷺنے دورکعات پڑھانے کے بعد سلام پھیر دیا۔ پھر آپﷺمسجد میں موجود تنے کی طرف تشریف لے گئے اور آپ ﷺنے اس کے ساتھ ٹیک لگالی۔ آپ ﷺاس وقت غصے کے عالم میں تھے، جلد باز لوگ مسجد سے باہر نکل گئے وہ یہ کہہ رہے تھے :نما مختصر ہوگئی ہے۔ نماز ختم ہوگئی ہے۔ حاضرین میں حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ بھی موجود تھے، لیکن ان دونوں حضرات کی یہ جرات نہ ہوئی کہ وہ نبی اکرم ﷺسے اس بارے میں بات کریں، تو حضرت ذوالید ؓ کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی:یا رسول الله (ﷺ)! کیا نمازمختصر ہوگئی ہے یا آپ ﷺبھول گئے ہیں؟ نبی اکرمﷺنے دریافت کیا: ذوالیدین کیا کہہ رہا ہے؟ لوگوں نے عرض کی:یہ ٹھیک کہہ رہے ہیں ۔ تو نبی اکرم ﷺنے ہمیں دورکعات پڑھائیں پھر آپ ﷺنے سلام پھیرا پھر آپ ﷺنے تکبیر کہی پھر آپﷺ نے اپنے عام سجدہ کی مانند سجدہ کیا یا شائد طویل سجدہ کیا۔پھر آپ ﷺنے سر اٹھایا پھر تکبیر کہتے ہوئے سجدہ کیا۔ پھر آپ ﷺنے تکبیر کہتے ہوئے سر اٹھالیا۔محمد بن سیرین نامی راوی کہتے ہیں: مجھے یہ پتہ چلا ہے کہ حضرت عمران بن حصین ؓ نے نبی اکرم ﷺکے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے: پھر نبی اکرم ﷺنے سلام پھیراتھا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← أَيُّوبَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1013

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1014

1014 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا ابْنُ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ نَحْوَ حَدِيثِ أَيُّوبَ، وَزَادَ فِيهِ: فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينًا وَشِمَالًا، وَقَالَ: «مَا يَقُولُ ذَوِ الْيَدَيْنِ؟»

بہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت ابو ہریرہ ؓسے منقول ہے ،تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں۔ نبی اکرم ﷺنے اپنے دائیں طرف اور بائیں طرف دیکھا اور دریافت کیا۔ ”ذوالیدین کیا کہہ رہا ہے؟"

ذُو الْيَدَيْنِ؟»، ← مَا ← أَبِي هُرَيْرَةَ نَحْوَ حَدِيثِ أَيُّوبَ، وَزَادَ فِيهِ: فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ يَمِينًا وَشِمَالًا، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1014

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1015

1015 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَقَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ يَفْتَتِحُ بِهَا صَلَاتَهُ»

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے: "جب کوئی شخص رات کے وقت بیدار ہو، تو اسے دو مختصر رکعات ادا کر لینی چاہئیں جس کے ذریعے وہ اپنی نماز کا آغاز کرے"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدٍ ← أَيُّوبَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1015

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1016

1016 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً لَا يُوافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ قَائِمٌ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ تَعَالَى فِيهَا خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ يُقَلَّلُهَا» ، وَقَبَضَ سُفْيَانُ، يَقُولُ: قَلِيلٌ

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں: حضرت ابوالقاسم ؓنے ارشادفرمایا ہے: ”جمعے میں ایک مخصوص گھڑی ہے اس وقت جو بھی مسلمان بندہ کھڑا ہوکر نماز ادا کر رہا ہو، تو اس وقت وہ الله تعالیٰ سے جو بھی بھلائی مانگے گا اللہ تعالیٰ وہ بھلائی اسے عطا کر دے گا۔“نبی اکرم ﷺنے اپنے دست مبارک کے ذریعے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ بہت کم وقت ہوتا ہے۔

أَبُو الْقَاسِمِ‏.‏ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدٍ ← أَيُّوبَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1016

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1017

1017 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَنَزَلْتُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ وَكَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ مَوَالِيَّ قَرَابَةٌ، فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ «يَؤُمُّ النَّاسَ فَيْخَفِّفُ» ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَكَذَا كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «نَعَمْ، وَأَوْجَزَ»

اسماعیل بن ابوخالد اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ میں مدینہ منورہ آیا میں حضرت ابو ہریرہؓ کے ہاں مہمان ٹھہر اان کے اور میرےموالی کے درمیان قرابت کا رشتہ تھا۔ حضرت ابو ہریرہؓ لوگوں کو نماز پڑھایا کرتے تھے اور مختصر نماز پڑھاتے تھے۔ میں نے کہا:اے ابو ہریرہ! کیا نبی اکرم ﷺاس طرح نماز پڑھایا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی اکرم ا ﷺاس سے بھی زیاد مختصر نماز پڑھایا کرتے تھے۔

أَبِيهِ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1017

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1018

1018 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ مِثْلُ الْوَالِدِ أُعَلِّمُكُمْ، فَإِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمُ الْغَائِطَ، فَلَا يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ، وَلَا يَسْتَدْبِرْهَا بِغَائِطٍ، وَلَا بَوْلٍ، وَأَمَرَ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِثلَاثَةِ أَحْجَارٍ، وَنَهَى عَنِ الرَّوَثِ وَالرِّمَّةِ، وَأَنْ يَسْتَنْجِيَ الرَّجُلُ بِيَمِينِهِ»

حضرت ابو ہریرہ نے نبی اکرم ﷺکا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "میں تمہارے لئے باپ کی طرح ہوں ۔ میں تمہاری تعلیم و تربیت کروں گا، جب کوئی شخص قضائے حاجت کے لیے جائے ،تو وہ پاخانہ کرتے ہوئے اور پیشاب کرتے ہوئے ۔ قبلہ کی طرف رخ نہ کرے اور اس کی طرف پیٹھ نہ کرے"۔راوی کہتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے یہ ہدایت کی کہ ہم تین پتھروں کے ذریے استنجاء کریں، آپ ﷺنے ہمیں مینگنی اور ہڈی سے استنجاء کرنے سے منع کیا۔ اور اس بات سے بھی منع کیا کہ آدمی اپنے دائیں ہاتھ سے استنجاء کرے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْقَعْقَاعِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1018

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1019

1019 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُلَيْحَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ السَّعْدِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «إِنَّ الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيَخْفِضُهُ قَبْلَ الْإِمَامِ، فَإِنَّمَا نَاصِيتُهُ بِيَدِ شَيْطَانٍ» ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: «وَقَدْ كَانَ سُفْيَانَ رُبَّمَا رَفَعَهُ وَرُبَّمَا لَمْ يَرْفَعْهُ»

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں: جو شخص امام سے پہلے اپنے سر کو اٹھاتا ہے یا جھکاتا ہے ،تو اس کی پیشانی شیطان کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔امام ابو بکر حمیدی بیان کرتے ہیں: سفيان بعض اوقات اس روایت کو"مرفوع "حدیث کے طور نقل کرتے ہیں۔ بعض اوقات "مرفوع "حدیث کے طورپر نقل نہیں کرتے۔

أَبُو بَكْرٍ: «وَقَدْ كَانَ سُفْيَانَ رُبَّمَا رَفَعَهُ وَرُبَّمَا لَمْ يَرْفَعْهُ» ← «إِنَّ الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيَخْفِضُهُ قَبْلَ الْإِمَامِ، فَإِنَّمَا نَاصِيتُهُ بِيَدِ شَيْطَانٍ» ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مَلِيحِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السَّعْدِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1019

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1020

1020 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: «فِي كُلِّ الصَّلَاةِ اقْرَأَ، فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ، وَمَا أَخْفَى مِنَّا أَخْفَيْنَا مِنْكُمْ، كُلُّ صَلَاةٍ لَا يُقْرَأُ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ، فَهِيَ خِدَاجٌ» ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: أَرَأَيْتَ إِنْ قَرَأَتُ بِهَا وَحْدَهَا تُجْزِئُ عَنِّي؟ قَالَ: «إِنِ انْتَهَيْتَ إِلَيْهَا أَجْزَأَتْ عَنْكَ، فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ أَحْسَنُ»

حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں: میں ہر نماز میں تلاوت کرتا ہوں ،تاہم جن نمازوں میں نبی اکرم ﷺبلند آواز میں تلاوت کرتے تھے ہم بھی تمہارے سامنے ان میں بلند آواز میں تلاوت کرتے ہیں اور جن نمازوں میں نبی اکرم ﷺپست آواز میں تلاوت کرتے تھے ان نمازوں میں ہم بھی تمہارے سامنے پست آواز میں تلاوت کرتے ہیں۔ ہر وہ نماز جس میں سورہ فاتحہ تلاوت نہ کی جائے، وہ نامکمل ہوتی ہے۔ایک صاحب نے حضرت ابو ہریرہ ؓ سے دریافت کیا: آپ کی کیا رائے ہے؟ اگر میں صرف سورہ فاتحہ کی تلاوت کرتا ہوں ،تو کیا میرے لیے یہ جائز ہوگا ،تو حضرت ابو ہریرہ ؓ بولے:اگرتم صرف اس کی تلاوت کرتے ہو، تویہ تمہارے لیے جائز ہوگا، لیکن اگرتم اس کے ساتھ مزید تلاوت کروتویہ زیادہ بہتر ہوگا۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1020

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1021

1021 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مَيْنَاءَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «سَجَدْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ، وَاقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ» قَالَ سُفْيَانُ: «وَكَانَ عَطَاءُ بْنُ مَيْنَاءَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِي هُرَيْرَةَ الْمُعْرُوفِينَ»

حضرت ابو ہر یرہؓ بیان کرتے ہیں:ہم نے نبی اکرم ﷺکے ہمراہ سورہ انشقاق اور سورہ العلق میں سجدہ تلاوت کیا ہے۔ سفیان کہتے ہیں: عطاء بن میناءنامی راوی حضرت ابو ہریرہ ؓکے معروف شاگردوں میں سے ایک ہیں۔

سُفْيَانُ: «وَكَانَ عَطَاءُ بْنُ مَيْنَاءَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِي هُرَيْرَةَ الْمُعْرُوفِينَ» ← سَجَدْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ وَاقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ ← أَيُّوبَ بْنِ مُوسَی ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1021

chevron_left Previous
1…45678
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter