Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 998

998 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَيُّوبُ السِّحْتِيَانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، مِثْلَهُ، رَفَعَهُ مَرَّةً إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «أُولَاهُنَّ، أَوْ أَحَدُهُنَّ بِالتُّرَابِ»

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں:"ان میں سے پہلی مرتبہ یا ان میں سے ایک مرتبہ مٹی کے ساتھ دھویا جائے"۔

«أُولَاهُنَّ، أَوْ أَحَدُهُنَّ بِالتُّرَابِ» ← أَبِي هُرَيْرَةَ، مِثْلَهُ، رَفَعَهُ مَرَّةً إِلَّا أَنَّهُ ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← أَيُّوبُ السِّحْتِيَانِيُّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 998

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 999

999 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبُو الزِّنَادِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ، ثُمَّ يَغْتَسِلُ مِنْهُ»

حضرت ابو ہریرہ ؓ نبی اکرم ﷺکایہ فرمان نقل کرتے ہیں:"کوئی بھی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کرے کہ وہ پھر اسی میں غسل بھی کرلے"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ← أَبُو الزِّنَادٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 999

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1000

1000 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ الَّذِي لَا يَجْرِي ثُمَّ يَغْتَسِلُ مِنْهُ»

حضرت ابو ہریرہ ؓ، نبی اکرم ﷺکایہ فرمان نقل کرتے ہیں:"کوئی بھی ٹھہرے ہوئے پانی میں، جو بہتانہ ہو، پیشاب نہ کرے کہ وہ پھر اسی میں غسل بھی کرلے"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← أَيُّوبَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1000

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1001

1001 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ، عَنْ مَوْلًى لِأَبِي رُهْمٍ، قَالَ: لَقِيَ أَبُو هُرَيْرَةَ امْرَأَةً مُتَطَيِّبَةً، فَقَالَ: أَيْنَ تُرِيدِينَ يَا أَمَةَ الْجَبَّارِ؟ قَالَتِ الْمَسْجِدَ، قَالَ: وَلَهُ تَطَيَّبْتِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: ارْجِعِي فَاغْتَسِلِي، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ تَطَيَّبَتْ، ثُمَّ خَرَجَتْ تُرِيدُ الْمَسْجِدَ لَمْ تُقْبَلْ لَهَا صَلَاةٌ، وَلَا كَذَا، وَلَا كَذَا حَتَّى تَرْجِعَ فَتَغْتَسِلَ غُسْلَهَا مِنَ الْجَنَابَةِ»

عاصم بن عبيد الله عمری بیان کرتے ہیں : حضرت ابو ہریرہ ؓ کی ملاقات ایک خاتون سے ہوئی جو خوشبو میں بسی ہوئی تهی، تو انہوں نے دریافت کیا:اے اللہ کی کنیز!تم کہاں جارہی ہو؟ اس نے جواب دیا: مسجد حضرت ابو ہریرہؓ نے دریافت کیا:مسجد کے لیے تم نے خوشبو لگائی ہے؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں۔تو حضرت ابو ہریرہ ؓ نے فرمایا:تم واپس جاؤ اور اسے دھولو! کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:"جو عورت خوشبو لگا کر پھر مسجد میں جانے کے ارادے سے نکلتی ہے ،تو اس کی نماز قبول نہیں ہوتی۔ اور یہ بھی نہیں ہوتا اور وہ بھی نہیں ہوتا، جب تک وہ عورت واپس جا کر غسل جنابت کی طرح غسل نہیں کرتی (یعنی اس خوشبو کے اثرات کو مکمل طور پرنہیں دھوتی)"۔

رَسُولِ اللَّهِ ← ارْجِعِي فَاغْتَسِلِي، فَإِنِّي ← نَعَمْ ← وله تطيبت ← الْمَسْجِد، ← أَيْنَ تُرِيدِينَ يَا أَمَةَ الْجَبَّارِ؟ ← لَقِيَ أَبُو هُرَيْرَةَ امْرَأَةً مُتَطَيِّبَةً، ← مَوْلًى لِأَبِي رُهْمٍ، ← عاصم بن عبيد الله العمري ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1001

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1002

1002 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا سُمَيٌّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنْ جَهْدِ الْبَلَاءِ، وَدَرَكِ الشَّقَاءِ وَسُوءِ الْقَضَاءِ، وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ» قَالَ سُفْيَانُ: «ثَلَاثَةٌ مِنْ هَذَا الْأَرْبَعِ»

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺآزمائش کی سختی، بدبختی لاحق ہونے، برے فیصلے اور دشمن کی شماتت (طعن وتشنیع) سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ سفیان کہتے ہیں: ان چار میں سے تین چیزیں ہیں۔ (یعنی سفیان یہ کہتے ہیں ان چار میں سے تین تو وہی ہیں جو آپ ﷺنے فرمائی ہیں ایک مجھ سے زیادہ ہوگئی ہے لیکن مجھے معلوم نہیں وہ کون سی زیادہ ہوئی ہے)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1002

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1003

1003 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ مَوْلَى الْحُرَقَةِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ اللَّهُ تَعَالَى قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي، فَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ: {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} [الفاتحة: 2] قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: حَمِدَنِي عَبْدِي، فَإِذَا قَالَ: {الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} [الفاتحة: 1] ، قَالَ: أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي، أَوْ مَجَّدَنِي عَبْدِي، وَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ: {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ} ، قَالَ: فَوَّضَ إِلَيَّ عَبْدِي، فَإِذَا قَالَ: {إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ} [الفاتحة: 5] ، فَهَذِهِ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ، {اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ} [الفاتحة: 7] ، فَهَذِهِ لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ "

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے:"الله تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان تقسیم کر دیا ہے، جب میرا بندہ یہ پڑھتا ہے۔ "تمام تعریفیں اللہ تعالی ٰکےلیے مخصوص ہیں"۔ تو الله تعالی ٰفرماتا ہے: میرے بندے نے میری حمد بیان کی ہے۔ جب بندہ یہ پڑھتا ہے۔ "وہ مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔“ تو الله تعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندے نے میری تعریف کی ہے ،یا میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی ہے۔ جب بندہ پڑھتا ہے۔"وہ روز جزا کا مالک ہے"۔ تو الله تعالیٰ فرماتا ہے :میرے بندے نے مجھے تفویض کر دیا ہے۔ جب بندہ یہ پڑھتا ہے۔"ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں۔" تویہ حصہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے۔ اور میرا بندہ جو مانگ رہا ہے وہ اسے ملے گا۔ جب بندہ یہ پڑھتا ہے۔ "تو سیدھے راستے کی طرف ہمیں ہدایت نصیب کر!ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا، نہ کہ ان لوگوں کا راستہ ،جن پرغضب کیا گیا اور جو گمراہ ہوئے ۔" (تو الله تعالی فرماتا ہے:)یہ چیز میرے بندے کو ملے گی ۔ میرا بندہ جو مانگے گا وہ اسے ملے گا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ مَوْلَى الْحُرَقَةِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1003

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1004

1004 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ، وَابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «كُلُّ صَلَاةٍ لَا يُقْرَأُ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَهِيَ خِدَاجٌ، فَهِيَ خِدَاجٌ» ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: فَقُلْتُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: فَإِنِّي أَسْمَعُ قِرَاءَةَ الْإِمَامِ، فَغَمَزَنِي بِيَدِهِ، فَقَالَ: " يَا فَارِسِيُّ، أَوْ قَالَ: يَا ابْنَ الْفَارِسِيِّ، اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ "

حضرت ابو ہریرہ ؓ نبی اکرم ﷺکا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:"ہر وہ نماز جس میں سورہ فاتحہ نہ پڑھی جائے وہ نامکمل ہوتی ہے۔ وہ نامکمل ہوتی ہے۔ وہ نامکمل ہوتی ہے"۔ عبدالرحمنٰ نامی راوی کہتے ہیں: میں نے حضرت ابو ہریرہؓ سے دریافت کیا: بعض اوقات میں امام کی تلاوت سن رہا ہوتا ہوں (اس وقت میں کیا کروں؟) تو انہوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے ٹہوکا دے کر ارشادفرمایا:”اے فارسی (راوی کو شک ہے شائدیہ الفاظ ہیں)ابن فارسی! تم دل میں اسے پڑھ لیا کرو"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← سُفْيَانُ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ، وَابْنُ أَبِي حَازِمٍ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1004

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1005

1005 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَفَعَهُ مَرَّةً، قَالَ: " تُعْرَضُ الْأَعْمَالُ فِي كُلَّ يَوْمٍ إِثْنَيْنِ وَخَمِيسٍ، فَيَغْفِرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ الْيَوْمَيْنِ لِكُلِّ امْرِئٍ لَا يُشْركُ بِاللَّهِ شَيْئًا، إِلَّا امْرَأَ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ، فَيُقَالُ: اتْرُكُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا، اتْرُكُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا "

حضرت ابو ہریرہ ؓ"مرفوع"حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں:ہر پیر اور جمعرات کے دن اعمال (اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں)پیش کیے جاتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ ان دو دنوں میں ہر ایسے شخص کی مغفرت کردیتا ہے، جو کسی کواللہ تعالیٰ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو، ماسوائے اس شخص کے ،جس کی اپنے کسی بھائی کے ساتھ ناراضگی ہو ،تو حکم ہوتا ہے ان دونوں کو اس وقت تک رہنے دو، جب تک یہ دونوں صلح نہیں کر لیتے ۔ ان دونوں کو اس وقت تک رہنے دو ،جب تک یہ دونوں صلح نہیں کر لیتے۔

أَبَا هُرَيْرَةَ رَفَعَهُ مَرَّةً ← أبي صَالح أَنه ← مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1005

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1006

1006 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُصَلِّيَ بَعْدَ الْجُمُعَةِ أَرْبَعًا» قَالَ سُفْيَانُ: وَقَالَ غَيْرِي: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مُصَلِّيًا بَعْدَ الْجُمُعَةٍ فَلْيُصَلِّ أَرْبَعًا» وَهَذَا أَحْسَنُ، وَأَمَّا الَّذِي حَفِظْتُ أَنَا الْأَوَّلُ "

حضرت ابو ہر یرہؓ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم ﷺنے ہمیں یہ ہدایت کی تھی کہ ہم جمعے کے بعد چار رکعات ادا کریں۔ سفیان کہتے ہیں:دیگر راویوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں نبی اکرم ﷺنے یہ ارشاد فرمایا ہے: "تم میں سے جس شخص نے جمعے کے بعد نماز اداکرنی ہو، تو اسے چاہیے کہ چار رکعات ادا کرے۔" (راوی کہتے ہیں)یہ روایت زیادہ بہتر ہے، جو الفاظ میں نے یاد کیے ہیں وہ پہلے والے ہیں۔

سُفْيَانُ: وَقَالَ غَيْرِي: ← «أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ أَنْ نُصَلِّيَ بَعْدَ الْجُمُعَةِ أَرْبَعًا» ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1006

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1007

1007 - ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: إِنِّي رَجُلٌ كَثِيرُ الشَّعْرِ، وَلَا يَكْفِينِي ثَلَاثُ حَثَيَاتٍ، فَقَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مِنْكَ شَعْرًا، وَأَطْيَبَ مِنْكَ، وَكَانَ يُحْثِي عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا»

سعید مقبری بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے حضرت ابو ہریرہؓ سے کہا: میں ایک ایسا شخص ہوں ،جس کے بال زیادہ ہیں، دونوں ہاتھوں میں تین مرتبہ بھر کے پانی ڈالنا میرے لیے کافی نہیں ہوگا، تو حضرت ابو ہریرہ ؓ نے فرمایا: نبی اکرم ﷺکے بال تم سے بھی زیادہ تھے اور نبی اکرم ﷺتم سے بھی زیادہ پاکیزہ تھے، لیکن آپ ﷺاپنے سر پرصرف تین مرتبہ پانی ڈال لیتے تھے۔

رَجُلٌ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: إِنِّي رَجُلٌ كَثِيرُ الشَّعْرِ، وَلَا يَكْفِينِي ثَلَاثُ حَثَيَاتٍ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← سُفْيَانَ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1007

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1008

1008 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرُو بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ، وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا وَهُنَّ تَفِلَاتٌ»

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں ،نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے: "اللہ تعالیٰ کی کنیزوں کو الله تعالیٰ کی مساجد میں جانے سے نہ روکو اور خواتین ایسی حالت میں نہ نکلیں کہ ان سے خوشبو پھوٹ رہی ہو"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1008

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1009

1009 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيْصَبِّحُ الْقَوْمَ بِالنِّعْمَةِ وَيُمَسِّهِمْ، فَيُصْبِحُ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ بِهَا كَافِرِينَ، يَقُولُونَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا، وَكَذَا "، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ: فَحَدَّثْتُ بِهِ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، فَقَالَ: قَدْ سَمِعْنَا هَذَا مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَلَكِنْ أَخْبَرَنِي مَنْ شَهِدَ عُمَرَ يَسْتَسْقي بِالنَّاسِ، فَقَالَ: يَا عَبَّاسُ، يَا عَمَّ رَسُولِ اللَّهِ كَمْ بَقِيَ مِنْ نَوْءِ الثُّرَيَّا، قَالَ الْعُلَمَاءُ: بِهَا يَزْعُمُونَ أَنَّهَا تَعْتَرِضُ بَعْدَ سُقُوطِهَا فِي الْأُفُقِ سَبْعًا، قَالَ: فَمَا مَضَتْ سَابِعَةٌ حَتَّى مُطِرْنَا

حضرت ابو ہریرہ والی روایت کرتے ہیں ،نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے: ”بے شک الله تعالی ٰصبح کے وقت یا شام کے وقت کسی قوم کوکوئی نعمت عطا کرتا ہے ،تو ان میں سے کچھ لوگ اس کا انکار کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں:ہم پرفلاں ،فلاں ستارے کی وجہ سے بارش نازل ہوئی ہے"۔محمد بن ابراہیم نامی راوی کہتے ہیں:میں نے یہ روایت سعید بن مسیب کو سنائی تو انہوں نے بتایا:انہوں نے یہ روایت حضرت ابوہریرہ ؓسے سنی ہے۔تاہم ان صاحب نے ہمیں یہ بتایا ہے جو حضرت عمرؓکے ساتھ اس وقت موجود تھے، جب انہوں نے لوگوں کے لیے بارش کی دعامانگی تھی۔ تو حضرت عمر ؓ نے یہ کہا تھا:اے حضرت عباس ؓ !اے اللہ کے رسول کے چچا!فلاں ستارے کا کتنا حصہ باقی رہ گیا تو حضرت عباس ؓ نے فرمایا: اس علم کے ماہرین کایہ کہنا ہے ،یہ گرنے کے بعد افق میں سات دن تک چوڑائی کی سمت میں رہے گا۔ راوی کہتے ہیں : سات دن گزرنے سے پہلے ہی ہم پر بارش ہوگئی۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 1009

chevron_left Previous
12345…8
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter