Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 715

715 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَفَّرَ الرَّجُلُ أَخَاهُ فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا»

حضرت عبد الله بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا ہے:"جب کوئی شخص اپنے بھائی کو کافر قرار دے تو وہ (کفر)ان دونو ں میں سے کسی ایک کی طرف لوٹ آتا ہے"۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 715

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 716

716 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُسَافَرُ بِالْقُرْآنِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ، لَا يَنَالُهُ الْعَدُوُّ»

حضرت عبداللہ بن عمرؓبیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا ہے: "قرآن کو ساتھ لے کر دشمن کی سرزمین کی طرف سفر نہ کیا جائے ،کہیں دشمن اس تک نہ پہنچ جائے (اور اس کی بے حرمتی نہ کرے )"

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 716

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 717

717 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَقَامَ الصَّلَاةَ بِضُجْنَانَ فِي لَيْلَةٍ مَطِيرَةٍ، ثُمَّ قَالَ: صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ، " كَانَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ مُنَادِيَهُ فِي اللَّيْلَةِ الْمَطِيرَةِ، أَوِ اللَّيْلَةِ الْبَارِدَةِ ذَاتِ الرِّيحِ فَيُنَادِي: أَلَّا صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ "

نافع بیان کرتے ہیں: حضرت عبد الله بن عمرؓنے"ضجنان‘‘ کے مقام پر ایک بارانی رات میں نماز کے لیے اقامت کہی پھرانہوں نے یہ کہا تم لوگ اپنی رہائش کی جگہ پر ہی نماز ادا کرلو۔ نبی اکرم ﷺبارش دالی رات میں، یا انتہائی سردی والی رات میں، جس میں تیز ہوا چل رہی ہو، اپنے مؤذن کو یہ حکم دیتے تھے وہ یہ اعلان کرتا تھا: خبردار! اپنی رہائشی جگہ پرہی نماز ادا کرلو۔

نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَقَامَ الصَّلَاةَ بِضُجْنَانَ فِي لَيْلَةٍ مَطِيرَةٍ، ثُمَّ ← أَيُّوبَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 717

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 718

718 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَدَقَةُ الْفِطْرِ صَاعٌ مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ» قَالَ ابْنُ عُمَرَ: «فَلَمَّا كَانَ مُعَاوِيَةُ عَدَلَ النَّاسُ نِصْفَ صَاعٍ بُرٍّ، بِصَاعٍ مِنْ شَعِيرٍ» قَالَ نَافِعٌ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ: «يُخْرِجُ صَدَقَةَ الْفِطْرِ عَنِ الصَّغِيرِ مِنْ أَهْلِهِ وَالْكَبِيرِ، وَالْحُرِّ وَالْعَبْدِ»

حضرت عبد الله بن عمرؓ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا ہے: "صدقہ فطر جوکا ایک صاع ہوگایا کھجور کا ایک صاع ہوگا“۔ حضرت عبد الله بن عمرؓبیان کرتے ہیں : حضرت معاویہ ؓ نے اپنے عہد حکومت میں گندم کے نصف صاع کو جو کے ایک صاع کے برابر قرار دیا۔ نافع بیان کرتے ہیں: حضرت عبد الله بن عمر ؓ اپنے گھر کے ہر چھوٹے ،بڑے آزاد اور غلام کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرتے تھے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 718

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 719

719 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ رَبِيعَةَ يُخْبِرُ [ص:560]، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ عَلَى دَرَجِ الْكَعْبَةِ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي صَدَقَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ، أَلَا إِنَّ قَتِيلَ الْعَمْدِ وَالْخَطَأِ بِالسَّوْطِ أَوِ الْعَصَا فِيهِ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ مُغَلَّظَةٌ فِيهَا أَرْبَعُونَ خِلْفَةً فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا، أَلَا إِنَّ كُلَّ مَأْثَرَةٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَوْ دَمٍ أَوْ مَالٍ، فَهُوَ تَحْتَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ، إِلَّا مَا كَانَ مِنْ سَدَانَةِ الْبَيْتِ أَوْ سِقَايَةِ الْحَاجِّ، فَإِنِّي قَدْ أَمْضَيْتُهَا لِأَهْلِهَا كَمَا كَانَتْ»

حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں :فتح مکہ کے موقع پر نبی اکرم ﷺنے خانہ کعبہ کی دہلیز پریہ ارشاد فرمایا:"الله تعالیٰ کے لیے ہرطرح کی حمد مخصوص ہے، جس نے اپنے وعدے کو پورا کیا اس نے اپنے بندے کی مدد کی اس نے تنہا دشمن کے لشکروں کو پسپا کردیا ہے"۔ یاد رکھنا قتل عمد خطا کے طور پرقتل ہونے والا شخص وہ ہے ،جس کو لاٹھی یاعصا کے ذریعے قتل کیا جائے اس میں ایک سو اونٹوں کی مغلظہ دیت ہوگی۔ جس میں چالیس خلفہ ہوں گے، جن کے پیٹ میں اولاد موجود ہوگی۔ یاد رکھنا! زمانہ جاہلیت کا ہر رواج اور ہرخون (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ہر مال میرے ان دوقدموں کے نیچے ہے ماسوائے خانہ کعبہ کی خدمت کے اور حاجیوں کو پانی پلانے کی رسم کے، کیونکہ میں ان دونوں کو ان کے متعلقہ افراد کے لیے اسی طرح باقی رکھوں گا جیسے یہ پہلے تھیں۔

ابْنِ عُمَرَ ← الْقَاسِمَ بْنَ رَبِيعَةَ يُخْبِرُ [ص:560]، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 719

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 720

720 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُعَيْرُ بْنُ الْخِمْسِ التَّمِيمِيُّ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ، شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَصَوْمِ شَهْرِ رَمَضَانَ، وَحَجَّ الْبَيْتِ» [ص:561]

حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے یہ بات ارشادفرمائی ہے:"اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے اس بات کی گواہی دینا کہ الله تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبو دنہیں ہے حضرت محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰة دینا، رمضان کے روزے رکھنا اور بیت الله کاحج کرنا"۔

ابْنِ عُمَرَ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← سُعَيْرُ بْنُ الْخُمُسِ التَّمِيمِيُّ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 720

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 721

721 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ مَرَّةً وَاحِدَةً، عَنْ شُعْبَةَ، وَمِسْعَرٍ، ثُمَّ لَمْ أَسْمَعْ سُفْيَانَ يَذْكُرُ مِسْعَرًا بَعْدَ ذَلِكَ

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔

شُعْبَةَ، وَمِسْعَرٍ، ثُمَّ لَمْ أَسْمَعْ سُفْيَانَ يَذْكُرُ مِسْعَرًا بَعْدَ ذَلِكَ ← سُفْيَانُ مَرَّةً وَاحِدَةً، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 721

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 722

722 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: اشْتَرَى ابْنُ عُمَرَ مِنْ شَرِيكٍ لَنَوَّاسٍ إِبِلًا هِيمًا، فَلَمَّا جَاءَ نَوَّاسٌ، قَالَ لِشَرِيكِهِ: مِمَّنْ بِعْتَهَا، فَوَصَفَ لَهُ صِفَةَ ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ: وَيْحَكَ، ذَلِكَ ابْنُ عُمَرَ، وَأَتَى نَوَّاسٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ: أَنَّ شَرِيكِي بَاعَكَ إِبِلًا هِيمًا، وَإِنَّهُ لَمْ يَعْرِفْكَ، قَالَ: خُذْهَا إِذَا، فَلَمَّا ذَهَبَ لِأَخْذِهَا، قَالَ: «دَعْهَا رَضِينَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا عَدْوَى» قَالَ سُفْيَانُ: قَالَ عَمْرٌو: وَكَانَ نَوَّاسٌ يُجَالِسُ ابْنَ عُمَرَ، وَكَانَ يُضْحِكُهُ، فَقَالَ يَوْمًا: وَدِدْتُ أَنَّ لِي أَبَا قُبَيْسٍ ذَهَبًا، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ: مَا تَصْنَعُ بِهِ؟ قَالَ: «أَمُوتُ عَلَيْهِ» ، فَضَحِكَ ابْنُ عُمَرَ

عمرو بن دینار بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے نو اس کے شراکت دار سے ایک ایسا اونٹ خریدا جسے شدید پیاس لگنے کی بیماری تھی ۔ جب نواس آئے ، تو انہوں نے اپنے شراکت دار سے کہا: تم نے اسے کس کو فروخت کیا ہے ، تو اس نے ان کے سامنے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کا حلیہ بیان کیا، تو نواس بولے: تمہارا ستیاناس ہو وہ تو حضرت عبداللہ بن عمرؓ تھے ۔نواس حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کے پاس آے اور بولے: میر شراکت دارنے آپ کو ایک ایسااونٹ فروخت کیا ہے، جسے شدید پیاس لگنے کی بیماری ہے، وہ آپ کو پہچانتا نہیں تھا۔تو حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بولے : تم اسے لے جاو۔ جب میں اسے لے کر جانے لگا تو انہوں نے فرمایا :تم اسے رہنے دو! ہم اللہ کے رسول ﷺکے فیصلے سے راضی ہیں کہ عدویٰ کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ سفیان کہتے ہیں: عمرو بن دینار نے یہ بات بیان کی ہے نواس حضرت عبد الله بن عمرؓ کی خدمت میں بیٹھا کرتے تھے اور انہیں ہنسایا کرتے تھے۔ ایک دن انہوں نے کہا میری یہ خواہش ہے کہ میرے پاس ابو قبیس پہاڑ جتنا سونا ہوتا ،تو حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے فرمایا: تم اس کے ساتھ کیا کرتے؟ تو نواس بولے: میں اس پر مر جاتا تو حضرت عبد الله بن عمؓر ہنسنے لگے۔

«أَمُوتُ عَلَيْهِ» فَضَحِكَ ابْنُ عُمَرَ ← له ابن عمر: ما تصنع به؟ ← يوما: وددت أن لي أبا قبيس ذهبا، ← عمرو: وكان نواس يجالس ابن عمر، وكان يضحكه، ← سُفْيَانَ، ← دعها، رضينا بقضاء رسول الله ((لا عدوى))، ← خذها إذا، فلما ذهب لأخذها ← إن شريكي باعك إبلا هيما، وإنه لم يعرفك، ← وَيْحَكَ، ذَلِكَ ابْنُ عُمَرَ، وَأَتَى نَوَّاسٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ، ← لشريكه: ممن بعتها؟ فوصف له صفة ابن عمر، ← اشترى ابن عمر من شريك لنواس إبلا هيما، فلما جاء نواس ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 722

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 723

723 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرٌو، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: لَمَّا حَاصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الطَّائِفِ، قَالَ: «إِنَّا قَافِلُونَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ غَدًا» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ: أَتَقْفِلُ قَبْلَ أَنْ تَفْتَحَهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَاغْدُوا عَلَى الْقِتَالِ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى» ، قَالَ: فَغَدَوْا عَلَى الْقِتَالِ، فَأَصَابَتْهُمْ جِرَاحَةٌ شَدِيدَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهِ» ، فَكَأَنَّهُمُ اشْتَهَوْا ذَلِكَ وَسَكَنُوا إِلَيْهِ، قَالَ: «فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

حضرت عبداللہ بن عمرؓبیان کرتے ہیں :جب نبی اکرم ﷺنے اہل طائف کا محاصرہ کیا، تو آپ ﷺنے ارشاد فرمایا: اگر اللہ نے چاہا تو ہم لوگ کل روانہ ہو جائیں گے لوگوں نے عرض کی:یارسول الله(ﷺ)! کیا آپ ﷺنے اسے فتح کرنے سے پہلے ہی واپس روانہ ہوجائیں گے؟ نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا: اگر اللہ نے چاہا تو تم لوگ کل جنگ کرنا۔ راوی کہتے ہیں: اگلے دن لوگوں نے جنگ کی، تو انہیں شدید زخموں کا سامنا کرنا پڑا۔ نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا: اللہ نے چاہا تو کل ہم واپسی کے لیے روانہ ہو جائیں گے تو لوگوں کی بھی گویا یہی خواہش تھی وہ اس پر ساکن رہے تو نبی اکرم ﷺ ہنس پڑے۔

قَافِلُونَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ غَدًا» ← لَمَّا حَاصَرَ رَسُولُ اللَّهِ أَهْلَ الطَّائِفِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 723

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 724

724 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، فَجَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: " أَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ وَالدُّبَّاءِ؟ فَقَالَ: نَعَمْ "

طاؤس بیان کرتے ہیں : میں حضرت عبد الله بن عمرؓکے پاس بیٹھا ہوا تھا ایک شخص آیا اور بولا : کیا نبی اکرم ﷺنے مٹکے اور دبا ء میں نبیذ تیارکرنے سے منع کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔

نَعَمْ ← نبيذ الجر والدباء ← أَنَهَی رَسُولُ اللَّهِ ← كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، فَجَاءَ رَجُلٌ، ← طَاوْسٍ ← اِبْرَاھِیْمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 724

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 725

725 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ [ص:563]، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَعَجِلْتُ إِلَيْهِ لِأَسْمَعَ مَا يَقُولُ، فَلَمْ أَنْتَهِ إِلَيْهِ حَتَّى نَزَلَ، فَسَأَلْتُ النَّاسَ أَيَّ شَيْءٍ؟ قَالَ، فَقَالُوا: «نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ»

حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺکو منبر پردیکھا تو میں آپ ﷺکے قریب ہوا تا کہ آپﷺکے ارشاد کوسن سکوں، لیکن میرے آپﷺتک پہنچنے سے پہلے ہی آپ ﷺمنبر سےنیچے تشریف لے آئے۔ میں نے لوگوں سے دریافت کیا: نبی اکرمﷺنے کیا ارشاد فرمایا ہے؟ تو انہوں نے بتایا: نبی اکرم ﷺنے دباء اور مزفت (استعمال کرنے) سے منع کر دیا ہے۔

الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ. ← فَقَالُوا: «نَهَى ← فَلَمْ أَنْتَهِ إِلَيْهِ حَتَّى نَزَلَ، فَسَأَلْتُ النَّاسَ أَيَّ شَيْءٍ؟ ← رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ عَلَى الْمِنْبَرِ فَعَجِلْتُ إِلَيْهِ لِأَسْمَعَ مَا ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ، [ص:313] ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 725

chevron_left Previous
1…6789
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter