Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 703

703 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَدْرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ وَهُوَ فِي سَفَرِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: وَأَبِي وَأَبِي، فَقَالَ: «أَلَا إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ، فَمَنْ كَانَ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ بِاللَّهِ أَوْ لِيَصْمُتْ»

حضرت عبداللہ بن عمر ؓبیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے سفر کے دوران حضرت عمر ؓ کو پایا وہ یہ کہہ رہے تھے:میرے والد کی قسم ! میرے والد کی قسم !تو نبی اکرمﷺنے فرمایا: خبردار! الله تعالیٰ نے تمہیں اس بات سے منع کر دیا ہے کہ تم اپنے آباؤ اجداد کے نام کی قسم اٹھاؤ۔ جس شخص نے قسم اٹھانی ہو ،تو وہ اللہ کے نام کی قسم اٹھائے یا پھر خاموش رہے۔

وَأَبِي وَأَبِي ← أَدْرَكَ رَسُولُ اللَّهِ عُمَرَ وَهُوَ فِي سَفَرِهِ، وَهُوَ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 703

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 704

704 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً فَلَقُوا الْعَدُوَّ، فَحَاصَ النَّاسُ حَيْصَةً، فَأَتَيْنَا الْمَدِينَةَ، فَتَخَبَّأْنَا بِهَا، وَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَحْنُ الْفَرَّارُونَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَلْ أَنْتُمُ الْعَكَّارُونَ وَأنَا فِئَتُكُمْ»

حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺنے ایک جنگی مہم روانہ کی ان لوگوں کا دشمن سے سامنا ہوا تو وہ لوگ وہاں سے فرار ہو گئے جب ہم لوگ مدینہ منورہ آئے تو ہمیں اس حوالے سے الجھن ہوئی ہم نے عرض کی : یارسول الله (ﷺ)! ہم لوگ فرار ہو کر آئے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: (نہیں!) بلکہ تم پلٹ کر حملہ کرنے والے ہو۔اور میں تمہارےساتھ ہوں۔

ابْنِ عُمَرَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 704

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 705

705 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّهُ سَمِعَهُ، يَقُولُ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا سَمِعَ شَيْئًا لَمْ يَزِدْ فِيهِ وَلَمْ يَنْقُصْ مِنْهُ وَلَمْ يُجَاوِزْهُ إِلَى غَيْرِهِ، وَلَمْ يَقْصُرْ عَنْهُ، فَحَدَّثَ عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ وَابْنُ عُمَرَ جَالِسٌ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ الشَّاةِ بَيْنَ الْغَنَمَيْنِ تَنْطَحُهَا هَذِهِ مَرَّةً» فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: «بَيْنَ الرَّبْضَيْنِ» [ص:553]، فَقِيلَ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ سَوَاءٌ بَيْنَ الرُّبَيْضَتَيْنِ وَبَيْنَ الْغَنَمَيْنِ، " فَأَبَى ابْنُ عُمَرَ إِلَّا الرَّبْضَيْنِ

محمد بن علی بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عمر ؓجب کوئی بات سنتے تھے ،تو اس میں کسی لفظ کا اضافہ یاکمی نہیں کرتے تھے، نہ تو وہ ہٹ کر کسی دوسری طرف جاتے تھے اور نہ ہی اس میں کوئی کمی کرتے تھے۔ عبيد بن عمیر نے ایک حدیث بیان کی حضرت عبد الله بن عمر ؓ وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔(حدیث یہ تھی )نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا ہے: "منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہے جو دوریوڑوں کے درمیان ہوتی ہے کبھی وہ اس میں سینگ مارتی ہے اور کبھی اس میں سینگ مارتی ہے"۔تو حضرت عبد الله بن عمرؓ بتایا: حدیث کے الفاظ "ربیضین‘‘ ہے (یعنی ایسا ریوڑ جس کے ساتھ اس کا چراہابھی ہوتا ہے)جس کے ساتھ اس کا چرواہا بھی ہوتا ہے) حدیث : ان سے کہا گیا: اے ابوعبدالرحمنٰ ! مطلب تو ایک ہی ہے،" ربیضین‘‘ کے درمیان ہو یا "غنمین" کے درمیان ہو، تو حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے اصرار کیا ،لفظ"ربیضین" ہے، جس طرح انہوں نےسناہے۔

كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا ← مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّهُ سَمِعَهُ ← مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 705

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 706

706 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحُبْلَةِ»

حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ”حبل الحبلہ" کا سودا کرنے (یعنی اتنی مدت کا سودا کرنے کے جب اونٹی اپنے بچے کوجنم دے اور پھر اس کے ہاں جنم دینے والی اونٹنی اپنے بچے کوجنم دے تو اس بچے کا سودا کرنے یااس وقت یعنی غیرمتعین وقت میں کسی دوسرے کی ادایئگی طے کرنے )سے منع کیاہے۔

بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← ابْنِ عُمَرَ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 706

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 707

707 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ، عَنْ نَافِعٍ [ص:554]، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَلَفَ، فَقَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى فَقَدِ اسْتَثْنَى "

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : جو شخص قسم اٹھاتے ہوئے انشاءاللہ کہہ دے تو وہ شخص استثناء کر لیتا ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ، [ص:313] ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 707

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 708

708 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: كَانَ عَلَى عُمَرَ نَذْرُ اعْتِكَافِ لَيْلَةٍ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «فَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَكِفَ لَيْلَةً وَيَفِيَ بِنَذْرِهِ»

حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں:حضرت عمرؓ کےذمےزمانہ جاہلیت میں مسجد حرام میں ایک رات اعتکاف کرنے کی نذرتھی انہوں نے اس بارے میں نبی اکرم ﷺسے دریافت کیا، تو نبی اکرم ا ﷺنے انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ اعتکاف کر کے اپنی نذر کو پورا کریں۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعًا ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 708

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 709

709 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ عَلَى نَاقَةٍ لِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، حَتَّى أَنَاخَ بِفِنَاءِ الْكَعْبَةِ، ثُمَّ دَعَا عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَةَ بِالْمِفْتَاحِ، فَذَهَبَ إِلَى أُمِّهِ، فَأَبَتْ أَنْ تُعْطِيَهُ إِيَّاهُ، فَقَالَ: لَتُعِطِيَنِّي أَوْ لَيَخْرُجَنَّ السَّيْفُ مِنْ صُلْبِي، فَأَعْطَتْهُ الْمِفِتَاحَ، فَفَتَحَ الْبَابَ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَبِلَالٌ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ، وَأَجَافُوا عَلَيْهِمُ الْبَابَ مَلِيًّا، وَكُنْتُ شَابًّا قَوِيًّا فَبَادَرْتُ الْبَابَ حِينَ فُتِحَ، فَاسْتَقْبَلَنِي بِلَالٌ فَقُلْتُ: " يَا بِلَالُ أَيْنَ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْمُقَدَّمَيْنِ "، وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى؟

حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں : فتح مکہ کے موقع پر نبی اکرم ﷺحضرت اسامہ بن زید ؓکی اونٹنی پر سوار ہو کر مکہ میں داخل ہوئے آپ ﷺنے خانہ کعبہ کی عمارت کے قریب اپنی اونٹنی کو بٹھایا پھر آپ ﷺنے حضرت عثمان بن طلحہ ؓ سے چابی منگوائی وہ اپنی والدہ کے پاس گئے تو ان کی والدہ نے انہیں چابی دینے سے انکار کر دیا تو وہ بولے یا تو آپ مجھے چابی دیں گی یا پھر میری پشت سے تلوار باہر آجائے گی تو اس خاتون نے انہیں چابی دے دی۔ انہوں نے دروازہ کھولا نبی اکرم ﷺ، حضرت اسامہ بن زیدؓ،حضرت بلال ؓ اور حضرت عثمان بن طلحہؓ خانہ کعبہ کے اندر تشریف لے گئے ۔ان حفرات نےتھوڑی دیرکے لیےدروازہ بند کر دیا میں اس وقت نوجوان طاقتور شخص تھا، جب دروازہ کھلاتو میں تیزی سے دروازے کے پاس پہنچا، حضرت بلال ؓ میرے سامنے آئے تو میں نے دریافت کیا: اے بلالؓ! نبی اکرم ﷺنے کہاں نماز ادا کی تھی؟ تو انہوں نے بتایا: نبی اکرمﷺنے سامنے والے دوستونوں کے درمیان نماز ادا کی تھی۔(حضرت عبد الله بن عمر ؓ کہتے ہیں) مجھے ان سے یہ سوال کرنا یاد نہیں رہا کہ نبی اکرم ﷺنے کتنی رکعات ادا کی تھیں ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 709

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 710

710 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مِسْعَرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ سِمَاكَ الْحَنَفيَّ، يَقُولُ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ، عَنِ الصَّلَاةِ فِي الْبَيْتِ، فَقَالَ: «صَلِّ فِيهِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ صَلَّى فِيهِ، وَسَيَأْتِي آخَرُ فَيْنَهَاكَ فَلَا تُطِعْهُ» فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: «ائْتَمَّ بِهِ كُلِّهِ، وَلَا تَجْعَلْ مِنْهُ شَيْئًا خَلْفَكَ»

سماک حنفی بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبد الله بن عمرؓسے خانہ کعبہ کے اندر نماز ادا کرنے کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا:تم اس میں نماز ادا کرلو، کیونکہ نبی اکرمﷺنے اس میں نماز ادا کی ہے۔ عنقریب کوئی اس شخص آئے گا، جوتمہیں اس سے منع کرے گا ،تو تم اس کی بات نہ ماننا۔ (راوی کہتے ہیں:) میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓکی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے یہ مسئلہ دریافت کیا :وہ بولے :تم اس کے مکمل حصے کی پیروی کرنا اور تم اس کے کسی بھی حصے کو اپنے پیچھے نہ رکھنا۔ (یعنی ہرطرف رخ کر کے نماز ادا کرنا)

الصَّلَاةِ فِي الْبَيْتِ، ← سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ ← سِمَاكٍ الْحَنَفِيِّ ← مِسْعَرٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 710

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 711

711 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً قَبْلَ نَجْدٍ، فَبَلَغَتْ سِهَامُنَا اثْنَا عَشَرَ بَعِيرًا، اثْنَا عَشَرَ بَعِيرًا، وَنَفَلَنَا بَعِيرًا بَعِيرًا»

حضرت عبد الله بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم ﷺنے ہمیں نجد کی طرف ایک جنگی مہم پربھیجا تو ہمارے حصے میں بارہ اونٹ آ ئے ،تو نبی اکرم ﷺنے ایک ایک اونٹ ہمیں مزید عطیے کے طور پر عطا کیا ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 711

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 712

712 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: أَصَابَ ابْنَ عُمَرَ بَرْدٌ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَقَالَ لِنَافِعٍ: اطْرَحْ عَلَيَّ شَيْئًا، فَأَلْقَيْتُ عَلَيْهِ بُرْنُسًا فَغَضِبَ، وَقَالَ: «أَطَرَحْتَهُ عَلَيَّ وَقَدْ أَخْبَرْتُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ» ؟

نافع بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو احرام کے دوران سردی لگ گئی تو انہوں نے نافع سے کہا:تم میرے اوپر کوئی چیز ڈال دو! تو میں نے ان پرٹوپی ڈالی وہ غصے میں آ گئے اور بولے: کیا تم نے یہ میرے اوپر ڈالی ہے ،جبکہ میں نے تمہیں یہ بتایا ہے کہ نبی اکرم ﷺنے اس سے منع کیا ہے۔

«أَطَرَحْتَهُ عَلَيَّ وَقَدْ أَخْبَرْتُكَ ← لِنَافِعٍ: اطْرَحْ عَلَيَّ شَيْئًا، فَأَلْقَيْتُ عَلَيْهِ بُرْنُسًا فَغَضِبَ، ← أَصَابَ ابْنَ عُمَرَ بَرْدٌ وَهُوَ مُحْرِمٌ، ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 712

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 713

713 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ يَهُودِيَّةً» قَالَ ابْنُ عُمَرَ: «وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يُجَانِئُ عَنْهَا بِيَدِهِ»

حضرت عبد الله بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے ایک یہودی مرد اور ایک یہودی عورت کو سنگسار کروادیا تھا۔حضرت عبدالله بن عمرؓ بیان کرتے ہیں : میں نے اس شخص کو دیکھا کہ وہ اپنے ہاتھ کے ذریعے اس عورت کو بچانے کی کوشش کر رہا تھا۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 713

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 714

714 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَيُّوبُ، قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَهُ مَالٌ يُوصَى فِيهِ، ثُمَّ يَأْتِي عَلَيْهِ لَيْلَتَانِ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ»

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺنے یہ بات ارشاد فرمائی ہے:"کسی بھی مسلمان کو اس بات کا حق نہیں ہے کہ اس کے پاس مال موجود ہو، جس کے بارے میں وصیت کی جاسکتی ہو اور پھر اس پر دو راتیں گزر جائیں(اور اس نے وصیت نہ کی ہو) اس کی وصیت اس کے پاس تحریری شکل میں ہونی چاہئے"۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعًا ← أَيُّوبَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 714

chevron_left Previous
1…6789
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter