Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 679

679 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُقِيمَنَّ أَحَدُكُمُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ، وَلَكِنْ تَفَسَّحُوا وَتَوَسَّعُوا»

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے :"کوئی بھی شخص کسی دوسرے کو اس کی جگہ سے اٹھاکر خود وہاں نہ بیٹھے بلکہ تم کشادگی اور وسعت اختیار کرو"۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 679

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 680

680 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَمُرُّ بِشَجَرَةٍ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، «كَانَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَظِلُّ فِيهَا فَيَحْمِلُ لَهَا الْمَاءَ مِنَ الْمَكَانِ الْبَعِيدِ حَتَّى يَصُبَّهُ تَحْتَهَا»

نافع بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عمرؓ مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک درخت کے پاس سے جب بھی گزرتے تو اس کے لیے دور سے پانی لا کر اس کو پانی دیا کرتے تھے کہ یہ وہ درخت تھا، جس کے نیچے نبی اکرم م ﷺسائے میں آرام فرماتے تھے۔

صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 680

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 681

681 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَمْ مَرَّةٍ، قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: لَسْتُ أَنْهَى أَحَدًا صَلَّى أَيَّ سَاعَةٍ شَاءَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ، وَلَكِنِّي إِنَّمَا أَفْعَلُ كَمَا رَأَيْتُ أَصْحَابِي يَفْعَلُونَ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَحَرَّوْا بِصَلَاتِكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ، وَلَا غُرُوبَهَا» ، قِيلَ لِسُفْيَانَ: هَذَا يُرْوَى عَنْ هِشَامٍ، قَالَ: «مَا سَمِعْتُ هِشَامًا ذَكَرَهُ قَطُّ»

حضرت عبداللہ بن عمرؓبیان کرتے ہیں : میں کسی بھی شخص کو رات یا دن کے کسی بھی وقت میں نماز ادا کرنے سے منع نہیں کرتا ،میں ویساہی کرتا ہوں جبیامیں نے اپنے ساتھیوں کو کرتے ہوئے دیکھا ہے، جبکہ نبی اکرم ﷺنے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: "تم لوگ بطور خاص سورج طلوع ہونے کے قریب یاغروب ہونے کے قریب نماز ادا کرنے کی کوشش نہ کرو"۔ سفیان سے کہا گیا :یہ روایت تو ہشام کے حوالے سے نقل کی گئی ہے، تو وہ بولے : میں نے ہشام کو اس کا تذکرہ کرتے ہوئے کبھی نہیں سنا۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← نَافِعًا ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَمْ مَرَّةٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 681

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 682

682 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ عَلَى الصَّفَا فِي مَكَانٍ أَظُنُّ ذَلِكَ: «وَاللَّهِ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ فِيهِ»

نافع بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبد الله بن عمرؓ کو صفا پہاڑ پر ایک مخصوص جگہ پر کھڑے ہوئے دیکھا، میرا خیال ہے،اللہ کی قسم !انہوں نے نبی اکرمﷺ کو اس جگہ کھڑے ہوئے دیکھا ہوگا۔

رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 682

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 683

683 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ عَنْ رَجُلٍ اعْتَمَرَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا وَلَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، أَيْقَعُ بِامْرَأَتِهِ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: «قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، وَطَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ» وَقَالَ: " وَاللَّهِ {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} [الأحزاب: 21] "

عمرو بن دینار بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جو عمرہ کرتے ہوئے بیت اللہ کا سات مرتبہ طواف کرتا ہے ،لیکن صفاومروہ کا چکرنہیں لگاتا تو کیا وہ اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرسکتا ہے؟ تو حضرت عبداللہ بن عمرؓبولے: نبی اکرم ﷺتشریف لائے آپﷺنے بیت اللہ کا سات مرتبہ طواف کیا پھر آپ ﷺنے مقام ابراہیم کے پاس نماز ادا کی پھر آپ ﷺنے صفا اور مروہ کا طواف کیا جبکہ الله تعالیٰ نے یہ بات ارشادفرمائی ہے: "تمہارے لیے اللہ کے رسول کے طریقے میں بہترین نمونہ ہے"۔

وَاللَّهِ ← ابن عمر: قدم رسول الله فطاف بالبيت سبعا، وصلى خلف المقام ركعتين، وطاف بين الصفا والمروة، ← رجل اعتمر؛ فطاف بالبيت سبعا، ولم يطف بين الصفا والمروة، أيقع بامرأته؟ ← سَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 683

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 684

684 - قَالَ عَمْرٌو: وَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: «لَا يَقْرَبُهَا حَتَّى يَطُوفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ»

عمرو بن دینار کہتے ہیں: ہم نے حضرت جابر بن عبداللہؓ سے یہ سوال کیا ،تو انہوں نے فرمایا: تم اپنی بیوی کے قریب اس وقت تک نہیں جاسکتے جب تک تم صفاومروہ کا چکرنہیں لگا لیتے۔

«لَا يَقْرَبُهَا حَتَّى يَطُوفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ» ← عَمْرٌو: وَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 684

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 685

685 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: قِيلَ لِابْنِ عُمَرَ: إِنَّ أَبَا نَهِيكٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ يَأْكُلُ أَكْلًا كَثِيرًا، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ، وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ» فَقَالَ الرَّجُلُ: «أَمَّا أَنَا فَأُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ»

عمرو بن دینار کہتے ہیں حضرت عبد الله بن عمر ؓسے کہا گیا: مکہ کا ایک شخص ابو نہیک بہت زیادہ کھاتا ہے، تو حضرت عبدالله بن عمر ؓبولے: نبی اکرمﷺنے یہ بات ارشادفرمائی ہے:"مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے"۔ راوی کہتے ہیں تو وہ صاحب بولے : جہاں تک میراتعلق ہے، تو میں الله اور اس کے رسولﷺپر ایمان رکھتا ہوں۔

قِيلَ لِابْنِ عُمَرَ: ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 685

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 686

686 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَيُّمَا عَبْدٍ كَانَ بَيْنَ اثْنَيْنِ فَأَعْتَقَ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ، فَإِنْ كَانَ مُوسِرًا فَإِنَّهُ يَقُومُ عَلَيْهِ بِأَعْلَى الْقِيمَةِ» ، أَوْ قَالَ: «قِيمَةُ عَدْلٍ لَا وَكْسٍ، وَلَا شَطَطٍ ثُمَّ يَغْرُمُ لِصَاحِبِهِ حِصَّتَهُ ثُمَّ يُعْتَقُ» [ص:543]، قَالَ سُفْيَانُ: «كَانَ عَمْرٌو يَشُكُّ فِيهِ هَكَذَا»

سالم بن عبد الله اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم ﷺکایہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جوغلام دو آدمیوں کی ملکیت ہو ان دونوں میں سے کوئی ایک شخص اپنے حصے کو آزاد کر دے۔ اگر وہ شخص خوشحال ہو، تو اس غلام کی منصفانہ طورپر کسی کمی بیشی کے بغیر مناسب قیمت لگائی جائے گی اور پھر وہ شخص اپنے ساتھی کو اس کے حصے کی تاوان کی رقم ادا کرے گا اور اس غلام کو(مکمل طور پر) آزادکردے گا“۔ سفیان کہتے ہیں: عمرو کو اس روایت کے اس طرح ہونے میں شک ہے۔

أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 686

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 687

687 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ لِلْمُتَلَاعِنَيْنِ: «حِسَابُكُمَا عَلَى اللَّهِ، أَحَدُكُمَا كَاذِبٌ لَا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا» ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَالِي مَالِي قَالَ: " لَا مَالَ لَكَ، إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا، وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا فَذَلِكَ أَبْعَدُ لَكِ مِنْهُ، أَوْ قَالَ: مِنْهَا "

حضرت عبدالله بن عمرؓ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺکو لعان کرنے والے (میاں بیوی سے )یہ کہتے ہوئے سنا ہے: "تم دونوں کا حساب الله تعالیٰ کے ذمے ہے، تم دونوں میں سے کوئی ایک جھوٹا ہے ،لیکن اب(تمہیں یعنی مرد کو)اس عورت پر کوئی حق حاصل نہیں ہے"۔ ان صاحب نے عرض کی یارسول الله (ﷺ) !میرامال، میر امال۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا تمہیں مال نہیں ملے گا اگر تم نے اس عورت کے بارے میں سچ کہا ہے، تویہ مال اس چیز کاعوض بن جائے گا ،جوتم نے اس کی شرمگاہ کو حلال کیا تھا ،اور اگر تم نے اس پر جھوٹا الزام لگایا ہے، تو پھر تو وہ تم سے اور بھی زیادہ دور ہو جائے گا۔ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)

للمتلاعنين حسابكما على الله أحدكما كاذب لا سبيل لك عليها فقال ← رَسُولِ اللَّهِ ← ابْنِ عُمَرَ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 687

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 688

688 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يَقُولُ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَجُلٌ لَاعَنَ امْرَأَتَهُ، فَقَالَ لِي ابْنُ عُمَرَ بِيَدِهِ هَكَذَا بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى: «فَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَخَوَيِ بَنِي عَجْلَانَ» ، وَقَالَ: «اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ؟» [ص:544]، قَالَ سُفْيَانُ: " وَكَانَ أَيُّوبُ حَدَّثَنَاهُ أَوَّلَا فِي مَجْلِسِ عَمْرٍو، ثُمَّ حَدَّثَ عَمْرٌو بِحَدِيثِهِ هَذَا، فَقَالَ لَهُ أَيُّوبُ: أَنْتَ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ أَحْسَنُ لَهُ حَدِيثًا مِنِّي "

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عبد الله بن عمرؓسے سوال کیا میں نے کہا: اے ابوعبدالرحمن ٰ! کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ لعان کر سکتا ہے؟ تو حضرت عبد الله بن عمر ؓنے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کیا اس طرح۔ انہوں نے اپنی شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کے ذریے اشارہ کرتے ہوئے کہا نبی اکرم ﷺنے بنوعجلان سے تعلق رکھنے والے دو میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کروا دی تھی۔ آپ ﷺنے فرمایاتھا: الله تعالیٰ یہ بات جانتا ہے کہ تم دونوں میں سے کوئی ایک جھوٹ بول رہا ہے ،تو کیاتم دونوں ،تو بہ کروگے؟ سفیان کہتے ہیں: پہلے ایوب نے ہمیں یہ روایت عمرو کی محفل میں سنائی تھی پھر عمرو نے ان کی حدیث کے حوالے سے یہ روایت اس طرح بیان کی، تو ایوب نے ان سے کہا: اے ابومحمد! آپ اس روایت کو مجھ سے زیادہ بہتر طور پر بیان کر سکتے ہیں۔

اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 688

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 689

689 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ إِسْمَاعِيلَ الشَّيْبَانِيَّ، يَقُولُ: بِعْتُ مَا فِي رُءُوسِ نَخْلِي بِمِائَةِ وَسَقٍ تَمْرٍ، إِنْ زَادَ فَلَهُمْ، وَإِنْ نَقَصَ فَعَلَيْهِمْ، فَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ إِلَّا أَنَّهُ رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا»

اسماعیل شیبانی بیان کرتے ہیں: میں نے کھجور کے درختوں پر لگے ہوئے پھل کو ایک سووسق کھجوروں کے عوض میں فروخت کر دیا ،(اس شرط پر کہ اگر درخت پرلگا ہوا پھل) زیادہ ہوا تو ان لوگوں کومل جائے گا اگر کم ہوا تو اس کا نقصان بھی ان کو ہوگا۔ میں نے اس بارے میں حضرت عبدالله بن عمر ؓسے دریافت کیا ،تو انہوں نے بتایا :نبی اکرم ﷺنے اس سے منع کیا ہے، تاہم آپ ﷺنے عرایا میں اس کی اجازت دی ہے۔

إسماعيل الشيباني ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 689

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 690

690 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرٌو، قَبْلَ أَنْ نَلْقَى الزُّهْرِيَّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ، وَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ رَكْعَتَيْنِ وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنَ، وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ وَبَعْدَ الْعِشَاءِ رَكْعَتَيْنِ» [ص:545]، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَذُكِرَ لِي وَلَمْ أَرَهْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «كَانَ يُصَلِّي حِينَ يُضِيءُ لَهُ الْفَجْرُ رَكْعَتَيْنِ»

سالم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺکو جمعہ کے بعد دو رکعات ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ میں نے آپ ﷺکو ظہر سے پہلے دو رکعات ادا کرتے اور ظہر کے بعد دو رکعات ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے اور مغرب کے بعد دورکعات ادا کرتے ہوئے اور عشاء کے بعد دورکعات (سنت ادا کرتے ہوئے دیکھاہے) حضرت عبد الله بن عمرؓ بیان کرتے ہیں، مجھے یہ بات بتائی گئی ہے، ویسے میں نے آپ ﷺکو خود دیکھا نہیں، کہ نبی اکرم ﷺ صبح صادق ہوجانے کے بعد بھی دورکعات ادا کرتے تھے۔

عَمْرٌو، قَبْلَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 690

chevron_left Previous
1…56789
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter