Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 667

667 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ مُنْذُ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِينَ سَنَةً، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: جَاءَ عُمَرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ مَالًا لَمْ أُصِبْ قَطُّ مِثْلَهُ، تَخَلَّصْتُ الْمِائَةَ سَهْمٍ الَّتِي بِخَيْبَرَ، وَإِنِّي قَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَتَقَرَّبَ بِهَا إِلَى اللَّهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عُمَرُ، احْبِسِ الْأَصْلَ، وَسَبِّلِ الثَّمَرَةَ»

حضرت عبد اللہ بن عمرؓبیان کرتے ہیں: حفرت عمرؓ نبی اکر م ﷺکی خدمت میں حاضرہوے انہوں نے عرض کی:یارسول الله (ﷺ)! مجھے ایسی زمین ملی ہے کہ اس کی طرح کی زمین مجھے کبھی نہیں ملی۔ مجھے خیبر میں ایک سو حصے ملے ہیں میں یہ چاہتا ہوں کہ میں ان کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قرب حاصل کروں (یعنی انہیں صدقہ خیرات کروں ) تو نبی اکرم ﷺنے فرمایا: اے عمر!یہ زمین اپنے پاس رہنے دو اور اس کے پھل کو اللہ کی راہ میں دے دو۔

جَاءَ عُمَرُ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَ: ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عبد الله بن عمر منذ أكثر من سبعين سنة ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 667

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 668

668 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَصْحَابِ الْحِجْرِ: «لَا تَدْخُلُوا عَلَى هَؤُلَاءِ الَّذِينَ عُذِّبُوا إِلَّا أَنْتُمْ بَاكُونَ، وَإِنْ لَمْ تَكُونُوا بَاكِينَ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ»

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرم ﷺنے وادی حجر کے رہنے والوں کے بارے میں فرمایا تھا:تم ان لوگوں کے ہاں ،جنہیں عذاب دیا گیا ہے، یہاں روتے ہوئے داخل ہو،اگر رونہیں سکتے تو تم وہاں نہ جاؤ ،کیونکہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ تمہیں بھی وہی عذاب لاحق ہوگا، جو انہیں لاحق ہوا تھا۔

ابْنِ عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 668

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 669

669 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَتَيْتُ نَافِعًا وَطَرَحَ حَقِيبَةً، فَجَلَسْتُ عَلَيْهَا فَأَمْلَى عَلَيَّ فِي أَلْوَاحِي، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا تَبَايَعَ الْمُتَبَايِعَانِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَفْتَرِقَا، أَوْ يَكُونَ بَيْعُهُمَا عَلَى خِيَارٍ» قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ «إِذَا ابْتَاعَ الْبَيْعَ فَأَرَادَ أَنْ يَجُبَّ لَهُ مَشَى قَلِيلًا ثُمَّ رَجَعَ»

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے:"جب دو خرید و فروخت کرنے والے کوئی سودا کرلیں ، توان دونوں میں سے ہر ایک کو (سوداختم کرنے کا)اختیار ہو گا، جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو جاتے یا ان دونوں نے اختیارکی شرط پر سودا کیا ہو"۔ راوی بیان کرتے ہیں: حضرت عبدالله بن عمر ؓجب کوئی چیز خریدتے تھے اور وہ یہ چاہتے کہ یہ سودا طے ہو جائے ،تو وہ تھوڑی دور چل کر چلے جاتے تھے ،پھر واپس آتے تھے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← أَتَيْتُ نَافِعًا وَطَرَحَ حَقِيبَةً، فَجَلَسْتُ عَلَيْهَا فَأَمْلَى عَلَيَّ فِي أَلْوَاحِي، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 669

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 670

670 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْبَائِعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَفْتَرِقَا، أَوْ يَكُونُ بَيْعُهُمَا عَنْ خِيَارٍ، فَإِذَا كَانَ عَنْ خِيَارٍ فَقَدْ وَجَبَ»

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے:خریدوفروخت کرنے والوں کو سودا ختم کرنے کا اختیار ہوتا ہے، جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں، یا ان دونوں نے سودا ہی اختیار کی شرط پر کیا ہو۔ اگر وہ اختیار کی شرط پر سودا اختیار کیا گیا ہو گا، تو طے ہو جائے گا۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← عَبْدُ اللَّهِ بن دينار أنه ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 670

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 671

671 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكَ الْيَهُودِيُّ، فَإِنَّمَا يَقُولُ: السَّامُ عَلَيْكَ، فَقُلْ: عَلَيْكَ " قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ: " فَكَانَ رَجُلٌ يَهُودِيٌّ ثُمَّ أَسْلَمَ، وَكَانَ يُسَلِّمُ عَلَى ابْنِ عُمَرَ، فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ، إِذَا سَلَّمَ عَلَيْهِ لَا يَزِيدُ إِذَا رَدَّ عَلَيْهِ أَنْ يَقُولَ: عَلَيْكَ، فَيَقُولُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ، فَلَا يَزِيدُهُ عَلَى أَنْ يَقُولَ: عَلَيْكَ "

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: "جب کوئی یہودی تمہیں سلام کرتے ہوئے "السلام علیک" (تمہیں موت آئے ) کہے، تو تم کہو "علیک"(یعنی تمہیں بھی ا ٓئے )"۔عبداللہ بن دینار کہتے ہیں : ایک شخص پہلے یہودی تھا پھر اس نے اسلام قبول کر لیا وہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو سلام کرتا تھا ،تو حضرت عبداللہ بن عمر ؓ اسے جب بھی سلام کا جواب دیتے تھے ، تو ہمیشہ "علیک "ہی کہا کرتے تھے ۔ اس نے عرض کی:اے ابوعبدالرحمن ! میں مسلمان ہو چکا ہوں ،تو حضرت عبد الله بن عمر ؓپھر بھی علیک ہی کہا کرتے تھے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← عَبْدُ اللَّهِ بن دينار أنه ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 671

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 672

672 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: سَأَلَ عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْنَامُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ؟ فَقَالَ: «نَعَمْ إِذَا تَوَضَّأَ وَيَطْعَمُ إِنْ شَاءَ»

حضرت عبد الله بن عمر ؓبیان کرتے ہیں : حضرت عمر ؓنے نبی اکرم ﷺسے سوال کیا: کیا کوئی شخص جنابت کی کی حالت میں سوسکتا ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جی ہاں۔ جب وہ وضوکر لے ،تو وہ سو سکتا ہے اور اگر وہ چاہے تو کچھ کھا بھی سکتا ہے۔

«نَعَمْ إِذَا تَوَضَّأَ وَيَطْعَمُ إِنْ شَاءَ» ← ((سَأَلَ عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ أَيَنَامُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ؟ ← ابْنِ عُمَرَ ← عَبْدُ اللَّهِ بن دينار أنه ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 672

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 673

673 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي قُبَاءَ مَاشِيًا وَرَاكِبًا كُلَّ سَبْتٍ» وَرَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَأْتِي قُبَاءَ رَاكِبًا وَمَاشِيًا كُلَّ سَبْتٍ "

حضرت عبد الله بن عمرؓ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرمﷺکو دیکھا کہ آپ ﷺپیدل چل کر یا سوار ہو کر ہر ہفتے قبا تشریف لے جایا کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں : میں نے حضرت عبد الله بن عمرؓکو دیکھا ہے کہ وہ ہر ہفتے سوار ہو کر یا پیدل چل کر قبا تشریف لے جایا کرتے تھے۔

ابْنِ عُمَرَ ← عَبْدُ اللَّهِ بن دينار أنه ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 673

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 674

674 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: هَذِهِ الْبَيْدَاءُ الَّتِي تَكْذِبُونَ فِيهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ «[ص:536] مَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مِنْ عِنْدِ الْمَسْجِدِ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ»

سالم بن عبداللہ کہتے ہیں: میں نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے:یہ "بیداء" وہ جگہ ہے جس کےبارے میں تم لوگ نبی اکرم ﷺکے حوالے سے غلط بات بیان کرتے ہو۔اللہ کی قسم ! نبی اکرم ﷺنے ذوالحلیفہ میں موجود مسجد کے پاس سے تلبیہ پڑھنا شروع کیا۔

ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 674

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 675

675 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ» قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَزِيدُ، فَيَقُولُ: «لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، لَبَّيْكَ وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ، أَوْ فِي يَدَيْكَ» ، كَذَا كَانَ يَقُولُ سُفْيَانُ: «لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ»

حضرت عبد الله بن عمرؓ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ پڑھتے ہوئے سنا ہے:"میں حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں ہے میں حاضر ہوں بے شک حمد اورنعمت تیرے لیے مخصوص ہے اور باد شاہی بھی ، تیرا کوئی شریک نہیں ہے"۔راوی بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عمر ؓاس میں ان الفاظ کا اضافہ کرتے تھے۔ "میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں ، میں حاضر ہوں ،سعادت تیری طرف سے ہی نصیب ہوسکتی ہے۔ میں حاضر ہوں۔ بھلائی تیرے دست قدرت میں ہے میں حاضر ہوں "۔(راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) تیرے دونوں ہاتھوں میں ہے۔سفیان بھی اسی طرح کہا کرتے تھے۔ "میں حاضر ہوں رغبت تیری طرف کی جاسکتی ہے اورعمل تیری توفیق سے کیا جاسکتا ہے یا تیری ہی طرف لوٹتا ہے"۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 675

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 676

676 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مِنَ الْوَحْدَةِ مَا أَعْلَمُ، مَا سَرَى رَاكِبٌ بِلَيْلٍ وَحْدَهُ أَبَدًا»

حضرت عبداللہ بن عمر ؓبیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے: "اکیلے رہنے کے بارے میں جو کچھ مجھے پتہ ہے اگر لوگوں کو پتہ چل جائے ،تو کوئی بھی شخص اکیلا رات کے وقت (سفر نہ کرے)“

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيُّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 676

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 677

677 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ مُنْقِذًا سُفِعَ فِي رَأْسِهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مَأْمُومَةً، فَخَبَلَتْ لِسَانَهُ، وَكَانَ إِذَا بَايَعَ يُخْدَعُ فِي الْبَيْعِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَايِعْ وَقُلْ: لَا خِلَابَةَ، ثُمَّ أَنْتَ بِالْخِيَارِ ثَلَاثًا " [ص:538]، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَسَمِعْتُهُ يُبَايِعُ، وَيَقُولُ: لَا خِذَابَةَ

حضرت عبداللہ بن عمر ؓبیان کرتے ہیں: حضرت منقذ ؓ (یہ ایک انصاری صحابی ہیں) کو زمانہ جاہلیت میں سر میں چوٹ لگی تھی جس کے نتیجے میں ان کی زبان میں لکنت آ گئی تھی جب وہ کوئی سودا کرتے تھے، تو سودا کرنے کے دوران ان کے ساتھ دھوکہ ہو جاتاتھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :تم سودا کرتے ہوئے یہ کہو کہ دھوکہ نہیں ہوگا۔ پھر تمہیں تین دن تک اختیار ہوگا(اگر تم چاہو تو سودے کو کالعدم قرار دو) حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں : میں نے انہیں سوداکرتے ہوئے سنا: وہ یہ کہہ رہے تھے "لا خذابۃ"(یعنی لکنت کی وجہ سے وہ لام کو ذال پڑھ رہے تھے )

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 677

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 678

678 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «تَجِدُونَ النَّاسَ كَإِبِلٍ مِائَةٍ لَيْسَ فِيهَا رَاحِلَةٌ»

سالم اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "تم لوگوں کو ایسے سواونٹوں کی مانند پاؤ گے جن میں سے کوئی ایک بھی سواری کے قابل نہیں ہوگا"۔

أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 678

chevron_left Previous
1…456…9
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter