Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ فِي الْحَجِّ · حديث 529

529 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يَقُولُ: ذَكَرَ ابْنُ عَبَّاسٍ الْمُتَلَاعِنَيْنِ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ: أَهِيَ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ كُنْتُ رَاجِمًا أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ لَرَجَمْتُهَا» قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَا تِلْكَ امْرَأَةٌ أَعْلَنَتْ

قاسم بن محمد بیان کرتے ہیں ۔ حضرت عبد الله بن عباس ؓ نے لعان کرنے والے میاں بیوی کا تذکرہ کیا ،تو عبداللہ بن شدادنے ان سےکہا۔ کیا یہی وہ عورت تھی؟ جس کے بارے میں نبی اکرم ﷺنے یہ فرمایا تھا۔ "اگر میں نے کسی ثبوت کے بغیر کسی کو سنگسار کرنا ہوتا، تو اس عورت کو سنگسار کروادیتا۔" تو حضرت عبدالله بن عباسؓ بولے:"نہیں وہ عورت تو اعلانیہ( گناہ کیا کرتی تھی)"

ابْنُ عَبَّاسٍ الْمُتَلَاعِنَيْنِ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ: أَهِيَ الَّتِي ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو الزِّنَادِ أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 529

مسند الحميدي · کتاب ‹ فِي الْحَجِّ · حديث 530

530 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «خَيْرُ ثِيَابِكُمُ الْبَيَاضُ لِيَلْبَسْهَا أَحْيَاؤُكُمْ [ص:454] وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ، وَخَيْرُ كِحَالِكُمُ الْإِثْمَدُ؛ إِنَّهُ يَجْلُو الْبَصَرَ، وَيُنْبِتُ الشَّعْرَ»

حضرت عبد الله بن عباس ؓ نبی اکرم ﷺکا یہ فرمان نقل کرتے ہیں۔ "تمہارے کپڑوں میں سب سے بہتر سفید کپڑے ہیں۔ تمہارے زندہ لوگوں کوو ہی پہننے چاہئیں۔ اور اسی میں تم اپنے مردوں کو کفن دو ۔ اور تمہارے سر موں میں سب سے بہتر اثمد ہے کیونکہ وہ بینائی کو تیز کرتا ہے اور بال اگاتا ہے۔“

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 530

مسند الحميدي · کتاب ‹ فِي الْحَجِّ · حديث 531

531 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَوْ غَضَّ النَّاسُ فِي الْوَصِيَّةِ إِلَى الرُّبْعِ لَكَانَ أَحَبَّ إِلَيَّ؛ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ»

حضرت عبداللہ بن عباس ؓبیان فرماتے ہیں اگر لوگ وصیت کے بارے میں ایک چوتھائی حصے پر اکتفاء کریں ،تو یہ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہوگا ۔ کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا :"ایک تہائی (کے بارے میں وصیت کرنے کی اجازت ہے) ویسے ایک تہائی بھی زیادہ ہے۔"

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 531

مسند الحميدي · کتاب ‹ فِي الْحَجِّ · حديث 532

532 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ اسْتَفْتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ تُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْضِهِ عَنْهَا»

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں۔ حضرت سعد بن عبادہؓ نے نذر کے بارے میں نبی اکرم ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا: جوان کی والدہ کے ذمےلا زم تھی ۔ اور ان کی والدہ کا اس نذر کو پورا کرنے سے پہلے انتقال ہو گیا تھا، تو نبی اکرم ﷺنے ان سے فرمایا۔"تم ان کی طرف سے اسے ادا کر دو“

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 532

مسند الحميدي · کتاب ‹ فِي الْحَجِّ · حديث 533

533 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرٌو، عَنْ عَوْسَجَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ رَجُلًا مَاتَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَدَعْ وَارِثًا إِلَّا عَبْدًا هُوَ أَعْتَقَهُ فَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِيرَاثَهُ»

حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرمﷺکے زمانہ اقدس میں ایک شخص کا انتقال ہوا اس نےورثاء میں صرف ایک غلام چھوڑا جسے اس نے آزاد کیا تھا، تونبی اکرم ﷺنے اس شخص کی وراثت اس غلام کو دے دی۔

عَوْسَجَةَ ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 533

مسند الحميدي · کتاب ‹ فِي الْحَجِّ · حديث 534

534 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ عَنْ تِسْعٍ وَكَانَ يَقْسِمُ لِثَمَانٍ»

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں۔ جب نبی اکرم ﷺکا وصال ہوا۔ اس وقت آپ کی 9ازواج تھیں جن میں سے آپ ﷺ8 ازواج کے لیے وقت تقسیم کیا کرتے تھے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 534

مسند الحميدي · کتاب ‹ فِي الْحَجِّ · حديث 535

535 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيَّ قَالَ: سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُنْفَخَ فِي الْإِنَاءِ أَوْ يُتَنَفَّسَ فِيهِ»

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں۔ نبی ا کرم ﷺنے اس بات سے منع کیا ہے، برتن میں پھونک ماری جائے یا اس میں سانس لیا جائے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عَبْدِ الْکَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 535

مسند الحميدي · کتاب ‹ فِي الْحَجِّ · حديث 536

536 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ الْأَحْوَلُ وَكَانَ ثِقَةً قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: يَوْمُ الْخَمِيسِ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ؟ ثُمَّ بَكَى حَتَّى بَلَّ دَمْعُهُ الْحَصَى فَقِيلَ لَهُ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ؟ قَالَ اشْتَدَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعُهُ يَوْمَ الْخَمِيسِ فَقَالَ: «ايْتُونِي أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا» فَتَنَازَعُوا وَلَا يَنْبَغِي عِنْدَ نَبِيٍّ تَنَازُعٌ، فَقَالَ مَا شَأْنُهُ؟ أَهَجَرَ؟ اسْتَفْهِمُوهُ فَرَدُّوا عَلَيْهِ فَقَالَ: «دَعُونِي فَالَّذِي أَنَا فِيهِ خَيْرٌ مِمَّا تَدْعُونِي إِلَيْهِ» قَالَ: وَأَوْصَاهُمْ بِثَلَاثٍ فَقَالَ «أَخْرِجُوا الْمُشْرِكِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَأَجِيزُوا الْوَفْدَ بِنَحْوِ مَا كُنْتُ أُجِيزُهُمْ» [ص:458] قَالَ سُفْيَانُ: قَالَ سُلَيْمَانُ لَا أَدْرِي أَذَكَرَ سَعِيدٌ الثَّالِثَةَ فَنَسِيتُهَا أَوْ سَكَتَ عَنْهَا

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں۔ جمعرات کا دن بھی کیا تھا۔ پھر وہ رونے لگے یہاں تک کہ ان کے آنسوزمین پر گرنے لگے ان سے کہا گیا: اے ابوعباس! جمعرات کے دن کیا ہوا تھا، تو انہوں نے بتایا: جمعرات کے دن نبی اکرم ﷺکی تکلیف میں اضافہ ہوگیا تھا۔ آپ ﷺنے ارشادفرمایا: "میرے پاس کوئی چیز لے کرآو تا کہ میں تمہیں ایک تحریرلکھ دوں تم اس کے بعد بھی گمرا ہ نہیں ہوگے"۔ (حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں) تو حاضرین میں اس بارے میں اختلاف ہو گیا۔ حالانکہ نبیﷺ کی موجودگی میں اس طرح کا اختلاف مناسب نہیں ہے۔ کسی صاحب نے کہا۔ نبی اکرم ﷺکا کیا معاملہ ہے۔ کیا آپﷺکی بات غیر واضح ہے تم لوگ نبی اکرم ﷺسے دریافت کرو۔ لوگوں نے نبی اکرم ﷺسے دوبارہ یہی سوال کیا، تو آپﷺنے ارشادفرمایا: "تم مجھے ایسے ہی رہنے دو۔ میں جس حالت میں ہوں یہ اس سے زیادہ بہتر ہے، جس کی طرف تم مجھے بلارہے ہو۔“ حضرت عبد الله بن عباس ؓنے بتایا:نبی اکرم ﷺنے ان لوگوں کو تین باتوں کی تلقین کی۔ آپ ﷺنے فرمایا: "جزیرہ عرب سے مشرکین کو نکال دو۔ اور وفودکی اسی طرح مہمان نوازی کرنا۔ جس طرح میں ان کی مہمان نوازی کیا کرتا تھا۔"سفیان کہتے ہیں ۔ سلیمان نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے۔ مجھےیہ نہیں معلوم کہ سعید نامی راوی نے تیسری بات ذکر کی تھی۔ اور میں اسے بھول گیا ہوں ،یا انہوں نے تیسری بات ذکرہی نہیں کی۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ الْأَحْوَلُ وَكَانَ ثِقَةً ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 536

مسند الحميدي · کتاب ‹ فِي الْحَجِّ · حديث 537

537 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ وَكَانَ مِنَ الثِّقَاتِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ يُحَرِّكُ بِهِ لِسَانَهُ يُرِيدُ أَنْ يَحْفَظَهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ {لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ} [القيامة: 17] وَقُرْآنَهُ "

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ۔نبی اکرمﷺپرجب قر آن نازل ہوتا تھا، تو آپ ﷺاسے یاد رکھنے کے لیے اپنی زبان کو اس کے ساتھ حرکت دیتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : "تم اس کے ساتھ اپنی زبان کوحرکت نہ دو۔ تا کہ تم اسے جلدی حاصل کر لو۔ اس کو جمع کرنا اور اس کی تلاوت ہمارے ذمے ہے۔“

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ وَكَانَ مِنَ الثِّقَاتِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 537

مسند الحميدي · کتاب ‹ فِي الْحَجِّ · حديث 538

538 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ عَمْرٌو: عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ يُعَجِّلُ بِهِ يُرِيدُ أَنْ يَحْفَظَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ {لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ} [القيامة: 17] " الْآيَةَ قَالَ: «وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَعْلَمُ خَتْمَ السُّورَةِ حَتَّى يُنْزِلَ عَلَيْهِ (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ) »

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں: (اس روایت میں راوی نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓکا تذکرہ نہیں کیا) نبی اکرم ﷺپر جب قرآن نازل ہوتا تھا، تو آپ ﷺاسے یاد رکھنے کے لیے اسے جلدی جلدی پڑھتے تھے، تو الله تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی:"تم اس کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دوک تم جلدی اسے یاد کرلو۔ بے شک اس کا جمع کرنا اور اس کی تلاوت ہمارے ذمے ہے۔“سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرمﷺکو سورت کے ختم ہونے کاعلم نہیں ہوتا تھا یہاں تک کہ آپ ﷺپر یہ آیت نازل ہوگئی۔ ”بسم الله الرحمن الرحيم"

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 538

مسند الحميدي · کتاب ‹ فِي الْحَجِّ · حديث 539

539 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَسَمِعْتُهُ يَذْكُرُ مَشْهَدًا شَهِدَهُ ثُمَّ يَتَنَفَّسُ وَيَبْكِي فِيهِ فُلَانٌ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ وَمِقْسَمٌ فَقَالَ لَهُ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: أَكُلُّكُمْ سَمِعَ مَا يُقَالُ فِي الطَّعَامِ فَقَالَ مِقْسَمٌ: حَدِّثِ الْقَوْمَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ فِي وَسَطِ الطَّعَامِ فَكُلُوا مِنْ نَوَاحِيهِ، وَلَا تَأْكُلُوا مِنَ وَسَطِهِ»

سفیان کہتے ہیں : عطاء بن سائب ایک مرتبہ ہمارے ساتھ گفتگو کررہے تھے میں نے انہیں ایک جنگ کا تذکرہ کرتے ہوئے سنا۔ جس میں وہ شریک ہوئے تھے، پر انہوں نے گہرا سانس لیا۔ اور رونے لگے۔ کہ اس میں فلاں صاحب بھی تھے ۔ فلاں صاحب بھی تھے ۔ فلاں صاحب بھی تھے اور مقسم بھی تھے۔ تو سعید بن جبیر بولے : کیا تم میں سے ہر ایک نے وہ بات سنی ہے جوکھانے کے بارے میں کہی گئی ہے تو مقسم نے کہا: اے ابوعبدالله ! حاضرین کو وہ بات بتادیجئے، تو سعید بن جبیر بولے: میں نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سناہے: نبی اکرم ﷺنے یہ بات ارشادفرمائی ہے: "بے شک برکت کھانے کے درمیان میں نازل ہوتی ہے، تو تم اس کے اطراف میں سے کھایا کرو اور اس کے درمیان میں سے نہ کھاو ۔‘‘

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← مِقْسَمٌ: حَدِّثِ الْقَوْمَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ← مَا يُقَالُ فِي الطَّعَامِ ← لَهُ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: أَكُلُّكُمْ ← يَذْكُرُ مَشْهَدًا شَهِدَهُ ثُمَّ يَتَنَفَّسُ وَيَبْكِي فِيهِ فُلَانٌ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ وَمِقْسَمٌ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 539

مسند الحميدي · کتاب ‹ فِي الْحَجِّ · حديث 540

540 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا أَيُّوبُ قَالَ: سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السُّوءِ الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ»

حضرت عبداللہ بن عباس ؓبیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺنے یہ بات ارشادفرمائی ہے: "ہمارے لیے بری مثال مناسب نہیں ہے اپنے ہبہ کو دوبارہ لینے والا اس کتے کی مانند ہے، جو اپنی قے کو دوبارہ چاٹ لیتا ہے۔"

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 540

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter