Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ فِي الْحَجِّ · حديث 517

517 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: إِنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمٍ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ النَّحْرِ وَالْفَضْلُ رِدْفُهُ فَقَالَتْ: " إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ أَبِي وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرُ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَمْسِكَ عَلَى الرَّاحِلَةِ فَهَلْ تَرَى أَنْ نَحُجَّ عَنْهُ؟ قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ سُفْيَانُ: وَكَانَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ حَدَّثَنَاهُ أَوَّلًا عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَزَادَ فِيهِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْ يَنْفَعُهُ ذَلِكَ؟ قَالَ: «نَعَمْ كَمَا لَوْ كَانَ عَلَى أَحَدِكُمْ دَيْنٌ فَقَضَاهُ» فَلَمَّا جَاءَنَا الزُّهْرِيُّ فَقَعَدَ بِهِ فَلَمْ يَقُلْهُ

حضرت عبد الله بن عباس خان ؓکرتے ہیں خثعم قبیلے سے تعلق رکھنے والی ایک عورت نے نبی اکرم ﷺسے قربانی کے دن صبح سوال کیا اس وقت حضرت فضل ؓ نبی اکرم ﷺکے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے اس خاتون نے عرض کی:الله تعالیٰ نے اپنے بندوں پر جوحج فرض قرار دیا ہے، وہ میرے والد پر بھی لازم ہوگیا ہے، لیکن وہ عمر رسیدہ شخص ہیں۔ وہ سواری پر جم کر بیٹھ نہیں سکتے۔ آپ ﷺکی کیا رائے ہے کیا میں ان کی طرف سے حج کرلوں؟ نبی اکرمﷺنے جواب دیا: جی ہاں ۔ سفیان کہتے ہیں: عمرو بن دینار نے یہ روایت پہلے زہری کے حوالے سے سلیمان بن یسار کے حوالے سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓکے حوالے سے ہمیں سنائی تھی اور انہوں نے اس میں یہ الفاظ ز ائدنقل کیے تھے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! کیا اس چیز کاا نہیں فائدہ ہوگا؟ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: جی ہاں۔ جس طرح اگر کسی شخص کے ذمے قرض ہو اور وہ اسے ادا کر دے۔ جب زہری ہمارے پاس آئے، تو میں نے ان الفاظ کو مفقو د پایا انہوں نے یہ الفاظ بیان نہیں کیے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 517

مسند الحميدي · کتاب ‹ فِي الْحَجِّ · حديث 518

518 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرٌو قَالَ: أَخْبَرَنِي طَاوُسٌ قَالَ [ص:448]: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: «أَمَّا الَّذِي نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ الطَّعَامُ أَنْ يُبَاعَ حَتَّى يُسْتَوْفَى» وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ «حَتَّى يُكَالَ» قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ بِرَأْيهِ وَلَا أَحْسَبُ كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا مِثْلَهُ

حضرت عبدالله بن عباس ؓبیان کرتے ہیں، جہاں تک اس چیز کاتعلق ہے ،جس سے نبی اکرم ﷺنے منع کیا ہے ،وہ ایسا اناج ہے ،جسے پورا (ماپنے)سے پہلے فروخت کر دیا جائے۔ یہاں سفیان نامی راوی نے بعض اوقات یہ الفاظ نقل کیے ہیں: "یہاں تک کہ اسے ماپ لیا جائے"۔ حضرت عبد الله بن عباس ؓنے اپنی رائے یہ بیان کی ہے:میں یہ سمجھتا ہوں ۔ ہر چیز کاحکم اس کی مانند ہے۔

أما الذي نهى عنه رسول الله فهو الطعام ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوْسٍ ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 518

مسند الحميدي · کتاب ‹ فِي الْحَجِّ · حديث 519

519 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرٌو قَالَ: قُلْتُ لِطَاوُسٍ، يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَوْ تَرَكْتَ الْمُخَابَرَةَ فَإِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا فَقَالَ: أَيْ عَمْرُو أَخْبَرَنِي أَعْلَمُهُمْ بِذَلِكَ - يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ - «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَنْهَ عَنْهَا» وَلَكِنْ قَالَ «لَأَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ أَرْضَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهِ خَرْجًا مَعْلُومًا» وَإِنَّ مُعَاذًا حِينَ قَدِمَ الْيَمَنَ أَقَرَّهُمْ عَلَيْهَا، وَإِنِّي أَيْ عَمْرٌو‍ أُعِينُهُمْ وَأُعْطِيهِمْ فَإِنْ رَبِحُوا فَلِي وَلَهُمْ وَإِنْ نَقَصُوا فَعَلَيَّ وَعَلَيْهِمْ وَإِنَّ الْحَيْقَلَةَ فِي الْأَنْصَارِ فَسَلْ عَنْهَا فَسَأَلْتُ عَلِيَّ بْنَ رِفَاعَةَ فَقَالَ هِيَ الْمُخَابَرَةُ

عمرو نامی راوی کہتے ہیں: میں نے طاؤس سے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن ! اگر آپ (زمین کو) ٹھیکے پر دینا ترک کر دیں (تو یہ مناسب ہوگا)، کیونکہ لوگوں نے یہ بات بیان کی ہے نبی اکرم ﷺنے اس سے منع کیا ہے، تو طاؤس بولے: اے عمرو! جو صاحب ان سب لوگوں سے زیادہ علم رکھتے ہیں، طاؤس کی مراد حضرت عبداللہ بن عباس ؓ تھے، انہوں نے مجھے یہ بات بتائی ہے۔ نبی اکرم ﷺنے اس سے منع نہیں کیا آپ ﷺنے یہ ارشاد فرمایاتھا: "کوئی شخص اپنے کسی بھائی کو اپنی زمین (بلا معاوضہ) دیدے۔ یہ اس کے لیے اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ اس سے اس کا تعین معاوضہ وصول کرے"۔ (پھر طاؤس نے بتایا) جب حضرت معاذؓ یمن تشریف لائے تھے، تو انہوں نے وہاں کے لوگوں کو اس طرزعمل پر باقی رہنے دیا تھا۔(عمرو کہتے ہیں:) میں ان لوگوں کی مدد کرتا ہوں اور انہیں عطیہ دیتا ہوں ،اگر انہیں فائدہ ہو تو وہ مجھے بھی ملتا ہے اور انہیں بھی ملتا ہے اگر پیداوار میں کمی ہو جائے ،تو اس کا نقصان میں بھی برداشت کرتا ہوں ۔ اور وہ لوگ بھی کرتے ہیں ۔ حقلہ کا رواج انصار میں تھا۔ تم اس کے بارے میں دریافت کرد. (راوی کہتے ہیں:) میں نے علی بن رفاعہ سے اس کے بارے میں دریافت کیا تو وہ بولے: یہ مخابرہ ہے۔

قُلْتُ لِطَاوُسٍ، يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَوْ تَرَكْتَ الْمُخَابَرَةَ فَإِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 519

مسند الحميدي · کتاب ‹ فِي الْحَجِّ · حديث 520

520 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ الدَّارِيِّ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يُسَلِّفُونَ فِي التَّمْرِ السَّنَتَيْنِ وَالثَّلَاثَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَسْلَفَ فَلْيُسْلِفْ فِي تَمْرٍ مَعْلُومٍ، وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ، وَكَيْلٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ»

حضرت عبداللہ بن عباس ؓبیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم ﷺمدینہ منورہ تشریف لائے، تو وہاں کے لوگ کھجوروں میں دو یا تین سال کے لیے بیع سلف کر لیتے تھے، تو نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا: "جس نے بیع سلف کرنی ہو وہ کھجوروں کی متعین تعداد اور متعین وزن یا متعین ماپ میں متعین مدت تک کے لیے بیع سلف کرے"۔

قَدِمَ النَّبِيُّ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يُسَلِّفُونَ فِي التَّمْرِ السَّنَتَيْنِ وَالثَّلَاثَ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي الْمِنْهَالِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ الدَّارِيِّ، ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 520

مسند الحميدي · کتاب ‹ فِي الْحَجِّ · حديث 521

521 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، وَفِطْرٍ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا الطُّفَيْلِ يَقُولُ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ» وَإِنَّهَا سُنَّةٌ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا أَرَادَ فِطْرًا صَدَقُوا قَدْ رَمَلَ وَكَذَبُوا لَيْسَتْ بِسُنَّةٍ

ابوطفیل بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓسے کہا: آپ کی قوم کے افراد یہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے بیت اللہ کارمل کیا تھا، اور صفا اور مروہ کا بھی رمل کیا تھایہ سنت ہے، تو حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا: ان لوگوں نے کچھ بات ٹھیک کہی ہے اور کچھ غلط کہی ہے۔ فطرنامی راوی نے یہ الفاظ مزید نقل کیے ہیں کہ انہوں نے یہ بات سچ کہی ہے کہ نبی اکرم ﷺنے رمل کیا تھا۔ انہوں نے یہ بات غلط کہی ہے،یہ سنت نہیں ہے۔

قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ اِنَّ قَوْمَکَ یَزْعُمُونَ ← ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، وَفِطْرٍ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا الطُّفَيْلِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 521

مسند الحميدي · کتاب ‹ فِي الْحَجِّ · حديث 522

522 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: أَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ بِعَرَفَةَ فَوَجَدْتُهُ يَأْكُلُ رُمَّانًا، فَقَالَ: ادْنُ فَكُلْ لَعَلَّكَ صَائِمٌ؛ «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَصُمْ هَذَا الْيَوْمَ»

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں: میں عرفہ میں حضرت عبد الله بن عباس ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا ،تو میں نے انہیں انار کھاتے ہوئے دیکھا۔ وہ بولے: آگے آؤ اور تم بھی کھاؤ! شاید تم نے روزہ رکھا ہوا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے اس دن روزہ نہیں رکھا تھا۔

أَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ بِعَرَفَةَ فَوَجَدْتُهُ يَأْكُلُ رُمَّانًا، فَقَالَ: ادْنُ فَكُلْ لَعَلَّكَ صَائِمٌ؛ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 522

مسند الحميدي · کتاب ‹ فِي الْحَجِّ · حديث 523

523 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرٌو قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حُنَيْنٍ مَوْلَى آلِ الْعَبَّاسِ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ يَتَعَجَّبُ مِمَّنَ يَتَقَدَّمُ الشَّهْرَ بِالصِّيَامِ وَيَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ»

محمد بن حنین بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کوسنا۔ وہ اس شخص پر حیرانگی کا اظہار کررہے تھے، جورمضان کامہینہ شروع کرنے سے ایک دن پہلے ہی روزہ رکھنا شروع کر دیتا ہے۔حضرت عبداللہ بن عباس ؓنے فرمایا :نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: "جب تم اسے(پہلی کے چاندکو)دیکھ لو روزے رکھنا شروع کرو۔ اور جب تم اسے دیکھو تو روزے رکھنا ختم کر دو ۔ اور اگر تم پربادل چھائےہوئے ہوں ، تو تم تیس کی تعدادمکمل کر لو"۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ يَتَعَجَّبُ مِمَّنَ يَتَقَدَّمُ الشَّهْرَ بِالصِّيَامِ وَيَقُولُ: ← مُحَمَّدُ بْنُ حُنَيْنٍ مَوْلَى آلِ الْعَبَّاسِ ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 523

مسند الحميدي · کتاب ‹ فِي الْحَجِّ · حديث 524

524 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنَ الْمَدِينَةِ عَامَ الْفَتْحِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فَصَامَ حَتَّى إِذَا بَلَغَ الْكَدِيدَ أَفْطَرَ» قَالَ: وَإِنَّمَا يُؤْخَذُ بِالْآخِرِ مِنْ فِعْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سُفْيَانُ لَا أَدْرِي قَالَهُ الزُّهْرِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَوْ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں :فتح مکہ کے موقع پر نبی اکرم ﷺ رمضان کے مہینے میں مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے ۔ آپ ﷺنے روزہ رکھا ہوا تھا ۔ جب آپﷺ"کدید" کے مقام پر پہنچے ، تو آپ ﷺروزہ توڑ دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں:نبی اکرم ﷺکے آخری طرزعمل کو اختیار کیا جاتا تھا۔ سفیان کہتے ہیں: مجھےیہ نہیں معلوم کہ زہری نے یہ الفاظ نا عبید اللہ کے حوالے سے نقل کیے ہیں، یا حضرت عبدالله بن عباس ؓکے حوالے سے نقل کیے ہیں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 524

مسند الحميدي · کتاب ‹ فِي الْحَجِّ · حديث 525

525 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ [ص:452]، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَالِيَهُودُ تَصُومُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَقَالَ: «مَا هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي تَصُومُونَهُ؟» قَالَ: هَذَا يَوْمٌ عَظِيمٌ أَنْجَى اللَّهُ فِيهِ مُوسَى وَأَغْرَقَ آلَ فِرْعَوْنَ فِيهِ فَصَامَهُ مُوسَى شُكْرًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَنَحْنُ أَحَقُّ بِمُوسَى مِنْكُمْ فَصَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ»

حضرت عبدالله بن عباس ؓبیان کرتے ہیں۔ نبی اکرمﷺمدینہ منورہ تشریف لائے، تو یہودی عاشورہ کے دن روزہ رکھتے تھے۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا :تم لوگ اس دن کیوں روزہ رکھتے ہو؟ انہوں نے بتایا:یہ وہ عظیم دن ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسی ٰ ؑ کو نجات عطا کی تھی ۔اور فرعون کے لشکریوں کو اسی دن ڈبو دیا تھا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے شکر کے طور پر اس دن روزہ رکھا تھا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تم لوگوں کے مقابلے میں ہم حضرت موسی ٰ ؑ کے زیادہ قریب ہیں۔

ما هذا اليوم الذي تصومونه ← ابْنِ عَبَّاسٍ قَدِمَ النَّبِيُّ الْمَدِينَةَ وَالِيَهُودُ تَصُومُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 525

مسند الحميدي · کتاب ‹ فِي الْحَجِّ · حديث 526

526 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا أَتَى أَهْلَهُ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا فَإِنْ قُدِّرَ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ لَمْ يَضُرَّهِ الشَّيْطَانُ شَيْئًا»

حضرت عبداللہ بن عباس ؓبیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے یہ دعا پڑھ لے۔ "اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اے اللہ! تو ہمیں شیطان سے دور رکھ اور جو رزق (یعنی اولاد ) تو ہمیں عطا کرے گا۔ اسے بھی شیطان سے دور رکھ۔“ (نبی اکرم ﷺفرماتے ہیں)"اگر ان کی تقدیر میں(اس صحبت کے نتیجے میں) اولاد ہوئی تو شیطان اسےکسی قسم کانقصان نہیں پہنچا سکے گا"۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← كُرَيْبٍ، ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 526

مسند الحميدي · کتاب ‹ فِي الْحَجِّ · حديث 527

527 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا فَصَمْتُهَا إِقْرَارُهَا»

حضرت عبدالله بن عباسؓ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا ہے۔"ثیبہ عورت اپنے ولی کے مقابلے میں اپنی ذات کی زیادہ حقدار ہے اور کنواری سے اس کی ذات کے بارے میں مرضی معلوم کی جائے گی اس کی خاموشی اس کا اقرار ہوگی۔“

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، ← زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 527

مسند الحميدي · کتاب ‹ فِي الْحَجِّ · حديث 528

528 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلًا حِينَ لَاعَنَ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فِيهِ عِنْدَ الْخَامِسَةِ» وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ فِيهِ فَإِنَّهَا مُوجِبَةٌ

حضرت عبدالله بن عباس ؓبیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم نے دولعان کرنے والوں کے درمیان لعان کروایا، تو جب وہ پانچویں مرتبہ جملہ کہنے لگا ،تو نبی اکرم ﷺنے ایک شخص کو یہ ہدایت کی کہ وہ اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دے۔ سفیان نامی راوی نے اس روایت میں بعض اوقات یہ الفاظ نقل کیے ہیں۔”بے شک (پانچواں جملہ )واجب کر دے گا (یعنی جھوٹا ہونے کی صورت میں عذاب کو لازم کر دے گا)"

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 528

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter