Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الَّتِي قَالَ فِيهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 468

468 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: «كُنْتُ فِيمَنْ قَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ إِلَى مِنًى»

حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: میں ان لوگوں میں شامل تھا۔ جنہیں نبی اکرم ﷺنے اپنے گھر کے کمزور افراد کے ہمراہ مزدلفہ سے منی جلدی روانہ کر دیا تھا۔

كنت فيمن قدم رسول الله في ضعفة أهله من المزدلفة إلى منى ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ1 بْنِ أبي يزيد، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 468

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الَّتِي قَالَ فِيهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 469

469 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرٌو قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے حوالےے یہی روایت ایک اورسند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔

النَّبِیِّ مِثْلَہُ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 469

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الَّتِي قَالَ فِيهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 470

470 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مِسْعَرٌ، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَغَيْرُهُمَا عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدَّمَ أُغَيْلِمَةَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ إِلَى مِنًى وَجَعَلَ يَلْطَحُ أَفْخَاذَنَا وَيَقُولُ «أَبَنِيَّ لَا تَرْمُوا جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ»

حضرت عبد الله بن عباس ؓبیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺنے بنو عبد المطلب سے تعلق رکھنے والے کمسن لڑکوں کو مزدلفہ سے منیٰ(لوگوں سے) پہلے روانہ کر دیا تھا۔ آپﷺنے ہمارے زانوں پر نرمی سے ہاتھ مارتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے میرے چھوٹے بچو۔ تم لوگ جمرہ، عقبیٰ کی رمی اس وقت تک نہ کرنا۔ جب تک سورج نہ نکل آئے"۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← مِسْعَرٌ، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَغَيْرُهُمَا، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 470

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الَّتِي قَالَ فِيهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 471

471 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَخَرَّ رَجُلٌ عَنْ بَعِيرِهِ فَوُقِصَ فَمَاتَ وَهُوَ مُحْرِمُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ؛ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُهِلُّ أَوْ قَالَ يُلَبِّي»

حضرت عبد الله بن عباس ؓبیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم ﷺکے ساتھ ایک سفر کر رہے تھے۔ ایک شخص اپنے اونٹ سے گرا۔ اس کی گردن کی ہڈی ٹوٹی اور وہ انتقال کر گیا۔ وہ احرام باندھے ہوئے تھا ۔ نبی اکرمﷺنے فرمایا: اسے پانی اور بیری کے پتوں کے ذریعے غسل دو اور اسے اس کے دو کپڑوں میں کفن دوتم اس کے سر کو نہ ڈھانپنا،کیونکہ قیامت کے دن اسے تلبیہ پڑھتے ہوئے زندہ کیا جائے گا"۔ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)

يُلَبَّى ← بعيره فوقص فمات وهو محرم ← كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ فِي سَفَرٍ فَخَرَّ رَجُلٌ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 471

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الَّتِي قَالَ فِيهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 472

472 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي حُرَّةَ النَّصِيبِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، وَزَادَ فِيهِ «وَلَا تُقَرِّبُوهُ طِيبًا»

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تا ہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں۔ "اسے خوشبونہ لگانا"۔

النَّبِيِّ مِثْلَهُ، وَزَادَ فِيهِ: «وَلَا تُقَرِّبُوهُ طِيبًا» ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي حُرَّةَ النَّصِيبِيُّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 472

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الَّتِي قَالَ فِيهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 473

473 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرٌو قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو مَعْبَدٍ وَكَانَ مِنْ أَصْدَقِ مَوَالِي ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ: «لَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ وَلَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ أَنْ تُسَافِرَ إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ» فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي اكْتَتَبْتُ فِي غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَا وَإِنَّ امْرَأَتِي انْطَلَقَتْ حَاجَّةً فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «انْطَلِقْ فَاحْجُجْ مَعَ امْرَأَتِكَ» قَالَ سُفْيَانُ: كَانَ الْكُوفِيُّونَ يَأْتُونَ أَبَدًا عُمَرَ وَيَسْأَلُونَهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ يَقُولُونَ كَيْفَ حَدِيثُ اكْتَتَبْتُ فِي غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَا؟

حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺکو خطبہ دیتے ہوئے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: "کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ تنہا ہر گز نہ رہے۔ اور کی بھی عورت کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ سفر پر جائے ماسوائے اس کے کہ اس کے ساتھ کوئی محرم عزیز ہونا چاہئے"۔ ایک صاحب آپ ﷺکی خدمت میں کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی : یارسول اللہ (ﷺ)! میرا نام فلاں ، فلاں جنگ میں حصہ لینے کے لیے نوٹ کرلیا گیا ہے۔ اور میری بیوی حج کرنے کے لیے جاری ہے۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: "تم جاؤ اور اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو“۔ سفیان نامی راوی کہتے ہیں: کوفہ سے تعلق رکھنے والے لوگ (میرے استاد) عمرو بن دینارمکی کی خدمت میں آیا کرتے تھے اور ان سے اس حدیث کے بارے میں دریافت کرتے تھے۔ وہ یہ کہتے تھے۔ وہ حدیث کیسی ہے، جس میں یہ ہے کہ میرا نام فلاں فلاں جنگ میں حصہ لینے کے لیے لکھا گیا ہے۔

رَسُولَ اللَّهِ يَخْطُبُ وَهُوَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبُو مَعْبَدٍ وَكَانَ مِنْ أَصْدَقِ مَوَالِي ابْنِ عَبَّاسٍ ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 473

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الَّتِي قَالَ فِيهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 474

474 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الشَّعْثَاءِ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا فَلْيَلْبَسْ سَرَاوِيلَ يَعْنِي وَهُوَ مُحْرِمٌ»

حضرت عبداللہ بن عباسںؓ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”(احرام والے) جس شخص کو جوتے نہیں ملتے وہ موزے پہن لے جسے تہہ بن نہیں ملتا۔ و شلوار پہن لے (راوی کہتےہیں :)یعنی احرام والا شخض“۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبُو الشَّعْثَاءِ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 474

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الَّتِي قَالَ فِيهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 475

475 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: «صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ ثَمَانِيًا جَمِيعًا وَسَبْعًا جَمِيعًا» فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَا الشَّعْثَاءِ أَظُنُّهُ أَخَّرَ الظُّهْرَ، وَعَجَّلَ الْعَصْرَ، وَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ، وَعَجَّلَ الْعِشَاءَ [ص:428] فَقَالَ وَأَنَا أَظُنُّ ذَلِكَ

حضر عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں :میں نے نبی اکرم ﷺکی اقتدا ءمیں مدینہ منورہ میں آٹھ رکعات ایک ساتھ اور سات رکعات ایک ساتھ ادا کی ہیں۔عمرو بن دینارمکی نامی راوی کہتے ہیں: میں نے(اپنے استاد ) جابر بن زید سے دریافت کیا: اے ابوشعثاء! میرا خیال ہے۔ نبی اکرم ﷺنے ظہر کی نماز تاخیر سے ادا کی ہوگی اور عصر کی نمازجلدی ادا کر لی ہوگی اور مغرب کی نماز تاخیر سے ادا کی ہوگی۔ اور عشاء کی نمازجلدی ادا کرلی ہوگی، تو وہ بولے : میرا بھی یہی خیال ہے۔

جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 475

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الَّتِي قَالَ فِيهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 476

476 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابِنْ عَبَّاسٍ قَالَ: «صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ مِنْ غَيْرِ سَفَرٍ وَلَا خَوْفٍ ثَمَانِيًا جَمِيعًا وَسَبْعًا جَمِيعًا» قُلْتُ: لِمَ فَعَلَ ذَلِكَ؟ قَالَ قُلْتُ: أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ

حضرت عبد الله بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں: میں نے مدینہ منورہ میں نبی اکرم ﷺکی اقتداء میں کسی سفر کے علاوه (یعنی حضر کی حالت میں)اور خوف کے بغیر آٹھ رکعات ایک ساتھ اور سات رکعات ایک ساتھ ادا کی ہیں۔ راوی کہتے ہیں : میں نے اپنے استاد سے دریافت کیا:نبی اکرم ﷺنے ایسا کیوں کیا تھا؟ تو انہوں نے جواب دیا: میرا خیال ہے نبی اکرم ﷺیہ چاہتے تھے۔ کہ آپ ﷺاپنی امت کو حرج میں مبتلا نہ کریں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 476

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الَّتِي قَالَ فِيهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 477

477 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ «فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ فَتَوَضَّأَ مِنْ شَنٍّ مُعَلَّقٍ وُضُوءًا خَفِيفًا، وَجَعَلَ يَصِفُهُ وَيُقَلِّلُهُ» فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ الَّذِي صَنَعَ ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخْلَفَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ «فَصَلَّى ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ، ثُمَّ أَتَاهُ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ فَخَرَجَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ» [ص:429]،

حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں رات کے وقت اپنی خالہ سیدہ میمونہؓ کے ہاں ٹھہر گیا۔ نبی اکرم ﷺرات کے وقت بیدار ہوئے آپ ﷺنے لٹکے ہوئے مشکیزے سے وضو کیا، جو مختصرتھا۔ پھر حضرت عبد الله بن عباس ؓنے اس کی صفت بیان کرتے ہوئے بتایا: وہ تھوڑا سا تھا ،تو میں بھی اٹھا۔ اور میں نے بھی اسی طرح کیا ۔ جس طرح نبی اکرم ﷺنے کیا تھا۔ پھر میں آیا اور نبی اکرم ﷺکے بائیں طرف کھڑا ہوگیا تو آپ ﷺنے مجھے اپنے پیچھے سے گزار کر اپنے دائیں طرف کھڑا کر لیا۔ پھر آپ ﷺنے نماز ادا کی پھر آپ ﷺلیٹ گئے اور سو گئے ،یہاں تک کہ خراٹے لینے لگے۔پھر حضرت بلالؓ آپ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپﷺ کو نماز کے لیے بلایا اور آپ ﷺتشریف لے گئے۔آپ ﷺنے نماز ادا کی اور سر نو وضو نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← كُرَيْبٍ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 477

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الَّتِي قَالَ فِيهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 478

478 - وَقَالَ سُفْيَانُ وَحَدَّثَنِيهِ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَهُ إِلَى قَوْلِهِ فَأَخْلَفَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّى فَقَالَ لَهُ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ وَكَانَ فِي الْمَجْلِسِ هِيهِ زِدْ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ فَقَالَ عَطَاءُ: مَا هِيهِ؟ هَكَذَا سَمِعْتُ فَقَالَ عَمْرٌو: أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ «ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ ثُمَّ أَتَاهُ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ»

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓکے حوالے سے اسی کی مانند منقول ہے ،جس میں یہ ا لفاظ ہیں:"نبی اکرم ﷺنے اپنے پیچھے کی طرف سے مجھے اپنے دائیں طرف کھڑا کیا اور نماز ادا کی"۔ جب عطاء بن ابی رباح نے یہ روایت بیان کی ،تو وہاں عمرو بن دینارمکی بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ پھرانہوں نے کہا: اے شیخ ابومحمد! آپ مزید روایت بھی تو بیان کیجئے، تو عطاء نے کہا اور کیا بیان کرتا ہے؟ میں نے تویہ اسی طرح سنی ہے، تو عمرو نے بتایا۔ کریب نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓکے حوالے سے یہ بات بیان کی ہے کہ انہوں نے یہ فرمایا تھا۔ پھر نبی اکرمﷺلیٹ کر سو گئے، یہاں تک کہ خراٹے لینے لگے۔ پھر حضرت بلال ؓ آپﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺکو نماز کے لیے بلایا تو نبی اکرم ﷺنے نماز ادا کی اور از سر نو وضو نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ ← كُرَيْبٍ، ← عَمْرٍو، ← عَطَاءُ: مَا هِيهِ؟ هَكَذَا ← لَهُ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ وَكَانَ فِي الْمَجْلِسِ هِيهِ زِدْ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ ← يَمِينِهِ فَصَلَّى ← ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَهُ إِلَى قَوْلِهِ فَأَخْلَفَنِي فَجَعَلَنِي ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سُفْيَانَ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 478

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الَّتِي قَالَ فِيهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 479

479 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: فَقَالَ سُفْيَانُ: هَذَا لِلنَّبِيِّ خَاصَّةً لِأَنَّ النَّبِيَّ تَنَامُ عَيْنُهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ

سفیان بن عیینہ کہتے ہیں:یہ حکم نبی اکرم ﷺکے ساتھ مخصوص ہے، کیونکہ نبی اکرم ﷺکی آنکھیں سو جایا کرتی تھیں آپﷺ کا قلب مبارک نہیں سوتا تھا۔

فَقَالَ سُفْيَانُ: هَذَا لِلنَّبِيِّ خَاصَّةً لِأَنَّ النَّبِيَّ تَنَامُ عَيْنُهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 479

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter