مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْمُهَا هِنْدُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 303
303 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي سَلَمَةُ - رَجُلٌ مِنْ وَلَدِ أُمِّ سَلَمَةَ - عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا أَسْمَعُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ذَكَرَ النِّسَاءَ فِي الْهِجْرَةِ بِشَيْءٍ " فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّي لَا أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِنْكُمْ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى} [آل عمران: 195] " الْآيَةَ
سیدہ ام سلمہ ؓ کی اولاد سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب سلمہ بیان کرتے ہیں: حضرت زبیر بن عوام ؓ ٰ کا ایک شخص کے ساتھ جھگڑا ہوگیا وہ اپنا مقدمہ لے کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آئے، تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت زبیر ؓ کے حق میں فیصلہ دے دیا تو وہ شخص بولا :آپ ﷺنے ان کے حق میں اس لیے فیصلہ دیا ہے کیو نکہ یہ آپ ﷺ کے پھوپھی زاد ہیں،تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : "تمہارے پروردگار کی قسم یہ لوگ اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتے جب تک آپس کے اختلافی معاملات میں تمہیں حاکم تسلیم نہیں کرتے اور پھر تم نے جو فیصلہ دیا ہو اس کے بارے میں اپنے من میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتےاوراسے مکمل طور پر تسلیم نہیں کرتے ہیں۔"
أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا ← سَلَمَةُ، رَجُلٌ مِنْ وَلَدِ أُمِّ سَلَمَةَ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،
Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 303
