Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْمُهَا هِنْدُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 303

303 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي سَلَمَةُ - رَجُلٌ مِنْ وَلَدِ أُمِّ سَلَمَةَ - عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا أَسْمَعُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ذَكَرَ النِّسَاءَ فِي الْهِجْرَةِ بِشَيْءٍ " فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّي لَا أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِنْكُمْ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى} [آل عمران: 195] " الْآيَةَ

سیدہ ام سلمہ ؓ کی اولاد سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب سلمہ بیان کرتے ہیں: حضرت زبیر بن عوام ؓ ٰ کا ایک شخص کے ساتھ جھگڑا ہوگیا وہ اپنا مقدمہ لے کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آئے، تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت زبیر ؓ کے حق میں فیصلہ دے دیا تو وہ شخص بولا :آپ ﷺنے ان کے حق میں اس لیے فیصلہ دیا ہے کیو نکہ یہ آپ ﷺ کے پھوپھی زاد ہیں،تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : "تمہارے پروردگار کی قسم یہ لوگ اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتے جب تک آپس کے اختلافی معاملات میں تمہیں حاکم تسلیم نہیں کرتے اور پھر تم نے جو فیصلہ دیا ہو اس کے بارے میں اپنے من میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتےاوراسے مکمل طور پر تسلیم نہیں کرتے ہیں۔"

أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا ← سَلَمَةُ، رَجُلٌ مِنْ وَلَدِ أُمِّ سَلَمَةَ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 303

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْمُهَا هِنْدُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 304

304 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ [ص:311]، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ تُسْتَحَاضُ فَسَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ «إِنَّهُ لَيْسَ بِالْحَيْضَةِ، وَلَكِنَّهُ عِرْقٌ وَأَمَرَهَا أَنْ تَدَعَ الصَّلَاةَ قَدْرَ أَقْرَائِهَا أَوْ قَدْرَ حَيْضَتِهَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ، فَإِنْ غَلَبَهَا الدَّمُ اسْتَدْفَرَتْ بِثَوْبٍ وَصَلَّتْ»

سیدہ ام سلمہؓ بیان کرتی ہیں، انہوں نے عرض کی یارسول الله (ﷺ )! میں نے یہ نہیں سنا کہ الله تعالیٰ نے ہجرت کے حوالے سے خواتین کا تذکرہ کیا ہو،تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : "تو ان کے پروردگار نے ان کی دعا کوقبول کیا ،تو میں تمہارے عمل کرنے والوں میں سے کسی کے عمل کو ضائع نہیں کروں گا خواہ وہ مذکرر ہو یا مؤنث۔"

كَانَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ تُسْتَحَاضُ فَسَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ ← أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ [ص:447]، ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 304

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْمُهَا هِنْدُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 305

305 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا فُضَيلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ قَالَ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَزِلَّ، أَوْ أَضِلَّ، أَوْ أَظْلِمَ، أَوْ أُظْلَمَ، أَوْ أَجْهَلَ، أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ»

سیدہ ام سلمہ ؓبیان کرتی ہیں، نبی اکرمﷺجب گھر سے باہر تشریف لے جاتے تھے، تویہ پڑھتے تھے۔ ”اے اللہ میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں پھسل جاؤں ،یا مجھے گمراہ کر دیا جائے یا میں ظلم کروں ،یا میرے اوپر ظلم کیا جائے یا میں جہالت کا مظاہرہ کروں ، یا میرے خلاف جہالت کا مظاہرہ کیا جائے ۔"

أُمِّ سَلَمَةَ ← الشَّعْبِيِّ، ← مَنْصُورٌ، ← فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 305

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْمُهَا هِنْدُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 306

306 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنَتِي مَاتَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَإِنَّهَا تَشْتَكِي عَيْنَهَا، أَفَتَكْتَحِلُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ لَتَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ وَإِنَّمَا هِيَ الْآنَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ» قَالَ يَحْيَى فَقُلْتُ لِحُمَيِدِ بْنِ نَافِعٍ مَا قَوْلُهُ: إِنْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ لَتَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ؟ فَقَالَ: كَانَتِ الْمَرْأَةُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَلْبَسُ مِنْ ثِيَابِهَا أَطْمَارَهَا مِنْ أَدْنَى ثِيَابِهَا ثُمَّ تَدْخُلُ أَدْنَى بُيُوتِهَا فَإِذَا كَانَ عِنْدَ رَأْسِ الْحَوْلِ أَخَذَتْ بَعْرَةً فَرَمَتْ بِهَا عَلَى ظَهْرِ غَيْرِهَا كَذَا وَرُبَّمَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِلَى خَلْفٍ وَقَالَتْ: قَدْ حَلَلْتُ

سید ہ ز ینب بنت ابو سلمہ ؓاپنی والدہ سیدہ ام سلمہؓ کا یہ بیان نقل کرتی ہیں : ایک خاتون نبی اکرمﷺکی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی :یا رسول اللہ (ﷺ)! میری بیٹی کا شو ہر انتقال کر گیا ہے اور میری بیٹی کی آنکھوں میں تکلیف ہے، تو کیا وہ سرمہ لگا لے ،تو نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا: پہلے کوئی عورت ایک سال گزرنے کے بعد مینگنی پھینکتی تھی (یعنی ایک سال بعد اس کی عدت ختم ہوتی تھی) یہ تو چار ماہ دس دن ہیں۔ یحییٰ کہتے ہیں : میں نے حمید بن نافع سے دریافت کیا: نبی اکرمﷺکی ان الفاظ سے مراد کیا ہے، پہلے کوئی عورت ایک سال گزرنے کے بعدمینگنی پھینکتی تھی ،تو انہوں نے بتایا: زمانہ جاہلیت میں کوئی عورت (سوگ کے دوران) انتہائی برے کپڑے پہن لیتی تھی پھر وہ گھر کے دور دراز کے کمرے میں چلی جاتی تھی ایک سال گزر جانے کے بعد وہ مینگنی لے کر اسے اپنی پشت کے پچھے پھینکتی تھی یہاں امام حمیدیؒ نے بعض اوقات یہ الفاظ نقل کیے ہیں وہ اپنے پیچھے پھینکتی تھی اور یہ کہتی تھی میں حلال ہوگئی ہوں۔

أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ فَقَالَتْ: ← زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، ← حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 306

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter