Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 276

276 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ [ص:298]، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ فَأَيْنَ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: «عَلَى الصِّرَاطِ يَا بِنْتَ الصِّدِّيقِ»

سیدہ عائشہ ؓبیان کرتی ہیں، انہوں نے عرض کی:یارسول الله(ﷺ)!(ارشادباری تعالیٰ ہے) "اس دن زمین دوسری زمین میں تبدیل کر دی جائے گی۔“تو اس دن لوگ کہاں ہوں گے؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:"اے صدیق کی صاحبزادی !وہ پل صراط پر ہوں گے۔"

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← مَسْرُوقٍ، [ص:342] ← الشَّعْبِيِّ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 276

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 277

277 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: أَبَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ} [المؤمنون: 60] أَهُمُ الَّذِينَ يَزْنُونَ، وَيَسْرِقُونَ، وَيَشْرَبُونَ الْخَمْرَ؟ قَالَ: «لَا يَا ابْنَةَ الصِّدِّيقِ وَلَكِنَّهُمُ الَّذِينَ يُصَلُّونَ، وَيَصُومُونَ، وَيَتَصَدَّقُونَ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں، میں نے نبی اکرم ﷺسے الله تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا :"اور وہ لوگ جو اس چیز کو دیتے ہیں جو انہیں دیا گیا ہے اور ان کے دل لرزرہے ہوتے ہیں۔“ سیدہ عائشہؓ نے دریافت کیا: کیا یہ وہ لوگ ہیں جو زنا کا ارتکاب کریں گے اور چوری کریں گے اور شراب پیئں گے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : نہیں ۔ اے صدیق کی صاحبزادی ! یہ وہ لوگ ہیں جو نمازیں پڑھیں گے ، روزے رکھیں گے اور صدقہ کیا کریں گے۔

سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← عَائِشَةَ أَنَّهَا ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ ← أَبَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 277

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 278

278 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ كَانَ لَهُ بِمَا اكْتَسَبَ، وَكَانَ لَهَا بِمَا أَنْفَقَتْ، وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا ہے:"جب عورت اپنے شوہر کے گھر میں سے کوئی خرابی پیدا کیے بغیر (الله کی راہ میں)خرچ کرتی ہے، تو اس شو ہرکو اس کےکمانے کا اجرملتا ہے۔ عورت کو اس کے خرچ کرنے کا اجر ملتا ہے اور خزانچی کی مثال بھی اسی طرح ہے۔“

عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 278

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 279

279 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ [ص:299]، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: رَأَيْتُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاضِعًا يَدَكَ عَلَى مِعْرَفَةِ فَرَسٍ وَأَنْتَ قَائِمٌ تُكَلِّمُ دِحْيَةَ الْكَلْبِيَّ فَقَالَ «وَقَدْ رَأَيْتِيهِ؟» قَالَتْ: نَعَمْ قَالَ «فَإِنَّهُ جِبْرِيلُ وَهُوَ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ» قَالَتْ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَجَزَاهُ اللَّهُ خَيْرًا مِنْ زَايِرٍ وَمِنْ دَخِيلٍ فَنِعْمَ الصَّاحِبُ، وَنِعْمَ الدَّخِيلُ

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں، انہوں نے عرض کی:یارسول الله(ﷺ)!میں نے آپ ﷺکو دیکھا کہ آپ ﷺنے گھوڑے کی پیشانی پر ہا تھ کررکھا ہوا تھا اور آپﷺکھڑے ہو کر حضرت دحیہ کلبی ؓ کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے۔ نبی اکرمﷺنے دریافت کیا:تم نے اسے دیکھا تھا۔ سیدہ عائشہ ؓ نے عرض کی : جی ہاں۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا:وہ جبرائیل ؑ تھے اور تمہیں سلام کہہ رہے ہیں تو سیدہ عائشہ ؓنے فرمایا :انہیں بھی سلام ہو اور ان پر الله کی رحمتیں ہوں۔ الله تعالیٰ انہیں جزائے خیر دے جوکسی بھی ملا قاتی اور مہمان کو دی جاتی ہے ،وہ کتنے اچھے ساتھی اور کتنے اچھے مہمان ہیں۔

رَأَيْتُكَ ← عَائِشَةَ أَنَّهَا ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، [ص:416] ← الشَّعْبِيِّ، ← مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 279

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 280

280 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: جَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنِّي أَرَى فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ مِنْ دُخُولِ سَالِمٍ عَلَيَّ كَرَاهِيَةً فَقَالَ «أَرْضِعِيهِ» فَقَالَتْ كَيْفَ أُرْضِعُهُ وَهُوَ رَجُلٌ كَبِيرٌ؟ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ «قَدْ عَلِمْتُ أَنَّهُ رَجُلٌ كَبِيرٌ» قَالَتْ: فَأَرْضَعَتْهُ، ثُمَّ جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتٍ: مَا رَأَيْتُ فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ شَيْئًا أَكْرَهُهُ مُنْذُ أَرْضَعْتُهُ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَقَدْ شَهِدَ بَدْرًا

سیدہ عائشہ ؓبیان کرتی ہیں، سہلہ بنت سہیل نبی اکرم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئیں، انہوں نے عرض کی میں نے سالم کے اپنے ہاں آنے کی وجہ سے اپنے شوہر حضرت ابوحذیفہؓ کے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار دیکھے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تم اسے (یعنی سالم) کو اپنا دودھ پلا دو میں نے عرض کی: میں اسے کیسے دودھ پلاسکتی ہوں؟ حالانکہ وہ بڑی عمرکا شخص ہے۔ نبی اکرم ﷺمسکرا دیئے۔ آپﷺنے فرمایا: مجھے پتہ ہے وہ بڑی عمر کا شخص ہے سیدہ عائشہؓ کہتی ہیں، تو اس خاتون نے اس لڑکے کو دودھ پلا دیا پھر وہ نبی اکرم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئیں ،تو اس نے عرض کی جب سے میں نے اس لڑکے کو دودھ پلایا ہے اس کے بعد مجھے حضرت ابوحذیفہؓ کے چہرے میں ایسی کوئی چیز نظر نہیں آئی جو نا پسندیدہ ہو۔ عبدالرحمان بن قاسم کہتے ہیں: حضرت ابوحذیفہ ؓ غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے۔

عبد الرحمن وقد شهد بدرا ← ما رأيت في وجه أبي حذيفة شيئا أكرهه منذ أرضعته ← فَأَرْضَعَتْهُ، ثُمَّ جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ ← «قَدْ عَلِمْتُ أَنَّهُ رَجُلٌ كَبِيرٌ» ← كَيْفَ أُرْضِعُهُ وَهُوَ رَجُلٌ كَبِيرٌ؟ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ ← أرضعيه ← إني أرى في وجه أبي حذيفة من دخول سالم علي كراهية ← جاءت سهلة بنت سهيل إلى النبي ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 280

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 281

281 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ تَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْقَطْعُ فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا»

سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں، نبی اکرم ﷺنے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ایک چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ(قیمتی چیز چوری کرنے )پر ہاتھ کاٹا جائے گا۔

عَائِشَةَ تَقُولُ: ← أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهَا ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 281

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 282

282 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ وَحَدَّثَنَاهُ أَرْبَعَةٌ عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ لَمْ يَرْفَعُوهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، وَرُزَيْقُ بْنُ حَكِيمٍ الْأَيْلِيُّ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ رَبِّهِ بْنُ سَعِيدِ وَالزُّهْرِيُّ أَحْفَظُهُمْ كُلُّهُمْ إِلَّا أَنَّ فِي حَدِيثِ يَحْيَى مَا دَلَّ عَلَى الرَّفْعِ مَا نَسِيتُ وَلَا طَالَ عَلَيَّ الْقَطْعُ فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا

سفیان نے کئی راویوں کے حوالے سے اس روایت کونقل کیا ہے جن میں سے اکثر نے اسے "مرفوع" حدیث کے طور پر نقل نہیں کیاتاہم ایک راوی نے ایسی بات نقل کی ہے، جو اس بات پر دلالت کرتی ہے، یہ "مرفوع" حدیث ہے (جس کےالفاظ یہ ہیں) "ایک چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ قیامت والی چیز (چوری کرنے پر)ہاتھ کاٹا جائے گا۔"

عَمْرَةَ ← أَرْبَعَةٌ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 282

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 283

283 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ» فَقِيلَ لِسُفْيَانَ: فَإِنَّ مَالِكًا وَغَيْرَهُ يَذْكُرُونَ الْبِتْعَ فَقَالَ: مَا قَالَ لَنَا ابْنُ شِهَابٍ الْبِتْعَ مَا قَالَ لَنَا ابْنُ شِهَابٍ إِلَّا كَمَا قُلْتُ لَكَ

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں، نبی اکرم ا ﷺنے ارشاد فرمایا ہے: ہر وہ مشروب جونشہ پیدا کر دے وہ حرام ہے۔سفیان سے کہا گیا: مالک اور دیگر راویوں نے اس میں بتع (شہد سے بنی ہوئی شراب ) کا تذکرہ کیا ہے ،تو سفیان نے کہا: ابن شہاب نے ہمارے سامنے بتع کا تذ کرہ نہیں کیا ابن شہاب نے ہمارے سامنے وہی الفاظ ذکر کیے تھے جو میں نے تمہارے سامنےبیان کیے ہیں۔

عَائِشَةَ ← أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 283

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 284

284 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ قِرَاءَةَ أَبِي مُوسَى فَقَالَ: «لَقَدَ أُوتِيَ هَذَا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ» وَكَانَ سُفْيَانُ رُبَّمَا شَكَّ فِيهِ فَقَالَ: عَنْ عَمْرَةَ أَوْ عُرْوَةَ لَا يَذْكُرُ فِيهِ الْخَبَرَ ثُمَّ ثَبَتَ عَلَى عُرْوَةَ وَذَكَرَ الْخَبَرَ فِيهِ غَيْرَ مَرَّةٍ وَتَرَكَ الشَّكَّ

سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں، نبی اکرم ﷺنے حضرت ابو موسی ٰاشعری ؓکی قرأت سنی تو ارشادفرمایا:"اسے آل داود کی سی خوش الحانی عطا کی گئی ہے۔"امام حمیدی ؒ کہتے ہیں: سفیان اس روایت کونقل کرتے ہوئے بعض اوقات اس میں شک کا شکار ہو جاتے تھے اور وہ یہ کہتے تھے کہ یہ عمرہ نامی خاتون سے منقول ہے یا شاید عروه نامی صاحب سے منقول ہے، تاہم وہ اس میں روایت کے الفاظ ذکر نہیں کرتے تھے، پھر اس کے بعد انہوں نے اعتماد کے ساتھ عروہ سے منقول ہونے کا تذکرہ کیا اور پھر کئی مرتبہ اس روایت کو بیان کیاانہوں نے اس شک کو ترک کر دیا۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 284

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 285

285 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ ذَهَبًا كَانَتْ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ وَهِيَ أَكْثَرُ مِنَ السَّبِعَةِ وَأَقَلُّ مِنَ التِّسْعَةِ فَلَمْ يُصْبِحْ حَتَّى قَسَّمَهَا ثُمَّ قَالَ: «مَا ظَنُّ مُحَمَّدٍ بِرَبِّهِ لَوْ مَاتَ وَهَذِهِ عِنْدَهُ ‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍‍» قَالَ سُفْيَانُ: أُرَاهَا صَدَقَةً كَانَتْ أَتَتْهُ أَوْ حَقًّا لِإِنْسَانٍ خَشِيَ أَنْ يَتْوَى

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓبیان کرتی ہیں، نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں کچھ سونا آیا ،وہ رات کے وقت آپ ﷺکی خدمت میں آیا تھاوہ سات سے زیادہ تھا اورنو سے کم تھا، تو صبح ہونے سے پہلے آپ ﷺنے اسے تقسیم کر دیا۔ آپ ﷺنے ارشادفرمایا:"محمد کا اپنے پروردگار کے بارے میں کیا گمان ہوگا کہ اگر وہ انتقال کر جائے اور یہ سونا اس کے پاس ہو ۔"سفیان کہتے ہیں: میرا خیال ہے یہ زکوة کا سونا تھا جو آپ ﷺکی خدمت میں آیا تھا یا پھر یہ کسی انسان کا حق تھا جس کے بارے میں آپ ﷺکو یہ اندیشہ تھا کہ کہیں وہ ضائع نہ ہوجائے۔

أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 285

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 286

286 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ وَايِلِ بْنِ دَاوُدَ عَنِ ابْنِهِ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا «يَا عَائِشَةَ إِنْ كُنْتِ أَلْمَمْتِ بِذَنْبٍ فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ، فَإِنَّ الْعَبْدَ إِذَا أَلَمَّ بِذَنْبٍ ثُمَّ تَابَ، وَاسْتَغَفَرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ» قَالَ أَبُو بَكْرٍ رُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ «إِنْ كُنْتَ بِذَنْبٍ أَلْمَمْتَ فَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ فَإِنَّ التَّوْبَةَ النَّدَمُ وَالَاسْتِغْفَارُ» وَأَكْثَرُ ذَلِكَ يَقُولُ عَلَى الْأَوَّلِ

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں ،نبی اکرم ﷺنے ان سے فرمایا: اے عائشہ !گرتم نے گناہ کا ارتکاب کیا تھا، تو تم الله تعالیٰ سے مغفرت طلب کرو ،کیونکہ جب انسان گناہ کا ارتکاب کرتا ہے اور پھرتوبہ کر کے الله تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہے، تو الله تعالی اس کی مغفرت کردیتا ہے۔امام حمیدیؒ کہتے ہیں: سفیان نے بعض اوقات یہ الفاظ نقل کیے ہیں ۔"اگرتم نے گناہ کا ارادہ کیا تھا ,تو اللہ تعالی ٰسے مغفرت طلب کرو کیونکہ وہ توبہ ندامت کا اظہار اور استغفار کرنا ہوتا ہے" تاہم سفیان اکثر اوقات پہلے والے الفاظ ہی نقل کرتے تھے۔

عَائِشَةَ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنِهِ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ، ← وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 286

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 287

287 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ فِيهَا قِرَاءَةً، فَقُلْتُ: «مَنْ هَذَا؟» فَقَالُوا: حَارِثَةُ بْنُ النُّعْمَانِ «كَذَالِكُمُ الْبِرُّ، كَذَالِكُمُ الْبِرُّ» فَقِيلَ لِسُفْيَانَ: هُوَ عَنْ عَمْرَةَ؟ قَالَ: نَعَمْ لَا شَكَّ فِيهِ كَذَلِكَ قَالَ الزُّهْرِيُّ

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں، نبی اکرمﷺنے ارشادفرمایا: میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے اس میں قرأت کی آواز سنی میں نے دریافت کیا: یہ کون ہے، تو فرشتوں نے بتایا: یہ حارثہ بن نعمان ہیں ،تو نیکی اسی طرح ہوتی ہے نیکی اسی طرح ہوتی ہے۔ سفیان سے کہا گیا:یہ روایت عمرہ نامی راوی سے منقول ہے انہوں نے جواب دیا: جی ہاں اس میں کوئی شک نہیں ہے زہری نے اسی طرح بیان کیا تھا۔

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 287

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter