Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 264

264 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ إِنِّي خَبِيثُ النَّفْسِ وَلَكِنْ لِيَقُلْ إِنِّي لَقِسُ النَّفْسِ»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓکرتی ہیں، نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا ہے:کوئی بھی شخص یہ نہ کہے ، میرا نفس خبیث ہو گیا ہے بلکہ وہ یہ کہے میں تھکاوٹ کا شکار ہو گیا ہوں۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 264

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 265

265 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَتْ لِي عَائِشَةُ: «يَا ابْنَ أُخْتِي إِنْ كَانَ أَبَوَاكَ لَمِنَ الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أصَابَهُمُ الْقَرْحُ. . . . . أَبُو بَكْرٍ، وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ»

ہشام بن عروہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدہ عائشہ ؓ نے مجھے فرمایا: تمہارے دو باپ (یعنی تمہارے دادا اور تمہارے نانا)ان لوگوں میں شامل ہیں ، جن کا ذکر اس آیت میں ہے ۔"یہ وہ لوگ ہیں ، جہنوں نے مشکل صورتحال کا سامنا کرنے کے بعد اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی پکار پر لبیک کہا۔" (تمہارے وہ دونوں اجداد) حضرت ابو بکر ؓ اور حضرت زبیر بن عوام ؓہیں۔

أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 265

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 266

266 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا جَامِعُ بْنُ أَبِي رَاشِدٍ، عَنْ مُنْذِرٍ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ امْرَأَةٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا ظَهَرَ السُّوءُ فِي الْأَرْضِ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِأَهْلِ الْأَرْضِ بَأْسَهُ» [ص:291] قَالَتْ: فَقُلْتُ: أَنَهْلِكُ وَفِينَا أَهْلُ طَاعَةِ اللَّهِ قَالَ: «نَعَمْ ثُمَّ تَصِيرُونَ إِلَى رَحْمَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓبیان کرتی ہیں، نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے جب برائی پھیل جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اہل زمین پرسختی نازل کرتا ہے۔سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں، میں نے عرض کی:کیا ہم لوگ ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے ،جبکہ ہمارے درمیان الله تعالیٰ کی فرمانبرداری کرنے والے لوگ بھی موجود ہوں گے، نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا: جی ہاں! پھرتم لوگ اللہ تعالی ٰکی رحمت کی طرف چلے جاؤ گے۔

عَائِشَةَ ← امْرَأَةٌ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← مُنْذِرٍ الثَّوْرِيِّ، ← جَامِعُ بْنُ أَبِي رَاشِدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 266

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 267

267 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ [ص:292]، عَنْ خَالَتِهَا عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَبِيٍّ مِنْ صِبْيَانِ الْأَنْصَارِ لِيُصَلِّي عَلَيْهِ فَقُلْتُ: طُوبَى لَهُ عُصْفُورٌ مِنْ عَصَافِيرِ الْجَنَّةِ لَمْ يَعْمَلْ سُوءًا قَطُّ، وَلَمْ يُدْرِكْهُ ذَنْبٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوْ غَيْرُ ذَلِكَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ الْجَنَّةَ وَخَلَقَ لَهَا أَهْلًا وَخَلَقَهُمْ وَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ، وَخَلَقَ النَّارَ وَخَلَقَ لَهَا أَهْلًا وَخَلَقَهُمْ وَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں ،نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ایک انصاری بچے کو لایا گیا، تا کہ آپﷺاس کی نماز جناز ہ اداکریں، تو میں نے کہا : یہ کتنا خوش نصیب ہےیہ جنت کی چڑ یاہے ،جس نے کبھی کوئی برا عمل نہیں کیا اور اسے گناہ پہنچا ہی نہیں ، تو نبی اکرم ﷺ ارشاد فرمایا : عائشہ ؓ اس سے مختلف بھی تو ہو سکتا ہے ، بے شک اللہ تعالٰی جنت کو پیدا کیا ہے اور اس کے اہل پیدا کیے ہیں اس نے ان اہل کو اس وقت پیدا کیا جب وہ اپنے آباؤ اجدادکی پشتوں میں تھے اور اس نے جہنم کو پیدا کیا ہے اور اس کے اہل پیدا کیے ہیں اس نے ان کو اس وقت پیدا کیا ہے، جب وہ اپنے آباؤ اجداد کی پشتوں میں تھے۔

خَالَتِهَا عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ← عَمَّتِہٖ عَائِشَۃَ بِنْتِ طَلْحَۃَ ← طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 267

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 268

268 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: كَتَبَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ إِلَى عَائِشَةَ أَنِ اكْتُبِي إِلَيَّ بِشَيْءٍ سَمِعْتِيهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَكَتَبَتْ إِلَيْهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّهُ مَنْ يَعْمَلْ بِغَيْرِ طَاعَةِ اللَّهِ يَعُودُ حَامِدُهُ مِنَ النَّاسِ ذَامًّا»

امام شعبی بیان کرتے ہیں : حضرت معاویہ ؓ نے سیدہ عائشہؓ کو خط لکھا کہ آپ مجھے کوئی ایسی چیز جوابی خط میں لکھیں جو آپ نے نبی اکرمﷺکی زبانی سنی ہو، تو سیدہ عائشہ ؓنے انہیں جوابی خط میں تحریر کیا میں نے نبی اکرمﷺکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:"جو شخص اللہ تعالی ٰ کی نافرمانی کرتا ہے تو لوگوں میں سے جو لو گ اس کی تعریف کرتے ہو ں وہ اس کی مذمت کرنے والے بن جاتے ہیں۔"

مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ إِلَى عَائِشَةَ ← الشَّعْبِيِّ، ← عَبَّاسِ بْنِ ذُرَيْحٍ، ← زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 268

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 269

269 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «مَا بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً قَطُّ فِيهِمْ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ إِلَّا أَمَّرَهُ عَلَيْهِمْ»

سیدہ عائشہ ؓبیان کرتی ہیں ،نبی اکرمﷺنے جب بھی کوئی مہم روانہ کی جس کے افراد میں زید بن حارثہ بھی ہوں، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں ان لوگوں کا امیر مقرر کیا۔

عَائِشَةَ ← الشَّعْبِيِّ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 269

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 270

270 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي سَهْلَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ «وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِي» فَقُلْتُ: أَلَا نَدْعُو لَكَ أَبَا بَكْرٍ؟ قَالَ «لَا» ثُمَّ قَالَ «وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِي» فَقُلْتُ أَلَا نَدْعُو لَكَ عُمَرَ؟ قَالَ «لَا» ثُمَّ قَالَ «وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِي» فَقُلْتُ: أَلَا نَدْعُو لَكَ ابْنَ عَمِّكَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ؟ قَالَ: «لَا» ثُمَّ قَالَ: «وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِي» فَقُلْتُ: أَلَا نَدْعُو لَكَ عُثْمَانَ؟ فَسَكَتَ، قَالَتْ: فَأَمَرْتُ بِهِ فَدُعِيَ فَلَمَّا جَاءَهُ خَلَا بِهِ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَهُ وَوَجْهُ عُثْمَانَ يَتَلَوَّنُ [ص:295] قَالَ سُفْيَانُ: وَحَدَّثُونِي، عَنِ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسٍ عَنْ أَبِي سَهْلَةَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: فَلَمْ أَحْفَظْ مِنْ قَوْلِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ «وَإِنْ سَأَلُوكَ أَنْ تَنْخَلِعَ مِنْ قَمِيصٍ قَمَّصَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَلَا تَفْعَلْ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں، ایک دن نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میری خواہش ہے، میرے پاس میرے ساتھیوں میں سے کوئی فرد ہو، تو میں نے عرض کی: کیا ہم حضرت ابوبکرؓکو آپ ﷺکے پاس بلوالیں؟ نبی اکرمﷺنے فرمایا: جی نہیں! پھر آپ ﷺنے فرمایا: میری خواہش ہے ،میرے اصحاب میں سے کوئی فرد میرے پاس موجود ہو، تو میں نے عرض کی: کیا ہم حضرت عمر ؓ کو بلوالیں؟ آپ ﷺنے فرمایا: جی نہیں! پھر آپ ﷺنے فرمایا: میری یہ خواہش ہے، میرےاصحاب سے تعلق رکھنے والا فرد میرے پاس ہو ؟ تو میں نے عرض کی : کیا ہم آپ ﷺکے چچا زاد حضرت علی ابو طالب ؓ کو بلوا لیں؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جی نہیں! پھر آپ ﷺنے فرمایا: میری خواہش ہے ،میرے اصحاب سے تعلق رکھنے والاکو ئی فرد میرے پاس ہو،تومیں نے عرض کی: کیا ہم حضرت عثمان ؓکو بلوالیں، تو نبی اکرم ﷺخاموش رہے۔سیدہ عائشہؓ کہتی ہیں: میں نے انہیں بلوانے کی ہدایت کی جب وہ تشریف لائے تو نبی اکرم ﷺان کے ساتھ خلوت میں بیٹھ گئے۔ نبی اکرم ﷺنے انہیں کچھ کہنا شروع کیا، تو حضرت عثمانؓ کے چہرے کا رنگ تبدیل ہونے لگا۔ سفیان نامی راوی کہتے ہیں: ایک اور سند کےساتھ یہ بات منقول ہے، سیدہ عائشہ ؓ نے اس روایت میں یہ الفاظ بھی نقل کیے ہیں کہ نبی اکرم ﷺنے ان سے یہ فرمایاتھا۔ "اگر وہ لوگ تم سے یہ مطالبہ کریں کہ تم اس قمیص کواتار دو جو الله تعالیٰ نے تمہیں پہنائی ہے تو تم ایسانہ کرنا۔“

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← أبي سهلة ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 270

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 271

271 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُعَذِّبُ الْعَامَّةَ بِعَمَلِ الْخَاصَّةِ [ص:296] فَإِذَا الْمَعَاصِي ظَهَرَتْ فَلَمْ تُغَيَّرْ أُخِذَتِ الْعَامَّةُ وَالْخَاصَّةُ»

عمر بن عبد العزیز یہ کہتے ہیں : اللہ تعالی ٰ مخصوص لوگوں کے عمل کی وجہ سے تمام افراد کو عذاب نہیں دے گالیکن جب گناہ پھیل جائیں گے اور انہیں ختم نہیں کیا جائے گا، تو پھر عام اور خاص (سب کی) گرفت ہوگی۔

إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 271

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 272

272 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مُطِرْنَا قَالَ: «اللَّهُمَّ سَيِّبًا نَافِعًا» قَالَ سُفْيَانُ هَكَذَا حَفِظْتُهُ سَيِّبًا، وَالَّذِي حَفِظُوا أَجْوَدُ صَيِّبًا

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں، جب بارش نازل ہوتی تھی ،تو نبی اکرم ﷺیہ پڑھا کرتے تھے۔ "اے اللہ یہ جاری رہنے والی اورنفع دینے والی ہو۔“سفیان کہتے ہیں: میں نے اس روایت کا یہی لفظ یاد رکھا ہے سیب (یعنی جاری رہنے والی) جبکہ دیگر راویوں نے جولفظ یاد رکھا ہے وہ زیادہ بہتر ہے یعنی "صیب"(یعنی موسلا دھار)

سُفْيَانُ هَكَذَا حَفِظْتُهُ سَيِّبًا، وَالَّذِي حَفِظُوا أَجْوَدُ صَيِّبًا ← «اللَّهُمَّ سَيْبًا نَافِعًا» ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا مُطِرْنَا ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← مِسْعَرٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 272

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 273

273 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ [ص:297]: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ مِيرَاثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: أَعَنْ مِيرَاثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُ؟ «مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفْرَاءَ وَلَا بَيْضَاءَ، وَلَا شَاةً، وَلَا بَعِيرًا، وَلَا عَبْدًا وَلَا أَمَةً، وَلَا ذَهَبًا، وَلَا فِضَّةً»

زربن حبیش کہتے ہیں:میں نے سیدہ عائشہؓ سے نبی اکرم ﷺکی وراثت کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا:کیا تم نبی اکرم کیﷺوراثت کے بارے میں سوال کر رہے ہو ،نبی اکرم ﷺنے کوئی زرد یا سفید چیز یعنی (سونا یا چاندی)کوئی بکری ،کوئی اونٹ، کوئی غلام یا کوئی کنیز، کوئی سونا یاکوئی چاندی نہیں چھوڑی ہے۔

مِيرَاثِ رَسُولِ اللَّهِ ← [ص:351] سَأَلْتُ عَائِشَةَ ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، ← مِسْعَرٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 273

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 274

274 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: ذُكِرَ لِعَائِشَةَ أَنَّ امْرَأَةً تَلْبَسُ النَّعْلَيْنِ فَقَالَتْ «لَعَنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَةَ النِّسَاءِ»

این ابوملیکہ کہتے ہیں :سیدہ عائشہؓ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا گیا کہ ایک عورت نعلین (مردوں کے مخصوص قسم کے جوتے )پہنتی ہے ،تو سیدہ عائشہؓ نے فرمایا:نبی اکرم ﷺنے مردوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے والی خواتین پرلعنت کی ہے۔

لِعَائِشَةَ أَنَّ امْرَأَةً تَلْبَسُ النَّعْلَيْنِ فَقَالَتْ «لَعَنْ رَسُولُ اللَّهِ رَجُلَةَ النِّسَاءِ» ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 274

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 275

275 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ قَالَا ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَبْغَضَ الرِّجَالِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ الْأَلَدُّ الْخَصِمُ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں ،نبی اکرم ﷺنے یہ بات ارشادفرمائی ہے :"الله تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ شخص وہ ہے ،جو انتہائی جھگڑالو ہو۔“

عَائِشَةَ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سُفْيَانُ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 275

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter