Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 252

252 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا نَفَعَنَا مَالٌ قَطُّ مَا نَفَعَنَا مَالُ أَبِي بَكْرٍ» قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: فَقِيلَ لِسُفْيَانَ فَإِنَّ مَعْمَرًا يَقُولُهُ عَنْ سَعِيدٍ فَقَالَ: مَا سَمِعْنَا مِنَ الزُّهْرِيِّ إِلَّا عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں ،نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے:کسی بھی مال نے ہمیں اتنا نفع نہیں دیا جتنا ابوبکر کے مال نے ہمیں نفع دیا ہے۔امام حمیدی ؒ کہتے ہیں : سفیان سے کہا گیا: معمر نے یہ روایت سعید کے حوالے سے نقل کی ہے ،تو انہوں نے فرمایا:ہم نے تو یہ روایت زہری سے عروہ کے حوالے سے سیدہ عائشہؓ سے منقول روایت کے طور پر ہی سنی ہے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 252

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 253

253 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدِ اسْتَتَرْتُ بِقِرَامٍ [ص:284] فِيهِ تَمَاثِيلُ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَوَّنَ وَجْهُهُ ثُمَّ هَتَكَهُ، وَقَالَ «إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُشَبِّهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ» قَالَ سُفْيَانُ فَلَمَّا جَاءَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا بِأَحْسَنَ مِنْهُ وَأَرْخَصَ، وَقَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ سُتِرْتُ عَلَى سَهْوَةِ لِي بِقِرَامٍ لِي فِيهِ تَمَاثِيلُ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَعَهُ، وَقَالَ: «إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُضَاهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ» قَالَتْ: فَقَطَعْنَا مِنْهُ وِسَادَةً أَوْ وِسَادَتَيْنِ

سیدہ عائشہ صدیقہؓ ییان کرتی ہیں، نبی اکرمﷺمیرے ہاں تشریف لائے میں نے ایک باریک کپڑے کا پردہ بنایا تھا جس میں تصویریں میں بنی ہوئی تھیں جب نبی اکرم ﷺنے اسے ملاحظ فرمایا تو آپ ﷺکے چہرہ مبارک کا رنگ تبدیل ہوگیا پھر آپ ﷺنے اسے سختی سے کھینچا ارشادفرمایا: قیامت کے دن الله تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے شدید عذاب ان لوگوں کو ہوگا، جو الله تعالیٰ کی تخلیق کے ساتھ مشابہت اختیار کرتے ہیں۔سفیان کہتے ہیں: جب عبدالرحمان بن قاسم ہمارے پاس آئے، تو انہوں نے یہ روایت اس سے زیادہ بہتر طور پر ہمیں سنائی جس میں زیادہ رخصت پائی جاتی ہے انہوں نے بتایا:میرے والد نے مجھے یہ بات بتائی ہے ،انہوں نے سیدہ عائشہؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: نبی اکرمﷺتشریف لائے میں نے اپنے اطاق میں پردہ لٹکایا تھا اس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں جب نبی اکرم ﷺنے اسے ملاحظہ فرمایا تو آپﷺنے اسے اتار دیا آپ ﷺنے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے شدید عذاب ان لوگوں کو ہو گا، جو اس کی مخلوق کے حوالے سے مقابلہ کرتے ہیں سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں، میں نے اسے کاٹ کے ایک (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) دو تکیے بنا لیے۔

الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 253

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 254

254 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اشْتَكَى الْإِنْسَانُ الشَّيْءَ مِنْهُ، أَوْ كَانَتْ بِهِ قُرْحَةٌ أَوْ جُرْحٌ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بِإِصْبَعِهِ هَكَذَا» وَوَضَعَ أَبُو بَكْرٍ سَبَّابَتَهُ بِالْأَرْضِ ثُمَّ رَفَعَهَا «بِسْمِ اللَّهِ تُرْبَةُ أَرْضِنَا بِرِيقَةِ بَعْضِنَا يُشْفَى سَقِيمُنَا بِإِذْنِ رَبِّنَا»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں، نبی اکرم ﷺکا یہ معمول تھا کہ جب کسی شخص کو کوئی بیماری لاحق ہوتی یا اسےکوئی پھوڑ انکل آتا یا کوئی زخم لگ جاتاتو نبی اکرم ﷺاپنی انگلی اس طرح رکھتے تھے یہاں پر امام حمیدی ؒ نے اپنی انگلی زمین پر رکھ کر یہ روایت بیان کی، پھر آپ ﷺاسے اٹھاتے تھے اور یہ فرماتے تھے۔"اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ہماری زمین کی مٹی ہم میں سے ایک شخص کے لعاب کے ہمراہ ہے،جس کے نتیجے میں ہمارے پروردگار کے اذن کے تحت بیمارکو شفامل جائے گی ۔"

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 254

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 255

255 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُ كَانَ فِي الْأُمَمِ قَبْلَكُمْ مُحَدَّثُونَ، فَإِنْ يَكُنْ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ فَهُوَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ»

سیدعائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی اکرم ﷺنے یہ بات ارشاد فرمائی ہے:تم سےپہلے کی امتوں میں "محدث "ہوا کرتے تھے اگر اس امت میں بھی ایسا شخص ہوا تو وہ عمر بن خطاب ہوگا۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 255

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 256

256 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ زَيْدٍ التَّيْمِيُّ [ص:286]، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ حَبَشٌ يَلْعَبُونَ بِحِرَابٍ لَهُمْ فَكُنْتُ أَنْظُرُ مِنْ بَيْنَ أُذُنَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَاتِقِهِ حَتَّى كُنْتُ أَنَا الَّتِي صَدَدْتُ، زَادَ يَعْقُوبُ بْنُ زَيْدٍ فِي حَدِيثِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا الشَّيْطَانُ آخِذٌ بِثَوْبِهِ، يَقُولُ: انْظُرْ " فَلَمَّا جَاءَ عُمَرُ تَفَرَّقَتِ الشَّيَاطِينُ قَالَتْ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «الْعَبُوا يَا بَنِي أَرْفَدَةَ تَعْلَمَ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى أَنَّ فِي دِينِنَا فُسْحَةً» قَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَمْ أَحْفَظْ مِنْ قَوْلِهِمْ غَيْرَ هَذِهِ الْكَلِمَةِ أَبُو الْقَاسِمِ طَيِّبٌ أَبُو الْقَاسِمِ طَيِّبٌ

سیدہ عائشہ ؓبیان کرتی ہیں حبشی لوگ اپنے چھوٹے نیزوں کے ذریعے جنگی کرتب دکھا رہے تھے، تو میں نبی اکرم ﷺکے کانوں اور کندھوں کے درمیان میں سے انہیں دیکھ رہی تھی یہاں تک کہ میں ہی پیچھے ہٹ گئی۔ یعقوب بن زید نے اپنی روایت میں یہ الفاظ مزید نقل کیے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺنے مزید ارشادفرمایا:"ان میں سے ہر ایک کے کپڑے کو شیطان پکڑتا ہے اور کہتا ہے تم دیکھولیکن جب عمر آیا، تو شیاطین ادھرادھر بکھر گئے۔" سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں، نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا: اے بنوارفدہ! تم اپنے کرتب جاری رکھوتا کہ یہودیوں اور عیسائیوں کو پتہ چل جائے کہ ہمارے دین میں گنجائش ہے۔ سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں وہ لوگ جو الفاظ نکال رہے تھے اس میں مجھے صرف یہی بات یاد رہ گئی وہ یہ کہہ رہے تھے"حضرت ابوالقاسم پاکیزہ ہیں، حضرت ابوالقاسم پا کیزہ ہیں“۔

عَائِشَةَ ← يَعْقُوبُ بْنُ زَيْدٍ التَّيْمِيُّ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 256

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 257

257 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الْبِطِّيخِ وَالرُّطَبِ فَيَأْكُلُهُ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں، نبی اکرم ﷺککڑی اورکھجور کو ملا کر کھا لیتے تھے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 257

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 258

258 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَأَلَ الْحَارِثُ بْنُ هِشَامٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ؟ فَقَالَ: «يَأْتِينِي أَحْيَانًا فِي مِثْلِ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ فَيَفْصِمُ عَنِّي، وَقَدْ وَعَيْتُ عَنْهُ، وَهُوَ أَشَدُّ مَا يَأْتِينِي، وَيَأْتِينِي أَحْيَانًا فِي مِثْلِ صُورَةِ الْفَتَى فَيَنْبِذُهُ إِلِيَّ فَأَعِيهِ، وَهُوَ أَهْوَنُهُ عَلَيَّ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں، حارث بن ہشام نے نبی اکرم ﷺسے دریافت کیا: آپ ﷺپروحی کیسے نازل ہوتی ہے؟ نبی اکرم ﷺنے فرمایا:بعض اوقات وہ مجھ پر گھنٹی کی آواز کی طرح آتی ہے ،جب یہ کیفیت ختم ہوجاتی ہے، تو میں اس وحی کو یادکرلیتا ہوں اور یہ مجھ پر آنے والی سب سے سخت ترین کیفیت ہوتی ہے، بعض اوقات فرشتہ میرے سامنے ایک نوجوان کی شکل میں آتا ہے اور وہ کلمات مجھے بتادیتا ہے ،تو میں انہیں محفوظ کر لیتا ہوں اور یہ میرے لیے سب سے آسان صورت ہوتی ہے۔

سَأَلَ الْحَارِثُ بْنُ هِشَامٍ رَسُولَ اللهِ كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ؟، ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 258

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 259

259 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَ أَحَبَّ الشَّرَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحُلْوُ الْبَارِدُ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں ،نبی اکرم ﷺکے نزدیک سب سے پسندیدہ مشروب وہ تھا، جو میٹھا اور ٹھنڈا ہو۔

کَانَ أَحَبَّ الشَّرَابِ إِلَی رَسُولِ اللهِ الْحُلْوُ الْبَارِدُ ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 259

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 260

260 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْتَصِرًا مِنْ مَظْلِمَةٍ ظُلِمَهَا قَطُّ مَا لَمْ تُنْتَهَكْ مَحَارِمُ اللَّهِ فَإِذَا انْتُهِكَ مِنْ مَحَارِمِ اللَّهِ شَيْءٌ كَانَ أَشَدَّهُمْ فِي ذَلِكَ غَضَبًا، وَمَا خُيِّرَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ مَأْثَمًا»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں، میں نے کبھی نبی اکرمﷺکونہیں دیکھا کہ آپ ﷺنے اپنے ساتھ ہونے والی کسی زیادتی کے خلاف مدد طلب کی ہو، تا وقتیکہ کہ الله تعالیٰ کی حرمت کو پامال نہ کیا گیا ہو اور جب الله تعالیٰ کی حرمت میں سے کسی چز کو پامال کیا جائے ،تو آپ ﷺاس بارے میں انتہائی شدید غضبناک ہوا کرتے تھے۔ نبی اکرمﷺکو جب بھی دو معاملوں میں اختیار دیا گیا تو آپ ﷺنے ان میں سے زیادہ آسان کو اختیار کیا، بشرطیکہ وہ کوئی گناہ کا کام نہ ہو۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، ← الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 260

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 261

261 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَّا كَذَا وَكَذَا يُخَيَّلَ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَأْتِي أَهْلَهُ وَلَا يَأْتِيهِمْ قَالَتْ: فَقَالَ ذَاتَ يَوْمٍ: " يَا عَائِشَةُ أَعَلِمْتِ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَفْتَانِي فِي أَمْرٍ اسْتَفْتَيْتُهُ فِيهِ، أَتَانِي رَجُلَانِ فَجَلَسَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رِجْلِي، وَالْآخَرُ عِنْدَ رَأْسِي فَقَالَ الَّذِي عِنْدَ رِجْلِي لِلَّذِي عِنْدَ رَأْسِي: مَا بَالُ الرَّجُلِ؟ قَالَ: مَطْبُوبٌ قَالَ: وَمَنْ طَبَّهُ؟ قَالَ لَبِيدُ بْنُ أَعْصَمَ قَالَ: وَفِيمَ؟ قَالَ: فِي جَفِّ طَلْعَةٍ ذَكَرَ فِي مُشْطٍ وَمُشَاقَةٍ تَحْتَ رَعُوفَةٍ [ص:288] فِي بِئْرِ ذَرْوَانَ قَالَتْ: فَجَاءَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ «هَذِهِ الْبِئْرُ الَّتِي أُرِيتُهَا كَأَنَّ رُءُوسَ نَخْلِهَا رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ، وَكَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ» قَالَتْ: فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُخْرِجَ قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَهَلَّا قَالَ سُفْيَانُ يَعْنِي تَنَشَّرْتَ فَقَالَ «أَمَا وَاللَّهِ فَقَدْ شَفَانِي، وَأَمَّا أَنَا فَأَكْرَهُ أَنْ أُثِيرَ عَلَى النَّاسِ مِنْهُ شَرًّا» قَالَتْ وَلَبِيدُ بْنُ أَعْصَمَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ حَلِيفٌ لِيَهُودَ [ص:289] قَالَ سُفْيَانُ وَكَانَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنَاهُ أَوَّلًا قَبْلَ أَنْ نَلْقَى هِشَامًا فَقَالَ: حَدَّثَنِي بَعْضُ آلِ عُرْوَةَ فَلَمَّا قَدِمَ هِشَامٌ حَدَّثَنَاهُ

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں، کچھ دن تک نبی اکرمﷺکی یہ کیفیت رہی کہ آپ ﷺکو یہ محسوسں ہوتا تھا کہ آپ ﷺنے شاید اپنی اہلیہ کے ساتھ صحبت کی ہے، حالانکہ آپ ﷺنے ایسا نہیں کیا ہوتا تھا۔ سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں ،ایک دن نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا: اے عائشہ!کیا تمہیں پتہ ہے، میں نے الله تعالیٰ سے جس چیز کے بارے میں دریافت کیا تھا:اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کے بارے میں جواب دے دیا ہے میرے پاس دوآ دمی آئے ان میں سے ایک میرے پاؤں کے پاس بیٹھ گیا اور دوسرا میرے سرہانے بیٹھ گیا توجوشخص میرے پاؤں کے پاس بیٹھا ہوا تھا اس نے میرے سرہانے موجودشخص سے دریافت کیا: ان صاحب کا کیا معاملہ ہے؟ اس نے جواب دیا: ان پر جادو کیا گیا ہے پہلے نے دریافت کیا ان پر کس نے جادو کیا ہے؟ دوسرے نے جواب دیا :لبید بن اعصم نے۔ پہلے نے دریافت کیا:کس چیز میں کیا ہے؟ دوسرے نے جواب دیا: نرکھجور کے شگوفے میں ایک کنگھی میں اورکنگھی کے دوران نکلنے والے بالوں میں جوذ روان کے کنویں کے کنارے پڑے ہوئے پتھر کے نیچے رکھے ہوئے ہیں۔ سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں نبی اکرمﷺ وہاں تشریف لے گئے آپ ﷺنے ارشادفرمایا : یہی وہ کنواں ہے ،جو مجھے خواب میں دکھایا گیا تھا، تو وہاں کھجور کے درخت کے سریوں تھے جیسے شیاطین کے سر ہوتے ہیں اور اس کا پانی یوں تھاجیسےاس میں مہندی گھول دی گئی ہو۔ سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں، نبی اکرمﷺکے حکم کے تحت انہیں وہاں سے نکالا گیا۔ سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں، میں نے عرض کی:یارسول الله(ﷺ)! آپ ﷺنے ایسا کیوں نہیں کیا سفیان نامی راوی کہتے ہیں: اس سے مراد یہ ہے، آپ ﷺ نے اس با ت کو پھیلایا کیوں نہیں (ابن حجر نے یہ بات بیان کی ہے اس سے مراد یہ ہے ،آپ ﷺ نے وہ علاج کیوں نہیں کروایا جو جادو کے بعد کروایا جاتا ہے) تو نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا:جہاں تک اس بات کا تعلق ہے، تو الله تعالیٰ نے مجھے شفا عطا کردی ہے اور میں نے اس بات کو پسند نہیں کیا کہ میں اس حوالے سے لوگوں پر شر پھیلاوں۔سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں لبید بن اعصم ،بنوزریق سےتعلق رکھنے والا ایک شخص تھا جو یہودیوں کا حلیف تھا۔ سفیان کہتے ہیں :عبدالملک بن جریج نے پہلے یہ روایت سنائی تھی یہ بات ہماری ہشام سے ملاقات سے پہلے کی ہے انہوں نے یہ کہا تھا کہ آل عروہ سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے مجھے یہ روایت سنائی ہے، لیکن جب ہشام تشریف لے آئے، توانہوں نے ہمیں یہ روایت سنائی۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 261

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 262

262 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُنْتُ الْعَبُ بِهَذِهِ الْبَنَاتِ، وَكُنَّ جَوَارِيَ يَأْتِيَنِّي يَلْعَبْنَ مَعِي بِهَا، فَلَمَّا رَأَيْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقَمَّعْنَ «فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَرِّبُهُنَّ إِلِيَّ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں، میں ان گڑیاؤں کے ساتھ کھیلا کرتی تھی میری سہیلیاں میرے پاس آیا کرتی تھیں اور وہ بھی میرے ساتھ ان کے ساتھ کھیلا کرتی تھیں جب وہ نبی اکرم ﷺکو دیکھتی تھیں تو جا کر چھپ جاتی تھیں، تو نبی اکرم ﷺانہیں میری طرف بھجوا دیا کرتے تھے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 262

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 263

263 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: سَابَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَبَقْتُهُ، فَلَمَّا حَمَلْتُ مِنَ اللَّحْمِ سَابَقَنِي فَسَبَقَنِي فَقَالَ: «يَا عَائِشَةُ هَذِهِ بِتِلْكَ»

سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں، ایک مرتبہ میں نے نبی اکرمﷺکے ساتھ دوڑ کا مقابلہ کیا، تو میں آگے نکل گئی پھرجب میرا وزن زیادہ ہو گیا تو نبی اکرم ﷺنے میرے ساتھ مقابلہ کیا، تو آپ ﷺمجھ سے آگے نکل گئے آپﷺنے فرمایا: اے عائشہ ! یہ اس کا بدلہ ہے۔

«يَا عَائِشَةُ هَذِهِ بِتِلْكَ» ← سَابَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ فَسَبَقْتُهُ، فَلَمَّا حَمَلْتُ مِنَ اللَّحْمِ سَابَقَنِي فَسَبَقَنِي ← عَائِشَةَ أَنَّهَا ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 263

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter