Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 219

219 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَ مَرَّةً غَنَمًا» [ص:265] قَالَ الْحُمَيْدِيُّ زَادَنِي أَبُو مُعَاوِيَةَ فِيهِ «فَقَلَّدَهَا»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں، نبی اکرمﷺنے ایک مرتبہ ہدی میں بکریاں بھجوائی تھیں۔امام حمیدی ؒکہتے ہیں: ابومعاو یہ نامی راوی نے اس روایت میں یہ الفاظ اضاف نقل کیے ہیں۔"نبی اکرمﷺنے انہیں ہار پہنائے تھے۔“

عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 219

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 220

220 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الضَّبِّيُّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْغَنَمِ ثُمَّ لَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُهُ الْمُحْرِمُ»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں، میں نبی اکرمﷺکی قربانی کی بکریوں کے لیے ہار بنایا کرتی تھی پھرآپ ﷺکسی ایسی چیز سے اجتناب نہیں کرتے تھے ،جس سے احرام والالشخص اجتناب کرتا ہے۔

عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الضَّبِّيُّ ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 220

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 221

221 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ عُرْوَةَ قَالَ: قَرَأْتُ عِنْدَ عَائِشَةَ {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا} [البقرة: 158] فَقُلْتُ: مَا أُبَالِي أَلَّا أَطَّوَّفَ بِهِمَا، قَالَتْ: بِئْسَمَا قُلْتَ يَا ابْنَ أُخْتِي إِنَّمَا كَانَ مَنْ أَهَلَّ لِمَنَاةَ الطَّاغِيَةِ الَّتِي بِالْمُشَلَّلِ لَا يَطُوفُونَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا} [البقرة: 158] «فَطَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَافَ الْمُسْلِمُونَ» قَالَ سُفْيَانُ وَقَالَ مُجَاهِدٌ: وَكَانَتْ سُنَّةً، قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَحَدَّثْتُ بِهِ أَبَا بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ: إِنَّ هَذَا الْعِلْمُ، وَلَقَدْ سَمِعْتُ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يَقُولُونَ: إِنَّمَا كَانَ مَنْ لَا يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ مِنَ الْعَرَبِ يَقُولُونَ: إِنَّ طَوَافَنَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْحَجَرِينِ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ [ص:266]، وَقَالَ آخَرُونَ مِنَ الْأَنْصَارِ إِنَّمَا أُمِرْنَا بِالطَّوَافِ بِالْبَيْتِ وَلَمْ نُؤْمَرْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ " فَأَنْزَلَ اللَّهُ {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ} [البقرة: 158] " قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: فَلَعَلَّهَا نَزَلَتْ فِي هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ

عروہ بیا ن کرتے ہیں : میں نے سیدہ عائشہؓ کے سامنے یہ آیت تلاوت کی۔ "بے شک صفاومروہ الله تعالی کی نشانیاں ہیں، تو جوشخص بیت اللہ کاحج کرے یاعمرہ کرے تو اس پرکوئی گناہ نہیں ہوگا اگرتو اس پر کوئی گناہ نہیں ہو گا اگر وہ ان دونوں کا طواف کر لیتا ہے۔“تو میں نے کہا: میں اس بات کی پروا نہیں کرتا کہ اگر میں ان دونوں کا طواف نہیں کرتا۔ سیدہ عائشہؓ نے فرمایا: اے میرےبھانجےتم نے بہت غلط بات کہی ہے:۔جوشخص "مثلل" میں موجود "منات طاغیہ"سے احرام باندھتا تھاوہ صفا مروہ سعی نہیں کیا کرتا تھا ۔(یہ زمانہ جاہلیت کی بات ہے)تو اللہ تعالی ٰنے یہ آیت نازل کی : "بے شک صفا مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں ، تو جو شخص بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہو گا اگر وہ ان دونوں کا طواف کرلیتا ہے۔"تو نبی اکرم ﷺنے (ان دونوں کا)طواف کیا ہے اور مسلمانوں نے بھی ان کا طواف کیا ہے۔سفیان کہتے ہیں:مجاہد نے یہ بات بیان کی ہے:سنت ہے۔زہری کہتے ہیں : میں نے یہ روایت ابوبکر بن عبدالرحمان کو سنائی تو وہ بولے : یہ علم ہے میں نے کئی اہل علم کویہ کہتے ہوئے سنا ہے، جوعرب صفاومروہ کا طواف نہیں کیا کرتے تھے وہ اس بات کے قائل تھے کہ ہماراان دو پتھروں (یعنی پہاڑوں) کا طواف کرنازمانہ جاہلیت کا کام ہے۔جبکہ کچھ انصار کا یہ کہنا تھا کہ ہمیں بیت الله کا طواف کرنے کاحکم دیا گیا ہے ہمیں صفاومروہ کا چکر لگانے کاحکم نہیں دیا گیا تو اللہ تعالی ٰ نے یہ آیت نازل کی :"بشک صفاومروہ اللہ تعالی ٰ کی نشانیاں ہیں۔"ابو بکر بن عبدالرحمان نے فرمایا: شاید یہ آیت ان لوگوں اور ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔

عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 221

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 222

222 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ يَقُولُ: حَضَرْتُ جَنَازَةَ أُمِّ أَبَانَ بِنْتِ عُثْمَانَ فِي الْجَنَازَةِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ فَجَلَسْتُ بَيْنَهُمَا فَبَكَى النِّسَاءُ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: إِنَّ بُكَاءَ الْحَيِّ لِلْمَيِّتِ عَذَابٌ لِلْمَيِّتِ، قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ: صَدَرْنَا مَعَ عُمَرَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ إِذَا هُوَ بِرَكْبٍ نُزُولٍ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَقَالَ: اذْهَبْ يَا عَبْدَ اللَّهِ فَانْظُرْ مَنِ الرَّكْبُ فَالْحَقْنِي قَالَ: فَذَهَبْتُ ثُمَّ جِئْتُ، فَقُلْتُ: هَذَا صُهَيْبٌ مَوْلَى ابْنِ جُدْعَانَ فَقَالَ مُرْهُ فَلْيَلْحَقْنِي، فَلَمَّا قَدِمَا الْمَدِينَةَ لَمْ يَلْبَثُ عُمَرُ أَنْ طُعِنَ فَجَاءَ صُهَيْبٌ وَهُوَ يَقُولُ وَا أُخَيَّاهُ وَا صَاحِبَاهُ فَقَالَ عُمَرُ مَهٍ يَا صُهَيْبُ إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ عَلَيْهِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ فَسَأَلْتُهَا فَقَالَتْ: يَرْحَمُ اللَّهُ عُمَرَ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ لَيَزِيدُ الْكَافِرَ عَذَابًا بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ، وَقَدْ قَضَى اللَّهُ {وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى} [الأنعام: 164] "

ابن ابوملیکہ کہتے ہیں: میں حضرت عثمان غنیؓ کی صاحبزادی ام ابان کے جنازے میں شریک ہوا جنازے میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓاور حضرت عبداللہ بن عباس ؓبھی تھے میں ان دونوں حضرات کے درمیان میں بیٹھ گیا۔ خواتین نے رونا شروع کیا ،تو حضرت عبداللہ بن عمؓ بولے: زنده شخص کے میت پر رونے کی وجہ سے میت کو عذاب ہوتا ہے۔ راوی کہتے ہیں:حضرت عبداللہ بن عباس ؓنے بتایا: (ایک مرتبہ )ہم لوگ امیر المومنین حضرت عمرؓکے ساتھ (مکہ سے ) واپس آرہے تھے ۔ جب ہم "بیداء"کے مقام پر پہنچے ، تو وہاں کچھ سوار ایک درخت کےپڑاو کیے ہوے تھےحضرت عمرؓفرمایا:اے عبداللہ اتم جاؤ اور جا کر دیکھو کہ یہ سوار کون ہیں؟ پھر میرے پاس آؤ حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: میں گیا میں نے واپس آکر بتایا کہ وہ حضرت صہیب ؓ ہیں ،تو حضرت عمر ؓنے فرمایا: تم ان سے کہو کہ وہ ہمارے ساتھ آملیں ، جب یہ لوگ مدینہ منورہ پہنچے ، تو کچھ ہی عرصے بعد حضرت عمرؓ کو زخمی کر دیا گیا حضرت صہیبؓ آئے وہ یہ کہہ رہے تھے: ہائے میرا بھائی !ہانے میرا ساتھی، تو حضرت عمر ؓبولے :رک جاؤ اے صہیب !میت کوزندہ شخص کے اس پر رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے بتایا:میں سیدہ عائشہ ؓکی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا، تو وہ بولیں:الله تعالی حضرت عمرؓ پررحم کرے نبی اکرم ﷺنے یہ بات ارشادفرمائی ہے :”بے شک الله تعالی کافر کے گھر والوں کے اس پر رونے کی وجہ سے اس کے عذاب میں اضافہ کر دیتا ہے۔"(یعنی عذاب کے ساتھ اسے اپنے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے بھی تکلیف ہوتی ہے)جبکہ الله تعالی نے یہ فیصلہ دے دیا ہے۔"کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔"

عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 222

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 223

223 - ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرَةَ [ص:268] أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ تَقُولُ: إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَهُودِيَّةٍ وَهُمْ يَبْكُونَ عَلَيْهَا «إِنَّ أَهْلَهَا الْآنَ لَيَبْكُونَ عَلَيْهَا وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں، نبی اکرمﷺنے ایک یہودی عورت کے بارے میں فرمایا تھا حالانکہ اس کے گھر والے اس پر رورہے تھے (آپ ﷺنے فرمایا تھا:) "اس وقت اس کے گھر والے اس پررور ہے ہیں اور اسے اس کی قبر میں عذاب دیا جارہا ہے۔"

عَائِشَةَ تَقُولُ: إِنَّمَا ← عَمْرَةَ [ص:268] أَنَّهَا ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، ← سُفْيَانَ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 223

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 224

224 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ - رَضِيعٌ لِعَائِشَةَ - عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ مَيِّتٍ يَمُوتُ فَيُصَلِّي عَلَيْهِ أُمَّةٌ مِنَ النَّاسِ يَبْلُغُوا أَنْ يَكُونُوا مِائَةً فَيَشْفَعُوا لَهُ إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں، نبی اکرم ﷺنے یہ بات ارشاد فرمائی ہے:"جس بھی شخص کا انتقال ہوجائے اور اس پرلوگوں کا اتنا گروہ نماز جنازہ ادا کر لے جو ایک سو تک پہنچتے ہو'تو وہ اگراس میت کے لئے سفارش کری'تو ان کی سفارش قبول کی جاتی ہے۔"

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيعٌ لِعَائِشَةَ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 224

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 225

225 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ حُمَّ أَصْحَابُهُ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ يَعُودُهُ فَقَالَ: «كَيْفَ تَجِدُكَ يَا أَبَا بَكْرٍ؟» فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: [البحر الرجز] كُلُّ امْرِئٍ مُصَبِّحٌ فِي أَهْلِهِ ... وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَدَخَلَ عَلَى عَامِرِ بْنِ فُهَيْرَةَ فَقَالَ «كَيْفَ تَجِدُكَ» فَقَالَ: [البحر الرجز] وَجَدْتُ طَعْمَ الْمَوْتِ قَبْلَ ذَوْقِهِ ... إِنَّ الْجَبَانَ حَتْفُهُ مِنْ فَوْقِهِ [ص:269] كَالثَّوْرِ يَحْمِي جِلْدَهُ بِرَوْقِهِ قَالَتْ: وَدَخَلَ عَلَى بِلَالٍ فَقَالَ «كَيْفَ تَجِدُكَ؟» فَقَالَ: [البحر الطويل] أَلَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِفَخٍّ - وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ - بِوَادِي ... وَحَوْلِي إِذْخَرٌ وَجَلِيلُ وَهَلْ أَرِدْنَ يَوْمًا مِيَاهَ مِجَنَّةٍ ... وَهَلْ يَبْدُوَنَّ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَبْدَكَ وَخَلِيلَكَ دَعَاكَ لِأَهْلِ مَكَّةَ وَأَنَا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ أَدْعُوكَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةَ مِثْلَ مَا دَعَاكَ لِأَهْلِ مَكَّةَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا» قَالَ سُفْيَانُ وَأَرَى فِيهِ «وَفِي فَرَقِنَا، اللَّهُمَّ حَبِّبْهَا إِلَيْنَا مِثْلَ مَا حَبَّبْتَ إِلَيْنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ، وَصَحِّحْهَا، وَانْقُلْ وَبَاءَهَا وَحُمَّاهَا إِلَى خُمٍّ أَوْ إِلَى الْجُحْفَةِ»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں، جب نبی اکرم ﷺمدینہ منورہ(ہجرت کر کے) تشریف لائے، تو آپﷺکے ساتھیوں کو بخارر ہنے لگا تو نبی اکرمﷺحضرت ابو بکؓر کی عیادت کرنے کے لیے ان کے باس تشریف لائے آپ ﷺ نے فرمایا :ابو بکر تمہارا کیا حال ہے؟تو حضرت ابوبکرؓنے عرض کی ۔"ہر شخص اپنے گھر میں صبح کرتا ہے ، حالانکہ موت اس کے جوتے کے تسمے سے زیادہ اس کے قریب ہوتی ہے۔"پھر نبی اکرم ﷺحضرت عامر بن فہیرہ ؓ (کی عیادت کرنے کے لیے ان کے پاس )تشریف لے گئے آپﷺنےدریافت کیا:تمہارکیا حال ہے؟ تو انہوں نے عرض کی ۔"میں نے موت کو چکھنے سے پہلے ہی اس کا ذائقہ چکھ لیا ہے بے شک بزدل کی موت اس پر سے ایسے نکلتی ہے جیسے بیل اپنی کھال کو اپنے گوبر سے بچاتا ہے۔"سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں نبی اکرمﷺحضرت بلالؓ کے پاس تشریف لے گئے آپﷺنے فرمایا: تمہارا کیاحال ہے؟ تو انہوں نے عرض کی۔"کیا بھی ایسا وقت بھی آئے گا، جب میں فح ( مکہ مکرمہ کی ایک وادی)میں رات بسر کروں گا۔ (یہاں سفیان نامی راوی نے بعض اوقات لفظ وادی نقل کیا ہے)اور میرے اردگرد" اذخر"اور "جلیل"( مکہ کرمہ کی گھاس کے مخصوص نام ) ہوں گی اور کیا کسی دن مجنہ کاپانی نظر آئے گا اور کیا کسی دن میرے سامنے شامہ اوطفیل (نامی پہاڑ ) ظاہر ہوں گے۔"راوی بیان کرتے ہیں نبی اکرمﷺنے دعا کی۔"اے اللہ! بے شک حضرت ابراہیم ؑ تیرے بندے اورخلیل تھے۔ انہوں نے اہل مکہ کے لیے تجھ سے دعا کی تھی میں تیر ا بندہ اور تیرا رسول ﷺ ہوں میں اہل مدینہ کے لیے تجھ سے دعا کرتا ہوں ، اسی کی مانند جو انہوں نے اہل مکہ کے لیے تجھ سے دعا کی تھی ۔ اے اللہ ہمارے "صاع "میں برکت دے ہمارے "مد"میں برکت دیدے ہمارے مدینے میں برکت دیدے ۔"سفیان نامی راوی کہتے ہیں : میرے خیال میں روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں ۔ "ہمارےبرتنوں میں برکت دیدے اے اللہ!اس ہمارے نزدیک اسی طرح محبوب کرد ے جس طرح تو نے مکہ کوہمارے نزدیک محبوب کیا تھا، یا اس سے بھی زیادہ کردےاور یہاں کی آب و ہوا کو صحت افزاءکردے اور یہاں کی وباء اور بخار کو خم (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں )جحفہ کی طرف منتقل کر د ے۔"

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 225

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 226

226 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهُمْ لَيَعْلَمُونَ الْآنَ أَنَّ الَّذِي كُنْتُ أَقُولُ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا حَقٌّ، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ لِنَبِيِّهِ {إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى} [النمل: 80] "

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں، نبی اکرم ﷺ نےیہ بات ارشادفرمایا: ان لوگوں کو اب یہ بات پتہ چل گئی ہے ،میں دنیا میں ان سے جو کہا کرتا تھاوہ سچ تھا۔تواللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا۔ ”بے شک تم مردوں کونہیں سنا سکتے ہو۔“

"إِنَّمَا ← عَائِشَةَ أَنَّهَا ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 226

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 227

227 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَمَنْ كَرِهِ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهِ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَلِقَاؤُهُ اللَّهَ بَعْدَ الْمَوْتِ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺنے یہ بات ارشاد فرمائی ہے جو شخص الله تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو پسند کرتا ہے ، الله تعالیٰ بھی اس کی حاضری کو پسند کرتا ہے اور جوشخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو ناپسند کرتا ہے الله تعالیٰ بھی اس کی حاضری کو ناپسند کرتا ہے اور اللہ تعالی کی بارگاہ میں حاضری مرنے کے بعد ہوتی ہے۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 227

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 228

228 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهُ سَمِعَهَا تَقُولُ: جَاءَتِ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ عِنْدَ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ فَطَلَّقَنِي فَبَتَّ طَلَاقِي، فَتَزَوَّجْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَإِنَّمَا مَعَهُ مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ، فَبَسِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ «أَتُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ؟ لَا حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ» قَالَتْ: وَأَبُو بَكْرٍ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَالِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بِالْبَابِ يَنْتَظِرُ أَنْ يُؤْذَنَ لَهُ، فَنَادَى فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ أَلَا تَسْمَعُ إِلَى مَا تَجْهَرُ بِهِ هَذِهِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلِ لِسُفْيَانَ فَإِنَّ مَالِكًا لَا يَرْوِيهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ إِنَّمَا يَرْوِيهِ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ رِفَاعَةَ [ص:272] فَقَالَ سُفْيَانُ: لَكِنَّا قَدْ سَمِعْنَاهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ كَمَا قَصَصِنَاهُ عَلَيْكُمْ

سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ،رفاعہ قرظی کی اہلیہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی: یارسول اللہ (ﷺ)!میں رفاعہ قرظی کی بیوی تھی اس نے مجھے طلاق دی اور طلاق بتہ دے دی میں نے عبدالرحمان بن زبیر کے ساتھ شادی کر لی لیکن اس کا ساتھ چادر کے پلو کی طرح ہے ،تو نبی اکرم ﷺمسکرا دیئے اور فرمایا: کیاتم رفاعہ کے پاس واپس جانا چاہتی ہو؟ نہیں(ایسا اس وقت تک نہیں ہوسکتا)جب تک تم اس کاشہد نہیں چکھ لیتی اور وہ تمہارا شہد نہیں چکھ لیتا ہے۔ سیدہ عائشہ ؓبیان کرتی ہیں، اس وقت حضرت ابوبکرؓ نبی اکرم ﷺکے پاس موجود تھے اور حضرت خالد بن سعیدؓ دروازے پرانتظارکررہے تھے کہ انہیں اندرآنے کی اجازت دی جائے انہوں نے بلند آواز میں کہا: اے ابوبکر ؓ کیا آپ سن نہیں رہے ہیں، یہ عورت نبی اکرم ﷺکی موجودگی میں بلند آواز میں کیسی باتیں کر رہی ہے؟سفیان نامی راوی سے یہ کہا گیا:امام مالک نے اس روایت کو زہری سے نقل نہیں کیا ہے انہوں نے اسے مسور بن رفاعہ سےنقل کیا ہے، تو سفيان بولے :لیکن ہم نے یہ روایت زہری سے سنی ہے، جس طرح ہم نے تمہارے سامنے بیان کی ہے۔

عَائِشَةَ أَنَّهُ سَمِعَهَا تَقُولُ: جَاءَتِ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَتْ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 228

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 229

229 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ» فَقِيلَ لِسُفْيَانَ: فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، فَقَالَ سُفْيَانُ لَمْ يَقُلْ لَنَا هَذَا الزُّهْرِيُّ فِي حَدِيثِهِ، إِنَّمَا قَالَهُ لَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى فِي حَدِيثِهِ

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں ،نبی اکرم ﷺنے یہ بات ارشادفرمائی ہے:"الله تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی کسی بھی عورت کے لیے یہ بات جائزنہیں ہے وہ کسی میت پر تین دن سےزیادہ سوگ کرے البتہ شوہرکاحکم مختلف ہے۔“سفیان سے دریافت کیا گیا:وہ عورت شوہر پر چار ماہ دس دن تک سوگ کرے گی؟سفیان نے کہا: زہری نے اپنی روایت میں یہ الفاظ ہمارے سامنے بیان نہیں کیے یہ الفاظ ایوب بن موسیٰ نے اپنی روایت میں ہمارے سامنے بیان کیے ہیں۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ؛ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 229

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 230

230 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمُزَنِيُّ قَالَا: ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَإِنْ أَصَابَهَا فَلَهَا الْمَهْرُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا، فَإِنِ اشْتَجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں، نبی اکرمﷺنے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: "جوبھی عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرتی ہے،تو اس کا نکاح باطل ہو گا اس کا نکاح باطل ہوگا اس کا نکاح باطل ہوگا اگر مرد اس عورت کے ساتھ صحبت کر لیتا ہے ،تو عورت کو مہر ملے گا کیونکہ مرد نے اس کی شرمگاہ کو استعمال کیاہے اور اگر ان لوگوں کے درمیان اختلاف ہو جاتا ہے، تو جس کا کوئی ولی نہ ہوحاکم وقت اس کا ولی ہوتا ہے۔"

عَائِشَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سُفْيَانُ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمُزَنِيُّ ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 230

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter