Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 195

195 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ بِخَمْسٍ لَا يَجْلِسُ إِلَّا فِي آخِرِهِنَّ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ5 رکعات وتر ادا کرتے تھے آپ ﷺان کے آخر میں بیٹھتے تھے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 195

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 196

196 - قَالَ سُفْيَانُ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَعْتَكِفَ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ» فَسَمِعْتُ بِذَلِكَ فَاسْتَأَذَنْتُهُ «فَأَذِنَ لِي» ثُمَّ اسْتَأْذَنَتْهُ حَفْصَةُ «فَأَذِنَ لَهَا» ثُمَّ اسْتَأْذَنَتْهُ زَيْنَبُ «فَأَذِنَ لَهَا» قَالَتْ: فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِذَا أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ صَلَّى الصُّبْحَ ثُمَّ دَخَلَ فِي مُعْتَكَفِهِ» فَلَمَّا صَلَّى الصُّبْحَ رَأَى فِي الْمَسْجِدِ أَرْبَعَةَ أَبْنِيَةٍ فَقَالَ: «مَا هَذَا؟» قَالُوا: لِعَائِشَةَ [ص:255]، وَحَفْصَةَ، وَزَيْنَبَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «آلْبِرَّ يُرِدْنَ بِهَذَا؟» فَلَمْ يَعْتَكِفْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ الْعَشَرَةَ «فَاعْتَكَفَ عَشْرًا مِنْ شَوَّالٍ» قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: آلْبِرُّ تَقُولُونَ بِهِنَّ؟

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺنے رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کا ارادہ کیا میں نے اس بارے میں سنا، تو میں نے آپ ﷺسے اجازت مانگی،( کہ میں بھی آپ ﷺکے ساتھ اعتکاف کروں )تو نبی اکرمﷺنے مجھے اجازت عطا کر دی پھر سیدہ حفصہ ؓ نے اجازت مانگی ،تو آپ نے انہیں بھی اجازت عطا کر دی پھر سیدہ زینب ؓ نے آپ سے اجازت طلب کی، تو آپﷺنے انہیں بھی اجازت عطا کر دی ۔ سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺجب اعتکاف کا ارادہ کرتے تھے، تو آپﷺصبح کی نماز ادا کرنے کے بعداپنے اعتکاف کے مقام پر تشریف لے جاتے تھے (اس موقع پر) جب آپﷺنے صبح کی نماز ادا کی، تو آپ ﷺنے مسجد میں چار خیمے لگے ہوئے دیکھے آپ ﷺنے دریافت کیا: یہ کس کے ہیں؟ لوگوں نے عرض کی : سیدہ عائشہؓ، سیدہ حفصہؓ اور سیدہ زینب ؓ کے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا ان خواتین نے ان کے ذریعے نیکی کا ارادہ کیا ہے ؟(راوی بیان کرتے ہیں :)اس عشرے میں بنی اکرم ﷺ نے اعتکاف نہیں کیا آپ ﷺ نے شوال کےعشرے میں اعتکاف کیا۔امام حمیدی ؒبیان کرتے ہیں:بعض اوقات سفیان نے روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں۔ "کیا تم ان خواتین کے بارے میں نیکی کی رائے رکھتے ہو۔“

أراد رسول الله ← عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 196

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 197

197 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مَنْصُورٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: خَرَجْنَا حُجَّاجًا فَتَذَاكَرَ الْقَوْمُ الصَّائِمَ يُقَبِّلُ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: نَعَمْ، وَقَالَ آخَرُ: قَدْ صَامَ سَنَتَيْنِ، وَقَامَ لَيْلَهُمَا لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آخُذَ قَوْسِي هَذِهِ فَأَضْرِبُكَ بِهَا، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ فَقَالُوا: يَا أَبَا شِبْلٍ سَلْهَا، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ أَرْفُثُ عِنْدَهَا سَائِرَ الْيَوْمِ، فَسَمِعَتْ مَقَالَتَهُمْ فَقَالَتْ: مَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ؟ إِنَّمَا أَنَا أُمُّكُمْ، فَقَالُوا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ الصَّائِمُ يُقَبِّلُ؟ فَقَالَتْ عَائِشَةُ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلٌ وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ وَكَانَ أَمْلَكَكُمْ لِأَرَبِهِ»

علقمہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ حج کرنے کے لیے روانہ ہوئے کچھ لوگوں نے یہ مسلہ چھیڑدیا: آیا روزه دارشخص (اپنی بیوی کا بوسہ لے سکتا ہے؟ حاضرین میں سے ایک صاحب بولے:جی ہاں! ایک دوسرے صاحب بولے : جو دو سال تک مسلسل نفلی روزے رکھتے رہے تھے ،میں نے ارداہ کیا میں نے اپنی یہ کمان پکڑوں اور اس کے ذریعے تمہیں ماروں (راوی کہتے ہیں ) جب ہم مدینہ منورہ آئے تو سید عائشہ ؓکی خدمت میں حاضر ہوئے ان لوگو ں نے کہا :اے ابو شبل !تم سیدہ عائشہؓ سے دریافت کرو ، تو میں نے کہا : اللہ کی قسم ! میں کبھی بھی سیدہ عائشہ ؓ کے سامنے کوئی برائی کی بات نہیں کروں گا ۔ سیدہ عائشہ ؓ نے لوگو ں کی گفتگو سن لی انہوں نے دریافت کیا:تم لوگ کس موضوع پر بات کر رہے ہو ؟ میں تمہاری ماں ہوں لوگو ں نے عرض کی :اے ام المومنین ! روزه دارشخص (اپنی بیوی کا)بوسہ لے سکتا ہے، تو سیدہ عائشہؓ نے فرمایا: نبی اکرمﷺ(اپنی زوجہ محترمہ) کا بوسہ لے لیا کرتے تھے ان کے ساتھ مباشرت کر لیتے تھے حالانکہ آپﷺنے روزہ رکھا ہوا ہوتا تھا اور نبی اکرم ﷺکو اپنی خواہش پرسب سے زیادہ قا بو حاصل تھا۔

رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: نَعَمْ، ← خَرَجْنَا حُجَّاجًا فَتَذَاكَرَ الْقَوْمُ الصَّائِمَ يُقَبِّلُ، ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 197

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 198

198 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ أَسَمِعْتَ أَبَاكَ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ؟» فَسَكَتَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ: نَعَمْ

سفیان کہتے ہیں: میں نے عبدالرحمان بن قاسم سے دریافت کیا : کیا آپ نے اپنے والد کو یہ روایت بیان کرتے ہوئےسنا ہے سیدہ عائشہؓ کا نبی اکرمﷺروزے کی حالت میں بوسہ لے لیا کرتے تھے تو وہ ایک گھڑی کے لیے خاموش رہے ،پھر انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔

عَائِشَةَ ← قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ أَسَمِعْتَ أَبَاکَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 198

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 199

199 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَانَ يُقَبِّلُ بَعْضَ نِسَائِهِ وَهُوَ صَائِمٌ» ثُمَّ تَضْحَكُ

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں ،نبی اکرمﷺروزے کی حالت میں اپنی ایک زوجہ محترمہ کا بوسہ لے لیا کر تے تھے ۔راوی کہتے ہیں : پھر سیدہ عائشہ ؓ مسکرادیں۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 199

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 200

200 - قَالَ حَدَّثَنَا سُمَيٌّ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يُدْرِكُهُ الصُّبْحُ وَهُوَ جُنُبٌ ثُمَّ يَغْتَسِلُ وَيَصُومُ يَوْمَهُ ذَلِكَ»

سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں نبی اکرمﷺ(بعض اوقات) صبح صادق کے وقت جنابت کی حالت میں ہوتے تھے پھر آپ ﷺغسل کرتے تھے اور اس دن کا روزہ رکھ لیتے تھے۔

أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← سُمَيٍّ مَوْلَی أَبِي بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 200

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 201

201 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيَّ كَانَ يَسْرِدُ الصَّوْمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَسْرِدُ الصَّوْمَ أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ؟ قَالَ «إِنْ شِئْتَ فَصُمْ، وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں، حمزہ بن عمرو اسلمی جو مسلسل نفلی روزے رکھا کرتے تھے۔ انہوں نے عرض کی:یارسول الله (ﷺ) میں مسلسل روزے رکھتا ہوں، تو کیا میں سفر کے دوران بھی روزہ رکھوں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگرتم چاہوتو روزہ رکھ لواگر چاہو تو روزہ نہ رکھو۔

عَائِشَةَ أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيَّ كَانَ يَسْرِدُ الصَّوْمَ، فَقَالَ: ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 201

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 202

202 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، وَهِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ كِلَاهُمَا عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ يَوْمًا يُصَامُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ شَهْرُ رَمَضَانَ، فَلَمَّا نَزَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ، وَمَنْ شَاءَ لَمْ يَصُمْهُ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں، عاشورہ کا دن ایسا دن تھا جس میں زمانہ جاہلیت میں روزہ رکھا جاتا تھا ،یہ رمضان کا حکم نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے ،جب رمضان کا حکم نازل ہو گیا تو اب جوشخص چاہے اس دن میں روزہ رکھ لے اورجو شخص چاہے اس دن میں روزہ رکھ لے اور جو شخص چاہے اس دن میں روزہ نہ رکھے ۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيُّ، وَهِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ كِلَاهُمَا ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 202

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 203

203 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: حَاضَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ بَعْدَ مَا أَفَاضَتْ فَذَكَرْتُ حَيْضَتَهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ «أَحَابِسَتُنَا هِيَ» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا حَاضَتْ بَعْدَ مَا أَفَاضَتْ، قَالَ: «فَلْتَنْفُرْ»

سیده عا ئشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں، سیدہ صفیہ بنت حییؓ کوطواف افاضہ کرنے کے بعدحیض آگیا انہوں نے اپنے حیض کا تذکرہ نبی اکرمﷺسے کیا تو نبی اکرمﷺنے فرمایا: کیا اس کی وجہ سے ہمیں رکنا پڑے گا؟ میں نے عرض کی: یارسول اللہ (ﷺ)!انہیں طواف افاضہ کرنے کے بعد حیض آیا ہے۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: پھردہ روانہ ہوجائے۔

أحابستنا هي فقلت ← حَاضَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ بَعْدَ مَا أَفَاضَتْ فَذَكَرْتُ حَيْضَتَهَا لِرَسُولِ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 203

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 204

204 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ «فَلَا إِذًا»

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے ،تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پھر کوئی (مسئلہ نہیں ہے)

«فَلَا إِذَا» ← النَّبِيِّ بِمِثْلِهِ إِلَّا أَنَّهُ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 204

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 205

205 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَنْ أَرَادَ أَنْ يُهِلَّ مِنْكُمْ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ، وَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُهِلَّ بِحَجٍّ فَلْيُهِلَّ، وَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ» قَالَتْ عَائِشَةُ: «فَأَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ» وَأَهَلَّ بِهِ نَاسٌ مَعَهُ، وَأَهَلَّ نَاسٌ بِالْعُمْرَةِ، وَكُنْتُ فِيمَنْ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةٍ " [ص:259] قَالَ: قَالَ سُفْيَانُ: ثُمَّ غَلَبَنِي الْحَدِيثُ فَهَذَا الَّذِي حَفِظْتُ مِنْهُ

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں، ہم لوگ نبی اکرم ﷺکے ہمراہ روانہ ہوئے آپ ﷺنے ارشاد فرمایا: تم میں سے جوشخص حج اور عمرے کا تلبیہ پڑھنا چاہے وہ اس کا تلبیہ پڑ ھے تم میں سے جوصرف حج کا تلبیہ پڑھنا چاہے وہ اس کا تلبیہ پڑھے اور جو شخص صرف عمرے کا تلبیہ پڑھنا چاہے وہ اس کا تلبیہ پڑھے۔سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں، نبی اکرمﷺنے حج کا تلبیہ پڑھا آپ ﷺکے ساتھ لوگوں نے بھی یہی تلبیہ پڑھا تو کچھ لوگوں نے حج اور عمرے کا تلبیہ پڑھا کچھ لوگوں نے صرف عمرے کا تلبیہ پڑھامیں ان لوگوں میں شامل تھی جنہوں نے صرف عمرے کاتلبیہ پڑھا تھا(یا اس کی نیت کی تھی)سفیان کہتے ہیں: پھر میں اس حدیث کے حوالے سے معذور ہوگیا صرف اس کا یہ حصہ مجھے یاد ہے۔

مَنْ أَرَادَ ← خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 205

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 206

206 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَلْقَمَةُ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيَفْعَلْ، وَأَفْرَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجَّ وَلَمْ يَعْتَمِرْ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا ہے: تم میں سے جوشخض عمرے کا تلبیہ پڑھناچاہے وہ ایسا کرلے۔ نبی اکرم ﷺنے صرف حج کیا تھا آپ ﷺنے عمرے (کا تلبیہ ) نہیں پڑھا تھا۔

عَائِشَةَ ← أُمِّهِ2، ← عَلْقَمَةَ ← عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 206

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter