Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 121

121 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مِثْلَهُ وَزَادَ «وَتُقْرِئُ نَبِيَّنَا مِنَّا السَّلَامَ، وَتُخْبِرُ قَوْمَنَا أَنْ قَدْ رَضِينَا وَرُضِيَ عَنَّا»

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے منقول ہے ،تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں۔ "تو ہماری طرف سے ہمارے نبی ﷺتک سلام پہنچا دینا اور ہماری قوم کو یہ بتا دینا کہ ہم راضی ہیں اور (پروردگار)ہم سے راضی ہے"۔

أَبِي عُبَيْدَةَ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 121

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 122

122 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ سَعْدِ بْنِ الْأَخْرَمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَتَّخِذُوا الضَّيْعَةَ فَتَرْغَبُوا فِي الدُّنْيَا» ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَبِرَاذَانَ مَا بِرَاذَانَ وَبِالْمَدِينَةِ مَا بِالْمَدِينَةِ

حضرت عبد الله بن مسعود ؓبیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے ہم سے فرمایا: تم لوگ عمارتیں نہ بناؤ ورنہ تم دنیامیں راغب ہوجاؤ گے۔پھر حضرت عبد اللهؓ نے فرمایا: براذ ان میں جو کچھ ہے (وہ بھی تمہارے سامنے ہے) اور مدینہ میں جو کچھ ہے (وہ بھی تمہارے سامنے ہے)

عَبْدُ اللَّهِ وَبِرَاذَانَ مَا بِرَاذَانَ وَبِالْمَدِينَةِ مَا بِالْمَدِينَةِ ← لَنَا رَسُولُ اللَّهِ «لَا تَتَّخِذُوا الضَّيْعَةَ فَتَرْغَبُوا فِي الدُّنْيَا» ثُمَّ ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أَبِيهِ ← الْمُغِيرَةِ بْنِ سَعْدِ بْنِ الْأَخْرَمِ ← شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 122

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 123

123 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ قَالَ: قَالَ لِي مَسْرُوقٌ، أَخْبَرَنِي أَبُوكَ، «أَنَّ شَجَرَةً أَنْذَرَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِنِّ»

ابوعبیدہ کہتے ہیں: مسروق نے مجھ سے کہا: مجھے تمہارے والد(یعنی حضرت عبدالله بن مسعود ؓنے یہ بات بتائی ہے کہ جنات سے ملاقات کی رات ایک درخت نے نبی اکرمﷺکو ڈرانے کی کوشش کی تھی۔

أَبُوكَ، «أَنَّ شَجَرَةً أَنْذَرَتِ النَّبِيَّ بِالْجِنِّ» ← لِي مَسْرُوقٌ: ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← مِسْعَرٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 123

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 124

124 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ [ص:221]، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ «مِنْ كُلِّ شَيْءٍ قَدْ أُوتِيَ نَبِيُّكُمْ عِلْمَهُ إِلَّا مِنْ خَمْسٍ إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ إِلَى آخِرِ السُّورَةِ»

حضرت عبد الله بن مسعودؓ بیان فرماتے ہیں: تمہارے نبیﷺ کو ہر چیز کاعلم عطا کیا گیا تھاصرف پانچ چیزوں کا(حکم مختلف ہے) (ارشاد باری تعالیٰ ہے)”بے شک قیامت کا علم الله تعالیٰ کے ہی پاس ہے"۔سورت کے آخر تک ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، [ص:372] ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← مِسْعَرٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 124

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 125

125 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ الْيَشْكُرِيِّ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ: اللَّهُمَّ أَمْتِعْنِي بِزَوْجِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِأَبِي أَبِي سُفْيَانَ وَبِأَخِي مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعَوْتِ اللَّهَ لِآجَالٍ مَضْرُوبَةٍ، وَلِآمَادٍ مَبْلُوغَةٍ، وَلِأَرْزَاقٍ مَقْسُومَةٍ لَا يَتَقَدَّمُ مِنْهَا شَيْءُ قَبْلَ أَجَلِهِ، وَلَا يَتَأَخَّرُ مِنْهَا شَيْءٌ بَعْدَ حِلِّهِ، وَلَوْ كُنْتِ سَأَلْتِ اللَّهِ أَنْ يُنْجِيَكِ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ، وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ كَانَ خَيْرًا أَوْ أَفْضَلَ» قَالَ: وَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ تَرَاهُمْ مِنْ نَسْلِ الَّذِينَ كَانُوا مُسِخُوا أَوْ مِنْ شَيْءٍ كَانَ قَبْلَ ذَلِكَ فَقَالَ: «لَا بَلْ مِنْ شَيْءٍ كَانَ قَبْلَ ذَلِكَ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَمْ يُهْلِكْ قَوْمًا قَطُّ فَيَجْعَلُ لَهُمْ نَسْلًا وَلَا عَاقِبَةً، وَلَكِنَّهُمْ مِنْ شَيْءٍ كَانَ قَبْلَ ذَلِكَ»

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں : سیدہ اُم حبیبہؓ نے دعا کی۔”اے اللہ! تو میرے شوہرنبی اکرمﷺ میرے والد ابوسفیان اور میرے بھائی معاد یہ کولمبی زندگی دینا“۔ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :تم نے الله تعالیٰ سے ایسی چیز کے بارے میں دعا کی ہے، جس کا وقت متعین مدت ہے، جس کی آخری حد مقرر ہے اور جس کا رزق مقررشدہ ہے ۔ اس کی متعین مدت سے پہلے کوئی چیز نہیں آسکتی اور کوئی چیز اس سے تاخیر نہیں کر سکتی۔ جب وہ وقت ختم ہوجائے گا۔ اگرتم الله تعالیٰ سے یہ دعامانگتی کہ الله تعالیٰ تمہیں جہنم کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے نجات دے تو زیادہ بہتر تھا۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں )افضل تھا ۔راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺسے بندروں اور خنزیروں کے بارے میں دریافت کیا گیا: آپ ﷺکی کیا رائے ہے کہ یہ ان لوگوں کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں جنہیں مسخ کر دیا گیا تھا؟ یا یہ اس سے پہلے کی کوئی چیز ہے؟ نبی اکرم ﷺنے فرمایا نہیں!یہ اس سے پہلے کی کوئی چیز ہے ،کیونکہ الله تعالیٰ جب بھی کسی قوم کو ہلاکت کا شکار کرتا ہے ،تو ان کی نسل اور ان لوگوں کا انجام ان لوگوں کی شکل میں ہوتا ہے، جو ان سے پہلےبھی موجود ہوں۔

وَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ← بِأَبِي أَبِي سُفْيَانَ وَبِأَخِي مُعَاوِيَةَ ← أُمُّ حَبِيبَةَ: اللَّهُمَّ أَمْتِعْنِي بِزَوْجِي رَسُولِ اللَّهِ ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ← المغيرة اليشكري ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← مُرَّۃُ ← مِسْعَرٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 125

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 126

126 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ قَالَ: ثنا الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ [ص:222]: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ: " إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، فَيَكُونَ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهَ إِلَيْهَ الْمَلَكَ بِأَرْبَعٍ كَلِمَاتٍ فَيَقُولُ اكْتُبْ عَمَلَهُ، وَأَجَلَهُ، وَشَقِيًّا أَوْ سَعِيدًا، ثُمَّ يَنْفُخُ فِيهِ الرُّوحَ، ثُمَّ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلَ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ فَلْيَسْبِقْ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلَ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلَهَا، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلاَّ ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلُهَا"

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں۔ بنی اکرم ﷺ نے ہمیں یہ حدیث سنائی آپ ﷺ سچے ہیں اور آپ ﷺ کی تصدیق کی گئی۔(آپ ﷺ نے فرمایا:)"ہر شخص کے نطفے کو اس ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک رکھا جاتا ہے ، پھر وہ اتنے ہی عرصے تک جمے ہوئے خون کی صورت میں رہتا ہے ، پھر وہ اتنے ہی عرصے تک گوشت کے لوتھڑے کی صورت میں رہتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ چار چیزوں کے ہمرا ہ فرشتے کو اس کی طرف بھیجتا ہے اور فرماتا ہے تم اس کا عمل کی زندگی کی آخری حد، اس کا بد بخت یانیک بخت ہونا تحریر کر دو۔ پھر وہ فرشتہ اس میں روح پھونک دیتا ہے"۔پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، آدمی اہل جہنم کے سے عمل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کے جہنم کے درمیان ایک بالشت کا فاصلہ رہ جاتا ہے ۔ تو تقدیر کا لکھا ہو ا اس سے آگے نکل جاتا ہے اور اہل جنت کا سا عمل کرتا اور جنت میں داخل ہو جاتا ہے ۔ اور ایک شخص زندگی بھر اہل جنت کے سے عمل کرتا رہتا ہے ،یہاں تک کہ اس کے اور اہل جنت کے درمیان ایک بالشت کا فاصلہ رہ جاتا ہے ، تو تقدیر کا لکھا ہوا اس سے آگے نکل جاتا ہے اور وہ اہل جہنم کا سا عمل کرتا ہے اور اس میں داخل ہو جاتا ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 126

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 127

127 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ: لَا يَجْعَلَنَّ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ مِنْ صَلَاتِهِ جُزْءًا يَرَى أَنَّ حَتْمًا عَلَيْهِ أَنْ لَا يَنْصَرِفَ يَعْنِي إِلَّا عَنْ يَمِينِهِ وَقَدْ «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرُ مَا يَنْصَرِفُ عَنْ شِمَالِهِ»

حضر ت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں : کوئی بھی شخص نماز میں سے شیطان کے لیے کوئی حصہ مقر ر ہر گز نہ کرے۔ وہ یہ نہ سمجھے کہ اس پر یہ بات لازم ہے کہ وہ (نماز سے فارغ ہونے کے بعد ) صرف دائیں طرف سے ہی اٹھ سکتا ہے ، کیو نکہ میں نے نبی اکرمﷺ کو کئی مرتبہ بائیں طرف سے اٹھتے ہوئے دیکھا ہے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ← عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 127

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter