Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 109

109 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ فَإِنَّ ذَلِكَ يُحْزِنُهُ»

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں: انہیں نبی اکرمﷺ ے اس فرمان کا پتہ چلا ہے۔ "دوآ دمی تیسرے کو چھوڑ کر سرگوشی میں بات نہ کریں، کیونکہ یہ چیز(اس تیسرے شخص کو) غمگین کر دے گی"۔

«لَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ فَإِنَّ ذَلِكَ يُحْزِنُهُ» ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 109

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 110

110 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْمًا فَقَالَ رَجُلٌ: إِنَّ هَذِهِ لَقِسْمَةٌ مَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: فَمَا مَلَكْتُ نَفْسِي أَنْ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَتَغَيَّرَ وَجْهُهُ، أَوْ قَالَ لَوْنُهُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَتَمَنَّيْتُ أَنِّي كُنْتُ أَسْلَمْتُ يَوْمَئِذٍ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ أُوذِيَ مُوسَى بِأَشَدَّ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ»

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓبیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے کوئی چیز تقسیم کی، تو ایک شخص بولا :یہ ایسی تقسیم ہے، جس میں الله کی رضا کا ارادہ نہیں کیا گیا۔ راوی کہتے ہیں: حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے یہ بات بیان کی ہے مجھے اپنے آپ پر قابونہیں رہا۔ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ کو اس بارے میں بتایا تو آپ ﷺکا چہرہ مبارک (راوی کوشک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) آپ کا رنگ تبدیل ہوگیا۔ حضرت عبداللہؓ بیان کرتے ہیں : میں نے اس وقت یہ آرزو کی کہ کاش میں اسی دن مسلمان ہوا ہوتا۔ حضرت عبداللہؓ بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”حضرت موسیٰ ؑ کو اس سے زیادہ اذیت پہنچائی گئی تھی لیکن انہوں نے صبر سے کام لیا تھا"۔

رَجُلٌ: ← قَسَمَ النَّبِيُّ قَسْمًا ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 110

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 111

111 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ يَقُولُ: سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ بْنَ يُوسُفَ يَقُولُ: لَا تَقُولُوا سُورَةُ الْبَقَرَةِ وَلَا سُورَةُ كَذَا فَذَكَرْتُهُ لِإِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيِّ فَقَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّهُ مَشَى مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِي بَطْنِ الْوَادِي فَلَمَّا أَتَى الْجَمْرَةَ جَعَلَهَا عَنْ يَمِينِهِ ثُمَّ اعْتَرَضَهَا فَرَمَاهَا، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّ نَاسًا يَرْمُونَهَا مِنْ فَوْقِهَا، فَقَالَ «مِنْ هَاهُنَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ رَأَيْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ رَمَاهَا»

اعمش کہتے ہیں : میں نے حجاج بن یوسف کو یہ کہتے ہوئے سنا: تم لوگ یہ نہ کہو "سورہ بقرہ"سورہ فلاں۔ اعمش کہتے ہیں: میں نے اس بات کا تذکرہ ابراہیم نخعی سے کیا ،تو انہوں نے بتایا : عبدالرحمنٰ بن یزید نے مجھے یہ بات بتائی ہے ایک مرتبہ وہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے ساتھ وادی کے نشیب میں چل رہے تھے، جب وہ جمرہ کے پاس آئے ،تو حضرت عبداللہؓ نے اسے اپنے دائیں طرف رکھا اور پھر ان کے مد مقابل آگئے پھر انہوں نے اسے کنکریاں ماریں۔ میں نے ان سےکہا: اے ابوعبدالرحمن ٰ!لوگ تو اوپر سے اس پر کنکریاں مارتے ہیں، تو انہوں نے فرمایا: اس ذات کی قسم !اس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہ ہستی جن پر سوره بقره نازل ہوئی تھی میں نے انہیں یہیں سے کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا ہے۔

لَا تَقُولُوا سُورَةُ الْبَقَرَةِ وَلَا سُورَةُ كَذَا فَذَكَرْتُهُ لِإِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيِّ ← الْحَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 111

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 112

112 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: قَدِمَ عَبْدُ اللَّهِ الشَّامَ فَقَرَأَ سُورَةَ يُوسُفَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: مَا هَكَذَا أُنْزِلَتْ [ص:216]، قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَيْحَكَ أَوْ وَيْلَكَ قَرَأْتُهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَحْسَنْتَ» فَبَيْنَا هُوَ يُرَاجِعُهُ إِذْ وَجَدَ عَبْدُ اللَّهِ مِنْهُ رِيحَ خَمْرٍ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَتَشْرَبُ الْخَمْرَ وَتُكَذِّبُ بِالْقُرْآنِ؟ لَا أَبْرَحُ حَتَّى تُجْلَدَ فَجُلِدَ

علقمہ بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن مسعودؓ تشریف لائے انہوں نے سورہ یوسف کی تلاوت کی ،تو ایک صاحب نے ان سے کہا:یہ اس طرح نازل نہیں ہوئی ۔ راوی کہتے ہیں: تو حضرت عبداللہؓ نے فرمایا تمہارا ستیاناس ہو (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں)تمہاری بربادی ہو، میں نے نبی اکرم ﷺکے سامنے اسے تلاوت کیا ہے ،تو آپ ﷺنے یہ فرمایاتھا: ابھی ان دونوں حضرات کی بحث چل رہی تھی کہ حضرت عبداللہ ؓکو اس شخص سے شراب کی بومحسوسں ہوئی۔ حضرت عبد اللهؓ نے دریافت کیا: کیا تم شراب پیتے ہو اور قرآن کی تکذیب کرتے ہو؟ میں تمہیں ضرور کوڑے لگواؤں گا، توپھر اس شخص کو کوڑے لگائے گئے ۔

«أَحْسَنْتَ» فَبَيْنَا هُوَ يُرَاجِعُهُ إِذْ وَجَدَ عَبْدُ اللَّهِ مِنْهُ رِيحَ خَمْرٍ ← عَبْدُ اللَّهِ: وَيْحَكَ أَوْ وَيْلَكَ قَرَأْتُهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ← لَهُ رَجُلٌ: مَا هَكَذَا أُنْزِلَتْ [ص:216]، ← قدم عبد الله الشام فقرأ سورة يوسف ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 112

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 113

113 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الْأَعْمَشُ غَيْرَ مَرَّةٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَبْرَأُ إِلَى كُلِّ خَلِيلٍ مِنْ خِلِّهِ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا، وَإِنَّ صَاحِبَكُمْ لَخَلِيلُ اللَّهِ» يَعْنِي نَفْسَهُ

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے : "میں ہر ساتھی کے ساتھ سے بری الذمہ ہوں ،اگر میں نے کسی کوخلیل بنانا ہوتا، تو میں ابوبکر خلیل بناتا لیکن تمہارے آقا اللہ خلیل ہیں"۔ (راوی کہتے ہیں:) نبی اکرم ﷺکی اس سے مراد آپ ﷺکی اپنی ذات تھی۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، ← الْأَعْمَشُ غَيْرَ مَرَّةٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 113

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 114

114 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةً إِلَّا لِوَقْتِهَا إِلَّا بِالْمُزْدَلِفَةِ فَإِنَّهُ جَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، وَصَلَّى الصُّبْحَ يَوْمَئِذٍ فِي غَيْرِ وَقْتِهَا» وَقَالَ سُفْيَانُ يَعْنِي فِي غَيْرِ وَقْتِهَا الَّذِي كَانَ يُصَلِّيَهَا فِيهِ قَبْلَ ذَلِكَ

حضرت عبد الله بن مسعود ؓبیان کرتے ہیں :میں نے نبی اکرم ﷺکو نماز ہمیشہ مخصوص وقت پر ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے البتہ مزدلفہ کا معامل مختلف ہے، کیونکہ وہاں نبی اکرم ﷺنے دو نمازیں مغرب اور عشاء ایک ساتھ ادا کی تھیں اور اس دن آپ ﷺنے صبح کی نماز اس کے مخصوص وقت سے ہٹ کر ادا کی تھی۔ سفیان کہتے ہیں: یعنی اس وقت سے مختلف وقت میں ادا کی تھی جس میں آپ ﷺپہلے اسے ادا کیا کرتے تھے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 114

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 115

115 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ [ص:217]، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَنْكِحْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَا فَلْيَصُمْ فَإِنَّ الصَّوْمَ لَهُ وِجَاءٌ»

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے ہم سے یہ فرمایا۔"اے نوجوانوں کے گروہ !ہات میں سے جو شادی کرنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ نکاح کرلے ،کیونکہ یہ چیزنگاہ کو زیادہ جھکا کے رکھتی ہے اور شرمگاہ کی زیادہ حفاظت کرتی ہے اور جو شخص اس کی استطاعت نہیں رکھتا وہ روزے رکھے ،کیونکہ روزے اس کی شہوت کو ختم کردیں گے"۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، [ص:545] ← عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 115

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 116

116 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ أَوْ أُخْبِرْتُ عَنْهُ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ يَعْنِي عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: قِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ إِنَّ فِي الْمَسْجِدِ رَجُلًا يَقُولُ: إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ أَصَابَ النَّاسَ دُخَانٌ يَأْخُذُ بِأَسْمَاعِ الْكُفَّارِ وَيَأْخُذُ الْمُؤْمِنِينَ كَالزَّكْمَةِ قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ عَلِمَ مِنْكُمْ شَيْئًا فَلْيَقُلْ بِهِ، وَمَنْ لَمْ يَعْلَمْ فَلْيَقُلْ لِمَا لَمْ يَعْلَمِ اللَّهُ أَعْلَمُ، فَإِنَّ مِنْ عِلْمِ الْمَرْءِ أَنْ يَقُولَ لِمَا لَا يَعْلَمُ اللَّهُ أَعْلَمُ، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ لِنَبِيِّهِ: {قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ} [ص: 86] إِنَّ قُرَيْشًا لَمَّا أَبْطَئُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ اكْفِنِيهِمْ بِسَبْعٍ كَسَبْعِ يُوسُفَ» فَأَصَابَتْهُمْ سَنَةٌ حَصَّتْ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى أَكَلُوا الْعِظَامَ، وَحَتَّى جَعَلَ الرَّجُلُ يَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ فَيَرَى بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا مِثْلَ الدُّخَانِ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ يَغْشَى النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ} [الدخان: 11] قَالَ اللَّهُ {إِنَّا كَاشِفُو الْعَذَابِ قَلِيلًا إِنَّكُمْ عَائِدُونَ} [الدخان: 15] كَانَ هَذَا فِي الدُّنْيَا أَفَيُكْشَفُ عَنْهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةٍ؟ [ص:218] ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَقَدْ مَضَى الدُّخَانُ، وَمَضَى اللِّزَامُ وَمَضَى الْقَمَرُ، وَمَضَى الرُّومُ وَمَضَتِ الْبَطْشَةُ

مسروق بیان کرتے ہیں : حضرت عبدالله بن مسعود ؓ سے کہا گیا: مسجد میں ایک شخص یہ کہہ رہا ہے کہ جب قیامت کا دن آئے گا، تو لوگوں تک دھواں بن جائے گا، جو کفار کی سماعت کو اپنی گرفت میں لے گا، لیکن اہل ایمان کو اس سے زکام کی سی کیفیت محسوس ہوگی۔راوی کہتے ہیں :حضرت عبداللہ ؓ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے وہ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور بولے: اے لوگو! تم میں سے جو شخص کسی چیز کا علم رکھتا ہو وہ اس کے مطابق بیان کر دے اور جوعلم نہ رکھتا ہو وہ اپنی لاعلمی کے بارے میں یہ کہہ دے کہ الله بہتر جانتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ آدمی کے علم میں یہ بات بھی شامل ہے کہ جس چیز کے بارے میں و ہ علم نہیں رکھتاوہ یہ کہہ دے کہ اللہ بہتر جانتا ہے جبکہ الله تعالیٰ نے اپنے نبیﷺسے فرمایا ہے۔" تم یہ فرمادو کہ میں اس پر تم سے اجر طلب نہیں کر رہا اور نہ ہی میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں“۔(پھر حضرت عبداللہ ؓنے بتایا ) جب قریش نبی اکرم ﷺکے پیروکار نہیں بنے تو نبی اکرم ﷺ نے دعا کی: ”اے اللہ توان پر حضرت یوسف کے زمانے کے سے سات سال (قحط سالی کے مسلط کردے)" تو ان لوگوں کو قحط سالی نے گرفت میں لے لیا جس نے ہر چیز کو ختم کر دیا، یہاں تک کہ وہ لوگ ہڈیاں کھانے لگے اور یہ کیفیت ہوگئی کہ ان میں سے ایک شخص آسمان کی طرف دیکھتا تو اسے اپنے اور آسمان کے درمیان دھواں محسوس ہوتا تھا، تو الله تعالیٰ نے یہ آیت ارشاد فرمائی۔ "تم اس دن کا خیال کرو کہ جب انسان واضح دھواں لے کر آیا جس نے لوگوں کو ڈھانپ لیا تو یہ دردناک عذاب ہے"۔ الله تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ”بے شک ہم عذاب کو تھوڑا سا کم کر دیں، تو تم لوگ دوبارہ واپس چلے جاؤ گے“۔تویہ معاملہ تودنیامیں پیش آیا، کیا قیامت کے دن ان کفارسے عذاب کو پرے کیا جائے گا؟ پھر حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا: دھواں گزر چکا ہے ،لزام گزر چکا ہے۔ چاند سے متعلق واقعہ گزر چکا ہے۔ روم کا(غالب آنا) گزر چکا ہے اور بطشہ(گرفت ) کا واقعہ بھی گزر چکا ہے۔

((قِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ: ← مَسْرُوقٍ ← مسلم بن صبيح يعني ← عَنْهُ ← الْأَعْمَشُ أَوْ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 116

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 117

117 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ مَسْرُوقٍ فِي دَارِ يَسَارِ بْنِ نُمَيْرٍ فَرَأَى مَسْرُوقٌ فِي صُفَّتِهِ تَمَاثِيلَ فَقَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُصَوِّرُونَ»

مسلم بن صبیح بیان کرتے ہیں: ہم لوگ یسار بن نمیر کے گھر میں مسروق کے ساتھ تھے۔ مسروق نے ان کے گھر میں تصوریریں میں لگی ہوئی دیکھیں ،تو یہ بات بیان کی میں نے حضرت عبد الله بن مسعودؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے وہ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سناہے :"قیامت کے دن سب سے شدید عذاب تصویر بنانے والوں کو ہوگا"۔

مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 117

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 118

118 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ نَفْسٍ تُقْتَلُ ظُلْمًا إِلَّا كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ الْأَوَّلِ كِفْلٌ مِنْهَا لِأَنَّهُ سَنَّ الْقَتْلَ أَوَّلًّا»

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ روایت کرتے ہیں ، نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا ہے: "جس بھی شخص کوظلم کے طور پرقتل کیا جائے گا، تو اس کا وبال آدم ؑ کے اس پہلے بیٹے کے سر ہوگا وہ اس میں حصہ دار ہوگا، کیونکہ اس نے قتل کاطریقہ سب سے پہلے ایجاد کیاتھا“۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← مَسْرُوقٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 118

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 119

119 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا فِي إِحْدَى ثَلَاثٍ: رَجُلٌ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ، أَوْ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ، أَوْ نَفْسٌ بِنَفْسٍ "

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا ہے: کسی بھی مسلمان شخص کا، جواس بات کی گواہی دیتا ہو کہ الله تعالیٰ کے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اللہ کا رسولﷺہوں، ایسے مسلمان کا خون تین میں سے ایک صورت میں جائز ہے۔ ایسا شخص جو اسلام قبول کرنے کے بعد کافر ہو جائے۔ ایسا شخص جومحصن ہونے کے باوجود زنا کا ارتکاب کرے یا پھر جان کےبدلے میں جان۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← مَسْرُوقٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 119

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 120

120 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: أَمَا أَنَّا قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ يَعْنِي أَرْوَاحَ الشُّهَدَاءِ، فَقِيلَ " جُعِلَتْ فِي أَجْوَافِ طَيْرٍ خُضْرٍ تَأْوِي إِلَى قَنَادِيلَ تَحْتَ الْعَرْشِ، تَسْرَحُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءَتْ، فَاطَّلَعَ إِلَيْهِمْ رَبُّكَ اطِّلَاعَةً، فَقَالَ: " هَلْ تَسْتَزِيدُونِي شَيْئًا فَأَزِيدُكُمْ؟ فَقَالُوا: وَمَا نَسْتَزِيدُكَ وَنَحْنُ فِي الْجَنَّةِ نَسْرَحُ مِنْهَا حَيْثُ نَشَاءُ؟ ثُمَّ اطَّلَعَ إِلَيْهِمْ رَبُّكَ اِطِّلَاعَةً فَقَالَ: «هَلْ تَسْتَزِيدُونِي شَيْئًا فَأَزِيدُكُمْ؟» فَلَمَّا رَأَوْا أَنَّهُ لَا بُدَّ أَنْ يَسْأَلُوهُ، قَالُوا: تَرُدَّ أَرْوَاحَنَا فِي أَجْسَادِنَا فَنُقْتَلُ فِي سَبِيلِكَ مَرَّةً أُخْرَى " [ص:220]

حضرت عبداللہ بن مسعودؓبیان کرتے ہیں: ہم نے اس بارے میں سوال کیا تھا یعنی شہداء کی ارواح کے بارےمیں سوال کیا تھا، تو یہ بات بتائی گئی کہ یہ سبز پرندوں کے پیٹ میں رکھ دی جاتی ہیں اور عرش کے نیچےقندیلوں میں رہتی ہیں۔ یہ جنت میں جہاں چاہتی ہیں اڑ کے چلی جاتی ہیں ان کا پروردگار ان کی طرف متوجہ ہوکر دریافت کرتا ہے: کیاتم مجھ سے مزید کسی چیز کے طلبگار ہوتا کہ میں تمہیں وہ مزید چیز عطا کروں؟ تو انہوں نے عرض کی : ہم مزید کسی چیز کے طلبگار ہوں گے؟ جبکہ ہم جنت میں ہیں اور ہم اس میں جہاں چاہیں جاسکتے ہیں۔ پھر ان کا پروردگاران کی طرف متوجہ ہو کرفرمائے گا: کیاتم مزید کسی چیز کے طلبگار ہوتا کہ میں تمہیں وہ مزید چیزبھی عطا کروں؟ جب ان لوگوں نے یہ بات دیکھی کہ انہیں ضرور کوئی نہ کوئی سوال کرنا پڑے گا تو انہوں نے عرض کی : تو ہماری ارواح ہمارے جسموں کو واپس کر دے تاکہ ہمیں ایک مرتبہ پھر تیری بارگاہ میں شہیدکیاجائے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← مَسْرُوقٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 120

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter