Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 49

49 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي رَافِعٍ كَاتِبَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ بَعَثَنِي مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا، وَالزُّبَيْرُ، وَالْمِقْدَادُ فَقَالَ: «انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ بِهَا ظَعِينَةٌ مَعَهَا كِتَابٌ فَخُذُوهُ مِنْهَا» فَانْطَلَقْنَا تَعَادَى بِنَا خَيْلُنَا حَتَّى أَتَيْنَا الرَّوْضَةَ فَإِذَا نَحْنُ بِالظَّعِينَةِ فَقُلْنَا: أَخْرِجِي الْكِتَابَ، فَقَالَتْ: مَا مَعِي مِنْ كِتَابٍ، فَقُلْنَا: لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ أَوْ لَتُلْقِينَ الثِّيَابَ، فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ عِقَاصِهَا، فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا فِيهِ مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى نَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِمَّنْ بِمَكَّةَ يُخْبِرُهُمْ بِبَعْضِ أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا هَذَا يَا حَاطِبُ؟» فَقَالَ حَاطِبٌ: لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنِّي كُنْتُ امْرَأً مُلْصَقًا فِي قُرَيْشٍ وَلَمْ أَكُنْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، وَكَانَ مَنْ كَانَ مَعَكَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ لَهُمْ قَرَابَاتٌ يَحْمُونَ بِهَا أَهَالِيهِمْ [ص:178] وَأَمْوَالِهِمْ بِمَكَّةَ فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَنِي ذَلِكَ مِنَ النَّسَبِ فِيهِمْ أَنْ أَتَّخِذَ عِنْدَهُمْ يَدًا يَحْمُونَ بِهَا قَرَابَتِي وَمَا فَعَلْتُ ذَا كُفْرًا، وَلَا ارْتِدَادًا عَنْ دِينِي، وَلَا رِضًا بِالْكُفْرِ بَعْدَ الْإِسْلَامِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُ قَدْ صَدَقَكُمْ» فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي أَضْرِبُ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ قَدِ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ: «اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ» قَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ: وَنَزَلَتْ فِيهِ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ} [الممتحنة: 1] الْآيَةَ قَالَ سُفْيَانُ: فَلَا أَدْرِي أَذَلِكَ فِي الْحَدِيثِ أَمْ قَوْلًا مِنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ

عبيد الله بن ابورافع جو حضرت علی بن ابوطالبؓ کے سیکرٹری تھے وہ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت علیؓ کویہ بیان کرتے ہو ئے سنا: نبی اکرم ﷺنے مجھے زبیر اور مقداد کو بھیجا اور فرمایا تم لوگ جاؤ اور ”خاخ‘‘ کے باغ پہنچو وہاں ایک عورت ہوگی، جس کے پاس ایک خط ہوگاتم لوگ وہاں سے لے لینا۔ (حضرت علیؓ کہتے ہیں) ہم لوگ روانہ ہوئے۔ ہم اپنے گھوڑے دوڑاتے ہوئے اس باغ تک آئے تو وہاں ایک عورت موجو دتھی ہم نے کہا: تم خط نکالو۔ اس نے کہا: میرے پاس کوئی خط نہیں ہے ہم نے کہا: تم خط نکالو ورنہ ہم تمہاری چادر اتار دیں گے تو اس نے اپنے بالوں کے جوڑے میں سے اسے نکالا ہم نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس میں یہ تحریرتھا۔ یہ حاطب بن ابو بلتعہ کی طرف سے مکہ میں رہنے والے کچھ مشرکین کے لیے تھا جس میں انہیں نبی اکرم ﷺ کے ( مکہ کی طرف )کوچ کرنے کے بارے میں بتایا گیا تھا۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: حاطب یہ کیا تھا حضرت حاطبؓ نے عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ)!آپﷺ میرے بارے میں جلدی نہ کیجئے میں ایک ایساشخص ہوں جو قریش کے ساتھ مل کررہ رہا ہوں لیکن میں ان کا حصہ نہیں ہوں۔ آپ ﷺان کے ساتھ جودیگر مہا جر ین ہیں، ان کی وہاں رشتے داریاں ہیں، جن کی وجہ سے مکہ میں ان کے گھر والے اور ان کی زمینیں محفوظ ہیں۔ میں یہ چاہتا تھا کیونکہ یہ میرا ا قریش کے ساتھ کوئی نسبی تعلق نہیں ہے، تو میں ان پر کوئی احسان کر دوں جس کی وجہ سے وہ میرےرشتے داروں کی حفاظت کریں، میں نے کفر کرتے ہوئے یا اپنے دین سے مرتد ہوتے ہوئے، اسلام قبول کرنے کے بعد کفرسے راضی رہتے ہوئے،یہ مکمل نہیں کیا ۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: اس نے تمہارے ساتھ چ بات کہی ہے، تو حضرت عمر ؓنے عرض کی: یارسول الله (ﷺ)! آپ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس منافق کی گردن اڑادوں تو نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا: یہ ”بدر“ میں شریک ہوا ہےتمہیں کیا پتہ ؟ شاید الله تعالی نے اہل بدر کومخاطب کر کے کہا ہو :تم جو چاہوعمل کرو میں نے تمہاری مغفرت کردی ہے۔عمرو بن دینار کہتے ہیں : اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: "اے ایمان والو!تم میرے اور اپنے دشمن کو دوست نہ بناؤ“۔سفیان کہتے ہیں: مجھےیہ نہیں معلوم کہ آیا یہ روایت کا حصہ ہے یا عمرو بن دینار کا قول ہے۔

الحسن بن محمد بن علي ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 49

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 50

50 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَخْبَرَةَ الْأَزْدِيِّ قَالَ: كَانُوا عِنْدَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَمَرَّتْ بِهِمْ جَنَازَةٌ فَقَامُوا لَهَا فَقَالَ عَلِيٌّ: مَا هَذَا؟ فَقَالُوا أَمَرَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ فَقَالَ عَلِيٌّ: " إِنَّمَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّةً وَاحِدَةً وَلَمْ يَعُدْ

عبداللہ بن سخبرہ از دی بیان کرتے ہیں: کچھ لوگ حضرت علی بن ابوطالبؓ کے پاس موجود تھے ان کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو لوگ اس کے لیے کھڑے ہو گئے ۔ حضرت علی ؓ نے دریافت کیا ہے:یہ کیا طریقہ ہے؟ لوگوں نے عرض کی :حضرت الوسوی اشعریؓ اس کا حکم دیتے ہیں تو حضرت علیؓ نے فرمایا: نبی اکرم ﷺایک مرتبہ اس (جنازے )کے لیے کھڑے ہوئے تھے آپ ﷺنے دوبارہ عمل نہیں کیا۔

أَمَرَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ ← عَلِيٌّ مَا هَذَا ← كَانُوا عِنْدَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَمَرَّتْ بِهِمْ جَنَازَةٌ فَقَامُوا لَهَا ← أَبِي مَعْمَرٍ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَخْبَرَةَ الْأَزْدِيِّ ← مُجَاهِدٍ ← ليث بن أبي سليم ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 50

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 51

51 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا قَامَ مَرَّةً وَاحِدَةً ثُمَّ لَمْ يَعُدْ» قَالَ أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ: وَكَانَ سُفْيَانُ رُبَّمَا حَدَّثَنَا بِهِ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحِ، وَلَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ فَإِذَا وَقَفْنَاهُ عَلَيْهِ يُدْخِلُ فِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ أَبَا مَعْمَرٍ وَكَانَ لَا يَقُولُ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا

حضرت علی ؓ فرماتے ہیں: نبی اکرم ﷺجنازے کے لیے ایک مرتبہ کھڑے ہوئے پھر دوبارہ آپﷺ نے یہ عمل نہیں کیا۔ امام حمیدی ؒبیان کرتے ہیں :سفيان بعض اوقات اس روایت کو ابن ابو نجیحاور لیث کے حوالے سے مجاہد کے حوالے سے ابو معمر سے نقل کرتے تھے، تو جب ہم نے اس پرمشتبہہ کیا، تو انہوں نے ابن ابو نجیح کی روایت میں ابو معمرکو بھی شامل کر دیا اور وہ لفظ "حدثنا‘‘ صرف اس وقت استعمال کرتے تھے، جب دونوں راویوں میں سے ہر ایک نے لفظ"حدثنا ‘‘استعال کیا ہو۔

عَلِیٍّ اَنَّہٗ ← مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ ← نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ← وَاقِدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 51

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 52

52 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ سَمِعَهُ مِنِ ابْنِ أَبِي مُوسَى قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا وَبَعَثَ أَبَا مُوسَى وَأَمَرَهُ بِشَيْءٍ مِنْ حَاجَتِهِ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَلِيُّ سَلِ اللَّهَ الْهُدَى وَالسَّدَادَ وَأَعْنِي بِالْهُدَى هِدَايَةَ الطَّرِيقِ، وَالسَّدَادِ تَسْدِيدَكَ لِلسَّهْمِ» قَالَ: «وَنَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقَسِّيِّ وَالْمِيثَرَةِ الْحَمْرَاءِ وَأَنْ أَلْبَسَ خَاتَمِي فِي هَذِهِ أَوْ فِي هَذِهِ وَأَشَارَ إِلَى السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى» [ص:180] قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: وَكَانَ سُفْيَانُ يُحَدِّثُ بِهِ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى فَقِيلَ لَهُ: إِنَّمَا يُحَدِّثُونَهُ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ فَقَالَ: أَمَّا الَّذِي حَفِظْتُ أَنَا فَعَنْ أَبِي بَكْرٍ فَإِنْ خَالَفُونِي فِيهِ فَاجْعَلُوهُ عَنِ ابْنِ أَبِي مُوسَى فَكَانَ سُفْيَانُ بَعْدَ ذَلِكَ رُبَّمَا قَالَ: عَنِ ابْنِ أَبِي مُوسَى وَرُبَّمَا نَسِيَ فَحَدَّثَ بِهِ عَلَى مَا سَمِعَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ

حضرت ابوموسی اشعری ؓ کے صاحبزادے بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت علی ؓ کو سنا انہوں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓکوکسی کام سے بھجوایا اور انہیں اس کام کے بارے میں کسی چیز کی ہدایت کی ۔ حضرت علی ؓنے ان سے کہانبی اکرم ﷺنے مجھ سے فرمایا تھا: اے علیؓ! تم الله تعالیٰ سے ہدایت اور سیدھے رہنے کا سوال کرنا۔ہدایت سے میری مراد راستے کی ہدایت ہے اور صراط سے مرا دتمہارا اپنے تیرکوٹھیک کرنا ہے۔ حضرت علیؓ نے یہ بھی بتایا:نبی اکرم ﷺنے مجھے قسی اور سرخ مثیرہ(ریشمی کپڑے کی قسمیں) استعمال کرنے سے منع کیا اور مجھے اس بات سے بھی منع کیا کہ میں اپنی اس اور اس انگلی میں انگوٹھی پہنوں ۔ حضرت علیؓ نے شہادت کی انگلی اور درمیانی کی کی طرف اشارہ کر کے یہ بات کہی تھی۔امام حمیدیؒ کیا کہتے ہیں : سفیان اس روایت کو عاصم نامی راوی کے حوالے سے حضرت ابوموسیٰ ؓکے صاحبزادے ابوبکر سےنقل کرتے ہیں، تو ان سے یہ کہا گیا: دیگر محدثین نے تو اس روایت کو حضرت ابوموی ؓ کے صاحبزادے ابو بردہ کے حوالےسے نقل کیا تو انہوں نے کہا: میں نے تو اس روایت کو اسی طرح یادرکھا ہے کہ یہ ابوبکر بن ابوموی سے منقول ہے۔ لیکن اگر دوسرے لوگ مجھ سے مختلف روایت کررہے ہیں تم یہ الفاظ شامل کر لو کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کے ایک صاحبزادے سے یہ بات منقول ہے۔تو سفیا ن کا یہ معمول تھا کہ اس کے بعد وہ بعض اوقات اس روایت کو حضرت ابومو سی ٰاشعری ؓکے صاحبزادے سے منقول روایت کے طور پر بیان کرتے تھے اور بعض اوقات اسے بھول جاتے تھے ، تو انہوں نے سان تھا اس کے مطابق حضرت ابو اشعری ؓ کے صاحبزادے ابوبکر کے حوالے سے نقل کرتے تھے۔

عَلِيًّا وَبَعَثَ أَبَا مُوسَى وَأَمَرَهُ بِشَيْءٍ مِنْ حَاجَتِهِ ← عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ سَمِعَهُ مِنِ ابْنِ أَبِي مُوسَى ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 52

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 53

53 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَعْيَنَ سَمِعَهُ مِنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ يُحَدِّثُهُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ: أَتَانِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ وَقَدْ أَدْخَلْتُ رِجْلِي فِي الْغَرْزِ فَقَالَ لِي: أَيْنَ تُرِيدُ؟ فَقُلْتُ: الْعِرَاقَ فَقَالَ: «أَمَا إِنَّكَ إِنْ جِئْتَهَا لَيُصِيبُكَ بِهَا ذُبَابُ السَّيْفِ» فَقَالَ عَلِيٌّ: «وَايْمُ اللَّهِ لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ? قَبْلَهُ يَقُولُهُ» [ص:181] فَقَالَ أَبُو حَرْبٍ فَسَمِعْتُ: أَبِي يَقُولُ: فَعَجِبْتُ مِنْهُ وَقُلْتُ: رَجُلٌ مُحَارِبٌ يُحَدِّثُ بِمِثْلِ هَذَا عَنْ نَفْسِهِ

ابواسوددیلی بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت علیؓ کو فرماتے ہوئے سنا : میرے پاس عبد اللہ بن سلام آئے ، میں اس وقت اپنا پاؤں رکاب میں داخل کر چکا تھا انہوں نے مجھ سے دریافت کیا: آپ کہاں جانا چاہتے ہیں؟ میں نے جواب دیا:عراق ۔وہ بولے: اگر آپ وہاں چلے گئے، تو آپ کوتلوارکی دھار ضرور لگے گی۔حضرت علیؓ نے ارشادفرمایا :اللہ کی قسم !اس سے پہلے میں نبی اکرم ﷺکو بھی یہ بات ارشادفرماتے ہوئے سن چکا تھا۔

أَمَا إِنَّکَ ← لِي: أَيْنَ تُرِيدُ؟ فَقُلْتُ: الْعِرَاقَ ← أتاني عبد الله بن سلام وقد أدخلت رجلي في الغرز ← عَلِيًّا ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَعْيَنَ سَمِعَهُ مِنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ يُحَدِّثُهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 53

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 54

54 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ تَجَاوَزْتُ لَكُمْ عَنْ صَدَقَةِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ»

حضرت علیؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے: میں نے تمہیں گھوڑے اور غلام کی زکوةمعاف کر دی ہے۔

عَلِيٍّ، ← الْحَارِثِ ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 54

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 55

55 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَضَى أَنَّ أَعْيَانَ بَنِي الْأُمِّ يَتَوَارَثُونَ دُونَ بَنِي الْعَلَّاتِ»

حضرت علی ؓبیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺنے یہ فیصلہ دیا ہے ،عینی بھائی ایک دوسرے کے وارث ہوں گے۔علاتی بھائی ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے۔

عَلِيٍّ، ← الْحَارِثِ ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 55

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 56

56 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا أَبُو إِسْحَاقِ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: «قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالدَّيْنِ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ وَأَنْتُمْ تَقْرَءُونَ الْوَصِيَّةَ قَبْلَ الدَّيْنِ»

حضرت علیؓ نے بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے یہ فیصلہ دیا ہے، (میت کی) وصیت پرعمل کرنے سے پہلے (اسکے ذمے واجب الادا )قرض ادا کیا جائے گا ،حالانکہ تم لوگ ( قرآن میں ) وصیت کا ذکر قرض سے پہلے پڑھتے ہو۔

«قَضَى رَسُولُ اللَّهِ بِالدَّيْنِ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ وَأَنْتُمْ تَقْرَءُونَ الْوَصِيَّةَ قَبْلَ الدَّيْنِ» ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← الْحَارِثِ ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 56

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 57

57 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ، وَابْنِ أَبِي لَيْلَى، وَشُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيٍّ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَمْ يَكُنْ يَحْجُبُهُ عَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ جُنُبًا "

حضرت علی ؓبیان کرتے ہیں۔ قرآن کی تلاوت کے لیے نبی اکرم ﷺسے کوئی چیز رکاوٹ نہیں بنتی تھی البتہ اگرآپ ﷺجنابت کی حالت میں ہوتے (تو قرآن کی تلاوت نہیں کرتے تھے)

عَلِيٍّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← مِسْعَرٍ، وَابْنِ أَبِي لَيْلَى، وَشُعْبَةُ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 57

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 58

58 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عِيسَى، ثنا الْأَعْمَشُ، ثنا عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ «لَقَدْ عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأُمِّيُّ أَنَّهُ لَا يُحِبُّكَ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يُبْغِضُكَ إِلَّا مُنَافِقٌ»

حضرت علی بن ابوطالب ؓبیان کرتے ہیں:”اُمی نبی‘‘ نے مجھ سے یہ عہد لیا تھا کہ تم سے صرف مومن محبت کرےگا اور تم سے صرف منافقت بغض رکھے گا۔

زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← الْاَعْمَشِ ← يَحْيَى بْنُ عِيسَى ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 58

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 59

59 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا أَبُو كَثِيرٍ قَالَ: كُنْتُ مَعَ سَيِّدِي عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ حِينَ قَتَلَ أَهْلَ النَّهْرَوَانِ فَكَانَ النَّاسُ قَدْ وَجَدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ مِنْ قَتْلِهِمْ فَقَالَ عَلِيٌّ أَيُّهَا النَّاسُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنِي «أَنَّ نَاسًا يَخْرُجُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَخْرُجُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، وَلَا يَعُودُونَ فِيهِ أَبَدًا أَلَا وَإِنَّ آيَةَ ذَلِكَ أَنَّ فِيهِمْ رَجُلًا أَسْوَدَ مُجَدَّعَ الْيَدِ إِحْدَى يَدَيْهِ كَثَدِي الْمَرْأَةِ لَهَا حَلَمَةٌ كَحَلَمَةِ الْمَرْأَةِ» [ص:183] قَالَ وَأَحْسَبُهُ قَالَ «حَوْلَهَا سَبْعُ هُلْبَاتٍ فَالْتَمِسُوهُ فَإِنِّي لَا أَرَاهُ إِلَّا فِيهِمْ» فَوَجَدُوهُ عَلَى شَفِيرِ النَّهْرِ تَحْتَ الْقَتْلَى فَقَالَ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَإِنَّ عَلِيًّا لَمُتَقَلِّدٌ قَوْسًا لَهُ عَرَبِيَّةً يَطْعَنُ بِهَا فِي مَخْدَجَتِهِ قَالَ فَفَرِحَ النَّاسُ حِينَ رَأَوْهُ وَاسْتَبْشَرُوا وَذَهَبَ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَجِدُونَ

ابوکثیر بیان کرتے ہیں: میں اپنے آقا حضرت علی بن ابوطالب ؓ کے ساتھ تھا اس وقت جب انہوں نے اہل نہروان کے ساتھ جنگ کی تھی کچھ لوگوں کوا نہیں قتل کرنے کے بارے میں الجھن محسوس ہوئی تو حضرت علیؓ نے فرمایا: اے لوگو اللہ کے نبی ﷺنے مجھے یہ بات بتائی ہے۔"بے شک کچھ لوگ دین سے یوں نکل جائیں گے، جس طرح تیر نشانے سے پار ہوجاتا ہے ،اور وہ لوگ دین میں واپس کبھی نہیں آئیں گئے یا در رکھنا ان کی مخصوص نشانی یہ ہے کہ ان کے درمیان ایک سیاہ فام شخص ہوگا، جس کے ایک ہاتھ کی بناوٹ ناقص ہوگی۔ اس کا ایک ہاتھ عورت کی چھاتی کی طرح ہو گا اور وہ یوں حرکت کرے گا، جس طرح عورت حرکت کرتی ہے۔راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں، اس کے اردگرد سات بال ہوں گے (حضرت علی ؓ نے فرمایا:) تم لوگ اسے تلاش کرو کیونکہ میرا خیال ہے وہ ان میں ہو گا ،تو لوگوں نے نہر کے کنارے مقتولین میں اس شخص کو پالیا تو حضرت علی ؓبولے: اللہ اور اس کے رسولﷺنے سچ کہا ہے۔حضرت علی ؓنے اپنے گلے میں عربی کمان لٹکائی تھی انہوں نے وہ کمان اس کے نا قص ہاتھ پر چھوتے ہوئے یہ بات کہی۔راوی کہتے ہیں: جب لوگوں نے اسے دیکھا تو وہ خوش ہو گئے اور انہوں نے اس سے بشارت حاصل کی اور انہوں نے جو الجھن محسوس کی تھی وہ ختم ہوگئی ۔

أَبُو كَثِيرٍ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ الْعَبْدِيِّ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 59

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter