Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 20

20 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ مِنْ هَاهُنَا، وَأَدْبَرَ النَّهَارُ مِنْ هَاهُنَا، وَغَابَتِ الشَّمْسُ فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ»

عاصم بن عمر بن خطاب اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا فرمان نقل کرتے ہیں:"جب رات اس طرف سے آجائے اور دن اس طرف سے رخصت ہو جائے اور سورج غروب ہو جائے ،تو روزہ دار شخص روزہ کھول لے"۔

أَبِيهِ ← عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ← أَبِي ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 20

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 21

21 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَعْمَرٍ وَغَيْرِهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ حُوَيْطِبِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى، عَنِ ابْنِ السَّعْدِيِّ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنَ الشَّامِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَلِي أَعْمَالًا مِنْ أَعْمَالِ الْمُسْلِمِينَ فَتُعْطَى عُمَالَتَكَ فَلَا تَقْبَلُ، فَقُلْتُ: أَجَلْ إِنَّ لِي أَفْرَاسًا أَوْ لِي أَعْبُدًا وَأَنَا بِخَيْرٍ، وَأُرِيدُ أَنْ يَكُونَ عَمَلِي صَدَقَةً عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ عُمَرُ: فَلَا تَفْعَلْ فَإِنِّي قَدْ أَرَدْتُ مِثْلَ الَّذِي أَرَدْتَ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعْطِينِي الْعَطَاءَ فَأَقُولُ: أَعْطِهِ مَنْ هُوَ أَحْوَجُ مِنِّي، وَإِنَّهُ أَعْطَانِي مَرَّةً مَالًا فَقُلْتُ: أَعْطِهِ مَنْ هُوَ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنِّي فَقَالَ: «يَا عُمَرُ مَا أَتَاكَ اللَّهُ بِهِ مِنْ هَذَا الْمَالِ عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافِ نَفْسٍ فَخُذْهُ، فَتَمَوَّلْهُ وَتَصَدَّقْ بِهِ، وَمَا لَا فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ»

ابن سعدی بیان کرتے ہیں: وہ ’’ شام ‘‘ سے حضرت عمر بن خطاب ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو حضرت عمرؓ نے ان سے فرمایا مجھے پتہ چلا ہے کہ تم کوئی سرکاری فرائض سرانجام دیتے رہے ہو اور جب تمہیں تنخواہ دی جانے لگی، تو تم نے اسے قبول نہیں کیا؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں میرے پاس گھوڑے ہیں۔( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) میرے پاس غلام ہیں اور میں اچھی حالت میں ہوں۔ تو میں یہ چاہتا ہوں کہ میری تنخواہ مسلمانوں کے لیے صدقہ ہو جائے تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا تم ایسا نہ کرو، کیونکہ جوارادہ تم نے کیا ہے اس طرح کا ارادہ ایک مرتبہ میں نے بھی کیا تھا۔ نبی اکرم ﷺ جب مجھے کچھ عطا کرتے تھے، تو میں یہ گزارش کرتا تھا کہ آپ ﷺ یہ اسے دے دیں جس کو مجھ سے زیادہ اس کی ضرورت ہو۔ ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے مجھے مال دیا تو میں نے عرض کی : آپ ﷺ یہ اسے عطا کر دیجئے جسے مجھ سے زیادہ اس کی ضرورت ہو، تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فر مایا:"اے عمر !اللہ تعالیٰ مانگے بعیر اور تمہاری دلچسپی ظاہر کیے ،بعیر اس مال میں سے ،جو کچھ تمہیں عطا کرتا ہے ، اسے حاصل کر لو اور اس کے ذریعے اپنے مال میں اضافہ کرو، اسے صدقہ کرو اور جو مال ایسا نہ ہو، تو تم اس کے پیچھے اپنے آپ کو نہ لگاو"ٔ۔

ابْنِ السَّعْدِيِّ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنَ الشَّامِ ← حُوَيْطِبِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى، ← السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٍ، وَغَيْرِهِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 21

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 22

22 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، وَمَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ سَمِعَ مَالِكَ بْنَ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ: «إِنَّ أَمْوَالَ بَنِي النَّضِيرِ كَانَتْ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِمَّا لَمْ يُوجِفِ الْمُسْلِمُونَ عَلَيْهِ بِخَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ» فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِصَةً، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ مِنْهُ نَفَقَةَ سَنَةٍ وَمَا بَقِي جَعَلَهُ فِي الْكُرَاعِ وَالسِّلَاحِ عُدَّةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ " قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَكَانَ سُفْيَانُ إِنَّمَا قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: يَحْبِسُ مِنْهُ نَفَقَةَ سَنَةٍ

مالک بن اوس بیان کرتے ہیں :میں نے حضرت عمر بن خطاب ؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: بنو نضیر کی زمینیں وہ ہیں، جو الله تعالی ٰنے اپنے رسول ﷺ کو مال فے کے طور پر عطا کی تھیں ۔ مسلمانوں نے ان کے لیے گھوڑے نہیں دوڑائے تھے، سواریاں نہیں دوڑائیں تھیں یہ صرف نبی اکرمﷺ کے لیے مخصوص تھیں ۔ نبی اکرم ﷺ ان کی آمدن میں سے اپنے اہل خانہ کے سال بھر کا خرچ حاصل کرتے تھے اور جو باقی بچ جا تا تھا اسے گھوڑوں اور اسلحے کے لیے ، یعنی اللہ کی راہ میں تیاری کے لیے استعمال کرتے تھے۔ حمیدی ؒ کہتے ہیں : سفیان نے اس روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ’’نبی اکرم ﷺ اس میں سے سال بھر کا خرچ روک لیتے تھے۔‘‘

ابْنِ شِهَابٍ، ← عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ وَمَعْمَرٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 22

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 23

23 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ: " أَلَا لَا تُغْلُوا صُدُقَ النِّسَاءِ فَإِنَّهَا لَوْ كَانَتْ مَكْرُمَةً فِي الدُّنْيَا، أَوْ تَقْوًى عِنْدَ اللَّهِ كَانَ أَوْلَاكُمْ أَوْ أَحَقُّكُمْ بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا عَلِمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ، وَلَا أَنْكَحَ ابْنَةً مِنْ بَنَاتِهِ عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً، وَإِنَّ أَحَدَكُمُ الْيَوْمَ لَيُغْلِي بِصَدَقَةِ الْمَرْأَةِ حَتَّى تَكُونَ لَهَا عَدَاوَةً فِي نَفْسِهِ يَقُولُ: كَلِفْتُ إِلَيْكِ عَلَقَ الْقِرْبَةِ [ص:160] قَالَ: وَكُنْتُ غُلَامًا شَابَّا فَلَمْ أَدْرِ مَا عَلَقُ الْقِرْبَةِ " قَالَ: وَأُخْرَى تَقُولُونَهَا لِبَعْضِ مَنْ يُقْتَلُ فِي مَغَازِيكُمْ هَذِهِ قُتِلَ فُلَانٌ شَهِيدًا، أَوْ مَاتَ فُلَانٌ شَهِيدًا، وَلَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ قَدْ أَوْقَرَ دُفَّ رَاحِلَتِهِ أَوْ عَجُزَهَا ذَهَبًا، وَقَامَ يَلْتَمِسُ التِّجَارَةَ فَلَا تَقُولُوا ذَاكُمْ، وَلَكِنْ قُولُوا كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ كَمَا قَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ» قَالَ سُفْيَانُ: كَانَ أَيُّوبُ أَبَدًا يَشُكُّ فِيهِ هَكَذَا أَوْ قَالَ سُفْيَانُ: فَإِنْ كَانَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَ بِهِ هَكَذَا وَإِلَّا فَلَمْ يَحْفَظْ

ابو عجفاء سلمی بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عمر بن خطاب ؓ کویہ فرماتے ہوئے سنا : خبردار ! تم لوگ عورتوں کے مہر زیادہ مقرر نہ کرو، کیونکہ اگر یہ چیز دنیا میں عزت افزائی کا‘یا الله تعالی ٰکی بارگاہ میں تقوی ٰکاذر یعہ ہوتی ، تو تم میں سے زیادہ لائق تم میں سے زیادہ حقدار نبی اکرمﷺ تھے۔ میرے علم کے مطابق نبی اکرم ﷺنے اپنی ازواج میں سے جس خاتون کے ساتھ بھی شادی کی، یا اپنی صاحبزادیوں میں سے جس صاحبزادی کی بھی شادی کی، ان میں سے کسی کا مہر ’’بارہ اوقیہ ‘‘سے زیادہ نہیں تھا، لیکن آج تم میں سے کوئی ایک شخص اپنی بیوی کا مہر زیادہ ادا کرتا ہے ، یہاں تک کہ اس کے دل میں اس عورت کے لیے عداوت پیدا ہو جاتی ہے اور وہ یہ کہتا ہے :تمہاری وجہ سے مجھے پریشانی اٹھانا پڑی ہے۔ راوی کہتے ہیں میں ایک نوجوان شخص تھامجھے یہ سمجھ نہیں آئی کہ ’’ علق القر بہ ‘‘سے مراد کیا ہے۔ حضرت عمر نے بھی ارشادفرمایا: دوسری بات یہ ہے کہ تم لوگ جنگ میں قتل ہو جانے والے کے بارے میں یہ کہتے ہو فلاں شخص شہادت کی موت مارا گیا ہے یا فلاںشخص شہادت کی موت مرا ہے‘ حالانکہ ہوسکتا ہے اس نے اپنی سواری کے جانور پر بوجھ لادا ہوا ہو ، وہ سونے اور چاندی کو لے کر تجارت کرنے جارہا ہو ، تو تم لوگ یہ بات نہ کہو، بلکہ یوں کہو ؛ جو اللہ کے رسول ﷺنے ارشاد فرمایا ہے ۔(راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جوحضرت محمد ﷺ نے ارشاد فر مایا ہے ’’جو شخص اللہ کی راہ میں قتل ہو گا وہ جنت میں جائے گا‘‘۔ سفیان کہتے ہیں: ایوب نامی راوی ہمیشہ اس روایت کے الفاظ میں اسی طرح شک کا اظہار کرتے تھے۔ سفیان نامی راوی کہتے ہیں: اگر تو حماد بن زید نے بھی اس روایت کو انہی الفاظ میں نقل کیا ہے پھر تو ٹھیک ہے، ورنہ یہ روایت محفوظ نہیں ہے۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِي ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 23

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 24

24 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثني عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ: أَرْسَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى شَيْخٍ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ مِنْ أَهْلِ دَارِنَا قَدْ أَدْرَكَ الْجَاهِلِيَّةَ فَجِئْتُ مَعَ الشَّيْخِ إِلَى عُمَرَ وَهُوَ فِي الْحِجْرِ، فَسَأَلَهُ عُمَرُ عَنْ وِلَادٍ مِنْ وِلَادِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ الشَّيْخُ: أَمَّا النُّطْفَةُ فَمِنْ فُلَانٍ، وَأَمَّا الْوَلَدُ فَعَلَى فِرَاشِ فُلَانٍ، فَقَالَ عُمَرُ صَدَقْتَ «وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بَالْفِرَاشِ» فَلَمَّا وَلَّى الشَّيْخُ دَعَاهُ عُمَرُ فَقَالَ " أَخْبِرْنِي عِنْ بِنَاءِ الْكَعْبَةِ فَقَالَ إِنَّ قُرَيْشًا تَقَرَّبَتْ لِبِنَاءِ الْكَعْبَةِ فَعَجَزُوا وَاسْتَقْصَرُوا فَتَرَكُوا بَعْضًا فِي الْحِجْرِ فَقَالَ عُمَرُ: صَدَقْتَ "

عبيد الله بن ابو یزید بیان کرتے ہیں:میرے والد نے مجھے یہ بات بتائی ہے ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطاب ؓنے ’’بنوزہرہ‘‘ سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ کو پیغام بھیج کر اسے بلوایا وہ ہمارے محلے میں رہتاتھا اس نے زمانہ جاہلیت پایا ہوا تھا۔ میں اس بزرگ کے ساتھ حضرت عمر ؓ کے پاس آیا ۔ حضرت عمرؓ اس وقت ’’حطیم‘‘ میں موجود تھے حضرت عمرؓ نے اس سے زمانہ جاہلیت میں پیدا ہونے والی(نا جائز اولاد کے بارے میں) دریافت کیا ،تو وہ بزرگ بولا : جہاں تک نطفے کا تعلق ہے تو وہ فلاں شخص کا تھا جہاں پیدائش کا تعلق ہے، تو وہ فلاں شخص کے فراش پر ہوئی تو حضرت عمر ؓبولے تم نے ٹھیک کہا ہے، لیکن نبی اکرمﷺنے فراش کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔ جب وہ عمررسیدہ شخص واپس مڑ گیا تو حضرت عمر ؓانے اسے بلایا و دریافت کیا: تم مجھے خانہ کعبہ کی تعمیر کے بارے میں بتاؤ۔ اس نے بتایا: قریش خانہ کعبہ کی تعمیر کر کے نیکی حاصل کرنا چاہتے تھے، لیکن وہ اس کو بنانے سے عاجز ہو گئے‘ان کے پاس (ساز و سامان) کم ہوگیا، توانہوں نے "حطیم"والی جنگ کا کچھ حصہ چھوڑ دیا۔ تو حضرت عمر ؓ بولے تم نے سچ کہا ہے۔

أَبِي ← عُبَيْدِ اللَّهِ1 بْنِ أبي يزيد، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 24

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 25

25 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ، وَكَانَ مِمَّا أُنْزِلَ عَلَيْهِ آيَةُ الرَّجْمِ فَرَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَمْنَا بَعْدَهُ» [ص:162] قَالَ: فَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ بِطُولِهِ فَحَفِظْتُ مِنْهُ أَشْيَاءَ وَهَذَا مِمَّا لَمْ أَحْفَظْ مِنْهَا يَوْمَئِذٍ.

حضرت عبدالله بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عمر بن خطاب ؓ کومنبر پر یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: بے شک الله تعالیٰ نے حضرت محمدﷺ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے اس نے ان پر کتاب نازل کی، تو ان پر جو چیز نازل ہوئی اس میں "رجم" سے متعلق آیت بھی تھی۔ نبی اکرم ﷺ نے سنگسار کروایا ہے آپ ﷺکے بعد ہم نے بھی سنگسار کروایا ہے۔ سفیان کہتے ہیں : میں نے یہ روایت طویل روایت کے طور پر زہری سے سنی تھی اس وقت میں نے اس میں سے کچھ چیزیں، یاد کرلیں لیکن یہ حصہ اس میں شامل ہے، جسے میں نے اس دن یاد نہیں کیا تھا۔

عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَلَى الْمِنْبَرِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 25

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 26

26 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: أَتَيْنَا الزُّهْرِيَّ فِي دَارِ ابْنِ الْجَوَازِ، فَقَالَ: إِنْ شِئْتُمْ حَدَّثْتُكُمْ بِعِشْرِينَ حَدِيثًا، وَإِنْ شِئْتُمْ حَدَّثْتُكُمْ بِحَدِيثِ السَّقِيفَةِ وَكُنْتُ أَصْغَرَ الْقَوْمِ فَاشْتَهَيْتُ أَنْ لَا يُحَدِّثَ بِهِ لِطُولِهِ فَقَالَ الْقَوْمُ: حَدِّثْنَا بِحَدِيثِ السَّقِيفَةِ فَحَدَّثَنَا بِهِ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ فَحَفِظْتُ مِنْهُ أَشْيَاءَ، ثُمَّ حَدَّثَنِي بَقِيَّتَهُ بَعْدَ ذَلِكَ مَعْمَرٌ

سفیان کہتے ہیں: ہم ابن جواز کے گھر میں زہری کی خدمت میں حاضر ہوئے ،تو وہ بولے: اگرتم لوگ چاہو تو میں تمہیں بیسں حدیثیں سناتا ہوں اور اگر تم چاہوتو میں تمہیں ”سقیفہ‘‘ سے متعلق حدیث سناتا ہوں ۔( سفیان کہتے ہیں) میں حاضرین میں سے سب سے کم سن تھا اس لیے میں اس بات کا خواہش مند تھا کہ وہ طویل حدیث نہ سنائیں لیکن حاضرین نے کہا کہ آپ ہمیں’’سقیفہ‘‘سے متعلق حدث سنائیں۔ تو انہوں نے عبید الله بن عبداللہ کے حوالے سے حضرت عبد الله بن عباس ؓ کے حوالے سے حضرت عمؓر سے روایت نقل کی جس میں سے کچھ چیزیں میں نے یاد کر لیں اور اس روایت کا بقیہ حصہ اس کے بعد معمر نے مجھے سنایا تھا۔

أَتَيْنَا الزُّهْرِيَّ فِي دَارِ ابْنِ الْجَوَازِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 26

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 27

27 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَمَ فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُهُ فَقُولُوا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ»

حضرت عبدالله بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں، انہوں نے حضرت عمر بن خطاب ؓ کومنبر پر یہ بیان کرتے ہوئے سنا: وہ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ’’تم لوگ مجھے اس طرح نہ بڑھا دینا جس طرح عیسائیوں نے ابن مریم کو بڑھا دیا تھا میں (اللہ)کا بندہ ہوں ‘تو تم لوگ یوں کہو اس کے بندے اور اس کے رسول“۔

عَبْدُهُ فَقُولُوا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ← لَا تُطْرُونِي کَمَا أَطْرَتْ النَّصَارَی ابْنَ مَرْيَمَ فَإِنَّمَا ← النَّبِيِّ ← عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَلَى الْمِنْبَرِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 27

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 28

28 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ عَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَلَى الْمِنْبَرِ يُخْبِرُ بِذَلِكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوْ إِلَى امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ»

علقمہ بن وقاص لیثی بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عمر بن خطاب ؓ کومنبر پر نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ روایت بیان کرتے ہوئے سنا: وہ کہتے ہیں :میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ اعمال (کی جزا) کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر آدمی کو وہی جزا ملے گی جو اس نے نیت کی ہوگی‘تو جس شخص کی ہجرت اللہ اوراس کے رسول ﷺ کی طرف ہوگی اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف شمار ہو گی اور جس شخص کی ہجرت دنیا کے لیے ہوگی تا کہ وہ اسے حاصل کرلے یا کسی عورت کے ساتھ نکاح کرنے کے لیے ہوگی‘تو اس کی ہجرت اسی طرف شمار ہوگی، جس کی طرف نیت کر کے اس نے ہجرت کی تھی‘‘۔

رَسُولِ اللَّهِ ← رَسُولِ اللَّهِ ← عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَلَى الْمِنْبَرِ يُخْبِرُ بِذَلِكَ ← عَلْقَمَۃَ بْنِ وَقَّاصِ اللَّیْثِیِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ أَنَّهُ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 28

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 29

29 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا يَحْيَى بْنُ صَبِيحٍ الْخُرَاسَانِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ قَالَ عَلَى الْمِنْبَرِ: " رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ دِيكًا نَقَرَنِي ثَلَاثَ مَرَّاتٍ أَوْ نَقَرَنِي ثَلَاثَ نَقَرَاتٍ فَقُلْتُ: أَعْجَمِيٌّ وَإِنِّي قَدْ جَعَلْتُ هَذَا الْأَمْرَ بَعْدِي إِلَى هَؤُلَاءِ السِّتَّةِ الَّذِينَ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ عُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَالزُّبَيْرُ، وَطَلْحَةُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ فَمَنِ اسْتُخْلِفَ فَهُوَ الْخَلِيفَةُ "

معدان بن طلحہ حضرت عمر بن خطاب ؓ کے بارے میں یہ بات بیان کرتے ہیں ، انہوں نے منبر پر یہ بات ارشاد فرمائی:میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا ایک مرغ نے تین مرتبہ مجھے ٹھونگا مارا ہے (یہاں روایت کے الفاظ میں راوی کو شک ہے) میں نے سوچا: کوئی عجمی( مجھے شہید کر دے گا)میں اپنے بعد( نئے خلیفہ کے انتخاب ) کا معاملہ ان چھ افراد کو سونپ کر جارہا ہوں کہ جب نبی اکرم ﷺ دنیا سے رخصت ہوئے تھے‘تو آپ ﷺ ان حضرات سے راضی تھے یہ حضرات عثمان ،علی ، زبیر طلحہ، عبدالرحمن بن عوف اور حضرت سعد بن ابی وقاص ہیں‘تو جس شخض کوخلیفہ منتخب کر لیا جائے وہی خلیفہ شمار ہوگا۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ ← مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ، ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← قَتَادَةَ ← يَحْيَى بْنُ صُبَيْحٍ الْخُرَاسَانِيُّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 29

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 30

30 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ «كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِذَا صَلَّى صَلَاةً جَلَسَ لِلنَّاسِ فَمَنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ كَلَّمَهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لِأَحَدٍ حَاجَةٌ قَامَ فَدَخَلَ» [ص:165] قَالَ: " فَصَلَّى صَلَوَاتٍ لَا يَجْلِسُ لِلنَّاسِ فِيهِنَّ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَحَضَرْتُ الْبَابَ فَقُلْتُ: يَا يَرْفَأُ أَبِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ شَكَاةٌ؟ فَقَالَ: مَا بِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ مِنْ شَكْوًى فَجَلَسْتُ، فَجَاءَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَجَلَسَ فَخَرَجَ يَرْفَأُ فَقَالَ: قُمْ يَا ابْنَ عَفَّانَ، قُمْ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ فَدَخَلْنَا عَلَى عُمَرَ " فَإِذَا بَيْنَ يَدَيْهِ صُبَرٌ مِنْ مَالٍ عَلَى كُلِّ صُبْرَةٍ مِنْهَا كِنْفٌ فَقَالَ عُمَرُ: " إِنِّي نَظَرْتُ فِي أَهْلِ الْمَدِينَةِ وَجَدْتُكُمَا مِنْ أَكْثَرِ أَهْلِهَا عَشِيرَةً، فَخُذَا هَذَا الْمَالَ فَاقْتَسِمَاهُ، فَمَا كَانَ مِنْ فَضْلٍ فَرُدَّا، فَأَمَّا عُثْمَانُ فَحَثَا وَأَمَّا أَنَا فَجَثَوْتُ لِرُكْبَتَيَّ، وَقُلْتُ: وَإِنْ كَانَ نُقْصَانٌ رَدَدْتَ عَلَيْنَا، فَقَالَ عُمَرُ «نَشْنَشَةٌ مِنْ أَخْشَنَ - يَعْنِي حَجَرًا مِنْ جَبَلٍ - أَمَا كَانَ هَذَا عِنْدَ اللَّهِ إِذْ مُحَمَّدٌ وَأَصْحَابُهُ يَأْكُلُونَ الْقَدَّ» فَقُلْتُ: بَلَى وَاللَّهِ لَقَدْ كَانَ هَذَا عِنْدَ اللَّهِ وَمُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ، وَلَوْ عَلَيْهِ فُتِحَ لَصَنَعَ فِيهِ غَيْرَ الَّذِي تَصْنَعُ، قَالَ: فَغَضِبَ عُمَرُ وَقَالَ: «أَوْ صَنَعَ مَاذَا؟» قُلْتُ: إِذًا لَأَكَلَ وَأَطْعَمَنَا، قَالَ: فَنَشَجَ عُمَرُ حَتَّى اخْتَلَفَتْ أَضْلَاعُهُ، ثُمَّ قَالَ «وَدِدْتُ أَنِّي خَرَجْتُ مِنْهَا كَفَافًا لَا لِيَ وَلَا عَلَيَّ»

حضرت عبداللہ بن عباس ؓبیان کرتے ہیں :حضرت عمر بن خطابؓ نماز ادا کر لینے کے بعد لوگوں سے(بات چیت کے لیے) بیٹھ جاتے تھے‘تو جس شخص کو کوئی کام ہوتا تھا وہ ان کے ساتھ بات کر لیتا تھا اگر کسی کو کوئی کام نہیں ہوتا تھا، تو وہ اٹھ کر(اپنے گھر) تشریف لے جاتے تھے۔حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت عمرؓ نے کچھ نمازیں ادا کیں لیکن وہ ان کے بعد لوگوں سے ملاقات کے لیے نہیں بیٹھے ۔ حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں :میں ان کے دروازے پر آیا میں نے کہا:اے یرفا !(یہ حضرت عمرؓ کا خادم تھا) کیا امیرالمومنین بیمار ہیں ؟ اس نے جواب دیا:امیر المومنین بیمار تو نہیں ہیں۔(حضرت ابن عباس ؓکہتے ہیں) میں وہاں بیٹھ گیا اسی دوران حضرت عثمانؓ وہاں آگئے‘ تو وہ بھی وہاں بیٹھ گئے۔ یرفا باہر آیا‘ تو بولا: اے ابن عفان! اے ابن عباس! آپ آئیے تو ہم لوگ حضرت عمرؓ کے پاس آئے ان کے سامنے مال کے کچھ ڈھیر رکھے ہوئے تھے اور ہرڈھیر کے ساتھ برتن بھی رکھا ہوا تھا۔ حضرت عمر ؓ بولے :میں نے اہل مدینہ کا جائزہ لیا تو میں نے تم دونوں کو ایسا پا یا جن کے خاندان کے زیادہ افراد یہاں موجود ہیں ‘تو آپ لوگ اس مال کو حاصل کر کے تقسیم کریں جو بچ جائے وہ واپس کر دیں‘ تو حضرت عثمان ؓ نے دونوں ہاتھ ملا کر جو کچھ آیا تھاوہ لے لیا لیکن میں گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا میں نے کہا: اگر یہ کم ہوا تو آپ ہمیں اور دیں گے؟ حضرت عمر ؓ بولے : سخت ترین چیز کا ٹکڑا ہے۔ ( راوی کہتے ہیں:) اس سے مراد یہ ہے کہ پہاڑ کا پتھر ہے (یعنی حضرت عمرؓ نے حضرت ابن عباسؓ کو ان کے والد کے ساتھ تشبیہ دیتے ہوئے ان کی تعریف کی کہ یہ اپنی جرات میں اورصحیح رائے پیش کرنے میں اپنے والد کی مانند ہیں) حضرت عمر ؓ بولے: کیا الله تعالی کی بارگاہ میں اس چیز کی کوئی قدر نہیں ہوگی کہ جب حضرت محمد ﷺ اور ان کے اصحاب َکدُ کھایا کرتے تھے۔ میں نے عرض کی: جی ہاں! اللہ تعالی کی قسم! الله تعالی کی بارگاہ میں یہ بات قابل قدر ہے اگر نبی اکرم ﷺزندہ ہوتے اور آپﷺ کو فتوحات نصیب ہوتیں‘تو نبی اکرمﷺ کا طرز عمل اس سے مختلف ہوتا جو آپ کا ہے ‘تو حضرت عمر ؓ غصے میں آگئے اور بولے :پھر نبی اکرمﷺنے کیا کرنا تھا‘تو میں نے کہا:آپ ﷺنے خود بھی کھانا تھا‘ اور ہمیں بھی کھانے دینا تھا‘ تو حضرت عمرؓ رونے لگے یہاں تک کہ ان کی پسلیاں حرکت کرنے لگیں، پھر وہ بولے : میری یہ خواہش ہے کہ میں اس معاملے سے برابری کی بنیاد پرنکل جاؤں نہ مجھے کچھ ملے نہ میرے ذمے کچھ لا زم ہو۔

أَبِي ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 30

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 31

31 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: لَوْ عَلَيْنَا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ، وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي، وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا} [المائدة: 3] لَاتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا، فَقَالَ عُمَرُ: «إِنِّي لَأَعْلَمُ أَيَّ يَوْمٍ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ نَزَلَتْ يَوْمَ عَرَفَةَ وَفِي يَوْمِ جُمُعَةٍ»

طارق بن شہاب کہتے ہیں:یہودیوں سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا :اگر یہ آیت ہم لوگوں پر نازل ہوئی ہوتی۔"آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو مکمل کر دیا اورتم پر اپنی نعمت کو تمام کر دیا اور تمہارے لیے اسلام کے دین ہونے سے راضی ہوگیا"۔تو ہم اس دن کو عید کا دن قرار دیتے۔تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ بولے: میں یہ بات جانتا ہوں کہ یہ آیت کس دن نازل ہوئی تھی؟ یہ آیت عرفہ کے دن نازل ہوئی تھی اورجمعہ کے دن میں نازل ہوئی تھی۔

طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← مسعر وغيره ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 31

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter