Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 8

8 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ثنا الزُّهْرِيُّ سَمِعْتُ أَبَا عُبَيْدٍ يَقُولُ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ صِيَامِ هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ: يَوْمِ الْفِطْرِ، وَيَوْمِ الْأَضْحَى , فَأَمَّا يَوْمُ الْفِطْرِ فَيَوْمُ فِطْرِكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ، وَأَمَّا يَوْمُ الْأَضْحَى فَكُلُوا فِيهِ مِنْ لَحْمِ نُسُكِكُمْ " ثُمَّ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَوَافَقَ ذَلِكَ يَوْمَ جُمُعَةٍ , فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ هَذَا يَوْمٌ اجْتَمَعَ فِيهِ عِيدَانِ لِلْمُسْلِمِينَ فَمَنْ كَانَ هَاهُنَا مِنْ أَهْلِ الْعَوَالِي فَأَحَبَّ أَنْ يَذْهَبَ فَقَدْ أَذِنَّا لَهُ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَمْكُثَ فَلْيَمْكُثْ» ثُمَّ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ قَالَ: «لَا يَأْكُلَنَّ أَحَدُكُمْ مِنْ لَحْمِ نُسُكِهِ فَوْقَ ثَلَاثٍ» قَالَ أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ قُلْتُ لِسُفْيَانَ: إِنَّهُمْ يَرْفَعُونَ هَذِهِ الْكَلِمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ سُفْيَانُ لَا أَحْفَظُهَا مَرْفُوعَةً وَهِيَ مَنْسُوخَةٌ

ابوعبیدہ بیان کرتے ہیں: میں حضرت عمر بن خطابؓ کے ساتھ عید کی نماز میں شریک ہوا انہوں نے خطبہ دینے سے پہلے نماز ادا کی پھر یہ بات بیان کی۔ نبی اکرم ﷺ نے ان دودنوں کا روزہ رکھنے سے منع کیا ہے۔ عید الفطر کا دن اور عید الا ضحیٰ کا دن، جہاں تک عید الفطر کے دن کا تعلق ہے، تو یہ ایک ایسا دن ہے ‘جب تم روزے رکھنے ختم کر دیتے ہو‘ تو اس دن تم کھاؤ پیو گے۔ جہاں تک عید الاضحیٰ کے دن کاتعلق ہے، تو اس دن تم اپنی قربانی کا گوشت کھاؤ۔ (راوی کہتے ہیں:) پھر میں حضرت عثمان غنی ؓ کی اقتداء میں عید کی نماز میں شریک ہوا تو اس دن جمعہ بھی تھا انہوں نے خطے سے پہلے نماز ادا کی پھر یہ بات بیان کی: آج وہ دن ہے‘ جس میں الله تعالی نے مسلمانوں کے لیے دو عیدیں اکٹھی کر دی ہیں‘ تو یہاں نواحی علاقوں میں رہنے والے جولوگ موجود ہیں ان میں سے اگر کوئی شخص واپس جانا چاہے ، تو ہم اسے اجازت دیتے ہیں اور جو شخص ٹھہرنا چاہے وہ ٹھہر جائے۔(راوی کہتے ہیں:) پھر میں حضرت علی بن ابوطالب ؓ کی اقتداء میں عید کی نماز میں شریک ہوا توانہوں نے خطبے سے پہلے نماز ادا کی اور یہ بات ارشاد فرمائی۔ کوئی بھی شخص اپنی قربانی کے گوشت کو تین دن سے زیادہ ہرگز نہ کھائے۔ امام ابوبکر حمیدی ؒ بیان کرتے ہیں : محدثین نے تو یہ کلمات حضرت علی بن ابوطالبؓ کے حوالے سے’’مرفوع‘‘حدیث کے طور پر منقول نہیں ہے ویسے بھی یہ روایت’’منسوخ‘‘ہے۔

شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَبَدَأَ بِالصَّلاَةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ وَقَالَ ← أَبَا عُبَيْدٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 8

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 9

9 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَرْجِسَ يَقُولُ: رَأَيْتُ الْأُصَيْلِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَتَى الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ فَقَبَّلَهُ، ثُمَّ قَالَ: «وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ»

عبدالله بن سرجس بیان کرتے ہیں : میں نے’’آگے سے کم بالوں والے‘‘ حضرت عمر بن خطاب ؓکو دیکھا وہ حجر اسود کے پاس آئے ، انہوں نے اس کا بوسہ لیا پھر وہ بولے: الله کی قسم ! میں یہ بات جانتا ہوں کہ تم ایک پتھر ہو تم کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے اگر میں نے نبی اکرم ﷺ کوتمہیں بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا، تو میں تمہیں بوسہ نہ دیتا۔

رَأَيْتُ الْأُصَيْلِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَتَى الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ فَقَبَّلَهُ، ثُمَّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 9

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 10

10 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا يَحْيَى بْنُ صَبِيحٍ الْخُرَاسَانِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ قَالَ: إِنِّي أَحْسَبُ أَنَّكُمْ تَأْكُلُونَ شَجَرَتَيْنِ يَعْنِي خَبِيثَتَيْنِ الْبَصَلَ وَالثُّومَ فَإِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ فَاعِلِينَ فَاقْتُلُوهُمَا بِالنُّضْجِ ثُمَّ كُلُوهُمَا فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجِدُ رِيحَهُ مِنَ الرَّجُلِ فَيَأْمُرُ بِهِ فَيَخْرُجُ إِلَى الْبَقِيعِ "

معدان بن ابوطلحہ یعمری ، حضرت عمر بن خطابؓ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، میں یہ سمجھتا ہوں کہ تم لوگ ان دو درختوں ۔ حضرت عمر ؓ کی مراد دو بودار درخت پیاز اور لہسن تھے ( کی پیداوار کھاتے ہو ) اگر تم نے ضرور ایسا کرنا ہے تم پکا کر ان کی بو کو ختم کر دو پھر انہیں کھاؤ ، کیونکہ مجھے نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات یاد ہے کہ اگر آ پﷺ کو کسی شخص سے اس کی بو محسوس ہوتی تو آپ اس کے بارے میں حکم دیتے تھے، تو اسے ’بقيع‘ کی طرف نکال دیا جاتا تھا۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ ← مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ، ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← قَتَادَةَ ← يَحْيَى بْنُ صُبَيْحٍ الْخُرَاسَانِيُّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 10

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 11

11 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا حُصَيْنٌ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ يُحَدِّثُ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِثْلَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَذْكُرْ حُصَيْنٌ مَعْدَانَ

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت عمر بن خطاب ؓ کے حوالے سے منقول ہے اس میں حصین نامی راوی نے معدان نامی راوی کا تذکرہ نہیں کیا۔

النَّبِيِّ وَلَمْ يَذْكُرْ حُصَيْنٌ مَعْدَانَ ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِثْلَهُ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← حُصَيْنٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 11

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 12

12 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَوَّلًا قَبْلَ أَنْ نَلْقَى الزُّهْرِيَّ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ قَالَ: أَتَيْتُ بِمِائَةِ دِينَارٍ أَبْغِي بِهَا صَرْفًا، فَقَالَ طَلْحَةُ: عِنْدَنَا صَرْفٌ انْتَظِرْ يَأْتِي خَازِنُنَا مِنَ الْغَابَةِ وَأَخَذَ مِنِّي الْمِائَةَ دِينَارٍ [ص:154] فَقَالَ لِي عُمَرُ: " لَا تُفْارِقْهُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا» فَلَمَّا جَاءَ الزُّهْرِيُّ لَمْ يَذْكُرْ هَذَا الْكَلَامَ وَسَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ النَّصْرِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا» قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: قَالَ سُفْيَانُ: وَهَذَا أَصَحُّ حَدِيثٍ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا يَعْنِي فِي الصَّرْفِ

حضرت مالک بن اوس ؓبیان کرتے ہیں : میں ایک سو دینار لے کہ آیا میں ان کے ذریعے بیع صرف کرنا چاہتا تھا‘ تو حضرت طلحہ ؓ بولے: ہم بیع صرف کرنا چاہتے ہیں تم انتظار کرو تا کہ ہمارا خزانچی’’غابہ‘‘سے آجائے انہوں نے مجھ سے ایک سو دینار وصول کر لیے تو حضرت عمر بن خطاب ؓنے مجھ سے فرمایا:تم اس سے الگ نہ ہونا، کیونکہ میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :چاندی کے عوض میں سونے کا لین دین سود ہے ماسوائے اس کے جو دست بدست ہو۔ گندم کے عوض میں گندم کا لین دین سود ہے ماسوائے اس کے جو دست بدست ہو۔ جو کے عوض میں جو کالین دین سود ہے ماسوائے اس کے جو دست بدست ہو ۔کھجور کے عوض میں کھجور کالین دین سود ہے ماسوائے اس کے جودست بدست ہو۔( راوی کہتے ہیں:) جب زہری آئے ‘ تو انہوں نے اس کلام کو نقل نہیں کیا۔ ویسے میں نے زہری کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے مالک بن اوس کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، وہ کہتے ہیں : میں نے حضرت عمر بن خطاب ؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے وہ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرمﷺکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: چاندی کے عوض میں سونے کا لین دین سود ہے ماسوائے اس کے جو دست بدست ہو۔ گندم کے عوض میں گندم کالین دین سود ہے ماسوائے اس کے جو دست بدست ہو۔ جو کے عوض میں جو کا لین دین سود ہے ماسوائے اس کے جو دست بدست ہو۔ کھجور کے عوض میں کھجور کالین دین سود ہے ماسوائے اس کے جو دست بدست ہو۔ حمیدی ؓ کہتے ہیں: سفیان نے یہ بات بیان کی ہے اس بارے میں منقول احادیث میں یہ روایت سب سے زیاد ه مستند ہے۔ سفیان کی مرادیہ تھی کہ ’’بیع صرف“ کے بارے میں جو روایات منقول ہیں۔

عمرو بن دينار أولا قبل ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 12

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 13

13 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي طَاوُسٌ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: بَلَغَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَنَّ سَمُرَةَ بَاعَ خَمْرًا فَقَالَ: قَاتَلَ اللَّهُ سَمُرَةَ أَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ [ص:155] رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ فَجَمَلُوهَا فَبَاعُوهَا»

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں حضرت عمر بن خطاب ؓ کو یہ اطلاع ملی کہ حضرت سمرہ ؓ شراب فروخت کرتے ہیں تو وہ بولے :الله تعالی سمرہ کو برباد کر نے کیا اسے اس بات کا پتہ نہیں ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے:الله تعالی یہودیوں پر لعنت کرے کہ جب ان کے لیے چربی کو حرام قرار دیا گیا، تو انہوں نے اسے پگھلا کر فروخت کیا‘۔ یعنی انہوں نے اسے پگھلا دیا۔

لَعَنَ اللهُ الْيَهُودَ، حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ، فَجَمَلُوهَا فَبَاعُوهَا ← قَاتَلَ اللَّهُ سَمُرَةَ أَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ [ص:155] رَسُولَ اللَّهِ ← بَلَغَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَنَّ سَمُرَةَ بَاعَ خَمْرًا ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوْسٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 13

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 14

14 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ثنا مِسْعَرٌ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي فُلَانٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ بِيَدِهِ عَلَى الْمِنْبَرِ هَكَذَا - يَعْنِي يُحَرِّكُهَا يَمِينًا وَشِمَالًا - عُوَيْمِلٌ لَنَا بِالْعِرَاقِ، عُوَيْمِلٌ لَنَا بِالْعِرَاقِ خَلَطَ فِي فَيْءِ الْمُسْلِمِينَ أَثْمَانَ الْخَمْرِ وَالْخَنَازِيرِ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ فَجَمَلُوهَا فَبَاعُوهَا» يَعْنِي أَذَابُوهَا

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں :میں نے حضرت عمر بن خطاب ؓ کومنبر پر اپنے ہاتھ کے ذریعے اس طرح اشارہ کر تے ہوئے یعنی اپنے ہاتھ کو با ئیں طرف اور د ائیں طرف حرکت دیتے ہوئےکہتے ہوے سنا:عراق میں ہمارے ایک چھوٹے اہل کار نے مسلمانوں کے مال فے میں شراب اورخنزیر کی قیمت بھی خلط ملط کردی ہے، حالانکہ نبی اکرمﷺنے یہ بات ارشاد فرمائی ہے:"الله تعالی یہودیوں پر لعنت کرے ان کے لیے چربی کو حرام قرار دیا گیا، تو انہوں نے اسے پگھلا کر اسے فروخت کر دیا"۔ (راوی کہتے ہیں: ) یعنی انہوں نے اسے پگھلا دیا۔

رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، عَلَى الْمِنْبَرِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← فُلَانٌ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← مِسْعَرٍ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 14

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 15

15 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ يَسْأَلُ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ فَقَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: حَمَلْتُ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَرَأَيْتُهُ يُبَاعُ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْتَرِيهِ؟ فَقَالَ «لَا تَشْتَرِهِ، وَلَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ» [ص:156]

امام مالک بن انس نے زید بن اسلم سے سوال کیا، تو زید نے بتایا:میں نے اپنے والد کویہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے حضرت عمر بن خطاب ؓ نے یہ بات بیان کی ہے میں نے اپنا ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں( جہاد میں حصہ لینے کے لیے )دیا پھر بعد میں، میں نے اس گھوڑے کو فروخت ہوتے ہوئے دیکھا تو میں نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا : کیا میں اسے خرید لوں؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا تم اسے نہ خرید و اورتم اپنی صدقہ کی ہوئی چیز کو واپس نہ لو۔

أَبِي ← مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ يَسْأَلُ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 15

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 16

16 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ، سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ السِّخْتِيَانِيِّ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: رَآهَا تُبَاعُ أَوْ بَعْضَ نِتَاجِهَا

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت عمر بن خطاب ؓسے منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں حضرت عمر ؓنے اسے فروخت ہوتے ہوئے دیکھا تھایا شاید اس کی اولاد میں سے کسی جانور کو فروخت ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔

رَآهَا تُبَاعُ أَوْ بَعْضَ نِتَاجِهَا ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ ← ابْنِ سِيرِينَ، ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 16

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 17

17 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَابِعْ مَا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فَإِنَّ مُتَابَعَةً بَيْنَهُمَا يَزِيدَانِ فِي الْأَجَلِ، وَيَنْفِيَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوبَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ الْخَبَثَ» قَالَ سُفْيَانُ: هَذَا الْحَدِيثُ حَدَّثَنَاهُ عَبْدُ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيُّ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ عَاصِمٍ فَلَمَّا قَدِمَ عَبْدَةُ أَتَيْنَاهُ لِنَسْأَلَهُ عَنْهُ فَقَالَ: إِنَّمَا حَدَّثَنِيهِ عَاصِمٌ وَهَذَا عَاصِمٌ حَاضِرٌ فَذَهَبْنَا إِلَى عَاصِمٍ فَسَأَلْنَاهُ فَحَدَّثَنَا بِهِ هَكَذَا، ثُمَّ سَمِعْتُهُ مِنْهُ بَعْدَ ذَلِكَ فَمَرَّةً يَقِفُهُ عَلَى عُمَرَ وَلَا يَذْكُرُ فِيهِ عَنْ أَبِيهِ وَأَكْثَرُ ذَلِكَ كَانَ يُحَدِّثُهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سُفْيَانُ وَرُبَّمَا سَكَتْنَا عَنْ هَذِهِ الْكَلِمَةِ يَزِيدَانِ فِي الْأَجَلِ فَلَا نُحَدِّثُ بِهَا مَخَافَةَ أَنْ يَحْتَجَّ بِهَا هَؤُلَاءِ - يَعْنِي الْقَدَرِيَّةَ - وَلَيْسَ لَهُمْ فِيهَا حُجَّةٌ

حضرت عمر بن خطابؓ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے: "حج اور عمرے کو آگے پیچھے کرو‘کیونکہ ان دونوں کو آگے پیچھے کرنا زندگی میں اضافہ کرتا ہے غربت اور گناہوں کو ختم کر دیتا ہے ،جس طرح بھٹی لوہے کے زنگ کوختم کر دیتی ہے"۔ سفیان کہتے ہیں: یہ روایت عبدالکریم نامی راوی نے عبده نامی راوی کے حوالے سےاور انہوں نے عاصم کے حوالے سے بیان کی تھی۔ جب عبدہ آ ئے،توہم اس روایت کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے بتایا:عاصم نے یہ روایت مجھے سنائی ہے اور عاصم بھی یہاں موجود ہیں یعنی اسی شہر میں ہیں تو ہم لوگ عام کے پاس گئے اور ان سے اس روایت کے بارے میں دریافت کیا ‘ تو انہوں نے یہ روایت اسی طرح ہمیں سنائی ۔پھر اس کے بعد میں نے انہیں سنا کہ ایک مرتبہ انہوں نے اس روایت کو حضرت عمؓر تک’’موقوف‘‘روایت کے طور بیان پر کیا اور ایک مرتبہ انہوں نے اس کی سند میں اپنے والد کا تذکرہ نہیں کیا۔ تا ہم اکثر اوقات وہ اس روایت کوعبد الله بن عامر کے حوالے سے وہ ان کے والد کے حوالے سے وہ حضرت عمر ؓ کے حوالے سے اور وہ اسے نبی اکرمﷺ سے نقل کرتے تھے۔ سفیان کہتے ہیں، بعض اوقات وہ ہمارے سامنے یہ الفاظ بھی بیان نہیں کرتے تھے ’’یہ دونوں زندگی میں اضافہ کرتے ہیں۔‘‘ تو ہم ان کلمات کو حدیث میں بیان نہیں کرتے ہیں اس اندیشے کے تحت کہ کہیں وہ لوگ اس کے ذریعے استدلال نہ کریں۔ سفیان کی مراد وہ لوگ تھے ‘جو تقدیر کا انکار کرتے ہیں حالانکہ اس روایت میں ان لوگوں کے لیے کوئی دلیل نہیں ہے۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ← عاصم بن عبيد الله العمري ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 17

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 18

18 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ حَفِظْنَاهُ مِنْهُ غَيْرَ مَرَّةٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ شَقِيقَ بْنَ سَلَمَةَ يَقُولُ كَثِيرًا مَا يَقُولُ: ذَهَبْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ إِلَى الصُّبَيِّ بْنِ مَعْبَدٍ نَسْتَذْكِرُهُ هَذَا الْحَدِيثَ فَقَالَ الصُّبَيُّ: كُنْتُ رَجُلًا نَصْرَانِيًّا فَأَسْلَمْتُ فَخَرَجْتُ أُرِيدُ الْحَجَّ فَلَمَّا كُنْتُ بِالْقَادِسِيَّةِ أَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ جَمِيعًا، فَسَمِعَنِي سَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ وَزَيْدُ بْنُ صُوحَانَ فَقَالَا: لَهَذَا أَضَلُّ مِنْ بَعِيرِ أَهْلِهِ، فَكَأَنَّمَا حُمِلَ عَلَيَّ بِكَلِمَتِهِمَا جَبَلٌ، فَلَقِيتُ عُمَرَ [ص:157] بْنَ الْخَطَّابِ فَأَخْبَرْتُهُ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِمَا فَلَامَهُمَا ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ فَقَالَ: «هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ» فَقَالَ سُفْيَانُ: يَعْنِي أَنَّهُ قَدْ جَمَعَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَجَازَهُ وَلَيْسَ أَنَّهُ فَعَلَهُ هُوَ

ابووائل شقیق بن سلمہ بیان کرتے ہیں :میں اور مسروق ‘ صبی بن معبد کے پاس گئے تا کہ ان سے اس حدیث کے بارے میں گفتگوکریں ،تو صبی بولے :میں ایک عیسائی شخص تھامیں نے اسلام قبول کیامیں حج کرنے کے ارادے سے روانہ ہونے لگا، جب میں’’قادسیہ‘‘پہنچا تو وہاں میں نے حج اور عمرے دونوں کو ساتھ کرنے کا احرام باندھا (یا تلبیہ پڑھا) سلمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان نے مجھے سنا تو وہ بولے:یہ شخص اپنے گھر کے اونٹ سے زیادہ گمراہ ہے۔ ان کے ان کلمات کی وجہ سے گویا میرے اوپر پہاڑ کا وزن آگیا میری ملاقات جب حضرت عمر بن خطاب ؓ سے ہوئی تو میں نے انہیں اس بارے میں بتایا تو حضرت عمر ؓ ان دونوں لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ان دونوں کو ملامت کی پھر وہ میری طرف متوجہ ہوے اور بولے:تمہارے نبیﷺ کی سنت کی طرف تمهاری رہنمائی کی گئی ہے ۔تمہارے نبیﷺ کی سنت کی طرف تمہاری رہنمائی کی گئی ہے۔ سفیان کہتے ہیں: اس سے مراد یہ ہے کہ حضرت عمرؓ نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ حج اور عمرہ اکٹھے ادا کیا تھا‘اور نبی اکرم ﷺ نے اسے درست قرار دیا تھا۔اس سے مراد یہ نہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے خود ایسا کیا تھا۔

أَبَا وَائِلٍ شَقِيقَ بْنَ سَلَمَةَ ← عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ حَفِظْنَاهُ مِنْهُ غَيْرَ مَرَّةٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 18

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 19

19 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَبِشْرُ بْنُ بَكْرٍ قَالاَ: ثنا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ: ثني يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، ثني عِكْرِمَةُ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ بِوَادِي الْعَقِيقِ: " أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتٍ مِنْ رَبِّي، فَقَالَ: صَلِّ فِي هَذَا الْوَادِي الْمُبَارَكِ وَقُلْ عُمْرَةٌ فِي حِجَّةٍ "

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عمر بن خطاب ؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سناہے‘ وہ کہتے ہیں:میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سناہے آپ ﷺاس وقت ’’وادی عقیق ‘‘ میں موجود تھے۔"گزشتہ رات میرے پروردگار کا فرستاده میرے پاس آیا اور بولا:آپﷺ اس مبارک وادی میں نماز ادا کیجئے اور یہ کہیے عمرہ‘حج میں ہے (یعنی آپ ﷺ حج کے ساتھ عمرہ کرنے کا بھی تلبیہ پڑھئے)"

وَهُوَ بِوَادِي الْعَقِيقِ: أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتٍ مِنْ رَبِّي، ← رَسُولِ اللَّهِ ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَبِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 19

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter