Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 769

769 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَى مَغَيْرِبَانِ الشَّمْسِ، فَلَمْ يَبْقَ شَيْءٌ يَكُونُ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ إِلَّا أَخْبَرَنَا بِهِ، عَلِمَهُ مَنْ عَلِمَهُ، وَجَهِلَهُ مَنْ جَهِلَهُ، فَقَالَ: «أَنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، وَإِنَّ اللَّهَ مُسْتَخْلِفَكُمْ فِيهَا فَنَاظِرٌ كَيْفَ تَعْمَلُونَ؟ أَلَا فَاتَّقُوا الدُّنْيَا، وَاتَّقُوا النِّسَاءَ، أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءً يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَدْرِ غَدْرَتِهِ، وَلِوَاءً عِنْدَ اسْتِهِ، أَلَا وَإِنَّ أَفْضَلَ الْجِهَادِ كَلِمَةُ حَقٍّ» وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ: «كَلِمَةُ عَدْلٍ عِنْدَ ذِي سُلْطَانٍ جَائِرٍ» قَالَ: ثُمَّ بَكَى أَبُو سَعِيدٍ، وَقَالَ: «فَكَمْ قَدْ رَأَيْنَا مِنْ مُنْكَرٍ فَلَمْ نُنْكِرْهُ أَلَا وَإِنَّ بَنِي آدَمَ خُلِقُوا عَلَى طَبَقَاتٍ، فَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ مُؤْمِنًا، وَيَحْيَى مُؤْمِنًا، وَيَمُوتُ مُؤْمِنًا [ص:18]، وَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ كَافِرًا، وَيَحْيَى كَافِرًا، وَيَمُوتُ كَافِرًا، وَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ مُؤْمِنًا، وَيَحْيَى مُؤْمِنًا، وَيَمُوتُ كَافِرًا، وَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ كَافِرًا، وَيَحْيَى كَافِرًا، وَيَمُوتُ مُؤْمِنًا، وَمِنْهُمْ سَرِيعُ الْغَضَبِ، سَرِيعُ الْفَيْءِ فَهَذِهِ بِتِلْكَ، وَمِنْهُمْ بَطِيءُ الْغَضَبِ، بَطِيءُ الْفَيْءِ، فَهَذِهِ بِتِلْكَ، أَلَا وَإِنَّ الْغَضَبَ جَمْرَةٌ مِنَ النَّارِ، فَمَنْ وَجَدَهُ مِنْكُمْ وَكَانَ قَائِمًا فَلْيَجْلِسْ، وَإِنْ كَانَ جَالِسًا فَلْيَضْطَجِعَ»

حضرت ابوسعید خدری ؓبیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺنے عصر کے بعد سے لے کر سورج غروب ہونے کے قریب تک ہمیں خطبہ دیا۔ آپ ﷺنے قیامت قائم ہونے تک کی ہر بڑی چیز کے بارے میں ہمیں بتادیا، تو جس شخص کو اس کا علم ہے اسے علم ہے۔ اور جوشخص ناواقف رہا۔ وہ ناواقف ہے۔ نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا: ”یہ دنیاسر سبز اور میٹھی ہے۔ الله تعالیٰ نے اس میں تمہیں اپنا نائب مقرر کیا ہے ،تا کہ وہ اس بات کو ظاہر کرے کہ تم کیا عمل کرتے ہو؟ خبر دار !دنیا سے بچنا اور خواتین کے بارے میں احتیاط کرنا۔ یادرکھنا! قیامت کے دن ہر غداری کرنے والے کے لیے ایک مخصوص جھنڈا ہو گا، جو اس کی غداری کے حساب سے ہو گا اوریہ جھنڈ ااس کی سرین کے پاس ہوگا۔ یادرکھنا !سب سے افضل جہادحق بات کہنا ہے (یہاں سفیان نامی راوی بعض اوقات یہ لفظ نقل کرتے ہیں)انصاف کی بات کہنا ہے، ظالم حکمران کے سامنے۔ راوی بیان کرتے ہیں ۔ پھر حضرت ابوسعید خدری ؓرونے لگے اور بولے: ہم نے کتنے ہی منکرات دیکھے۔ لیکن ہم نے ان کا انکار نہیں کیا۔ (نبی اکرم ﷺنےیہ بھی ارشادفرمایا) "خبردار اولاد آدم مختلف طبقات میں تقسیم کیا گیا ہے ان میں سے کچھ لوگوں کو مومن پیدا کیا جاتا ہے۔ وہ مومن ہونے کے طور پر ہی زندہ رہتے ہیں اور مومن ہونے کے طور پر ہی مرتے ہیں۔ اور کچھ لوگوں کو کافر پیدا کیا جاتا ہے وہ کافر ہونے کے طور پر زندہ رہتے ہیں اور کافر ہونے کے طور پر مرتے ہیں۔ کچھ لوگوں کو مومن ہونے کے طور پر پیدا کیا جاتاہے وہ مومن ہونے کے طور پر زندہ رہتے ہیں اور کافر ہونے کے طور پر مرتے ہیں۔ کچھ لوگوں کو کافر پیدا کیا جاتا ہے وہ کافر کے طور پر زندہ رہتے ہیں، لیکن مرتے وقت مومن ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ لوگ وہ ہیں ۔ جن کوغصہ جلدی آتا ہے اور ان کا غصہ ختم بھی جلدی ہو جاتا ہے ،تو یہ برابر ہے۔ ان میں سے کچھ لوگ وہ ہیں جنہیں غصہ دیر سے آتا ہے اور ان کا غصہ ختم بھی دیر سے ہوتا ہے۔ یہ بھی برابر ہیں۔ یاد رکھنا غصے ہونا آگ کا ایک انگارہ ہے ،تو تم میں سے جو شخص اس کیفیت کومحسوس کرے اگر وہ کھڑا ہوا ہو تو بیٹھ جائے اگر بیٹھا ہوا ہو تو لیٹ جائے"۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 769

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 770

770 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ فَإِنْ أَرَادَ أَنْ يَعُودَ فَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ»

حضرت ابوسعید خدری ؓ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے: "جب کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرے، پھر اگر وہ دوبارہ ایسا کرنا چاہے تو اسے نماز کے وضو کی طرح وضو کر لینا چاہیے"۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ، ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 770

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 771

771 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُطَرِّفٌ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ أَنْعَمُ وَقَدِ الْتَقَمَ صَاحِبُ الْقَرْنِ الْقَرْنَ، وَحَنَى جَبْهَتَهُ، وَأَصْغَى سَمْعَهُ يَنْتَظِرُ مَتَى يُؤْمَرُ» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: " قُولُوا: حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا "

حضرت ابوسعید خدری ؓ روایت کرتے ہیں، نبی اکرمﷺنے ارشادفرمایا ہے: ”میں نعمتوں سے کیسے لطف اندوز ہو سکتا ہوں؟ جبکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور کو اپنے منہ کے ساتھ لگایا ہوا ہے۔ اس کی پیشانی چمکی ہوئی ہے۔ اور اس نے اپنی سماعت کو متوجہ رکھا ہوا ہے۔ اور وہ اس بات کا انتظار کر رہا ہے ،اسے کب حکم ہوگا؟ ( کہ وہ صور میں پھونک ماردے) لوگوں نے عرض کی:یا رسول اللهﷺ آپ ﷺ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ نبی اکرم ﷺنے فرمایا:تم یہ پڑھا کرو۔ حسبنا الله ونعم الوكيل على الله توكلنا ۔ "ہمارے لیے الله تعالیٰ ہی کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے ہم الله تعالیٰ ہی پر توکل کرتے ہیں۔"

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطِّيَةَ الْعَوْفِيِّ ← مُطَرِّفٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 771

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 772

772 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَهْلَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَا لَيَرَوْنَ أَهْلَ عِلِّيِّينَ كَمَا تَرَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيِّ فِي الْأُفُقِ، وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ لَمِنْهُمْ، وَأَنْعَمَا»

حضرت ابوسعید خدری ؓ روایت کرتے ہیں ،نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے۔ ”(جنت میں) بلند درجات والے لوگ" علیین‘‘ کے لوگوں کو یوں دیکھیں گے، جس طرح تم افق میں چمکتے ہوئے ستارے کو دیکھتے ہو اور ابوبکر و عمران میں شامل ہیں۔ اور یہ دونوں بہت اچھے ہیں"۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطِيَّةَ، ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 772

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 773

773 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ،

یہ روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 773

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 774

774 - قَالَ سُفْيَانُ: وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ الْأَحْوَلُ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَشْرَ الْوُسْطَى مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، وَاعْتَكَفْنَا مَعَهُ، فَلَمَّا كَانَتْ صَبِيحَةُ عِشْرِينَ نَقَلْنَا مَتَاعَنَا، فَأَبْصَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مُعْتَكِفًا فَلْيَرْجِعْ إِلَى مُعْتَكَفِهِ، فَإِنِّي أُرِيتُهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، وَرَأَيْتُنِي أَسْجُدُ فِي صَبِيحَتِهَا فِي مَاءٍ وَطِينٍ» ، فَهَاجَتِ السَّمَاءُ مِنْ آخِرِ ذَلِكَ الْيَوْمِ، فَأَمْطَرَتْ وَكَانَ الْمَسْجِدُ عَرِيشًا، فَوُكِفَ فِي مُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَقَدْ [ص:21] رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَإِنَّ عَلَى جَبْهَتِهِ وَأَرْنَبَتِهِ أَثَرُ الْمَاءِ وَالطِّينِ

حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺنے رمضان کے مہینے کے درمیانی عشرے میں اعتکاف کیا۔ آپ ﷺکے ساتھ ہم نے بھی اعتکاف کیا۔ جب بیسویں رات کی صبح ہوئی ہم نے اپنا سازو سامان منتقل کرنا شروع کیا۔ نبی اکرمﷺنے ہمیں ملاحظ فرمایا، تو ارشادفرمایا:"تم میں سے جو شخض اعتکاف کرنا چاہتا ہو وہ اپنے اعتکاف کی جگہ پر واپس چلا جائے۔ کیونکہ مجھے یہ رات (یعنی شب قدر) آخری عشرے میں دکھائی گئی ہے۔ میں نے خود کو دیکھا ہے، میں اس رات کی صبح پانی اورمٹی (یعنی کیچڑ)میں سجدہ کر رہا ہوں"۔(راوی کہتے ہیں) اسی دن بارش ہوگئی۔ مسجد کی چھت (کھجور کے پتوں سے بنی ہوئی تھی)تو نبی اکرم ﷺکی نماز کی جگہ پر پانی اکٹھا ہو گیا۔ میں نے نبی اکرمﷺکو دیکھا کہ جب آپ ﷺصبح کی نماز پڑھ کر فارغ ہوئے ،تو آپ ﷺکی مبارک پیشانی اور ناک پر پانی اورمٹی کا نشان تھا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ الْأَحْوَلِ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سُفْيَانَ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 774

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter