Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 96

96 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا مَنْصُورٌ غَيْرَ مَرَّةٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ «سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ بَعْدَ السَّلَامِ [ص:207]، وَحَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَهَا بَعْدَ السَّلَامِ» قَالَ سُفْيَانُ وَكَانَ طَوِيلًا فَهَذَا الَّذِي حَفِظْتُ مِنْهُ

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ روایت کرتے ہیں ، نبی اکر م ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے:"جوشخص جھوٹی قسم کے ذریعے کی مسلمان کا مال ہتھیا لے گا، تو جب وہ الله تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوگا، تو الله تعالیٰ اس ہر غضبناک ہو گا"۔ حضرت عبداللہ کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے اس کے مصداق کے طور پر اللہ تعالی ٰکی یہ آیت ہمارے سامنے تلاوت کی۔ ”بے شک وہ لوگ جو الله تعالیٰ کے نام کے عہد اور اس کے نام کی قسم کے عوض میں خریدتے ہیں"۔

إِبْرَاهِيمَ، ← منصور غير مرة هذا الحديث ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 96

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 97

97 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي أَسَدٍ أَتَتِ ابْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَتْ لَهُ: بَلَغَنِي أَنَّكَ لَعَنْتَ ذَيْتَ وَذَيْتَ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ وَإِنِّي قَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ اللَّوْحَيْنِ فَلَمْ أَجِدِ الَّذِي تَقُولُ، وَإِنِّي لَأَظُنُّ عَلَى أَهْلِكَ مِنْهَا فَقَالَ لَهَا عَبْدُ اللَّهِ: فَادْخُلِي وَانْظُرِي، فَدَخَلَتْ وَنَظَرَتْ، فَلَمْ تَرَ شَيْئًا قَالَ: فَقَالَ لَهَا عَبْدُ اللَّهِ: " أَمَا قَرَأْتِ {مَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا} [الحشر: 7] " قَالَتْ: بَلَى، قَالَ: «فَهُوَ ذَلِكَ»

حضرت عبد الله بن مسعود بیٹی کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے سلام پھیرنے کے بعد دو مرتبہ سجدہ سہو کیا اور یہ بات بیان کی کہ نبی اکرم ﷺنے سلام کے بعد یہ سجدے کیے تھے۔ سفیان کہتے ہیں: یہ روایت طویل ہے، تاہم اس کا صرف یہ حصہ مجھے یاد ہے۔

«فَهُوَ ذَلِكَ». ← بَلٰی ← {مَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا} [الحشر: ← لَهَا عَبْدُ اللَّهِ: أَمَا ← لَهَا عَبْدُ اللَّهِ: فَادْخُلِي وَانْظُرِي، فَدَخَلَتْ وَنَظَرَتْ، فَلَمْ تَرَ شَيْئًا ← مَا بَيْنَ اللَّوْحَيْنِ فَلَمْ أَجِدِ الَّذِي تَقُولُ، وَإِنِّي لَأَظُنُّ عَلَى أَهْلِكَ مِنْهَا، ← لَهُ: بَلَغَنِي أَنَّكَ لَعَنْتَ ذَيْتَ وَذَيْتَ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ وَإِنِّي قَدْ ← عَلْقَمَةَ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي أَسَدٍ أَتَتِ ابْنَ مَسْعُودٍ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 97

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 98

98 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ الْهَجَرِيُّ أَبُو إِسْحَاقَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الْأَحْوَصِ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ أَنْ تُعْبَدَ الْأَصْنَامُ بِأَرْضِكُمْ هَذِهِ أَوْ بِبَلَدِكُمْ هَذَا، وَلَكِنَّهُ قَدْ رَضِيَ مِنْكُمْ بِالْمُحَقَّرَاتِ مِنْ أَعْمَالِكُمْ، فَاتَّقُوا الْمُحَقَّرَاتِ فَإِنَّهُنَّ مِنَ الْمُوبِقَاتِ أَوَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَثَلِ ذَلِكَ مَثَلُ رَكْبٍ نَزَلُوا فَلَاةً مِنَ الْأَرْضِ لَيْسَ بِهَا حَطَبٌ فَتَفَرَّقُوا فَجَاءَ ذَا بِعُودٍ، وَجَاءَ ذَا بِعَظْمٍ، وَجَاءَ ذَا بِرَوْثَةٍ حَتَّى أَنْضَجُوا الَّذِي أَرَادُوا فَكَذَلِكَ الذُّنُوبُ»

علقمہ بیان کرتے ہیں: بنو اسد سے تعلق رکھنے والی ایک عورت حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے ان سے کہا: مجھے یہ پتہ چلا ہے کہ آپ فلاں، فلاں پر اور جسم گودوانے والی اور گودوانے والی عورتوں پر لعنت کرتے ہیں؟ حالانکہ میں نے پورا قرآن پڑھ لیا ہے مجھے اس میں یہ حکم نہیں ملا، جو آپ کہتے ہیں اور میرا خیال ہے آپ کی بیگم بھی ایسا کرتی ہیں، توحضرت عبداللہؓ نے اس خاتون سے کہا :تم جاؤ اور جا کر خود جائزہ لو۔ وہ عورت حضرت عبد الله بن مسعود ؓکے گھر گئی اس نے وہاں کا جائزہ لیا تو اسے وہاں ایسی کوئی چیز نظر نہیں آئی۔ راوی کہتے ہیں: حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے اس عورت سے کہا: کیا تم نے یہ آیت پڑھی ہے: "رسول تمہیں جو کچھ دیں اسے حاصل کر لو اور جس سے تمہیں منع کر دیں اس سے باز آجاؤ“۔ اس عورت نے جواب دیا: جی ہاں ،تو حضرت عبداللہؓ نے فرمایا: یہ وہی ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبَا الْأَحْوَصِ، ← إِبْرَاهِيمُ الْهَجَرِيُّ أَبُو إِسْحَاقَ أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 98

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 99

99 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَلَى غَيْرِ مَا حَدَّثَنَا بِهِ الزُّهْرِيُّ قَالَ سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ أَبِي حَازِمٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودِ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ: رَجُلٍ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَسَلَّطَهُ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الْحَقِّ، وَرَجُلٍ آتَاهُ اللَّهُ حِكْمَةً فَهُوَ يَقْضِي بِهَا أَوْ يُعَلِّمُهَا "

حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ روایت کرتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: "شیطان اس بات سے مایوس ہوگیا ہے کہ تمہاری اس سرزمین پر ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) تمہارے اس شہر میں بتوں کی عبادت کی جائے تا ہم وہ تم سے تمہارے معمولی اعمال کے حوالے سے راضی ہو جائے گا، تو تم معمولی گناہوں سے بچنے کی کوشش کرنا ،کیونکہ یہ ہلاکت کا شکار کر دیتے ہیں۔ کیا میں تمہیں اس کی مثال دوں؟ اس کی مثال یوں ہے جیسے کچھ سوارکسی بے آب و گیاہ زمین پر پڑاؤ کرتے ہیں وہاں کوئی لکڑی نہیں ہے ،وہ لوگ بکھر جاتے ہیں، تو ایک شخص عود لے کر آتا ہے ایک ہڈی لے کر آتا ہے ایک مینگنی لے کرآتا ہے ،یہاں تک کہ وہ لوگ جو چاہتے ہیں اسے جمع کر لیتے ہیں، تو گناہ بھی اسی طرح ہوتے ہیں"۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← بِهِ الزُّهْرِيُّ ← إسماعيل بن أبي خالد بهذا الحديث على غير ما ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 99

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 100

100 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ أَنَّهُ سَمِعَ قَيْسَ بْنَ أَبِي حَازِمٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: «كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ مَعَنَا نِسَاءٌ فًأًرَدْنَا أَنْ نَخْتَصِيَ فَنَهَانَا عَنْ ذَلِكَ»

حضرت عبد الله بن مسعودؓ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا ہے: حسد (یعنی رشک صرف دو طرح کے آدمیوں پر کیا جاسکتا ہے) ایک وہ شخص جسے الله تعالیٰ نے مال عطا کیا ہواور پھر اس شخص کو وہ مال حق کی راہ میں خرچ کرنے کی ،توفیق دی ہویا ایک وہ شخص جسے الله تعالیٰ نے حکمت عطا کی ہو اور وہ اس کے مطابق فیصلہ دیتا ہو یا وہ اس کی تعلیم دیتا ہو"۔

ذَلِكَ ← «كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ وَلَيْسَ مَعَنَا نِسَاءٌ فًأًرَدْنَا أَنْ نَخْتَصِيَ فَنَهَانَا ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← ابْنُ أَبِي خَالِدٍ أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 100

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 101

101 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ: «اقْرَأْ» فَقَالَ: أَقْرَأُ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ؟ قَالَ: «إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي» قَالَ: فَقَرَأْتُ سُورَةَ النِّسَاءِ حَتَّى إِذَا بَلَغَ {فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدِ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا} [النساء: 41] اسْتَعْبَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَفَّ عَبْدُ اللَّهِ

حضرت عبدالله بن مسعود ؓفرماتے ہیں: ہم نبی اکرم ﷺکے ساتھ جنگ میں شریک ہوا کرتے تھے۔ ہمارے ساتھ خواتین نہیں ہوتی تھیں، تو ہم نے خصی ہونے کا ارادہ کیا، تو نبی اکرمﷺنے ہمیں اس سے منع کر دیا۔

الْقَاسِمِ، ← الْمَسْعُودِيِّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 101

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 102

102 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، قَالَ: سُفْيَانُ: قَالَ الْمَسْعُودِيُّ: وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " {عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ} [المائدة: 117] "

قاسم بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے حضرت عبد الله بن مسعود ؓسے فرمایا: تلاوت کرو !تو انہوں نے عرض کی: کیا میں تلاوت کروں؟ جبکہ یہ آپﷺپر نازل ہوا ہے۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا : میں اسے اپنے علاوہ کسی دوسرے کی زبانی سننا چاہتا ہوں۔حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں : میں نے سورہ نساء پڑھنی شروع کی ، یہاں تک کہ جب یہ آیت تلاوت کی ۔ "تو اس وقت کیا عالم ہوگا کہ جب ہم ہر امت میں سنے ایک گواہ کولے کرا ٓئیں گے اور تمہیں ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے"۔تو نبی اکرمﷺکے آنسو بہنے لگے تو حضرت عبداللہؓ رک گئے۔ حضرت عبداللہ ؓ،نبی اکرم ﷺکایہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جب تک میں ان کے درمیان تھا میں ان پر گواہ رہا جب تو نے مجھے موت دے دی تو ان کا نگہبان تھا، اور تو ہر چیز پر گواہ ہے"۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← المسعودي وحدثنا جعفر بن عمرو بن حريث ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 102

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 103

103 - أَخْبَرَنَا أَبُو الطَّاهِرِ عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ زَيْدٍ الْمُؤَدِّبُ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ فِى سَنَةِ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ وَأَرْبَعِمِائَةٍ فَأَقَرَّ بِهِ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِىٍّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ ابْنُ الصَّوَّافِ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ فَأَقَرَّ بِهِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِىٍّ بِشْرُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِىُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ شَيْخًا مِنَ النَّخْعِ يُسَمَّى عَمْرًا وَيُكْنَى بِأَبِي مُعَاوِيَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودِ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «الْإِيمَانُ بِاللَّهِ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ» قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: «ثُمَّ الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا» قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: «ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ» قُلْتُ: فَأَيُّ الْكَبَائِرِ أَكْبَرُ؟ قَالَ «أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ» قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: «أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مِنْ أَجْلِ أَنَ يَأْكُلَ مَعَكَ» قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: «ثُمَّ أَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ» ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " {وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا} [الفرقان: 68] " الْآيَةَ

حضرت عبد الله بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺسے سوال کیا: کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا: الله تعالیٰ پر ایمان رکھنا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا۔ میں نے دریافت کیا: پھر کون سا ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا: پھر نماز کو وقت پر ادا کرنا۔ میں نے عرض کی : پھر کون سا ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا: والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔ میں نے دریافت کیا کون سا کبیرہ گناہ بڑا ہے؟ نبی اکرم ﷺنے فرمایا :یہ کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراؤ ،حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ حیرت عبد اللہؓ کہتے ہیں: میں نے عرض کی:پھر کون سا ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا ،تم اپنی اولا دکو اس اندیشے سے قتل کردو کہ وہ تمہارے ساتھ کھانے میں شریک ہوگی۔ میں نے عرض کی: پھر کون سا ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا: پھر یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرو۔ پھر نبی اکرم ﷺنے یہ آیت تلاوت کی۔ "اور وہ لوگ الله تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کی عبادت نہیں کرتے ہیں اور وہ ایسی جانوں کوقتل نہیں کرتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے البتہ حق کا معاملہ مختلف ہے اور وہ لوگ زنا کا ارتکاب نہیں کرتے ہیں جو شخص ایسا کرے گا وہ گناہ تک پہنچ جائے گا“۔

قُلْتُ: ثُمَّ أَيُّ؟ ← أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَکَ ← «ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ» قُلْتُ: فَأَيُّ الْكَبَائِرِ أَكْبَرُ؟ ← «ثُمَّ الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا» قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ ← «الْإِيمَانُ بِاللَّهِ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ» قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ ← سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ اَیُّ الْعَمَلِ اَفْضَلُ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ ← شَيْخًا مِنَ النَّخْعِ يُسَمَّى عَمْرًا وَيُكْنَى بِأَبِي مُعَاوِيَةَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← أبو علي بشر بن موسى ← أسمع فأقر به ← أَبُو عَلِىٍّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ ابْنُ الصَّوَّافِ ← أَسْمَعُ فِى سَنَةِ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ وَأَرْبَعِمِائَةٍ فَأَقَرَّ بِهِ ← أَبُو الطَّاهِرِ عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ زَيْدٍ الْمُؤَدِّبُ

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 103

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 104

104 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُهُ كُفْرٌ»

حضرت عبد الله بن مسعودؓ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا ہے: "مسلمان کوگالی دینافسق ہے اور اس کوقتل کرنا کفر ہے“۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أَبِي وَائِلٍ ← مَنْصُورٌ، ← الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 104

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 105

105 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيُّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَ لَهُ أَبِي: أَأَنْتَ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «النَّدَمُ تَوْبَةٌ» فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَنَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «النَّدَمُ تَوْبَةُ» 105/م- قَالَ سُفْيَانُ: وَحَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ [ص:213]، وَالَّذِي حَدَّثَنَا بِهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ أَحَبُّ إِلَيَّ لِأَنَّهُ أَحْفَظُ مِنْ أَبِي سَعْدٍ

عبداللہ بن معقل میان کرتے ہیں: میں اپنےوالد کے ساتھ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میرے والد نے ان سے کہا: کہ کیا آپ ﷺنے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے، ندامت توبہ ہے، تو حضرت عبداللہ ؓنے فرمایا: جی ہاں! میں نے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سناہے: ندامت تو بہ ہے۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (امام حمیدی ؒکہتے ہیں) عبدالکریم نے جو روایت ہمیں سنائی ہے ،وہ ہمارے نزدیک زیادہ محبوب ہے، کیونکہ ابوسعدنامی راوی کے مقابلے میں وہ زیادہ بڑے حافظ ہیں۔

بِهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ أَحَبُّ إِلَيَّ لِأَنَّهُ أَحْفَظُ مِنْ أَبِي سَعْدٍ ← النَّبِيِّ بِمِثْلِهِ [ص:213]، وَالَّذِي ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ← سُفْيَانُ: وَحَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ، ← «النَّدَمُ تَوْبَةُ» 105/م- ← النَّبِيِّ ← «النَّدَمُ تَوْبَةٌ» فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: ← النَّبِيِّ ← دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَ لَهُ أَبِي: أَأَنْتَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ← زياد بن أبي مريم ← عَبْدِ الْکَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 105

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 106

106 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ فَنَزَلَتْ عَلَيْهِ {وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا} [المرسلات: 1] فَأَخَذْتُهَا مِنْ فِيهِ وَإِنَّ فَاهُ لَرَطْبٌ بِهَا فَمَا أَدْرِي بِأَيَّتِهَا خَتَمَ {فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ} [المرسلات: 50] أَوْ {وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ارْكَعُوا لَا يَرْكَعُونَ} [المرسلات: 48] قَالَ: فَخَرَجَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ مِنْ جُحْرٍ فَأَفْلَتَتْنَا وَدَخَلَتْ جُحْرًا آخَرَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ وُقِيتُمْ شَرَّهَا، وَوُقِيَتْ شَرَّكُمْ»

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرمﷺ کے ساتھ ایک غار میں موجود تھا آپ ﷺ پر یہ سورت نازل ہوئی:والمرسَلٰت عرفا تو میں نے نبی اکرم ﷺکی زبانی اسے سیکھاحالانکہ آپ ﷺکو اس کی تلاوت کیے ہوئے زیادہ دیر نہیں گزری تھی ،تو مجھےیہ نہیں پتہ چلا کہ آپ ﷺنے ان دونوں میں سے کون سی آیت پراس سورت کوختم کیا تھا۔ "فباى حديث بعده يومنون" "تواس کے بعد وہ کون سی بات پر ایمان رکھیں گے"۔یا پھر اس آیت پرختم ہوئی تھی۔"جب ان سے یہ کہا جاتا ہے تم لوگ رکوع کروتو وہ رکوع نہیں کرتے ہیں"۔ حضرت عبد اللهؓ بیان کرتے ہیں:اسی دوران ایک بل میں سے ایک سانپ نکل کر ہمارے سامنے آیا ہم اسے مارنے کے لیے اٹھے تو وہ دوسرے بل میں داخل ہوگیا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :تمہیں اس کے شر سے بچالیا گیا ہے اور اسے تمہارے نقصان بچالیا گیاہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 106

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 107

107 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الْأَعْمَشُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ شَقِيقَ بْنَ سَلَمَةَ يَقُولُ: كُنَّا جُلُوسًا نَنْتَظِرُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَأَتَانَا يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ النَّخَعِيُّ فَقَالَ: مَا لَكُمْ؟ قُلْنَا: نَنْتَظِرُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَ: أَيْنَ تَرَوْنَهُ؟ قُلْنَا: فِي الدَّارِ، قَالَ: أَفَلَا أَذْهَبُ فَأُخْرِجَهُ إِلَيْكُمْ؟ [ص:214] قَالَ فَذَهَبَ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ خَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ حَتَّى قَامَ عَلَيْنَا وَمَعَهُ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ إِنِّي لَأُخْبَرُ بِمَجْلِسِكُمْ فَمَا يَمْنَعُنِي أَنْ أَخْرُجَ إِلَيْكُمْ إِلَّا كَرَاهِيَةُ أَنْ أُمِلَّكُمْ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «كَانَ يَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَةِ فِي الْأَيَّامِ كَرَاهَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا»

شفیق بن سلمہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ بیٹھے ہوئے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کا انتظار کررہے تھے یزید بن معاویہ نخعی ہمارے پاس آئے انہوں نے فرمایا: کیا ہوا ہے؟ ہم نے کہا: ہم حضرت عبدالله بن مسعود ؓکا انتظار کر رہے ہیں انہوں نے دریافت کیا :تمہارے خیال میں وہ کہاں ہوں گے؟ ہم نے کہا: گھر میں ہوں گے۔ انہوں نے کہا: کیا میں جا کر ہمارے ساتھ بلاکرنہ لاوں؟ راوی کہتے ہیں :تو وہ گئے تھوڑی ہی دیر کے بعد حضرت عبداللہؓ باہرتشریف لائے اور ہمارے پاس آ کر کھڑے ہوئے ان کے ساتھ یزید بن معاویہ بھی تھے۔حضرت عبداللہ ؓ نے فرما یا : مجھے تمہارے یہاں بیٹھے ہونے کے بارے میں بتایا گیالیکن میں نکل کر تمہارے پاس اس لیے نہیں آیا، کیونکہ مجھے یہ اندیشہ تھا کہ میں تمہیں اکتاہٹ کا شکار کر دوں گا۔ نبی اکرم ﷺہمیں دنوں کے وقفے کے ساتھ وعظ کیا کرتے تھے کیونکہ آپ ﷺہماری اکتاہٹ کو پسند نہیں کرتے تھے۔

أَفَلَا أَذْهَبُ فَأُخْرِجَهُ إِلَيْكُمْ؟ ← أَيْنَ تَرَوْنَهُ؟ قُلْنَا: فِي الدَّارِ، ← مَا لَكُمْ؟ قُلْنَا: نَنْتَظِرُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ← كُنَّا جُلُوسًا نَنْتَظِرُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَأَتَانَا يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ النَّخَعِيُّ ← أَبَا وَائِلٍ شَقِيقَ بْنَ سَلَمَةَ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 107

chevron_left Previous
1…8910…63
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter