Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 732

732 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى، يَقُولُ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشُّرْبِ فِي الْجَرِّ الْأَخْضَرِ وَالْأَبْيَضِ» ، قَالَ سُفْيَانُ: وَثَالِثًا قَدْ نَسِيتُهُ

ابواسحاق شیبانی بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبد اللہ بن ابواوفیٰؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا: نبی اکرم ﷺنے سبز اور سفید مٹکے میں پینے سے منع کیا ہے۔ سفیان کہتے ہیں : تیسری چیز کومیں بھول گیا ہوں۔

سُفْيَانُ: وَثَالِثًا قَدْ نَسِيتُهُ ← الشُّرْبِ فِي الْجَرِّ الْأَخْضَرِ وَالْأَبْيَضِ» ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ اَوْفٰی ← أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 732

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 733

733 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى، يَقُولُ: أَصَبْنَا حُمُرًا يَوْمَ خَيْبَرَ خَارِجًا مِنَ الْقَرْيَةِ، فَنَحَرْنَاهَا، فَإِنَّ الْقُدُورَ لَتَغْلَيْ بِهَا، إِذْ نَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْ أَكْفِئُوا الْقُدُورَ بِمَا فِيهَا» ، فَأَكْفَيْنَاهَا، وَإِنَّهَا لَتَفُورُ [ص:568] قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: فَلَقِيتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «إِنَّمَا كَانَتْ تِلْكَ حَمِيرًا تَأْكُلُ الْعَذِرَةَ، فَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا»

ابواسحاق شیبانی بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عبداللہ بن ابواوفیٰؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا: غزوہ خیبر کے موقع پر ہمیں بستی سے باہر کچھ گدھے ملے ،تو ہم نے انہیں ذبح کر لیا ہنڈیاؤں میں ان کا گوشت پک رہا تھا۔ اسی دوران نبی اکرم ﷺکی طرف سے اعلان کرنے والے نے یہ اعلان کیا:تم لوگ اپنی ہنڈیاؤں کو ان میں موجود چیز سمیت الٹا دو ! تو ہم نے انہیں الٹادیا حالانکہ وہ ابل رہی تھیں۔ (یعنی کھانا پک کے تیار ہو چکا تھا) ابو اسحاق نامی راوی کہتے ہیں: میری ملاقات سعید بن جبیر سے ہوئی میں نے ان کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو وہ بولے: یہ وہ گدھے تھے، جوگندگی کھایا کرتے تھے، تو نبی اکرم ﷺنے ان سے منع کر دیا۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ اَوْفٰی ← أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 733

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 734

734 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا يَزِيدُ أَبُو خَالِدٍ الدَّالَانِيُّ، وَمِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ السَّكْسَكِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلِّمْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ شَيْئًا أَقُولُهُ يُجْزِئُنِي مِنَ الْقُرْآنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ» قَالَ سُفْيَانُ: لَا أَعْلَمُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: قَالَ: «وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ»

حضرت عبداللہ بن ابواوفیٰؓ بیان کرتے ہیں: ایک صاحب نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! آپ ﷺمجھے کسی ایسی چیز کی تعلیم دیئجے جسے میں پڑھ لیا کروں ،تو میرے لیے قرآن کی تلاوت کی جگہ کافی ہو جائے،تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا تم یہ پڑھو۔"سبحان اللہ والحمداللہ ولا الا الااللہ واللہ اکبر"۔سفیان کہتے ہیں : مجھے علم نہیں ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ بھی کہے ہو ں گے "ولاحولاولا قوۃ الابااللہ"۔

لِلنَّبِيِّ عَلِّمْنِي ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، أَنَّ رَجُلًا، ← اِبْرَاھِیْمَ السَّکْسَکِیَّ ← يَزِيدُ أَبُو خَالِدٍ الدَّالَانِيُّ، وَمِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 734

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 735

735 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُسْلِمٍ الْهَجَرِيًّ، أَنَّهُ رَأَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى فِي جِنَازَةِ ابْنَةٍ لَهُ عَلَى بَغْلَةٍ تُقَادُ بِهِ، فَيَقُولُ لِلْقَائِدِ أَيْنَ أَنَا مِنْهَا؟ فَإِذَا قِيلَ لَهُ: أَمَامَهَا، قَالَ: أَحْبِسِ، قَالَ: وَرَأَيْتُهُ حِينَ صَلَّى عَلَيْهَا كَبَّرَ أَرْبَعًا، ثُمَّ قَامَ سَاعَةً، فَسَبَّحَ بِهِ الْقَوْمُ فَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: أَكُنْتُمْ تَرَوْنَ أَنِّي أَزِيدُ عَلَى أَرْبَعٍ وَقَدْ «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبَّرَ أَرْبَعًا، وَسَمِعَ نِسَاءً يَرْثِينَ فَنَهَاهُنَّ» ، وَقَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنِ الْمَرَاثِي»

ابراہیم بن مسلم ہدی بیان کرتے ہیں. انہوں نے حضرت عبد الله بن اوفیٰؓ کو اپنی صاحبزادی کے جنازے میں شریک دیکھا وہ ایک خچر پر سوار تھے جسے ہانک کر لے جایا جا رہا تھا ،تو انہوں نے خچر کو لے جانے والے سے کہا: میں جنازے سے کہاں ہوں جب انہیں کہا گیا: آپ ان سے آگے ہیں۔ تو انہوں نے فرمایا تم اس کو روک دو۔ راوی کہتے ہیں: میں نے انہیں دیکھا کہ انہوں نے اس خاتون کی نماز جنازہ میں چار تکبیریں کہیں پھر وہ تھوڑی دیر کے لیے کھڑے رہے ،تو حاضرین نے ”سبحان اللہ" کہنا شروع کردیا۔ (یعنی انہیں متوجہ کرنا چاہا) تو انہوں نے سلام پھیر دیا وہ بولے: کیاتم لوگ یہ سوچ رہے تھے کہ میں چاروں تکبیریں سے زیادہ تکبیریں کہہ دوں گا ،جبکہ میں نے نبی اکرم ﷺکوچا تکبیریں کہتے ہوئے دیکھا ہے۔ پھرانہوں نے کچھ خواتین کو مرثیہ پڑھتے ہوئے سنا :تو انہیں اس سے منع کیا اور بولے : میں نے نبی اکرم ﷺکو مرثیہ پڑھنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے۔

إبراهيم بن مسلم الهجري ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 735

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 736

736 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ، وَهُوَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ، سَرِيعَ الْحِسَابِ، مُجْرِيَ السَّحَابِ، اهْزِمِ الْأَحْزَابَ، اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ»

حضرت عبداللہ بن ابو اوفی ٰ ؓ بیان کرتے ہیں : غزوہ احزاب کے دن میں نے بنی اکرم ﷺ کو سنا آپ ﷺ یہ پڑھ رہے تھے۔ "اے الله!اے کتاب کو نازل کرنے والے !اے جلدی حساب لینے والے !اے بادلوں کو چلانے والے! تو (دشمن کے) لشکروں کو پسپا کردے۔ اے اللہ ! انہیں پسپا کر دے اور انہیں لڑ کھڑادے"۔

«اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ، سَرِيعَ الْحِسَابِ، مُجْرِيَ السَّحَابِ، اهْزِمِ الْأَحْزَابَ، اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ» ← رَسُولَ اللَّهِ يَوْمَ الْأَحْزَابِ، وَهُوَ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ اَوْفٰی ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 736

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 737

737 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى: «أَبَشَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَدِيجَةَ بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ، مِنْ قَصَبٍ، لَا سَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ؟» ، قَالَ: نَعَمْ

ابن ابوخالد بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن ابواوفیٰ ؓ سے کہ دریافت کیا: کیا نبی اکرم ﷺنے سیدہ خديجہؓ کو جنت میں کھو کھلے موتی سے بنے ہوئے گھر کی بشارت دی تھی جس میں کوئی شور اور کوئی مشقت نہ ہو، تو انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔

ابْنِ أَبِي خَالِدٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 737

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 738

738 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى، يَقُولُ: «اعْتَمَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكُنَّا نَسْتُرُهُ حِينَ طَافَ مِنْ صِبْيَانِ أَهْلِ مَكَّةَ لَا يُؤْذُونَهُ» ، قَالَ سُفْيَانُ: «أَرَاهُ فِي عُمْرَةِ الْقَضَاءِ» قَالَ إِسْمَاعِيلُ: «وَأَرَانَا ابْنُ أَبِي أَوْفَى ضَرْبَةً أَصَابَتْهُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ»

اسماعیل بن ابوخالد بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عبداللہ بن ابواوفیٰ ؓکو یہ بیان کرتے ہوئے سنا: ہم نے نبی اکرم ﷺکے ساتھ عمرہ کیا، تو ہم طواف کے دوران نبی اکرم ﷺکو اہل مکہ کے بچوں سے بچانے کی کوشش کررہے تھے کہ کہیں وہ آپ ﷺکوکوئی تکلیف نہ پہنچا دیں۔ سفیان کہتے ہیں : میرا خیال ہے یہ عمرہ قضا کا موقع تھا۔ اسماعیل نامی راوی بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن ایواوفیٰ ؓنے ہمیں وہ ضرب دکھائی جو انہیں نبی اکرم ﷺکے ساتھ غزو حنین میں شرکت کے دوران لگی تھی۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ اَوْفٰی ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 738

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 739

739 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مَصَرِّفٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى: هَلْ أَوْصَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: لَمْ يَتْرُكْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا يُوصِي فِيهِ، قُلْتُ: وَكَيْفَ أَمَرَ النَّاسَ بِالْوَصِيَّةِ وَلَمْ يُوصِ؟ قَالَ: «أَوْصَى بِكِتَابِ اللَّهِ» [ص:572] قَالَ طَلْحَةُ: قَالَ الْهُزَيْلُ بْنُ شُرَحْبِيلٍ: أَبُو بَكْرٍ يَتَقَدَّمُ عَلَى وَصَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَّ أَبُو بَكْرٍ أَنَّهُ وَجَدَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ عَهْدًا، فَخَزَمَ بِهِ أَنْفَهُ

طلحہ بن مصرف بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن ابواوفیٰؓ سے دریافت کیا : کیا نبی اکرمﷺنے کوئی وصیت کی تھی انہوں نے جواب دیا:نبی اکرم ﷺنے ایسی کوئی چیز چھوڑی ہی نہیں تھی جس کے بارے میں آپ وصیت کرتے۔ میں نے دریافت کیا: پھر آپ ﷺنے لوگوں کے بارے میں وصیت کرنے کے بارے میں کیوں حکم دیا؟ جبکہ آپ ﷺنے خود وصیت نہیں کی، تو انہوں نے فرمایا: نبی اکرم ﷺنے الله تعالیٰ کی کتاب کے مطابق وصیت کی تھی۔ طلحہ نامی راوی کہتے ہیں: ہزیل بن شرحبیل فرماتے ہیں: کیا حضرت ابوبکرؓ کسی ایسے شخص سے آگے نکل سکتے تھے، جس کے بارے میں نبی اکرم ﷺنے وصیت کی ہو؟ حالانکہ حضرت ابوبکر ؓاس بات کے خواہشمند ہوتے تھے کہ انہیں اللہ کے رسول ﷺکے کسی حکم کا پتہ چلے اور وہ اسے مکمل طور پر تسلیم کرلیں۔

طَلْحَۃَ بن مصرف ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 739

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ · حديث 740

740 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ عِنْدَ مَضْجَعِهِ، أَوْ أَمَرَ أَنْ يُقَالَ عِنْدَ الْمَضْجَعِ، أَوْ أَمَرَنِي أَنْ أَقُولَ عِنْدَ مَضْجَعِي، - شَكَّ فِيهِ سُفْيَانُ لَا يَدْرِي أَيَّتُهُنَّ - قَالَ: «اللَّهُمَّ إِلَيْكَ وَجَّهْتُ وَجْهِي، وَإِلَيْكَ أَسْلَمْتُ نَفْسِي، وَإِلَيْكَ فَوَّضَتُ أَمْرِي، وَإِلَيْكَ أَلْجَأْتُ ظَهْرِي رَغْبَةً، وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ، وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ» ، فَقَالُوا لَهُ: وَبِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ، فَأَبَى، وَقَالَ: «لَا، وَنَبِيِّكَ»

حضرت براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺسوتے وقت یہ پڑھا کرتے تھے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) نبی اکرمﷺنےیہ ہدایت کی ہے کہ سوتے وقت یہ پڑھا جائے۔(راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) نبی اکرم ﷺنے مجھے یہ ہدایت کی کہ میں سوتے وقت یہ کلمات پڑھوں۔ یہ شک سفیان نامی راوی کو ہے کہ ان میں سے کون سے الفاظ ہیں؟ وہ یہ الفاظ ہیں: "اے اللہ! میں اپنارخ تیری طرف کرتا ہوں میں نے اپنا آپ تجھے سونپ دیا ہے میں نے اپنا معاملہ تیرے سپردکردیا ہے میں اپنی پشت کو تیرا سہارادیتا ہوں۔ تیری طرف رغبت کرتے ہوئے بھی اور تجھ سے ڈرتے ہوئے بھی۔ تیرے مقابلے میں صرف توہی پناہ گاہ اور جائے نجات ہے۔ میں تیری اس کتاب پر ایمان لایا جسے تو نے نازل کیا ہے۔ اس نبی پر ایمان لایا جسے تو نے معبوث کیا ہے"۔ تو لوگوں نے ان سے (یعنی سفیان سے) کہا: کہ روایت میں، تویہ الفاظ ہیں: "اس رسول پر ایمان لایا جسے تو نے مبعوث کیا“۔ تو انہوں نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا اور یہ کہا کہ یہی الفاظ ہیں۔"میں تیرے نبی پر ایمان لایا"۔

عِنْدَ مَضْجَعِهِ، أَوْ أَمَرَ ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← أَبُو إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 740

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ · حديث 741

741 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ بِمَكَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ» ، قَالَ سُفْيَانُ: " وَقَدِمَ الْكُوفَةَ فَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ بِهِ، فَزَادَ فِيهِ، ثُمَّ لَا يَعُودُ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُمْ لَقَّنُوهُ، وَكَانَ بِمَكَّةَ يَوْمَئذٍ أَحْفَظَ مِنْهُ يَوْمَ رَأَيْتُهُ بِالْكُوفَةِ، وَقَالُوا لِيَ: إِنَّهُ قَدْ تَغَيَّرَ حِفْظُهُ أَوْ سَاءَ حِفْظُهُ "

حضرت براء بن عازبؓ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺکو دیکھا جب آپﷺنے نماز کا آغاز کیا، تو آپ ﷺنے رفع یدین کیا۔سفیان کہتے ہیں: میرے استاد کوفہ آئے،تو میں نے انہیں یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا۔ اس میں انہوں نے مزید یہ الفاظ نقل کیے پھرنبی اکرم ﷺنے دوبارہ ایسا نہیں کیا۔ (یعنی دوباره رفع یدین نہیں کیا)تو اس سے میں نے یہ اندازہ لگایا ،لوگوں نے انہیں ان الفاظ کی تلقین کی ہوگی ۔حالانکہ جب میں نے انہیں کوفہ میں دیکھا تھا، تو اس دن کے مقابلے میں جب وہ مکہ میں تھے اس وقت وہ روایات کو زیادہ اچھے طریقے سے یادر کھے ہوئے تھے۔ لوگوں نے مجھ سے کہا :کہ ان کے حافظے میں تبدیلی آگئی ہے یا ان کا حافظہ خراب ہوگیا ہے۔

سُفْيَانُ: وَقَدِمَ الْكُوفَةَ ← رأيت رسول الله إذَا افتتَح الصلاةَ رفع يديه ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 741

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ · حديث 742

742 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبَانُ بْنُ تَغْلِبَ، وَكَانَ فَصِيحًا، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: «لَمْ يَكُنْ مِنَّا أَحَدٌ يَحْنُو حَتَّى يَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَّ سَاجِدًا»

حضرت براء بن عازب ؓبیان کرتے ہیں: ہم میں سے کوئی بھی شخص (نماز کے دوران )اس وقت تک نہیں جھکتا تھا، جب تک وہ نبی اکرم ﷺکو سجدے میں جاتے ہوئے نہیں دیکھ لیتا تھا۔

«لَمْ يَكُنْ مِنَّا أَحَدٌ يَحْنُو حَتَّى يَرَى رَسُولَ اللَّهِ قَدْ خَرَّ سَاجِدًا» ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، ← أَبَانُ بْنُ تَغْلِبَ، وَكَانَ فَصِيحًا، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 742

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ · حديث 743

743 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَمِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، أَنَّهُمَا سَمِعَا عَدِيَّ بْنَ ثَابِتٍ يُحَدِّثُ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: " سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ. قَالَ سُفْيَانُ: زَادَ مِسْعَرٌ: فَمَا سَمِعْتُ إِنْسَانًا أَحْسَنَ قِرَاءَةً مِنْهُ "

حضرت براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم ﷺکو مغرب کی نماز میں سورۃ والتین کی تلاوت کرتے ہوئے سنا۔ سفیان کہتے ہیں : مسعر نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: میں نے کسی بھی شخص کو آپ ﷺسے زیادہ اچھی قرأت کرتےہونے نہیں سنا۔

إِنْسَانًا أَحْسَنَ قِرَاءَة مِنْهُ. ← سُفْيَانُ: زَادَ مِسْعَرٌ: فَمَا ← رَسُولَ اللَّهِ وَهُوَ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ. ← الْبَرَاءِ، ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَمِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، أَنَّهُمَا سَمِعَا عَدِيَّ بْنَ ثَابِتٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 743

chevron_left Previous
1…60616263
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter