Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 61

61 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: قَالَ الزُّبَيْرَ: لَمَّا نَزَلتْ {ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ} قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَيُّ نَعِيمٍ نُسْأَلُ عَنْهُ؟ وَإِنَّمَا هُمَا الْأَسْوَدَانِ التَّمْرُ وَالْمَاءُ قَالَ «إِمَّا أَنَّ ذَلِكَ سَيَكُونُ» قَالَ الْحُمَيْدِيُّ فَكَانَ سُفْيَانُ رُبَّمَا قَالَ: قَالَ الزُّبَيْرُ وَرُبَّمَا قَالَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ثُمَّ يَقُولُ فَقَالَ الزُّبَيْرُ

پھرتم سے نعمتوں کے بارے میں ضرور بالضرور سوال کیا جائے گا"میں نے عرض کی یارسول (ﷺ)! کون سی نعمتوں کے بارے میں ہم سے سوال کیا جائے گا؟ حالانکہ ہمیں ،تو یہی دو چیزیں ملتی ہیں کھجور اور پانی۔نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا: ایسا ضرور ہوگا۔ حمیدی ؒ کہتے ہیں : سفیان نامی راوی نے بعض اوقات یہ الفاظ نقل کیے ہیں حضرت زبیر ؓنے فرمایا: جو بعض اوقات الفاظ نقل کیے ہیں حضرت عبداللہ بن زبیؓر سے یہ بات منقول ہے ،پھر وہ کہنے لگے کہ حضرت زبیرؓ نے یہ کہا۔

النَّعِيمِ} قُلْتُ: ← الزُّبَيْرَ: لَمَّا نَزَلتْ {ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ يَوْمَئِذٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 61

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 62

62 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا أَبُو ضَمْرَةَ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ اللَّيْثِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ [ص:185]، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ قَالَ لَمَّا نَزَلتْ {ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ} [الزمر: 31] قَالَ الزُّبَيْرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُكَرَّرُ عَلَيْنَا الَّذِي كَانَ بَيْنَنَا فِي الدُّنْيَا مَعَ خَوَاصِّ الذُّنُوبِ فَقَالَ «نَعَمْ حَتَّى تُؤَدُّوا إِلَى كُلِّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ»

پھر قیامت کے دن تم لوگ اپنے پروردگار کے سامنے ایک دوسرے سے بحث کرو گے“۔ تو حضرت زبیر ؓنے عرض کی یارسول (ﷺ)! دنیا میں ہمارے درمیان یہ جو اختلاف ہے تو کیا ی خواص ذنوب کےساتھ دوبارہ ہم پر آئے گا؟ تو نبی اکرم ﷺنے فرمایا: جی ہاں۔ جب تک تم میں سے ہ حقدارکو اس کا مخصوص حق نہیں مل جاتا۔

الزُّبَيْرِ ← لما نزلت ثم إنكم يوم القيامة عند ربكم تختصمون الزمر ← الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ [ص:185]، ← يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، ← أَبُو ضمرة أنس بن عياض الليثي، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 62

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 63

63 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ، ثني مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِنْسَانٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ لَيْلَةٍ حَتَّى إِذَا كُنَّا عِنْدَ السِّدْرَةِ وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى طَرَفِ الْقَرْنِ الْأَسْوَدِ حَذْوَهَا فَاسْتَقْبَلَ نَخِبًا بِبَصَرِهِ وَوَقَفَ حَتَّى اتَّقَفَ النَّاسُ ثُمَّ قَالَ «أَنَّ صَيْدَ وَجٍّ وَعِضَاهَهُ حَرَمُ مَحْرَمِ اللَّهِ» وَذَلِكَ قَبْلَ نُزُولِهِ الطَّائِفَ وَحِصَارِهِ ثَقِيفًا

عروہ بن زبیر حضرت زبیر بن العوام ؓ کا یہ قول نقل کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم ﷺکے ساتھ "لیہ"(طائف کی ایک نواحی آبادی) سے آرہے تھے، یہاں تک کہ جب ہم سدرہ ( بیری کے درخت) کے پاس پہنچے تو نبی اکرمﷺقرن اسود (چھوٹے پہاڑیاطائف کے قریب ایک گاؤں) کے پاس ْٹھہر گئے ۔ آپ ﷺاس کے مد مقابل ٹھہر ے آپ ﷺنے نخب (نامی چھوٹی سی وادی )کی طرف رخ کیا۔آپ ﷺٹھہر ے رہے یہاں تک کہ لوگ بھی ٹھہر ے رہے ،پھر آپ ﷺنے ارشادفرمایا: بے شک "وج "(یعنی طائف) کا شکار اور یہاں کے درخت بھی حرم کا حصہ ہیں، جنہیں الله تعالی نے قابل احترام قرار دیا ہے۔ راوی کہتے ہیں: یہ نبی اکرمﷺ کے طائف میں پڑاؤ کرنے اورثقیف قبیلے کا محاصرہ کرنے سے پہلے کا واقعہ ہے۔

الزُّبَيْرِ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِنْسَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 63

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 64

64 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ بَجَالَةَ يَقُولُ لَمْ يَكُنْ عُمَرُ أَخَذَ الْجِزْيَةَ مِنَ الْمَجُوسِ حَتَّى شَهِدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَهَا مِنْ مَجُوسِ هَجَرٍ»

بجالہ کہتے ہیں: حضرت عمر ؓنے مجوسیوں سے جزیہ وصول نہیں کیا ،یہاں تک کہ حضرت عبد الرحمنٰ بن عوف ؓ نے اس بات کی گواہی دی کہ نبی اکرم ﷺنے "ہجر" نامی علاقے کے رہنے والے مجوسیوں سے اسے وصول کیا تھا۔

بَجَالَةَ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 64

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 65

65 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: اشْتَكَى أَبُو الرَّدَّادِ فَعَادَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَقَالَ أَبُو الرَّدَّادِ: إِنَّ أَخْيَرَهُمْ وَأَوْصَلَهُمْ مَا عَلِمْتُ أَبُو مُحَمَّدٍ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَقُولُ اللَّهُ أَنَا اللَّهُ وَأَنَا الرَّحْمَنُ، خَلَقْتُ الرَّحِمَ وَاشْتَقَقْتُ لَهَا اسْمًا مِنِ اسْمِي فَمَنْ وَصَلَهَا وَصَلْتُهُ، وَمَنْ قَطَعَهَا بَتَتُّهُ»

ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بیان کرتے ہیں: ابور داد بیمار ہو گئے تو حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ ان کی عیادت کرنے کے لیے آئے ابور داد نے کہا: میرے علم کے مطابق لوگوں میں سب سے زیادہ بہتر اور سب سے زیادہ رشتے داری کے حقوق کا خیال رکھنے والے ابومحمد ہیں۔تو حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے فرمایا: میں نے نبی اکرمﷺ کویہ ارشادفرماتے ہوئے سنا ہے۔"الله تعالی یہ فرماتا ہے میں اللہ ہوں میں رحمٰن ہوں میں نے رم (رشتہ داری) کو پیدا کیا ہے اور میں نے اس کانام اپنے نام کے مطابق رکھا ہے تو جو شخص اسے ملائے گامیں اسے ملا کے رکھوں گا اور شخص ا سے کانے گامیں اسے جڑ سے ختم کر دوں گا"۔

اللہُ ← اللہُ ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← أَبُو الرَّدَّادِ: إِنَّ أَخْيَرَهُمْ وَأَوْصَلَهُمْ مَا عَلِمْتُ أَبُو مُحَمَّدٍ ← اشتكى ابو الرداد فعاده عبد الرحمن بن عوف ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 65

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 66

66 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا الزُّهْرِيُّ، أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: مَرِضْتُ بِمَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ مَرَضًا أُشْفِيتُ مِنْهُ عَلَى الْمَوْتِ فَأَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي مَالًا كَثِيرًا، وَلَيْسَ يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَتِي أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي؟ قَالَ «لَا» قُلْتُ: فَالشَّطْرُ قَالَ: «لَا» قُلْتُ: فَالثُّلُثُ قَالَ: «الثُّلُثُّ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ إِنَّكَ إِنْ تَتْرُكْ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَتْرُكَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ، وَإِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً إِلَّا أُجِرْتَ عَلَيْهَا حَتَّى اللُّقْمَةُ تَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِكَ» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أُخَلَّفُ عَلَى هِجَرَتِي فَقَالَ «إِنَّكَ لَنْ تُخَلَّفَ بَعْدِي فَتَعْمَلَ عَمَلًا تُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا ازْدَدْتَ بِهِ رِفْعَةً وَدَرَجَةً وَلَعَلَّكَ إِنْ تُخَلَّفْ بَعْدِي حَتَّى يَنْتَفِعَ بِكَ أَقْوَامٌ وَيُضَرُّ بِكَ آخَرُونَ، اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ وَلَاتَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ» وَلَكِنَّ الْبَائِسَ سَعْدُ ابْنُ خَوْلَةَ يَرْثِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَاتَ بِمَكَّةَ قَالَ سُفْيَانُ وَسَعْدُ ابْنُ خَوْلَةَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ

عامر بن سعد اپنے والد حضرت سعد بن ابی وقاص ؓکا یہ قول نقل کرتے ہیں ۔ فتح مکہ کے موقع پر میں بیمار ہو گیا ایسا بیمار ہوا کہ موت کے کنارے پہنچ گیا۔ نبی اکرم ﷺمیری عیادت کرنے کے لیے میرے پاس تشریف لائے میں نے عرض کی یارسول اللہ (ﷺ)! میرے پاس بہت سا مال ہے اور میری وارث صرف میری ایک بیٹی ہے ،تو کیا میں اپنا دو تہائی مال صدقہ کردوں تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جی نہیں میں نے عرض کی: نصف کر دوں؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نہیں میں نے عرض کی :ایک تہائی کر دوں؟ نبی اکرمﷺنے فرمایا: ایک تہائی کر دو ! ویسے ایک تہائی بھی زیادہ ہے۔ اگر تم اپنے ورثا کوخوشال چھوڑ کر جاتے ہو تو یہ اسں سے زیادہ بہتر ہے کہ تم انہیں مفلوک الحال چھوڑ کے جاؤ کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے رہیں۔تم جو کچھ بھی خرچ کر وگے اس کا اجر ملے گا، یہاں تک کہ تم اپنی بیوی کے منہ میں جولقمہ ڈالو گے (اس کا بھی تمہیں اجرملے گا ْ)میں نے عرض کی یارسول الله (ﷺ)! کیا میں اپنی ہجرت سے پیچھے کر دیا جاؤں گا؟ نبی اکرم ﷺنے فرمایا تمہیں مجھ سے پیچھے نہیں کیا جائے گا تم جو بھی عمل کروگے جس کے ذریعے تم نے الله کی رضا چاہی ہوگی، تو اس کے نتیجے میں تمہاری رفعت اور مرتبے میں اضافہ ہوگ،ا ہوسکتا ہے کہ تم میرے بعد بھی زندہ ر ہوتا کہ بہت سے لوگ تم سے نفع حاصل کریں اور دوسرے بہت سے لوگوں کو تم سےنقصان ہو۔(پھر نبی اکرم ﷺنے دعا کی)"اے اللہ میرے اصحاب کی ہجرت کو باقی رکھنا اور انہیں ایڑیوں کے بل واپس نہ لوٹا ، لیکن سعد بن خولہ پر افسوس ہے"- (حضرت سعد ؓکہتے ہیں) نبی اکرم ﷺنے ان پرافسوس کا اظہار اس لیے کیا، کیونکہ ان کا انتقال مکہ میں ہوگیا تھا۔

أَبِيهِ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 66

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 67

67 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْظَمُ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا مَنْ سَأَلَ عَنْ أَمْرٍ لَمْ يُحَرَّمْ فَحُرِّمَ عَلَى النَّاسِ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ»

عامر بن سعد اپنے والدحضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے حوالے سے نبی اکرم ﷺکا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :مسلمانوں میں سے سب سے بڑا مجرم وہ ہوتا ہے جو کسی ایسے معاملے کے بارے میں سوال کرے جسے حرام قرارنہیں دیا گیا تھا، اور پھر اس کے سوال کرنے کی وجہ سے وہ لوگوں کے لیے حرام قرار دے دیا جائے۔

أَبِيهِ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 67

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 68

68 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْمًا» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطِ فُلَانًا فَإِنَّهُ مُؤْمِنٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَو مُسْلِمٌ؟» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطِ فُلَانًا فَإِنَّهُ مُؤْمِنٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَو مُسْلِمٌ؟» ثُمَّ قَالَ «لَأُعْطِي الرَّجُلَ وَغَيْرَهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مَخَافَةَ أَنْ يَكُبَّهُ اللَّهُ فِي النَّارِ»

عامر بن سعد اپنے والد (حضرت سعد بن ابی وقاصؓ )کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے کچھ تقسیم کیا ،تو میں نے عرض کی :یا رسول اللہ (ﷺ)!فلاں صاحب کو بھی کچھ دے دیجئے وہ مومن ہے۔ نبی اکرم ﷺنے دریافت کیا:(و ه مومن ہے) یا مسلمان ہے؟ میں نے عرض کی یا رسول اللہ (ﷺ )! آپ فلاں کو بھی کچھ عطا کیجئے کیونکہ وہ مومن ہے۔ نبی اکرم ﷺنے دریافت کیا:(وہ مومن ہے) یا مسلمان ہے؟ پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا بعض اوقات میں کسی شخص کو کچھ دیتا ہوں حالانکہ دوسرا شخص میرے نزدیک اس سے زیاد محبوب ہوتا ہے، لیکن میں اس اندیشے کے تحت دے دیتا ہوں تا کہ الله تعالی اسے منہ کے بل جہنم میں داخل نہ کردے۔

قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ قَسْمًا فَقُلْتُ ← أَبِيهِ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 68

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 69

69 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ هَذَا الْحَدِيثِ وَزَادَ فِيهِ قَالَ الزُّهْرِيُّ فَنَرَى أَنَّ الْإِسْلَامَ الْكَلِمَةُ، وَأَنَّ الْإِيمَانَ الْعَمَلُ

یہی روایت ایک اور سند کے ہمرا ہ بھی منقو ل ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں ۔زہری کہتے ہیں۔(اس روایت سے ہم )یہ بات جان گئے ہیں کے اسلام سے مراد زبانی اقرار ہے اور ایمان سے مراد عمل ہے۔

الزُّهْرِيُّ فَنَرَى أَنَّ الْإِسْلَامَ الْكَلِمَةُ، وَأَنَّ الْإِيمَانَ الْعَمَلُ ← النَّبِيِّ بِنَحْوِ هَذَا الْحَدِيثِ وَزَادَ فِيهِ ← أَبِيهِ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 69

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 70

70 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، وَأَبُو ضَمْرَةَ قََالَا: ثنا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَصَبَّحَ بِسَبْعِ تَمَرَاتٍ عَجْوَةً لَمْ يَضُرَّهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ سُمٌّ وَلَا سِحْرٌ»

عامر بن سعد اپنے والد(حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ) کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا فرمان نقل کرتے ہیں: "جوشخص صبح کے وقت سات عجوہ کھجور میں کھالے اس دن میں اس پرز ہر یا جادو اثر نہیں کرے گا"۔

أَبِيهِ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← هَاشِمِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، وَأَبُو ضَمْرَةَ ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 70

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 71

71 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يَقُولُ: بَلَغَنِي عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ الْحَدِيثُ ثُمَّ لَقِيتُ سَعْدًا فَحَدَّثَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ «أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى»

سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں: مجھ تک حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کے حوالے سے منقول ایک روایت پہنچی تومیں حضرت سعد ؓسے ملا انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی نبی اکرم ﷺنے حضرت علی بن ابو طالب ؓ سے یہ فرمایا تھا۔" کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہو جوحضرت ہارونؑ کی حضرت موسٰیؑ سے تھی"۔

سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ الْحَدِيثُ ثُمَّ لَقِيتُ سَعْدًا فَحَدَّثَنِي ← بلغني ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 71

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 72

72 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ السُّوَائِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ لِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ: وَاللَّهِ لَقَدْ شَكَاكَ أَهْلُ الْكُوفَةِ فِي كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى زَعَمُوا أَنَّكَ لَا تُحْسِنُ تُصَلِّي بِهِمْ فَقَالَ سَعْدٌ: «أَمَا وَاللَّهِ مَا كُنْتُ آلُو بِهِمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ أَرْكُدُ فِي الْأُولَيَيْنِ وَأَحْذِفُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ» قَالَ: فَسَمِعْتُ عُمَرَ يَقُولُ: ذَلِكَ الظَّنُّ بِكَ، ذَلِكَ الظَّنُ بِكَ

جابر بن سمرہ سوائی بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عمر بن خطابؓ کو حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے یہ کہتے ہوئے سنا: الله کی قسم ! اہل کوفہ نے تمہاری ہر معاملے میں شکایت کی ہے، یہاں تک کہ انہوں نے بھی یہ بیان کیا ہے کہ تم انہیں صحیح طریقے سے نماز نہیں پڑھاتے ہو، تو حضرت سعدؓ نے کہا: اللہ کی قسم ! ظہر اور عصر کی نماز میں نبی اکرم ﷺکے طریقہ نماز کے مطابق، نماز پڑھانے کے حوالے سے، میں ان کے ساتھ کوئی کوتاہی نہیں کرتا۔ میں پہلی دو رکعات طویل ادا کرتا ہوں اور آخری دو رکعات کچھ مختصر کر دیتا ہوں۔راوی کہتے ہیں تو میں نے حضرت عمر ؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا:تمہارے بارے میں یہی گمان تھا۔ تمہارے بارے میں یہی گمان تھا۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ السُّوَائِيِّ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 72

chevron_left Previous
1…567…63
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter