Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 696

696 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى، عَنْ نَافِعِ [ص:548]، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَبْصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةً سِيَرَاءَ عَلَى عُطَارِدَ، وَكَرِهَهَا لَهُ وَنَهَاهُ عَنْهَا، ثُمَّ أَنَّهُ كَسَا عُمَرَ مِثْلَهَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدَ مَا قُلْتَ وَتَكْسُونِي هَذِهِ، قَالَ: «إِنِّي لَمْ أُكْسِكَهَا لِتَلْبَسَهَا إِنَّمَا أَعْطَيْتُكَهَا لِتَكْسُوَهَا النِّسَاءَ»

حضرت عبداللہ بن عمر ؓبیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے عطاردنامی صاحب کے پاس ایک سیرانی (یعنی ریشمی) حلہ فروخت ہوتے ہوئے دیکھا تو آپ ﷺنے اس پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور اسے استعمال کرنے سے منع کر دیا۔ پھرآپ ﷺنے اسی کی مانند ایک حلہ حضرت عمرؓکو بھجوایا تو انہوں نے عرض کی :یا رسول اللہ (ﷺ)! آپ ﷺنے عطارد کے حلے کے بارے میں، تو فلاں بات ارشادفرمائی تھی اور اب آپ ﷺیہ مجھے پہننے کے لیے دے رہے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ میں نے تمہیں اس لیےنہیں دیا ،کہ تم اسے پہن لو، میں نے تمہیں یہ اس لیے دیا ہے، تاکہ تم اسے خواتین کو پہنے کے لیے دو!

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ، [ص:313] ← أَيُّوبَ بْنِ مُوسَی ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 696

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 697

697 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ إِسْمَاعِيلَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُؤَيْبٍ الْأَسَدِيَّ، يَقُولُ: خَرَجْنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ إِلَى الْحِمَى فَلَمَّا غَرَبَتِ الشَّمْسُ هِبْنَا أَنْ نَقُولَ لَهُ: انْزِلْ فَصَلِ، «فَلَمَّا غَابَ الشَّفَقُ نَزَلَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ بِنَا ثَلَاثًا ثُمَّ سَلَّمَ، وَصَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ» ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: «هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ» [ص:549]، قَالَ سُفْيَانُ: " وَكَانَ ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ كَثِيرًا إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ لَا يَقُولُ فِيهِ: فَلَمَّا غَابَ الشَّفَقُ، يَقُولُ: فَلَمَّا ذَهَبَ بَيَاضُ الْأُفُقِ وَفَحْمَةُ الْعِشَاءِ نَزَلَ فَصَلَّى، فَقُلْتُ لَهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا قَالَ إِسْمَاعِيلُ: غَابَ الشَّفَقُ وَلَكِنِّي أَكْرَهُهُ، فَإِذًا أَقُولُ هَكَذَا لِأَنَّ مُجَاهِدًا حَدَّثَنَا أَنَّ الشَّفَقَ النَّهَارُ، قَالَ سُفْيَانُ: فَأَنَا أُحَدِّثُ بِهِ هَكَذَا مَرَّةً، وَهَكَذَا مَرَّةً "

اسماعیل بن عبدالرحمنٰ بیان کرتے ہیں :ہم لوگ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کے ہمرا ہ چراگاہ کی طرف گئے جب سورج غروب ہوگیا، تو ہمیں یہ اندیشہ ہوا(کہ کہیں نماز کا وقت نہ گزر جائے) ہم نے ان سے کہا: آپ سواری سے نیچے اتر یئے اور نماز ادا کیجئے جب شفق غروب ہوگئی تو حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سواری سے نیچے اترے انہوں نے ہمیں مغرب کی نماز میں تین رکعات پڑھائیں پھر انہوں نے سلام پھیرا پھرانہوں نے عشاء کی نماز کی دورکعات ادا کیں پھر وہ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور بتایا میں نےنبی اکرمﷺ کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ سفیان کہتے ہیں: ابن ابونجیح نامی راوی اکثراوقات جب یہ حدیث بیان کرتے تھے ،تو اس میں یہ الفاظ نقل نہیں کرتے تھے۔"جب شفق غروب ہوگئی“۔ بلکہ وہ یہ الفاظ استعمال کرتے تھے"جب افق کی سفیدی اور رات کی سیاہی چلی گئی تو وہ اپنی سواری سے اترے انہوں نے نماز ادا کی"۔سفیان کہتے ہیں:میں نے ابن ابونجیح سے اس بارے میں بات کی ، تو انہوں نے بتایا:اسماعیل نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں"جب شفق غروب ہوگی“۔میں ان الفاظ کو اس لیےپسند نہیں کرتا ،کیونکہ مجاہد نے ہمیں یہ بات بتائی ہے:شفق سے مراد دن ہوتا ہے۔سفیا ن کہتے ہیں :تو میں بعض اوقات یہ راویت ان الفاظ میں نقل کرتا ہوں اور بعض اوقات ان الفاظ میں نقل کردیتاہوں۔

خَرَجْنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ إِلَى الْحِمَى فَلَمَّا غَرَبَتِ الشَّمْسُ هِبْنَا ← إسماعيل بن عبد الرحمن بن أبي ذويب الأسدي ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 697

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 698

698 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ عَرَفَةَ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: «حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَصُمْهُ، وَحَجَجْتُ مَعْ أَبِي بَكْرٍ فَلَمْ يَصُمْهُ، وَحَجَجْتُ مَعَ عُمَرَ فَلَمْ يَصُمْهُ، وَحَجَجْتُ مَعَ عُثْمَانَ فَلَمْ يَصُمْهُ، وَأَنَا لَا أَصُومُهُ وَلَا آمُرُ بِهِ وَلَا أَنْهَى عَنْهُ»

ابن ابو نجیح اپنے والد کے حوالے سے ایک صاحب کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے عرفہ کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں دریافت کیا ،تو حضرت عبداللہ بن عمرؓ بولے : میں نے نبی اکرم ﷺکے ساتھ حج کیا ہے نبی اکرم ﷺ نے اس دن روزہ نہیں رکھا تھا۔میں نے حضرت ابو بکرؓکے ساتھ حج کیا ،تو انہوں نے بھی اس دن روز نہیں رکھا۔ میں نے حضرت عمر ؓ کے ساتھ حج کیا، تو انہوں نے بھی اس دن روز نہیں رکھا۔ میں نے حضرت عثمان ؓکے ساتھ حج کیا، تو انہوں نے بھی اس دن روز نہیں رکھا تو میں اس دن روز ہ نہیں رکھوں گا اور اس کاحکم بھی نہیں دوں گا اور اسے منع بھی نہیں کروں گا۔

ابْنُ عُمَرَ: «حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فَلَمْ يَصُمْهُ، ← صيام يوم عرفة ← رَجُلٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 698

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 699

699 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرٌو، عَنْ أَبِي الثَّوْرَيْنِ الْجُمَحِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ عَرَفَةَ: «فَنَهَانِي»

ابوثورین جمحی بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عبد الله بن عمرؓسے عرفہ کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے مجھے اس سے منع کر دیا۔

صِيَامِ يَوْمِ عَرَفَةَ: «فَنَهَانِي» ← سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ ← أَبِي الثَّوْرَيْنِ الْجُمَحِيِّ، ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 699

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 700

700 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَحْلِبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ امْرِئٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ [ص:550]، أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يُؤْتَى إِلَى بَابِ مَشْرَبَتِهِ فَيُكْسَرُ بَابُهَا، فَيُنْتَثَلُ طَعَامُهُ، أَلَا إِنَّمَا أَطْعِمَتُهُمْ فِي ضُرُوعِ مَواشِيهِمْ»

حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں : بنی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے :کو ئی شخص کسی دوسرے کے جانور کا دودھ اس کی اجازت کے بغیر ہرگز نہ دوہ لے ۔ کیا کوئی شخص یہ بات پسند کرے گا؟ اس کے گودام کے دروازے پر کوئی شخص آئے اس کا درواز توڑے اس کے اناج کو نکال لے۔ خبردار! یہ ان لوگوں کی خوراک ہے ،جوان کے جانوروں کے تھنوں میں ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 700

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 701

701 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «سَابَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْخَيْلِ، فَأَرْسَلَ مَا أَضْمَرَ مِنْهَا مِنَ الْحَفْيَاءِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ، وَأَرْسَلَ مَا لَمْ يَضْمُرْ مِنْهَا مِنْ ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ» [ص:551] قَالَ ابْنُ عُمَرَ: «وَكُنْتُ فِيمَنْ سَابَقَ فَاقْتَحَمَ بِي فَرَسِي فِي حَزَقٍ فَصَرَعَنِي»

حضرت عبد الله بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں:نبی اکرم ﷺنے گھوڑوں کے درمیان دوڑ کا مقابلہ کروایا تھا آپ ﷺنے ان میں سے تربیت یافتہ گھوڑوں کی دوڑحفیاء سےمسجد بنوزریق تک کروائی تھی اور غیرتربیت یافتہ گھوڑوں کی دوڑ ثنيۃالوداع سے لے کر مسجد بنوزریق تک کروائی تھی۔حضرت عبد الله بن عمر ؓبیان کرتے ہیں : میں بھی دوڑ میں حصہ لینے والوں میں شامل تھا، تو میرا گھوڑا مجھے لے کر جرف میں داخل ہوگیا اور اس نے مجھے گرادیا۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 701

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 702

702 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ فِي أَمْوَالِ بَنِي النَّضِيرِ وَحَرَقَ» ، قَالَ سُفْيَانُ: «وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْهُ»

حضرت عبد الله بن عمرؓبیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے بنونضیر کی زمینوں (پر موجود کھجور کے درخت) کٹوا دیے تھے اور انہیں جلوا دیا تھا۔ سفیان کہتے ہیں : میں نے یہ روایت ان سے سنی نہیں ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 702

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 703

703 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَدْرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ وَهُوَ فِي سَفَرِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: وَأَبِي وَأَبِي، فَقَالَ: «أَلَا إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ، فَمَنْ كَانَ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ بِاللَّهِ أَوْ لِيَصْمُتْ»

حضرت عبداللہ بن عمر ؓبیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے سفر کے دوران حضرت عمر ؓ کو پایا وہ یہ کہہ رہے تھے:میرے والد کی قسم ! میرے والد کی قسم !تو نبی اکرمﷺنے فرمایا: خبردار! الله تعالیٰ نے تمہیں اس بات سے منع کر دیا ہے کہ تم اپنے آباؤ اجداد کے نام کی قسم اٹھاؤ۔ جس شخص نے قسم اٹھانی ہو ،تو وہ اللہ کے نام کی قسم اٹھائے یا پھر خاموش رہے۔

وَأَبِي وَأَبِي ← أَدْرَكَ رَسُولُ اللَّهِ عُمَرَ وَهُوَ فِي سَفَرِهِ، وَهُوَ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 703

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 704

704 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً فَلَقُوا الْعَدُوَّ، فَحَاصَ النَّاسُ حَيْصَةً، فَأَتَيْنَا الْمَدِينَةَ، فَتَخَبَّأْنَا بِهَا، وَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَحْنُ الْفَرَّارُونَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَلْ أَنْتُمُ الْعَكَّارُونَ وَأنَا فِئَتُكُمْ»

حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺنے ایک جنگی مہم روانہ کی ان لوگوں کا دشمن سے سامنا ہوا تو وہ لوگ وہاں سے فرار ہو گئے جب ہم لوگ مدینہ منورہ آئے تو ہمیں اس حوالے سے الجھن ہوئی ہم نے عرض کی : یارسول الله (ﷺ)! ہم لوگ فرار ہو کر آئے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: (نہیں!) بلکہ تم پلٹ کر حملہ کرنے والے ہو۔اور میں تمہارےساتھ ہوں۔

ابْنِ عُمَرَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 704

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 705

705 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّهُ سَمِعَهُ، يَقُولُ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا سَمِعَ شَيْئًا لَمْ يَزِدْ فِيهِ وَلَمْ يَنْقُصْ مِنْهُ وَلَمْ يُجَاوِزْهُ إِلَى غَيْرِهِ، وَلَمْ يَقْصُرْ عَنْهُ، فَحَدَّثَ عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ وَابْنُ عُمَرَ جَالِسٌ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ الشَّاةِ بَيْنَ الْغَنَمَيْنِ تَنْطَحُهَا هَذِهِ مَرَّةً» فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: «بَيْنَ الرَّبْضَيْنِ» [ص:553]، فَقِيلَ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ سَوَاءٌ بَيْنَ الرُّبَيْضَتَيْنِ وَبَيْنَ الْغَنَمَيْنِ، " فَأَبَى ابْنُ عُمَرَ إِلَّا الرَّبْضَيْنِ

محمد بن علی بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عمر ؓجب کوئی بات سنتے تھے ،تو اس میں کسی لفظ کا اضافہ یاکمی نہیں کرتے تھے، نہ تو وہ ہٹ کر کسی دوسری طرف جاتے تھے اور نہ ہی اس میں کوئی کمی کرتے تھے۔ عبيد بن عمیر نے ایک حدیث بیان کی حضرت عبد الله بن عمر ؓ وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔(حدیث یہ تھی )نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا ہے: "منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہے جو دوریوڑوں کے درمیان ہوتی ہے کبھی وہ اس میں سینگ مارتی ہے اور کبھی اس میں سینگ مارتی ہے"۔تو حضرت عبد الله بن عمرؓ بتایا: حدیث کے الفاظ "ربیضین‘‘ ہے (یعنی ایسا ریوڑ جس کے ساتھ اس کا چراہابھی ہوتا ہے)جس کے ساتھ اس کا چرواہا بھی ہوتا ہے) حدیث : ان سے کہا گیا: اے ابوعبدالرحمنٰ ! مطلب تو ایک ہی ہے،" ربیضین‘‘ کے درمیان ہو یا "غنمین" کے درمیان ہو، تو حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے اصرار کیا ،لفظ"ربیضین" ہے، جس طرح انہوں نےسناہے۔

كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا ← مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّهُ سَمِعَهُ ← مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 705

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 706

706 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحُبْلَةِ»

حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ”حبل الحبلہ" کا سودا کرنے (یعنی اتنی مدت کا سودا کرنے کے جب اونٹی اپنے بچے کوجنم دے اور پھر اس کے ہاں جنم دینے والی اونٹنی اپنے بچے کوجنم دے تو اس بچے کا سودا کرنے یااس وقت یعنی غیرمتعین وقت میں کسی دوسرے کی ادایئگی طے کرنے )سے منع کیاہے۔

بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← ابْنِ عُمَرَ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 706

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 707

707 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ، عَنْ نَافِعٍ [ص:554]، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَلَفَ، فَقَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى فَقَدِ اسْتَثْنَى "

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : جو شخص قسم اٹھاتے ہوئے انشاءاللہ کہہ دے تو وہ شخص استثناء کر لیتا ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ، [ص:313] ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 707

chevron_left Previous
1…585960…63
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter