Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 684

684 - قَالَ عَمْرٌو: وَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: «لَا يَقْرَبُهَا حَتَّى يَطُوفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ»

عمرو بن دینار کہتے ہیں: ہم نے حضرت جابر بن عبداللہؓ سے یہ سوال کیا ،تو انہوں نے فرمایا: تم اپنی بیوی کے قریب اس وقت تک نہیں جاسکتے جب تک تم صفاومروہ کا چکرنہیں لگا لیتے۔

«لَا يَقْرَبُهَا حَتَّى يَطُوفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ» ← عَمْرٌو: وَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 684

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 685

685 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: قِيلَ لِابْنِ عُمَرَ: إِنَّ أَبَا نَهِيكٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ يَأْكُلُ أَكْلًا كَثِيرًا، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ، وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ» فَقَالَ الرَّجُلُ: «أَمَّا أَنَا فَأُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ»

عمرو بن دینار کہتے ہیں حضرت عبد الله بن عمر ؓسے کہا گیا: مکہ کا ایک شخص ابو نہیک بہت زیادہ کھاتا ہے، تو حضرت عبدالله بن عمر ؓبولے: نبی اکرمﷺنے یہ بات ارشادفرمائی ہے:"مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے"۔ راوی کہتے ہیں تو وہ صاحب بولے : جہاں تک میراتعلق ہے، تو میں الله اور اس کے رسولﷺپر ایمان رکھتا ہوں۔

قِيلَ لِابْنِ عُمَرَ: ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 685

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 686

686 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَيُّمَا عَبْدٍ كَانَ بَيْنَ اثْنَيْنِ فَأَعْتَقَ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ، فَإِنْ كَانَ مُوسِرًا فَإِنَّهُ يَقُومُ عَلَيْهِ بِأَعْلَى الْقِيمَةِ» ، أَوْ قَالَ: «قِيمَةُ عَدْلٍ لَا وَكْسٍ، وَلَا شَطَطٍ ثُمَّ يَغْرُمُ لِصَاحِبِهِ حِصَّتَهُ ثُمَّ يُعْتَقُ» [ص:543]، قَالَ سُفْيَانُ: «كَانَ عَمْرٌو يَشُكُّ فِيهِ هَكَذَا»

سالم بن عبد الله اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم ﷺکایہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جوغلام دو آدمیوں کی ملکیت ہو ان دونوں میں سے کوئی ایک شخص اپنے حصے کو آزاد کر دے۔ اگر وہ شخص خوشحال ہو، تو اس غلام کی منصفانہ طورپر کسی کمی بیشی کے بغیر مناسب قیمت لگائی جائے گی اور پھر وہ شخص اپنے ساتھی کو اس کے حصے کی تاوان کی رقم ادا کرے گا اور اس غلام کو(مکمل طور پر) آزادکردے گا“۔ سفیان کہتے ہیں: عمرو کو اس روایت کے اس طرح ہونے میں شک ہے۔

أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 686

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 687

687 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ لِلْمُتَلَاعِنَيْنِ: «حِسَابُكُمَا عَلَى اللَّهِ، أَحَدُكُمَا كَاذِبٌ لَا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا» ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَالِي مَالِي قَالَ: " لَا مَالَ لَكَ، إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا، وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا فَذَلِكَ أَبْعَدُ لَكِ مِنْهُ، أَوْ قَالَ: مِنْهَا "

حضرت عبدالله بن عمرؓ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺکو لعان کرنے والے (میاں بیوی سے )یہ کہتے ہوئے سنا ہے: "تم دونوں کا حساب الله تعالیٰ کے ذمے ہے، تم دونوں میں سے کوئی ایک جھوٹا ہے ،لیکن اب(تمہیں یعنی مرد کو)اس عورت پر کوئی حق حاصل نہیں ہے"۔ ان صاحب نے عرض کی یارسول الله (ﷺ) !میرامال، میر امال۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا تمہیں مال نہیں ملے گا اگر تم نے اس عورت کے بارے میں سچ کہا ہے، تویہ مال اس چیز کاعوض بن جائے گا ،جوتم نے اس کی شرمگاہ کو حلال کیا تھا ،اور اگر تم نے اس پر جھوٹا الزام لگایا ہے، تو پھر تو وہ تم سے اور بھی زیادہ دور ہو جائے گا۔ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)

للمتلاعنين حسابكما على الله أحدكما كاذب لا سبيل لك عليها فقال ← رَسُولِ اللَّهِ ← ابْنِ عُمَرَ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 687

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 688

688 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يَقُولُ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَجُلٌ لَاعَنَ امْرَأَتَهُ، فَقَالَ لِي ابْنُ عُمَرَ بِيَدِهِ هَكَذَا بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى: «فَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَخَوَيِ بَنِي عَجْلَانَ» ، وَقَالَ: «اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ؟» [ص:544]، قَالَ سُفْيَانُ: " وَكَانَ أَيُّوبُ حَدَّثَنَاهُ أَوَّلَا فِي مَجْلِسِ عَمْرٍو، ثُمَّ حَدَّثَ عَمْرٌو بِحَدِيثِهِ هَذَا، فَقَالَ لَهُ أَيُّوبُ: أَنْتَ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ أَحْسَنُ لَهُ حَدِيثًا مِنِّي "

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عبد الله بن عمرؓسے سوال کیا میں نے کہا: اے ابوعبدالرحمن ٰ! کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ لعان کر سکتا ہے؟ تو حضرت عبد الله بن عمر ؓنے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کیا اس طرح۔ انہوں نے اپنی شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کے ذریے اشارہ کرتے ہوئے کہا نبی اکرم ﷺنے بنوعجلان سے تعلق رکھنے والے دو میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کروا دی تھی۔ آپ ﷺنے فرمایاتھا: الله تعالیٰ یہ بات جانتا ہے کہ تم دونوں میں سے کوئی ایک جھوٹ بول رہا ہے ،تو کیاتم دونوں ،تو بہ کروگے؟ سفیان کہتے ہیں: پہلے ایوب نے ہمیں یہ روایت عمرو کی محفل میں سنائی تھی پھر عمرو نے ان کی حدیث کے حوالے سے یہ روایت اس طرح بیان کی، تو ایوب نے ان سے کہا: اے ابومحمد! آپ اس روایت کو مجھ سے زیادہ بہتر طور پر بیان کر سکتے ہیں۔

اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 688

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 689

689 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ إِسْمَاعِيلَ الشَّيْبَانِيَّ، يَقُولُ: بِعْتُ مَا فِي رُءُوسِ نَخْلِي بِمِائَةِ وَسَقٍ تَمْرٍ، إِنْ زَادَ فَلَهُمْ، وَإِنْ نَقَصَ فَعَلَيْهِمْ، فَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ إِلَّا أَنَّهُ رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا»

اسماعیل شیبانی بیان کرتے ہیں: میں نے کھجور کے درختوں پر لگے ہوئے پھل کو ایک سووسق کھجوروں کے عوض میں فروخت کر دیا ،(اس شرط پر کہ اگر درخت پرلگا ہوا پھل) زیادہ ہوا تو ان لوگوں کومل جائے گا اگر کم ہوا تو اس کا نقصان بھی ان کو ہوگا۔ میں نے اس بارے میں حضرت عبدالله بن عمر ؓسے دریافت کیا ،تو انہوں نے بتایا :نبی اکرم ﷺنے اس سے منع کیا ہے، تاہم آپ ﷺنے عرایا میں اس کی اجازت دی ہے۔

إسماعيل الشيباني ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 689

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 690

690 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرٌو، قَبْلَ أَنْ نَلْقَى الزُّهْرِيَّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ، وَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ رَكْعَتَيْنِ وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنَ، وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ وَبَعْدَ الْعِشَاءِ رَكْعَتَيْنِ» [ص:545]، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَذُكِرَ لِي وَلَمْ أَرَهْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «كَانَ يُصَلِّي حِينَ يُضِيءُ لَهُ الْفَجْرُ رَكْعَتَيْنِ»

سالم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺکو جمعہ کے بعد دو رکعات ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ میں نے آپ ﷺکو ظہر سے پہلے دو رکعات ادا کرتے اور ظہر کے بعد دو رکعات ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے اور مغرب کے بعد دورکعات ادا کرتے ہوئے اور عشاء کے بعد دورکعات (سنت ادا کرتے ہوئے دیکھاہے) حضرت عبد الله بن عمرؓ بیان کرتے ہیں، مجھے یہ بات بتائی گئی ہے، ویسے میں نے آپ ﷺکو خود دیکھا نہیں، کہ نبی اکرم ﷺ صبح صادق ہوجانے کے بعد بھی دورکعات ادا کرتے تھے۔

عَمْرٌو، قَبْلَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 690

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 691

691 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَكُنْتُ عَلَى بَكْرٍ صَعْبٍ لِعُمَرَ، فَكَانَ يَغْلِبُنِي فَيْتَقَدَّمُ أَمَامَ الْقَوْمِ، فَيَزْجُرُهُ عُمَرُ وَيْرُدُّهُ، ثُمَّ يَتَقَدَّمُ فَيَزْجُرُهُ عُمَرُ وَيْرُدُّهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ: «بِعْنِيهِ» ، قَالَ: هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «بِعْنِيهِ» فَبَاعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُوَ لَكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، فَاصْنَعْ بِهِ مَا شِئْتَ»

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں :ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک سفر کر رہے تھے میں حضرت عمرؓکے ایک ایسے اونٹ پر سوار تھاجوسخت تھا وہ مجھ پر غالب آجاتا تھا اور لوگوں سے آگے نکل جاتا تھا۔ حضرت عمرؓا سے جھڑکتے تھے اور اسے واپس کرتے تھے وہ پھر آگے ہو جاتا تھا حضرت عمر ؓپھر اسے جھڑکتے تھے اور اسے واپس کرتے تھے، تو نبی اکرمﷺنے حضرت عمرؓسے فرمایا: یہ مجھے فروخت کر دو انہوں نے عرض کی : یارسول الله (ﷺ)!یہ آپ کا ہوا۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا:یہ مجھے فروخت کر دو۔ نبی اکرم ﷺ نے وہ اونٹ ان سے خرید لیا پھر نبی اکرم ﷺنے فرمایا :اے عبداللہ بن عمر!یہ تمہارا ہوا تم اس کے ساتھ جو چاہو کرو۔

ابْنِ عُمَرَ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 691

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 692

692 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، ثُمَّ أَلْقَاهُ وَاتَّخَذَ مِنْ فِضَّةٍ فَصَّةً مِنْهُ، وَجَعَلَ فَصَّهُ مِنْ بَاطِنْ كَفِّهِ، وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَنَهَى أَنْ يَنْقُشَ أَحَدٌ عَلَيْهِ» ، «فَهُوَ الَّذِي سَقَطَ مِنْ مُعَيْقيبٍ فِي بِئْرِ أُرَيْسٍ»

حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے سونے کی انگوٹھی پہنی پھر آپ ﷺنے اسے اتار دیاپھر آپ ﷺنے چاندی کی انگوٹھی پہنی جس کا نگینہ بھی چاندی کا بنا ہوا تھاآپ ﷺاس کے نگینے کو ہتھیلی کی سمت میں رکھتے تھے ۔آپ ﷺْنے اس میں "محمد رسول اللہ " نقش کروایا تھا، اور آپ ﷺنے اس بات سے منع کیاتھا کہ کوئی شخص اس کے مطابق نقش بنوائے۔یہ وہی انگوٹھی ہے ، جو حضرت معقیبؓ سے "اریسں‘‘ کے کنویں میں گر گئی تھی۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ بْنِ مُوسَی ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 692

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 693

693 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ إِلَى الثَّنِيَّةِ فَمَا سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا حَدِيثًا وَاحِدًا، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِجُمَّارٍ، فَقَالَ: «إِنِّي لَأَعْلَمُ شَجَرَةً مَثَلُهَا كَمَثَلِ الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ» ، فَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ، ثُمَّ نَظَرْتُ فَإِذَا أَنَا أَصْغَرُ الْقَوْمِ فَسَكَتُّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هِيَ النَّخْلَةُ» [ص:547]

مجاہد بیان کرتے ہیں: میں ثنیہ تک حضرت عبداللہ بن عمرؓکے ساتھ گیا، تو میں نے انہیں نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کرتے ہوئے نہیں سناانہوں نے صرف ایک حدیث بیان کی وہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نبی اکرم ﷺکے پاس موجود تھے آپ ﷺکی خدمت میں جمار(کھجور کے درخت کا گوند ) لایا گیا، تو نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا: مجھے ایک ایسے درخت کے بارے میں پتہ ہے ،جس کی مثال مسلمان بندے کی مانند ہے۔ (حضرت عبد الله بن عمرؓ کہتے ہیں:) میرے ذہن میں آئی کہ وہ کھجور کا درخت ہو گا پہلے میں بات کرنے لگا لیکن میں نے جائزہ لیاتومیں حاضرین میں سب سے کم سن تھا۔ اس لیے میں خاموش رہا۔ نبی اکرمﷺنے فرمایا:وہ کھجور کا درخت ہے۔

کُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ فَأُتِيَ بِجُمَّارٍ ← صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ إِلَى الثَّنِيَّةِ فَمَا ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 693

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 694

694 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: فَقَالَ لِي عُمَرُ: " لَأَنْ تَكُونَ قُلْتَهَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا، أَوْ قَالَ: مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ "

حضرت عبدالله بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: حضرت عمرؓنے مجھ سے فرمایا:اگرتم یہ بات کہہ دیتے تو میرے نزدیک اس ،اس چیز سے زیاد محبوب تھا۔ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) سرخ اونٹوں سے زیا دہ محبوب تھا۔

مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ ← فَقَالَ لِي عُمَرُ: لَأَنْ تَكُونَ قُلْتَهَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا، أَوْ ← ابْنِ عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 694

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 695

695 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَأَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ، سَمِعُوا نَافِعًا، يَقُولُ: أَهَلَّ ابْنُ عُمَرَ بِالْعُمْرَةِ حِينَ خَرَجَ مِنَ الْمَدِينَةِ، وَقَالَ: إِنْ صَدَدْتُ فَعَلْتُ مِثْلَ الَّذِي فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَنْ جَاءَ الْبَيْدَاءَ، قَالَ: مَا شَأْنُهُمَا؟ أَلَا وَاحِدٌ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجًّا مَعَ عُمْرَتِي، قَالَ: «ثُمَّ قَدِمَ مَكَّةَ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَلْفَ الْمَقَامِ، وَطَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ» ، ثُمَّ قَالَ: «هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ» ، زَادَ أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى فِي الْحَدِيثِ: «فَلَمَّا بَلَغَ قَدِيدًا اشْتَرَى بِهِ هَدْيًا، فَسَاقَهُ»

نافع بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمؓر نے عمرے کا احرام باندھا اس وقت جب وہ مدینہ سے روانہ ہوئےتھے، پھر وہ بولے : اگر مجھے روک لیا گیا، تو میں ویسا ہی کروں گا، جس طرح نبی اکرمﷺنے کیا تھا، جب وہ بیداء کے مقام پر آئے، تو بولے :حج اور عمرے کی حیثیت ایک ہی ہے۔ میں تم لوگوں کو گواہ بنا کر کہہ رہا ہوں کہ میں نے اپنے عمرے کے ساتھ حج بھی لازم کرلیا ہے۔ راوی کہتے ہیں :پھر حضرت عبد الله بن عمرؓ مکہ آئے انہوں نے بیت اللہ کا سات مرتبہ طواف کیا۔ مقام ابراہیم کے پاس دو رکعات نماز ادا کی پھر صفا مروہ کا چکر لگایا پھر انہوں نے یہ بات بتائی میں نے نبی اکرمﷺکبھی ایسا کرتے دیکھا ہے۔ ایوب بن موسیٰ نا می راوی نے اپنی روایت میں مزیدیہ الفاظ نقل کیے ہیں: جب حضرت عبداللہ بن عمرؓکے مقام پر پہنچے، تو وہاں سے انہوں نے قربانی کا جانور لیا اور اسے ساتھ لے کر آئے۔

إِنْ صَدَدْتُ فَعَلْتُ مِثْلَ الَّذِي فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ فَلَمَّا أَنْ جَاءَ الْبَيْدَاءَ، ← أَهَلَّ ابْنُ عُمَرَ بِالْعُمْرَةِ حِينَ خَرَجَ مِنَ الْمَدِينَةِ، ← أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ، سَمِعُوا نَافِعًا، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← أَيُّوبَ بْنِ مُوسَی ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 695

chevron_left Previous
1…575859…63
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter