Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 660

660 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بِأَحْسَنَ مِنْهُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ» [ص:530] قَالَ: «وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَتَنَاجَى وَهُمْ ثَلَاثَةٌ دَعَا رَابِعًا»

حضرت عبداللہ بن عمرؓ نبی اکرم ﷺکایہ فرمان نقل کرتے ہیں: "دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر باہم سرگوشی میں بات نہ کریں"۔ راوی بیان کرتے ہیں : حضرت عبد الله بن عمرؓنے جب کسی شخص سے سرگوشی میں بات کرنی ہوتی اور وہاں تین افراد موجود ہوتے تو وہ چوتھے کو بلالیا کرتے تھے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بِأَحْسَنَ مِنْهُ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 660

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 661

661 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ قَالَ لِيَحْيَى بْنِ حَبَّانَ: أَمَا تَرَوْنَ الْقَتْلَ شَيْئًا وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ»

قاسم بن محمد کہتے ہیں : حضرت عبدالله بن عمرؓ نے یحییٰ بن حبان سے کہا :تم لوگ تو قتل کرنے کو بھی کچھ نہیں سمجھتے جبکہ نبی اکرمﷺنے یہ بات ارشادفرمائی ہے: دوآ دمی تیسرے کو چھوڑ کر باہم سرگوشی میں بات نہ کریں۔

لِيَحْيَى بْنِ حَبَّانَ: أَمَا تَرَوْنَ الْقَتْلَ شَيْئًا وَقَدْ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 661

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 662

662 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: ثنا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَعَاوِيُّ، قَالَ: صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ، فَقَلَّبْتُ الْحَصَى، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: " لَا تُقَلِّبِ الْحَصَى، فَإِنَّ تَقْلِيبَ الْحَصَى مِنَ الشَّيْطَانِ، وَافْعَلْ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ، قُلْتُ: وَكَيْفَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ؟ فَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، وَضَمَّ أَبُو بَكْرٍ ثَلَاثَ أَصَابِعَ وَنَصَبَ السَّبَّابَةَ، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى وَبَسَطَهَا "،

علی بن عبدالرحمنٰ معاوی بیان کرتے ہیں:میں نے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کے پہلومیں نماز ادا کی۔ (نماز کے دوران) میں نے کنکریوں کوا لٹا پلٹا۔ جب میں نے نمازمکمل کی، تو انہوں نے فرمایا: (تم نماز کے دوران ) کنکریاں نہ الٹایا کرو ،کیونکہ کنکریاں الٹانا شیطان کا کام ہے۔ تم ویسا کیا کروجس طرح میں نے نبی اکرم ﷺکو کرتے ہوئے دیکھا ہے میں نے دریافت کیا:آپ نے نبی اکرمﷺکو کیا کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ تو انہوں نے اپنا دایاں ہاتھ اپنے دائیں زانو پررکھا۔ پھر امام حمیدی ؒنے اپنی تین انگلیاں ملا کر اور اپنی شہادت کی انگلی کو کھڑا کیا اورانہوں نے اپا بایاں ہاتھ اپنے بائیں زانو پر رکھا اور اسے پھیلایا۔

صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ، فَقَلَّبْتُ الْحَصَى، فَلَمَّا انْصَرَفَ، ← عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُعَاوِيِّ ← مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ← سفيانُ, وعبد العزيز بن محمد, ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 662

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 663

663 - قَالَ سُفْيَانُ: وَكَانَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَاهُ، عَنْ مُسْلِمٍ، فَلَمَّا لَقِيتُ مُسْلِمًا حَدَّثَنِيهِ، وَزَادَ فِيهِ، " وَهِيَ مِذَبَّةُ الشَّيْطَانِ، لَا يَسْهُوَ أَحَدٌ، وَهُوَ يَقُولُ: هَكَذَا "، وَنَصَبَ الْحُمَيْدِيُّ إِصْبَعَهُ، قَالَ مُسْلِمٌ: وَحَدَّثَنِي رَجُلٌ أَنَّهُ رَأَى الْأَنْبِيَاءَ مُمَثَّلِينَ فِي كَنِيسَةٍ فِي الشَّامِ فِي صَلَاتِهِمْ قَائِلِينَ: هَكَذَا، وَنَصَبَ الْحُمَيْدِيُّ إِصْبَعَهُ

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے ،تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں۔ "یہ شیطان کو پرے کرنے کے لیے ہے ، تاکہ کوئی شخص سہوکا کا شکار نہ ہو"۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ اس طرح حمیدی ؒنے اپنی ایک انگلی کو کھڑا کیا ۔ مسلم نامی راوی کہتے ہیں: ایک صاحب نے مجھے یہ بات بتائی کہ انہوں نے شام کی ایک عبادت گاہ میں کچھ انبیاء کی نماز ادا کرتے ہوئے کی تصویر دیکھی تو انہوں نے بھی اسی طرح کیا ہوا تھا۔ حمیدی ؒ نے انگلی کھڑی کی ہوئی تھی۔

مُّسْلِمٍ ← هَكَذَا وَنَصَبَ الْحُمَيْدِيُّ إِصْبَعَهُ، ← وَزَادَ فِيهِ، وَهِيَ مِذَبَّةُ الشَّيْطَانِ، لَا يَسْهُوَ أَحَدٌ، وَهُوَ ← مُسْلِمٍ، فَلَمَّا لَقِيتُ مُسْلِمًا ← سُفْيَانُ: وَكَانَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 663

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 664

664 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنى مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ [ص:531]، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْإِزَارِ مَا ذَكَرَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ إِزَارِي يَسْقُطُ مِنْ أَحَدِ شِقَّيَّ، فَقَالَ: «إِنَّكَ لَسْتَ مِنْهُمْ»

سالم بن عبداللہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: جب نبی اکرم ﷺنے تہبند کے بارے میں حکم بیان کیا، تو حضرت ابوبکرؓنے عرض کی: یارسول الله (ﷺ)! میرا تہبند ایک پہلو سے نیچے ہو جاتا ہے۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: تم ان لوگوں میں شامل نہیں ہو۔

أَبُو بَکْرٍ ← رَسُولُ اللَّهِ مِنَ الْإِزَارِ مَا ← لَمَّا ← أَبِيهِ ← [ص:149] ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 664

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 665

665 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، وَثنا عَمْرٌو، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔

النَّبِیِّ مِثْلَہُ ← طَاوْسٍ ← سُفْيَانُ، وَثنا عَمْرٌو، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 665

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 666

666 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ عُبَيْدُ بْنُ جُرَيْجٍ كَانَ يَصْحَبُ ابْنَ عُمَرَ، أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: رَأَيْتُكَ تَصْنَعُ شَيْئًا لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ يَصْنَعُهُ، رَأَيْتُكَ لَا تُهِلُّ حَتَّى تَنْبَعِثَ بِكَ رَاحِلَتُكَ، وَرَأَيْتُكَ تَلْبَسُ هَذِهِ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ وَتَوَضَّأُ فِيهَا، وَرَأَيْتُكَ لَا تَسْتَلِمُ مِنَ الْبَيْتِ إِلَّا هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ، وَرَأَيْتُكَ تُصَفِّرُ لِحْيَتَكَ، فَأَجَابَهُ ابْنُ عُمَرَ، فَقَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُهِلُّ حَتَّى تَنْبَعِثَ بِهِ رَاحِلَتُهُ، وَرَأَيْتُهُ يَلْبَسُ هَذِهِ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا، وَرَأَيْتُهُ لَا يَسْتَلِمُ مِنْ هَذَا الْبَيْتِ إِلَّا هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ، وَرَأَيْتُهُ يُصَفِّرُ لِحْيَتَهُ»

عبيد بن جریج جو حضرت عبداللہ بن عمر ؓکے شاگرد ہیں وہ بیان کرتے ہیں:انہوں نے حضرت عبد الله بن عمرؓ سے سوال کیا وہ بولے:میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ کچھ ایسے کام کرتے ہیں، جو میں نے آپ کے اصحاب میں سے کسی کو کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ اس وقت تلبیہ پڑھنا شروع کرتے ہیں جب آپ کی سواری کھڑی ہوتی ہے۔ میں نے آپ کو دیکھا ہے آپ یہ سبتی جوتے پہنتے ہیں اور انہی میں وضو کر لیتے ہیں اور میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ ﷺ بیت اللہ کے صرف دو ارکان کا استلام کرتے ہیں اور میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آ پ اپنی داڑھی پر خضاب استعمال کرتے میں۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓنے انہیں جواب دیا: میں نے نبی اکرم ﷺکو دیکھا کہ آپ ﷺنے اس وقت تلبیہ پڑھنا شروع کیا جب آپ ﷺکی سواری کھڑی ہوئی تھی۔ اور میں نے نبی اکرم ﷺکوسبتی جوتے پہنے ہوئے دیکھا ہے آپ ﷺانہیں پہن کر ہی وضو کر لیتے تھے اور میں نے نبی اکرم ﷺکو دیکھا ہے کہ آپ ﷺبیت اللہ کے دو ارکان کا استلام کرتے تھے۔میں نے آپ ﷺکو دیکھا ہے کہ آپﷺاپنی داڑھی پر زرد خضاب استعمال کرتے تھے۔

سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 666

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 667

667 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ مُنْذُ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِينَ سَنَةً، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: جَاءَ عُمَرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ مَالًا لَمْ أُصِبْ قَطُّ مِثْلَهُ، تَخَلَّصْتُ الْمِائَةَ سَهْمٍ الَّتِي بِخَيْبَرَ، وَإِنِّي قَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَتَقَرَّبَ بِهَا إِلَى اللَّهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عُمَرُ، احْبِسِ الْأَصْلَ، وَسَبِّلِ الثَّمَرَةَ»

حضرت عبد اللہ بن عمرؓبیان کرتے ہیں: حفرت عمرؓ نبی اکر م ﷺکی خدمت میں حاضرہوے انہوں نے عرض کی:یارسول الله (ﷺ)! مجھے ایسی زمین ملی ہے کہ اس کی طرح کی زمین مجھے کبھی نہیں ملی۔ مجھے خیبر میں ایک سو حصے ملے ہیں میں یہ چاہتا ہوں کہ میں ان کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قرب حاصل کروں (یعنی انہیں صدقہ خیرات کروں ) تو نبی اکرم ﷺنے فرمایا: اے عمر!یہ زمین اپنے پاس رہنے دو اور اس کے پھل کو اللہ کی راہ میں دے دو۔

جَاءَ عُمَرُ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَ: ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عبد الله بن عمر منذ أكثر من سبعين سنة ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 667

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 668

668 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَصْحَابِ الْحِجْرِ: «لَا تَدْخُلُوا عَلَى هَؤُلَاءِ الَّذِينَ عُذِّبُوا إِلَّا أَنْتُمْ بَاكُونَ، وَإِنْ لَمْ تَكُونُوا بَاكِينَ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ»

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرم ﷺنے وادی حجر کے رہنے والوں کے بارے میں فرمایا تھا:تم ان لوگوں کے ہاں ،جنہیں عذاب دیا گیا ہے، یہاں روتے ہوئے داخل ہو،اگر رونہیں سکتے تو تم وہاں نہ جاؤ ،کیونکہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ تمہیں بھی وہی عذاب لاحق ہوگا، جو انہیں لاحق ہوا تھا۔

ابْنِ عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 668

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 669

669 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَتَيْتُ نَافِعًا وَطَرَحَ حَقِيبَةً، فَجَلَسْتُ عَلَيْهَا فَأَمْلَى عَلَيَّ فِي أَلْوَاحِي، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا تَبَايَعَ الْمُتَبَايِعَانِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَفْتَرِقَا، أَوْ يَكُونَ بَيْعُهُمَا عَلَى خِيَارٍ» قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ «إِذَا ابْتَاعَ الْبَيْعَ فَأَرَادَ أَنْ يَجُبَّ لَهُ مَشَى قَلِيلًا ثُمَّ رَجَعَ»

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے:"جب دو خرید و فروخت کرنے والے کوئی سودا کرلیں ، توان دونوں میں سے ہر ایک کو (سوداختم کرنے کا)اختیار ہو گا، جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو جاتے یا ان دونوں نے اختیارکی شرط پر سودا کیا ہو"۔ راوی بیان کرتے ہیں: حضرت عبدالله بن عمر ؓجب کوئی چیز خریدتے تھے اور وہ یہ چاہتے کہ یہ سودا طے ہو جائے ،تو وہ تھوڑی دور چل کر چلے جاتے تھے ،پھر واپس آتے تھے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← أَتَيْتُ نَافِعًا وَطَرَحَ حَقِيبَةً، فَجَلَسْتُ عَلَيْهَا فَأَمْلَى عَلَيَّ فِي أَلْوَاحِي، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 669

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 670

670 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْبَائِعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَفْتَرِقَا، أَوْ يَكُونُ بَيْعُهُمَا عَنْ خِيَارٍ، فَإِذَا كَانَ عَنْ خِيَارٍ فَقَدْ وَجَبَ»

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے:خریدوفروخت کرنے والوں کو سودا ختم کرنے کا اختیار ہوتا ہے، جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں، یا ان دونوں نے سودا ہی اختیار کی شرط پر کیا ہو۔ اگر وہ اختیار کی شرط پر سودا اختیار کیا گیا ہو گا، تو طے ہو جائے گا۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← عَبْدُ اللَّهِ بن دينار أنه ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 670

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 671

671 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكَ الْيَهُودِيُّ، فَإِنَّمَا يَقُولُ: السَّامُ عَلَيْكَ، فَقُلْ: عَلَيْكَ " قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ: " فَكَانَ رَجُلٌ يَهُودِيٌّ ثُمَّ أَسْلَمَ، وَكَانَ يُسَلِّمُ عَلَى ابْنِ عُمَرَ، فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ، إِذَا سَلَّمَ عَلَيْهِ لَا يَزِيدُ إِذَا رَدَّ عَلَيْهِ أَنْ يَقُولَ: عَلَيْكَ، فَيَقُولُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ، فَلَا يَزِيدُهُ عَلَى أَنْ يَقُولَ: عَلَيْكَ "

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: "جب کوئی یہودی تمہیں سلام کرتے ہوئے "السلام علیک" (تمہیں موت آئے ) کہے، تو تم کہو "علیک"(یعنی تمہیں بھی ا ٓئے )"۔عبداللہ بن دینار کہتے ہیں : ایک شخص پہلے یہودی تھا پھر اس نے اسلام قبول کر لیا وہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو سلام کرتا تھا ،تو حضرت عبداللہ بن عمر ؓ اسے جب بھی سلام کا جواب دیتے تھے ، تو ہمیشہ "علیک "ہی کہا کرتے تھے ۔ اس نے عرض کی:اے ابوعبدالرحمن ! میں مسلمان ہو چکا ہوں ،تو حضرت عبد الله بن عمر ؓپھر بھی علیک ہی کہا کرتے تھے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← عَبْدُ اللَّهِ بن دينار أنه ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 671

chevron_left Previous
1…555657…63
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter