Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 624

624 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا اسْتَأْذَنَتْ أَحَدَكُمُ امْرَأَتُهُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَلَا يَمْنَعْهَا» ، قَالَ سُفْيَانُ: «يَرَوْنَ أَنَّهُ بِاللَّيْلِ»

سالم اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کایہ فرمان نقل کرتے ہیں۔"جب کسی شخص کی بیوی اس سے مسجد جانے کی اجازت مانگے، تو وہ اسے منع نہ کرے۔" سفیان کہتے ہیں۔ علماء کا خیال ہے یہ حکم رات کے بارے میں ہے۔

أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 624

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 625

625 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ وَحْدِي وَلَيْسَ مَعِي وَلَا مَعَهُ أَحَدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ، فَمَالُهُ لِلَّذِي بَاعَهَ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ، وَمَنْ بَاعَ نَخْلًا بَعْدَ أَنْ تُؤَبَّرَ، فَثَمَرُهَا لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَهُ الْمُبْتَاعُ»

سالم بن عبد الله اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم ﷺکا یہ فرمان نقل کرتے ہیں۔ "جوشخص کی غلام کو فروخت کرے اور اس غلام کے پاس مال موجود ہو، تو اس غلام کامال اس شخص کی ملکیت ہوگا۔ جس نے اسے فروخت کیا ہے۔ البتہ اگر خریدار اس کی شرط عائد کر دیتا ہے ،تو حکم مختلف ہوگا۔ اور جوشخص پیوند کاری ہو جانے کے بعد کھجورکا باغ فروخت کرے تو اس کا پھل فروخت کرنے والے کی ملکیت ہوگا ۔ البتہ اگر خریدار نے اس کی شرط عائدہو،(تو حکم مختلف ہوگا)"

أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← الزُّهْرِيُّ وَحْدِي وَلَيْسَ مَعِي وَلَا مَعَهُ أَحَدٌ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 625

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 626

626 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، وَبَعْدَ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَلَا يَرْفَعُ وَلَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ»

سالم بن عبد الله اپنے والدکا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ میں نے نبی اکرمﷺ کو دیکھا جب آپ ﷺنے نمازکا آغاز کیا، تو آپﷺنے دونوں کندھوں تک دونوں ہاتھ بلند کیے۔ پھر جب آپ ﷺرکوع میں جانے لگے اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد بھی آپ ﷺنے رفع یدین کیا تاہم آپ ﷺنے دوسجدوں کے درمیان رفع یدین نہیں کیا۔

أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 626

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 627

627 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَاقِدٍ، يُحَدِّثُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ: «كَانَ إِذَا أَبْصَرَ رَجُلًا يُصَلِّي لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ كُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ حَصَبَهُ حَتَّى يَرْفَعَ يَدَيْهِ»

نافع بیان کرتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ جب کسی شخص کو دیکھتے کہ وہ نماز کے دوران ہر مرتبہ جھکتے اور اٹھتے ہوئے رفع یدین نہیں کر رہا تو وہ اسے کنکریاں مارتے تھے، یہاں تک کہ وہ رفع یدین کرنے لگتا۔

زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 627

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 628

628 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: ثني سَالِمٌ، عَنِ أَبِيهِ، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ»

سالم اپنے والدکا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے نبی اکرمﷺکو دیکھا کہ جب آپﷺنے تیزی سے سفر کرنا ہوتا تھا، تو آپ ﷺمغرب اور عشاء کی نماز یں ایک ساتھ ادا کرتے تھے۔

رأيت رسول الله إذا جد به السير جمع بين المغرب والعشاء. ← أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 628

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 629

629 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَيْنِ: رَجُلٍ آتَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَقُومُ بَهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ [ص:516]، وَرَجُلٍ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَهُوَ يُنْفِقُ مِنْهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ "

سالم اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم ﷺکایہ فرمان نقل کرتے ہیں۔" رشک صرف دو طرح کے آدمیوں پر کیا جا سکتا ہے ایک وہ شخص جسے الله تعالی ٰنے قرآن کا علم عطا کیا ہو اور وہ رات دن اس کے ساتھ قائم رہتا ہو (یعنی اسے پڑھتا ہو اور اس کی تعلیم دیتا ہو ) ایک وہ شخص جسے الله تعالیٰ نے مال عطا کیا ہو اور وہ رات ،دن اس میں سے (اللہ کی راہ میں)خرچ کرتا رہتا ہو۔"

أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 629

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 630

630 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَتْرُكُوا النَّارَ فِي بُيُوتِكُمْ حِينَ تَنَامُونَ»

سالم بن عبد اللہ اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم ﷺکایہ فرمان نقل کرتے ہیں۔ "تم لوگ سوتے وقت اپنے گھروں میں آگ جلتی ہوئی نہ چھوڑا کرو۔"

أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 630

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 631

631 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَاهُ وَاللَّهِ الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ لَا جُنَاحَ فِي قَتْلِهِنَّ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ: الْغُرَابُ، وَالْحِدَأَةُ، وَالْعَقْرَبُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ " [ص:517]، فَقِيلَ لِسُفْيَانَ: إِنَّ مَعْمَرًا يَرْوِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، فَقَالَ: حَدَّثَنَا - وَاللَّهِ - الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، مَا ذَكَرَ عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ

سالم اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرمﷺکا یہ فرمان نقل کرتے ہیں۔"پانچ قسم کے جانور ایسے ہیں ،حل یا حرم میں انہیں قتل کرنے والے کو کوئی گناہ نہیں ہو گا۔ کوا،چیل، بچھو، چوہا،اور باولہ کتا۔"سفیان سے کہا گیا: معمرنے کی روایت زہری کے حوالے سے عروہ کے حوالے سے سیدہ عائشہؓ سے نقل کی ہے ،تو وہ بولے: اللہ کی قسم۔ زہری نے یہ روایت سالم کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے نقل کی ہے۔ انہوں نے عروہ کے حوالے سے سیدہ عائشہ ؓسے اسے نقل نہیں کیا۔

أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← وَاللَّهِ الزُّهْرِيُّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 631

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 632

632 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ، وَذَا الطُّفْيَتَيْنَ، وَالْأَبْتَرَ، فَإِنَّهُمَا يَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ، وَيَسْتَسْقِطَانِ الْحَبَلَ» قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقْتُلُ كُلَّ حَيَّةٍ وَجَدَهَا، فَأَبْصَرَهُ أَبُو لُبَابَةَ، أَوْ زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ يُطَارِدُ حَيَّةً، فَقَالَ: «إِنَّهُ قَدْ نَهَى عَنْ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ» قَالَ سُفْيَانُ: " كَانَ الزُّهْرِيُّ أَبَدًا يَقُولُ فِيهِ: زَيْدٌ، أَوْ أَبُو لُبَابَةَ "

سالم اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم ﷺکایہ فرمان نقل کرتے ہیں۔ ”دو دھاریوں والے اور دم کٹے ہوئے سانپوں کو مار دو۔ کیونکہ یہ بینائی زائل کر دیتے ہیں اور حمل ضائع کر دیتےہیں۔"راوی بیان کرتے ہیں۔ حضرت عبداللہ ؓ کو جو بھی سانپ ملتا تھا وہ اسے مار دیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ حضرت ابولبا بہؓ یا حضرت زید بن خطاب ؓنے انہیں دیکھا۔ وہ ایک سانپ تلاش کر رہے تھے، تو وہ بولے: نبی اکرم ﷺنے گھر میں رہنے والے سانپوں کو مارنے سے منع کیا ہے۔ سفیان کہتے ہیں۔ زہری ہمیشہ یہی کہتے تھے کہ حضرت زید ؓنے یا شاید حضرت ابولبا بہ ؓ نے انہیں دیکھا۔

أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 632

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 633

633 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الشُّؤْمُ فِي ثَلَاثٍ: فِي الْفَرَسِ، وَالْمَرْأَةِ، وَالدَّارِ " فَقِيلَ لِسُفْيَانَ: فَإِنَّهُمْ يَقُولُونَ فِيهِ: عَنْ حَمْزَةَ، قَالَ سُفْيَانُ: «مَا سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ذَكَرَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ حَمْزَةَ قَطُّ»

سالم اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "نحوست تین چیزوں میں ہوتی ہے گھوڑے ، عورت اور گھر میں“۔حمیدی ؒ کہتے ہیں : سفیان سے یہ کہا گیا:دیگر محد ثین نے اس روایت میں یہ بات ذکر کی ہے کہ یہ روایت حمزہ سے منقول ہے، تو سفیان بولے: میں نے زہری کو اس روایت میں کبھی بھی حمزہ کا تذکرہ کرتے ہوئے نہیں سنا۔

أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 633

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 634

634 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ، وَنَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ» قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَأَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا»

سالم اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں۔ نبی اکرمﷺنے پھل کے پک کر تیار ہونے سے پہلے اسے فروخت کرنے سے منع کیا ہے اور آپ ﷺنے کھجور کے عوض میں پھل کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں : حضر ت زید بن ثابت ؓ نے مجھے یہ بات بتائی ہے۔نبی اکرم ﷺ نےعرایا کے بارے میں اجازت دی ہے۔

أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 634

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 635

635 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَيْهِلُّ أَهْلُ الشَّامِ مِنَ الْجُحْفَةِ، وَيْهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ»

سالم اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم ﷺیہ کا فرمان نقل کرتے ہیں: "اہل مد ینہ ذوالحلیفہ سے احرام باندھیں گے اہل شام حجفہ سے احرام باندھیں گے اور ایل نجدقرن سے احرام باند ھیں گے"۔

أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 635

chevron_left Previous
1…525354…63
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter