Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ وما توفیقی الا باللہ · حديث 600

600 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ الثَّقَفِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، يَقُولُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ، وَكَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَأَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللَّهِ صَلَاةُ دَاوُدَ، كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ، وَيْقُومُ ثُلُثَهُ، وَيْنَامُ سُدُسَهُ»

حضرت عبد الله بن عمرو بن العاص ؓبیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺنے مجھ سے فرمایا: "الله تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسند ید ہ روزہ حضرت داود ؑ کا روزہ رکھنے کا طریقہ ہے۔ وہ ایک دن روزه رکھتے تھے اور ایک دن روز ہ نہیں رکھتے تھے۔ اور الله تعالی ٰکے نزدیک سب سے پسندیدہ نماز حضرت داو دؑ کی نماز ہے وہ نصف رات سوئے رہتے تھے۔ پھر ایک تہائی رات نوافل ادا کرتے رہتے تھے۔ پھر رات کا چھٹا حصہ سوئے رہتے تھے۔“

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ، ← عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 600

مسند الحميدي · کتاب ‹ وما توفیقی الا باللہ · حديث 601

601 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ الْأَعْمَى، يَقُولُ [ص:503]: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَقُومُ اللَّيْلَ وَتَصُومُ النَّهَارَ» ، قُلْتُ: إِنِّي لَأَفْعَلُ ذَلِكَ، قَالَ: «فَلَا تَفْعَلْ، فَإِنَّ لِعَيْنَيْكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَلِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًا، وَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ هَجَمَتْ عَيْنُكَ، وَنَفِهَتَ نَفْسُكَ، فَقُمْ، وَنَمْ، وَصُمْ، وَأَفْطِرْ»

حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ میرے گھر تشریف لائے آپ ﷺنے ارشاد فرمایا:"مجھے یہ پتہ چلا ہے ، تم رات بھر نفل پڑھتے رہتے ہو روزانہ دن کے نفلی روزہ رکھ لیتے ہو؟ انہوں نے عرض کی :میں ایسا ہی کرتا ہوں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم ایسانہ کرو تمہاری دونوں آنکھوں کا بھی تم پرحق ہے۔ تمہاری جان کا بھی تم پر حق ہے۔ تمہاری بیوی کا بھی تم پرحق ہے۔ اگر تم ا یسا کروگے ، تو تمہاری نظر کمزور ہو جائے گی۔تم خود کمزور ہو جاؤ گے۔تم نوافل بھی پڑھا کرو۔ اور سوبھی جایا کرو۔ نفلی روزہ رکھ بھی لیا کرو۔ اور چھوڑ بھی دیا کرو۔“

«أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَقُومُ اللَّيْلَ وَتَصُومُ النَّهَارَ» قُلْتُ: إِنِّي لَأَفْعَلُ ذَلِكَ، ← دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← [ص:149] ← أَبَا الْعَبَّاسِ الأَعْمَى، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 601

مسند الحميدي · کتاب ‹ وما توفیقی الا باللہ · حديث 602

602 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرٌو، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو قَابُوسَ، مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الرَّاحِمُونَ يَرْحَمُهُمُ الرَّحْمَنُ، ارْحَمُوا أَهْلَ الْأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ أَهْلُ السَّمَاءِ»

حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺنے یہ بات ارشاد فرمائی ہے:"رحم کرنے والوں پررحمن ٰ بھی رحم کرتا ہے۔ تم لوگ اہل زمین پررحم کرو۔ آسمان والے تم پررحم کریں گے۔"

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبُو قَابُوسَ، مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 602

مسند الحميدي · کتاب ‹ وما توفیقی الا باللہ · حديث 603

603 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو قَابُوسٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الرَّحِمُ شِجْنَةٌ مِنَ الرَّحْمَنِ، فَمَنْ وَصَلَهَا وَصَلَهُ اللَّهُ، وَمَنْ قَطَعَهَا قَطَعَهُ اللَّهُ»

حضرت عبد الله بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے :"رحم،رحمنٰ سے ماخوذ ہے ،جوشخص اسے ملاتا ہے الله تعالیٰ اسے ملاتا ہے۔ جوشخص اسے کاٹ دیتا ہے الله تعالیٰ اس کے ٹکڑے کر دیتا ہے۔"

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبُو قَابُوسٍ، أَنَّهُ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 603

مسند الحميدي · کتاب ‹ وما توفیقی الا باللہ · حديث 604

604 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: بَشِيرُ بْنُ سُلَيْمَانَ أَبُو إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ، عَنْ مُحَرَّرِ بْنِ قَيْسِ بْنِ السَّائِبِ [ص:505]، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو أَمَرَ بِشَاةٍ فَذُبِحَتْ، فَقَالَ لِقَيِّمِهِ: هَلْ أَهْدَيْتَ لِجَارِنَا الْيَهُودِيِّ شَيْئًا؟ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «مَا زَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيْوَرِّثُهُ»

قیس بن سائب بیان کرتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمرو ؓکے حکم کے تحت ایک بکری ذبح کی گئی انہوں نے اپنے ملازم سے یہ کہا :تم ہمارے یہودی پڑوسی کوبهی تحفہ بھجوادو۔ کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سناہے: ”جبرئیلؑ پڑوسی کے بارے میں مجھے مسلسل تلقین کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے یہ گمان کیا کہ وہ اسے وارث قرار دے دیں گے۔“

مُحَرَّرِ بْنِ قَيْسِ بْنِ السَّائِبِ ← مُجَاهِدُ بْنُ جَبْرٍ، ← بشير بن سليمان أبو إسماعيل ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 604

مسند الحميدي · کتاب ‹ وما توفیقی الا باللہ · حديث 605

605 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا بَشِيرُ بْنُ سُلَيْمَانَ أَبُو إِسْمَاعِيلَ، وَفِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ الْخَيَّاطُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُكَافِئِ، وَلَكِنَّ الْوَاصِلَ الَّذِي إِذَا قُطِعَتْ رَحِمُهُ وَصَلَهَا»

حضرت عبد الله بن عمرو ؓبیان کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺنے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: "بدلہ دینےو الاصلہ رحمی کرنے والانہیں ہوتا۔ صلہ رحمی کرنے والا وہ شخص ہوتا ہے، جب اس کے رشتے کے حق کو پامال کیاجائے ،تو وہ اس وقت رشتے داری کے حقوق کا خیال رکھے۔“

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← مُجَاهِدٍ ← بَشِيرُ بْنُ سُلَيْمَانَ أَبُو إِسْمَاعِيلَ، وَفِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ الْخَيَّاطُ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 605

مسند الحميدي · کتاب ‹ وما توفیقی الا باللہ · حديث 606

606 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَأَنَا عِنْدَهُ، فَجَعَلَ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ حَتَّى جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: حَدِّثْنِي بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تُحَدِّثْنِي عَنِ الْعَدْلَيْنِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيْدِهِ، وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ السُّوءَ» ، أَوْ قَالَ: «مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ» [ص:507]

امام شعبی بیان کرتے ہیں۔ ایک شخص حضرت عبداللہ بن عمرو ؓکی خدمت میں حاضر ہو ا میں اس وقت ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ وہ لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آ کر حضرت عبداللہ ؓ کے سامنے بیٹھ گیا۔ وہ بولا: آپ مجھے کوئی ایسی حدیث سنا ئیے۔جوآپ ؓ نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی ہو۔ آپ دو عادل راویوں کے حوالے سے مجھے حدیث نہ سنائیے گا، تو حضرت عبداللہ بن عمروؓبولے: میں نے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان سلامت رہیں اورمہاجر وہ شخص ہے ،جو برائی سے لاتعلقی اختیار کرے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جس چیز سے اللہ تعالٰی نے منع کیا ہے اس سے لاتعلقی اختیار کرے۔"

«مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ» [ص:507] ← «الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيْدِهِ، وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ السُّوءَ» أَوْ ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← الْعَدْلَيْنِ، ← مِنْ رَسُولِ اللَّهِ وَلَا تُحَدِّثْنِي ← بِشَيْءٍ ← عِنْدَهُ، فَجَعَلَ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ حَتَّى جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ← الشَّعْبِيِّ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 606

مسند الحميدي · کتاب ‹ وما توفیقی الا باللہ · حديث 607

607 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ:، ثنا سُفْيَانُ، وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْعَدْلَيْنِ

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے ،تاہم دو عادل راویوں کا تذکرہ نہیں ہے۔

النَّبِيِّ وَلَمْ يَذْكُرِ الْعَدْلَيْنِ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← الشَّعْبِيِّ، ← سُفْيَانُ، وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ أَبِي خَالِدٍ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 607

مسند الحميدي · کتاب ‹ وما توفیقی الا باللہ · حديث 608

608 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْنَاهُ مِنْ دَاوُدَ بْنِ شَابُورَ، وَيَعْقُوبَ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ [ص:508]، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كَنْزٍ وَجَدَهُ رَجُلٌ: «إِنْ كُنْتَ وَجَدْتَهُ فِي قَرْيَةٍ مَسْكُونَةٍ، أَوْ فِي سَبِيلٍ مَيْتَاءَ فَعَرِّفْهُ، وَإِنْ كُنْتَ وَجَدْتَهُ فِي خَرِبَةٍ جَاهِلِيَّةٍ، أَوْ فِي قَرْيَةٍ غَيْرِ مَسْكُونَةٍ، أَوْ غَيْرِ سَبِيلِ مَيْتَاءَ فَفِيهِ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمْسُ»

حضرت عبداللہ بن عمروؓ بیان کرتے ہیں۔ ایک شخص کو خزانہ ملا ،تو اس کے بارے میں نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا: اگر تمہیں یہ کسی رہائشی آبادی سے ملا ہے یا کسی عام گزرگاہ سے ملا ہے تو تم اس کا اعلان کرتے رہولیکن اگر تمہیں یہ زمانہ جاہلیت کے کسی کھنڈر سے ملا ہے یا غیر رہائشی آبادی سے ملا ہے یاعام گزرگاہ سے ہٹ کر کسی راستے سے ملا ہے ،تو پھر اس میں اور"رکاز‘‘ میں"خمس" کی ادائیگی لازم ہوگی۔“

جده عبد الله بن عمرو ← أَبِيهِ، [ص:184] ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← سَمِعْنَاهُ مِنْ دَاوُدَ بْنِ شَابُورٍ وَيَعْقُوبَ بْنِ عَطَاءٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 608

مسند الحميدي · کتاب ‹ وما توفیقی الا باللہ · حديث 609

609 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا دَاوُدُ بْنُ شَابُورَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، وَأَنَا لِحَدِيثِ ابْنِ عَجْلَانَ أَحْفَظُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُحْشَرُ الْمُتَكَبِّرُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَمْثَالَ الذَّرِّ فِي صُوَرِ النَّاسِ، يَعْلُوهُمْ كُلُّ شَيْءٍ مِنَ الصَّغَارِ، يُسَاقُونَ إِلَى سِجْنٍ فِي النَّارِ يُقَالُ لَهُ بُولَسُ، يَعْلُوهُمْ نَارُ الْأَنْيَارِ، يُسْقَوْنَ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ عُصَارَةِ أَهْلِ النَّارِ»

حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ۔نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے:"قیامت کے دن تکبر کرنے والوں کو، انسانوں کی شکل میں چھوٹی چیونٹیوں کی شکل میں ،کر کے زندہ کیا جائے گا ہر چھوٹی چیز بھی ان سے بڑی ہوگی (یا ان کے اوپر سے گزر جائے گی) پھر انہیں ہانک کر جہنم میں موجود قید خانے کی کی طرف لے جایا جائے گا۔ جس کا نام"بولس" ہے ان پر لکڑیوں کی آگ غالب آجائے گی۔ اور انہیں"طینت الخبال "یعنی اہل جہنم(کے خون اور پیپ وغیرہ)کا نچوڑ پلایا جائے گا۔"

جده عبد الله بن عمرو ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← دَاوُدُ بْنُ شَابُورَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، وَأَنَا لِحَدِيثِ ابْنِ عَجْلَانَ أَحْفَظُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 609

مسند الحميدي · کتاب ‹ وما توفیقی الا باللہ · حديث 610

610 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يُضَيِّعَ مَنْ يَعُولُ»

حضرت عبد الله بن عمرو بن العاص ؓ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے :"آدمی کے گنہگار ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے ، جن لوگوں کو خوراک فراہم کرنا اس کی ذمہ داری ہے ، وہ انہیں ضائع کر دے (یعنی ان کی ضروریات کا بندوبست نہ کرے)“

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← وَهْبِ بْنِ جَابِرٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 610

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 611

611 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ فِي يَوْمِ عَاشُورَاءَ وَهُوَ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَخْرَجَ مِنْ كُمِّهِ قُصَّتَهً مِنْ شَعْرٍ، فَقَالَ: أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذِهِ، وَقَالَ: «إِنَّمَا هَلَكَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَهَا نِسَاؤُهُمْ»

حمید بن عبدالرحمنٰ بیان کرتے ہیں : میں نے عاشورہ کے دن حضرت معاویہ بن ابوسفیانؓ کو نبی اکرم ﷺکے منبر پر سنا۔ انہوں نے اپنی آستین میں سے بالوں کی ”وگ “نکالی۔ اور بولے:اے اہل مدینہ! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے نبی اکرم ﷺکو اسے استعمال کرنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے: آپ ﷺنے ارشادفرمایا ہے:" بنی اسرائیل اس وقت ہلاکت کا شکار ہوگئے جب ان کی خواتین نے اسے استعمال کرنا شروع کیا۔"

حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 611

chevron_left Previous
1…505152…63
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter