Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 588

588 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثَنِي كَثِيرُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ بَعْضِ أَهْلِهِ أَنَّهُ سَمِعَ جَدَّهُ الْمُطَّلِبَ بْنَ أَبِي وَدَاعَةَ يَقُولُ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِمَّا يَلِي بَابَ بَنِي سَهْمٍ وَالنَّاسُ يَمُرُّونَ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَلَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الطُّوَّافِ سُتْرَةٌ»

حضرت مطلب بن ابوداعہ ؓبیان کرتے ہیں ۔ میں نے نبی اکرم ﷺکو بنو سہم کے دروازے کے قریب نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا۔ لوگ آپ ﷺکے سامنے سے گزر رہے تھے آپ ﷺکے اور طواف کرنے والوں کے درمیان سترہ نہیں تھا۔

جده المطلب بن أبي وداعة ← بعض أهله أنه ← كَثِيرِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 588

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 589

589 - قَالَ سُفْيَانُ: وَكَانَ ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنَا أَوَّلًا عَنْ كَثِيرٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمُطَّلِبِ فَلَمَّا سَأَلْتُهُ عَنْهُ قَالَ: لَيْسَ هُوَ عَنْ أَبِي إِنَّمَا أَخْبَرَنِي بَعْضُ أَهْلِي أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنَ الْمُطَّلِبِ

سفیان کہتے ہیں :این جر یج نے پہلے یہ روایت کثیر کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے نقل کی تھی۔ پھر جب میں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا، تو وہ بولے : یہ میرے والد کے حوالے سے منقول نہیں ہے میرے گھر کے ایک فرد نے یہ بات بیان کی ہے۔ انہوں نے حضرت مطلب بن ابو وداعہ ؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔

بَعْضُ أَهْلِي أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنَ الْمُطَّلِبِ ← أَبِي إِنَّمَا ← لَيْسَ هُوَ ← الْمُطَّلِبِ فَلَمَّا سَأَلْتُهُ عَنْهُ ← أَبِيهِ ← کَثِيرٍ ← أَوَّلًا ← سُفْيَانُ وَكَانَ ابْنُ جُرَيْجٍ

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 589

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ النَّوْفَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 590

590 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ الْحَارِثِ يَقُولُ: تَزَوَّجْتُ ابْنَةَ أَبِي إِهَابٍ فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَنْ يَمِينِهِ فَسَأَلْتُهُ فَأَعْرَضَ عَنِّي، ثُمَّ أَتَيْتُهُ مِنْ عَنْ يَسَارِهِ، فَأَعْرَضَ عَنِّي، ثُمَّ اسْتَقْبَلْتُهُ فَسَأَلْتُهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنَّهَا سَوْدَاءُ وَإِنَّهَا وَإِنَّهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ وَقَدْ قِيلَ»

حضرت عقبہ بن حارثؓ بیان کرتے ہیں۔ میں نے ابوابؓ کی صاحبزادی کے ساتھ شادی کر لی تو ایک سیاہ فام عورت آئی اور بولی۔ میں نے تم دونوں (میاں، بیوی) کو دودھ پلایا ہے۔ (حضرت عقبہؓ کہتے ہیں) میں نبی اکرم ﷺکی خدمت میں دائیں طرف سے حاضر ہوا۔ میں نے آپ ﷺسے یہ سوال کیا، تو آپ ﷺنے مجھ سے اعراض کیا۔ پھر میں بائیں طرف سے آپ ﷺکے سامنے آیا، تو آپ ﷺنے پھر مجھ سے اعراض کیا۔ پھر میں سامنے کی طرف سے آپ ﷺکے آگے آیا۔ اور آپ ﷺسے یہ مسئلہ دریافت کیا: میں نے عرض کی یارسول اللہﷺ! وہ ایک سیاہ فام عورت ہے اور وہ ہے ،تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: "جب بات بیان کر دی گئی ہے ،تو پھر اب کیا ہوسکتا ہے۔"

يَسَارِهِ، فَأَعْرَضَ عَنِّي، ثُمَّ اسْتَقْبَلْتُهُ فَسَأَلْتُهُ فَقُلْتُ: ← يَمِينِهِ فَسَأَلْتُهُ فَأَعْرَضَ عَنِّي، ثُمَّ أَتَيْتُهُ مِنْ ← إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ مِنْ ← تَزَوَّجْتُ ابْنَةَ أَبِي إِهَابٍ فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ ← عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ← ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّهُ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 590

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 591

591 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ عِيسَى بْنَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ قَالَ: «ارْمِ وَلَا حَرَجَ» وَقَالَ آخَرُ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ» فَقِيلَ لِسُفْيَانَ: " هَذَا مِمَّا حَفِظْتَ مِنَ الزُّهْرِيِّ فَقَالَ: نَعَمْ كَأَنَّهُ يَسْمَعُهُ إِلَّا أَنَّهُ طَوِيلٌ فَحَفِظْتُ هَذَا مِنْهُ «فَقَالَ لَهُ بُلَيْلٌ فَإِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ يُحَدِّثُ عَنْكَ أَنَّكَ قُلْتَ لَمْ أَحْفَظْهُ فَقَالَ» صَدَقَ لَمْ أَحْفَظْهُ كُلَّهُ وَأَمَّا هَذَا فَقَدْ أَتْقَنْتُهُ "

حضرت عبدالله بن عمرو بن العاص ؓ بیان کرتے ہیں۔ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺسے سوال کیا۔ اس نے عرض کی:یارسول الله (ﷺ)!میں نے رمی کرنے سے پہلے قربانی کر لی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :تم اب رمی کر لو۔ کوئی حرج نہیں ہے۔ایک اور صاحب آئے انہوں نے عرض کی۔میں نے قربانی سے پہلے سر منڈوالیا ہے۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا :تم اب قربانی کرلو ۔کوئی حرج نہیں ہے۔ سفیان سے یہ کہا گیا: آپ نے زہری کی زبانی یہ روایت یاد کی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! گویا کہ وہ اس وقت بھی اسےسن رہے تھے۔ تاہم یہ روایت طویل ہے۔ میں نے اس میں سے صرف اس حصے کو یاد رکھا ہے۔ تو بلبل نے ان سے کہا: (ایک قول کے مطابق اس کا نام بلیل بن حرب ہے) عبدالرحمنٰ بن مہدی تو آپ کے حوالے سے یہ کہتے ہیں، آپ نے یہ بات بیان کی ہے، مجھے یہ روایت یاد نہیں ہے۔ تو وہ بولے: اس نے ٹھیک کہا ہے مجھے یہ روایت مکمل طور پریادنہیں ہے ،تاہم جہاں تک اس حصے کاتعلق ہے، تویہ مجھے یقینی طور پریادہے۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ: ← عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 591

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 592

592 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْزِعُهُ مِنْ قُلُوبِ الرِّجَالِ، وَلَكِنْ يَقْبِضُهُ بِقَبْضِ [ص:495] الْعُلَمَاءِ فَإِذَا لَمْ يَتْرُكْ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالًا فَسَأَلُوهُمْ فَأَفْتَوْهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا» قَالَ عُرْوَةُ: " ثُمَّ لَبِثْتُ سَنَةً، ثُمَّ لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فِي الطَّوَافِ فَسَأَلْتُهُ عَنْهُ فَأَخْبَرَنِي بِهِ

حضرت عبد الله بن عمرو بن العاص ؓبیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ اس علم کو یوں قبض نہیں کرے گا کہ اسے لوگوں کے دلوں میں سے نکال لے گا بلکہ وہ اسے علماء کوقبض کر کے قبض کرے گا۔ پھروہ کسی عالم کوباقی نہیں رہنے دے گا تو لوگ جاہلوں کو پیشوابنا لیں گے وہ ان سے مسئلے دریافت کریں گے، تو وہ لوگ علم نہ ہونے کے باوجودانہیں جواب دیں گے۔ وہ لوگ خودگمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔ عروہ کہتے ہیں۔ پھر کئی سال گزر گئے۔ پھر میری ملاقات طواف کے دوران حضرت عبد الله بن عمروؓ سے ہوئی۔ میں نے ان سے اس روایت کے بارے میں دریافت کیا: تو انہوں نے مجھے اس کے بارے میں بتایا۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبِي ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 592

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 593

593 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي الْعَاصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: «لَمَّا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْأَوْعِيَةِ» قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَيْسَ كُلُّ النَّاسِ يَجِدُ سِقَاءً «فَرَخَّصَ لَهُمْ فِي الْجَرِّ غَيْرِ الْمُزَفَّتِ»

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓبیان کرتے ہیں۔ جب نبی اکرم ﷺنے مخصوص برتنوں سے منع کر دیا، تو عرض کی گئی : یارسول اللہ (ﷺ)!ہر شخص کے پاس مشکیزہ نہیں ہوتا ، تو نبی اکرم ﷺنے لوگوں کو ایسا مٹکا استعمال کرنے کی اجازت دی جومزفت نہ ہو۔

الأوعية قيل: ← لَمَّا نَهَی رَسُولُ اللَّهِ ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أبى العاص ← مُجَاهِدٍ ← سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 593

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 594

594 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَصْلَتَانِ هُمَا يَسِيرٌ وَمَنْ يَعْمَلُ بِهِمَا قَلِيلٌ، وَلَا يُحَافِظُ عَلَيْهِمَا مُسْلِمٌ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ» قَالُوا: وَمَا هُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «تُسَبِّحُ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا، وَتُكَبِّرُ عَشْرًا، وَتَحْمَدُ عَشْرًا، وَتُسَبِّحُ عِنْدَ مَنَامِكَ ثَلَاثَةً وَثَلَاثِينَ، وَتَحْمَدُ ثَلَاثَةً وَثَلَاثِينَ، وَتُكَبِّرُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ» ثُمَّ قَالَ سُفْيَانُ: أَحَدُهُنَّ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ فَذَلِكَ مِائَتَانِ وَخَمْسِينَ بِاللِّسَانِ، وَأَلْفَانِ وَخَمْسِمِائَةٍ فِي الْمِيزَانِ " قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: فَأَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْقِدُهَا بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ: «فَأَيُّكُمْ يَعْمَلُ فِي يَوْمِهِ وَلَيْلِهِ أَلْفَيْ سَيِّئَةٍ وَخَمْسِمِائَةِ سَيِّئَةٍ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَكَيْفَ لَا يُحَافِظُ عَلَيْهِمَا قَالَ: «يَأْتِي الشَّيْطَانُ أَحَدَكُمْ فَيَقُولُ لَهُ اذْكُرْ كَذَا اذْكُرْ كَذَا حَتَّى يَقُومَ وَلَمْ يَقُلْهَا» [ص:497] قَالَ سُفْيَانُ: «هَذَا أَوَّلُ شَيْءٍ سَأَلْنَا عَطَاءً عَنْهُ، وَكَانَ أَيُّوبُ أَمَرَ النَّاسَ حِينَ قَدِمَ عَطَاءٌ الْبَصْرَةَ أَنْ يَأْتُوهُ فَيَسْأَلُوهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ»

حضرت عبدالله بن عمرو بن العاص ؓبیان کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺنے یہ بات ارشادفرمائی ہے: "دو عادات ایسی ہیں جو آسان ہیں، لیکن ان پرعمل کرنے والے لوگ تھوڑے ہیں، جو بھی مسلمان ان کو باقاعدگی سے سرانجام دے گا وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ لوگوں نے عرض کی یارسول الله (ﷺ)!وہ دونوں کون سی ہیں ۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: "ہر نماز کے بعد 10 مرتبہ سبحان اللہ پڑھنا، 10 مرتبہ الله اکبر پڑھنا، 10 مرتبہ الحمدللہ پڑھنا۔ اور سوتے وقت 33 مرتبہ سبحان اللہ پڑھنا۔ 33 مرتبہ الحمدللہ پڑھنا اور 34 مرتبہ الله اکبر پڑھنا۔“پھر سفیان نے یہ بات بیان کی ان میں سے کوئی ایک کلمہ 34مرتبہ ہے ، تو یوں یہ روزانہ زبان کے اعتبار سے 250کلمات ہو جائیں گے اور نامہ اعمال میں 2500 کلمات ہوں گے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو ؓبیان کرتے ہیں ۔ میں نے نبی اکرم ﷺکو دیکھا کہ آپ ﷺنے اپنے دست مبارک کے ذریعے گنتی کرکے یہ بتایا پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :کون شخص ایسا ہے ، جو روزانہ 2500گناہ کرتاہے۔ لوگوں نے عرض کی : یارسول اللہ (ﷺ )!انہیں باقاعدگی سے پڑھا کیوں نہیں جاسکتا۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: "شیطان کسی شخص کے پاس آتا ہے اور اسے کہتا ہے فلاں چیز یاد کرو، یہاں تک کہ آدمی اٹھ جاتا ہے (یعنی نماز کے بعد اٹھ جاتا ہے اور ان کلمات کونہیں پڑھتا ہے"۔ یہ وہ پہلی روایت ہے، جس کے بارے میں ہم نے عطاءسے سوال کیا تھا۔ جب عطاء بصرہ آئے توایوب نے لوگوں کو یہ ہدایت کی کہ وہ ان کی خدمت میں جائیں اور ان سے اس روایت کے بارے میں دریافت کریں۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبِي ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 594

مسند الحميدي · کتاب ‹ وما توفیقی الا باللہ · حديث 595

595 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، جِئْتُ أُبَايِعُكَ عَلَى الْهِجْرَةِ وَتَرَكْتُ أَبَوَيَّ يَبْكِيَانِ، قَالَ: «فَارْجِعْ إِلَيْهِمَا وَأَضْحِكْهُمَا كَمَا أَبْكَيْتَهُمَا» ،

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! میں آپﷺکی خدمت میں اس لیے حاضر ہوا ہوں ،تا کہ ہجرت پر آپ ﷺکی بیعت کروں ۔ اور میں اپنے ماں ،باپ کوروتا ہوا چھوڑ کر آیا ہوں۔ نبی اکرمﷺنے فرمایا:"تم ان کے پاس واپس جاؤ اور جس طرح تم نے انہیں رلایا ہے اسی طرح انہیں ہنساؤ۔“

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَ ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 595

مسند الحميدي · کتاب ‹ وما توفیقی الا باللہ · حديث 596

596 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ السَّائِبِ بْنِ فَرُّوخَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ»

حضرت عبدالله بن عمرو ؓکے حوالے سے یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔ تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں ۔ "تم ان دونو ں کی اچھی طرح خدمت کرو۔"

ففیھما فجاھد۔ ← النَّبِيِّ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي الْعَبَّاسِ السَّائِبِ بْنِ فَرُّوخَ، ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← مِسْعَرٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 596

مسند الحميدي · کتاب ‹ وما توفیقی الا باللہ · حديث 597

597 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثَنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرْ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا، وَيَعْرِفْ حَقَّ كَبِيرِنَا»

حضرت عبد الله بن عمرو ؓبیان کرتے ہیں۔ نبی اکرمﷺنے یہ بات ارشادفرمائی ہے: "جو شخص ہمارے چھوٹوں پر رحم نہیں کرتا اور ہمارے بڑوں کے حق کو پہچانتا نہیں ہے اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔"

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ أَنَّهُ: ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 597

مسند الحميدي · کتاب ‹ وما توفیقی الا باللہ · حديث 598

598 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي صُهَيْبٌ مَوْلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَتَلَ عُصْفُورَةً فَمَا فَوْقَهَا بِغَيْرِ حَقِّهَا سَأَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْ قَتْلِهَا» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا حَقُّهَا؟ قَالَ: «يَذْبَحُهَا فَيَأْكُلَهَا، وَلَا يَقْطَعُ رَأْسَهَا، فَيَرْمِيَ بِهَا» [ص:501]، فَقِيلَ لِسُفْيَانَ: فَإِنَّ حَمَّادَ بْنَ زَيْدٍ يَقُولُ فِيهِ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ صُهَيْبٍ الْحَذَّاءِ، فَقَالَ سُفْيَانُ: " مَا سَمِعْتُ عَمْرًا قَالَ قَطُّ: صُهَيْبٌ الْحَذَّاءُ مَا قَالَ إِلَّا: صُهَيْبٌ مَوْلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ "

حضرت عبداللہ بن عمرو العاص ؓ بیان کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا ہے:"جوشخص چڑیا یا اس سے چھوٹے کسی جانور کو ناحق طورپر ماردیتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس مارنے کے بارے میں اس سے حساب لے گا۔ لوگوں نے عرض کی:یارسول اللہ(ﷺ)! اس کا حق کیا ہے؟ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: "یہ کہ اسے ذبح کرکےکھالے اور یہ کہ اس کا سر مکمل طور پر الگ کرے اسے پھینک نہ دے۔ " سفیان سے کہا گیا: حماد بن زید اس روایت میں یہ کہتے ہیں : عمروؓنے یہ روایت صہیب الخذاءکے حوالے سے نقل کی ہے، تو سفيان بولے : میں نے عمرو کو کبھی بھی صہیب الخذاء کا تذکرہ کرتے ہوئے نہیں سنا۔ وہ تو صرف یہ کہتے تھے صہیب ،جوعبداللہ بن عامر کے غلام ہیں۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← صُهَيْبٌ مَوْلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 598

مسند الحميدي · کتاب ‹ وما توفیقی الا باللہ · حديث 599

599 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَوْسٍ الثَّقَفِيُّ [ص:502]، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُقْسِطُونَ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ عَنْ يَمِينِ الرَّحْمَنِ، وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ الَّذِينَ يَعْدِلُونَ فِي حُكْمِهِمْ وَأَهْلِيهِمْ، وَمَا وُلُّوا»

حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ۔نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے:"انصاف کرنے والے لوگ قیامت کے دن الله تعالیٰ کی بارگاہ میں نور کے منبروں پر رحمان کے دائیں طرف ہوں گئے حالانکہ اس کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جووالی (یعنی حاکم یا قاضی) نہیں بنائے گئے ۔لیکن وہ اپنے فیصلے اور اپنے گھر والوں کے بارے میں انصاف سے کام لیتے ہیں۔“

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عَمْرُو بْنُ أَوْسٍ الثَّقَفِيُّ [ص:502]، أَنَّهُ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 599

chevron_left Previous
1…495051…63
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter