Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثَا عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 576

576 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مُسَاوِرٌ الْوَرَّاقُ قَالَ: أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «رَأَيْتُ عَلَى رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِمَامَةً سَوْدَاءَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ»

جعفر بن عمرو بن حریثؓ اپنے والد کایہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے فتح مکہ کے دن نبی اکرم ﷺکے سرمبارک پرسیاہ عمامہ دیکھا۔

«رَأَيْتُ عَلَى رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ عِمَامَةً سَوْدَاءَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ» ← أَبِيهِ ← جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ الْمَخْزُومِيُّ، ← مُسَاوِرٍ الْوَرَّاقِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 576

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثَا عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 577

577 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مِسْعَرٌ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ سَرِيعٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ {وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ} [التكوير: 17] "

حضرت عمرو بن حریث ؓبیان کرتے ہیں۔ میں نے نبی اکرم ﷺ کوصبح کی نماز میں والليل إذا عسعس (یعنی سوره تکویر) کی تلاوت کرتے ہوئے سنا۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ {وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ} [التكوير: ← عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ ← الْوَلِيدُ بْنُ سَرِيعٍ ← مِسْعَرٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 577

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ مُطِيعِ بْنِ الْأَسْوَدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 578

578 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُطِيعٍ، عَنْ أَبِيهِ مُطِيعِ بْنِ الْأَسْوَدِ وَكَانَ مِنْ عُصَاةِ قُرَيْشٍ مِمَّنْ يُسَمَّى الْعَاصَ «فَسَمَّاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُطِيعًا» وَلَمْ يُدْرِكِ الْإِسْلَامَ مِنْ عُصَاةِ قُرَيْشٍ غَيْرُهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ يَقُولُ: «لَا يُقْتَلُ قُرَشِيٌّ صَبْرًا بَعْدَ هَذَا الْيَوْمِ أَبَدًا» قَالَ سُفْيَانُ «يَعْنِي عَلَى الْكُفْرِ»

حضرت مطیع بن اسود ؓ ان لوگوں میں سے ایک ہیں ، جن کا نام عاص تھا اور ان کا تعلق قریش کے ساتھ تھا۔نبی اکرم ﷺ ے ان کا نام مطیع رکھ دیا۔ قریش کے "عاص" نامی افراد میں صرف انہیں اسلام قبول کرنے کی سعادت حاصل ہوئی وہ بیان کرتے ہیں ۔ فتح مکہ کے دن میں نے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشادفرماتے ہوئے سنا۔" آج کے دن کے بعد بھی کبھی کسی قریشی کو باندھ کرقتل نہیں کیا جائے گا ۔“ سفیان کہتے ہیں، یعنی اس کے کفر کی وجہ سے قتل نہیں کیا جائے گا۔

أَبِيهِ مُطِيعِ بْنِ الْأَسْوَدِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُطِيعٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 578

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 579

579 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَمْعَةَ بْنِ الْأَسْوَدِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ الَّذِي عَقَرَ النَّاقَةَ فَقَالَ: «انْتُدِبَ لَهَا رَجُلٌ ذُو عِزٍّ وَمَنَعَةٍ فِي قَوْمِهِ كَأَبِي زَمْعَةَ» ثُمَّ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النِّسَاءَ فَقَالَ: «يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ إِلَى امْرَأَتِهِ فَيَضْرِبَهَا ضَرْبَ الْعَبْدِ ثُمَّ يُعَانِقُهَا مِنْ آخِرِ النَّهَارِ» وَعَاتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ضَحِكِهِمْ مِنَ الضَّرْطَةِ فَقَالَ: «وَلِمَ يَضْحَكُ أَحَدُكُمْ مِمَّا يَفْعَلُ»

حضرت عبدالله بن زمعہ ؓ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺکو سنا۔ آپ ﷺنے اس شخص کا تذکرہ کیا۔ جس نے حضرت (یونس ؑ) کی اونٹنی کے پاؤں کاٹے تھے۔ آپ ﷺنے فرمایا: اس کے لیے ایک ایسا شخص آگے بڑھا جو اپنی قوم میں صاحب حیثیت تھا۔ جس طرح ابوزمعہ ہے۔ پھر نبی اکرم ﷺنے خواتین کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا۔" تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کی طرف جاتا ہے اور اسے یوں مارتا ہے جیسے غلام کو مارا جاتا ہے۔ پھر وہ دن کے آخری حصے میں اسے گلے لگا لیتا ہے۔" راوی بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺنے لوگوں کے کسی کی ہوا خارج ہونے پر ہنسنے پر بھی ناراضگی کا اظہارکرتے ہوئے فرمایا ۔"کوئی شخص ایسےعمل پر کیوں ہنستا ہے۔ جو خود کرتا ہے۔“

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَمْعَةَ بْنِ الْأَسْوَدِ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 579

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثَا عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 580

580 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا نُعَيْمٍ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ يَقُولُ: كُنْتُ غُلَامًا يَتِيمًا فِي حِجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ يَدِي تَطِيشُ فِي الصَّحْفَةِ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا غُلَامُ إِذَا أَكَلْتَ فَسَمِ اللَّهَ، وَكُلْ بِيَمِينِكَ، وَكُلْ مِمَّا يَلِيكَ» فَقَالَ: «فَمَا زَالَتْ تِلْكَ طُعْمَتِي بَعْدَهُ»

حضرت عمر بن ابوسلمہ ؓ بیان کرتے ہیں۔ میں نبی اکرم ﷺکی زیرتربیت کم سن لڑکا تھا(ایک مرتبہ کھانا کھاتے ہوئے) میرا ہاتھ پیالے میں گردش کر رہا تھا، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: "اے لڑ کے ! الله کا نام لے کر کھاؤ۔ اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے آگے سے کھاؤ۔" حضرت عمر بن ابوسلمہؓ کہتے ہیں ۔ اس کے بعد میرا کھانے کا یہی طریقہ رہا ہے۔

عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ← أَبَا نُعَيْمٍ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ← الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 580

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثَا عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 581

581 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُشْتَمِلًا بِهِ»

حضرت عمر بن ابوسلمہؓ بیان کرتے ہیں۔ میں نے نبی اکرمﷺکو سیدہ ام سلمہ ؓ کے گھر میں ایک کپڑا اوڑھ کر نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 581

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثَا الْحَارِثِ بْنِ مَالِكِ ابْنِ الْبَرْصَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 582

582 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ مَالِكِ ابْنِ الْبَرْصَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ يَقُولُ: «لَا تُغْزَى مَكَّةُ بَعْدَ هَذَا الْيَوْمِ أَبَدًا» قَالَ سُفْيَانُ «تَفْسِيرُهُ عَلَى الْكُفْرِ»

حضرت حارث بن مالکؓ بیان کرتے ہیں : فتح مکہ کے دن میں نے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سناہے : "آج کے دن کے بعد مکہ پر کبھی حملہ نہیں کیا جا سکے گا۔“ سفیان کہتے ہیں۔ اس سے مراد یہ ہے ،کفر کی بنیاد پر ایسا نہیں ہوگا۔

سُفْيَانُ «تَفْسِيرُهُ عَلَى الْكُفْرِ» ← «لَا تُغْزَى مَكَّةُ بَعْدَ هَذَا الْيَوْمِ أَبَدًا» ← رَسُولَ اللَّهِ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ ← الْحَارِثِ بْنِ مَالِكِ ابْنِ الْبَرْصَاءِ ← الشَّعْبِيِّ، ← زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 582

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثَا الْحَارِثِ بْنِ مَالِكِ ابْنِ الْبَرْصَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 583

583 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، عَنِ ابْنِ الْخَوَّارِ مَوْلَى لِبَنِي عَامِرٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ قَالَ [ص:488]: سَمِعْتُ الْحَارِثَ بْنَ مَالِكِ بْنِ الْبَرْصَاءِ فِي الْمَوْسِمِ يُنَادِي فِي النَّاسِ قَالَ سُفْيَانُ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ أَحَدٍ يَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ كَاذِبَةٍ لِيَقْتَطِعَ بِهَا حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ»

حضرت حارث بن مالک ؓحج کے دنوں میں لوگوں میں اعلان کرتے تھے۔ سفیان کہتے ہیں : میرے علم کے مطابق انہوں نے یہ بات بیان کی ہے۔ نبی اکرم ﷺنے یہ بات ارشادفرمائی ہے: "جو شخص کوئی جھوٹی قسم اٹھا کر اس کے ذریعے کسی مسلمان کا مال ہڑپ کرے تو جب وہ الله تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا، تو الله تعالیٰ اس پر غضبناک ہوگا ۔‘‘

سُفْيَانُ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا ← الْحَارِثَ بْنَ مَالِكِ بْنِ الْبَرْصَاءِ فِي الْمَوْسِمِ يُنَادِي فِي النَّاسِ ← [ص:149] ← عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ ← ابْنِ الْخَوَّارِ مَوْلَى لِبَنِي عَامِرٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 583

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ كُرْزِ بْنِ عَلْقَمَةَ الْخُزَاعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 584

584 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: ثنا عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ قَالَ: سَمِعْتُ كُرْزَ بْنَ عَلْقَمَةَ الْخُزَاعِيَّ يَقُولُ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لِلْإِسْلَامِ مِنْ مُنْتَهًى؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ أَيُّمَا أَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْعَرَبِ أَوِ الْعَجَمِ أَرَادَ اللَّهُ بِهِمْ خَيْرًا أَدْخَلَ عَلَيْهِمُ الْإِسْلَامَ» قَالَ: ثُمَّ مَهْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «ثُمَّ تَقَعُ الْفِتَنُ كَأَنَّهَا الظُّلَلُ» فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: كَلَّا وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَلَى وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيَعُودُنَّ فِيهَا أَسَاوِدَ صُبًّا يَضْرِبُ بَعْضُهُمْ رِقَابَ بَعْضٍ» قَالَ الزُّهْرِيُّ «وَالْأَسْوَدُ الْحَيَّةُ إِذَا أَرَادَتْ أَنْ تَنْهَشَ تَنْتَصِبُ هَكَذَا» وَرَفَعَ الْحُمَيْدِيُّ يَدَهُ ثُمَّ تَنْصَبُّ، قَالَ سُفْيَانُ حِينَ حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ: لَا تُبَالِي أَلَّا تَسْمَعَ هَذَا مِنِ ابْنِ شِهَابٍ

حضرت کرزبن علقہ خزاعی ؓ بیان کرتے ہیں۔ایک شخص نے نبی اکرم ﷺسے سوال کیا۔ اس عرض کی :یا رسول اللہ (ﷺ)!کیا اسلام کی کوئی انتہا ء ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :"جی ہاں "۔عرب یا عجم سے تعلق رکھنے والا جو بھی گھرانہ ہو ، جس کے بارے میں الله تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کر لے ،تو اللہ تعالیٰ ان پر اسلام کو داخل کر دیتا ہے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ(ﷺ)! پھر کیا ہوگا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس کے بعد فتنے ہوں گے۔ یوں جیسے وہ بادل ہوتے ہیں۔ ان صاحب نے عرض کی: اللہ کی قسم! یارسول الله (ﷺ)! ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ اگر اللہ نے چاہا۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا:ایسا ہوگا، اس ذات کی قسم!جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ،اس وقت میں لوگوں کے بہت سے گروہ اس کی طرف مائل ہو جائیں گے اور وہ آپس میں قتل و غارت گری کرنے لگیں گے۔ زہری کہتے ہیں : اسود سے مراد سانپ ہے۔ جب وہ کسی کو نگلنےکا ارادہ کرتا ہے، تو یوں کھڑا ہوتا ہے۔ پھرحمیدی ؒنے اپنا ہاتھ اٹھا کر اسے کھڑا کر کے دکھایا۔ سفیان جب یہ روایت بیان کرتے تھے، تو ساتھ یہ کہا کرتے تھے۔ تمہیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہونی چاہئے کہ اگر تم نے یہ روایت ابن شہاب کی زبانی نہیں سنی( یعنی میں نے اسے من وعن تمہارے سامنے بیان کر دیا ہے۔)

سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ: ← كُرْزِ بْنِ عَلْقَمَةَ الْخُزَاعِيِّ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 584

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثَا أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ ثُمَّ الْخُزَاعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 585

585 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعَمٍ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُحْسِنْ إِلَى جَارِهِ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ»

حضرت ابوشریح کعبی ؓ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺنے یہ بات ارشادفرمائی ہے: "جوشخص الله تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک کرے ۔ جوشخص الله تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی عزت افزائی کرے۔"

أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ، ← نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 585

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثَا أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ ثُمَّ الْخُزَاعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 586

586 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ وَزَادَ «الضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ فَمَا زَادَ فَهُوَ صَدَقَةٌ، وَجَايِزَتُهُ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ لَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَثْوَى عِنْدَهُ حَتَّى يُحْرِجَهُ»

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت ابوشریحؓ کے حوالے سے اسی کی مانند منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں۔ "مہمان نوازی تین دن تک ہوتی ہے، جواس سے زیادہ ہوگی دو صدقہ ہوگا ۔مہمان کا اہتمام کے ساتھ کھانا ایک دن اور ایک رات کیا جائے گا اور مہمان کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے ، وہ میزبان کے ہاں اتنا عرصہ مقیم رہے ،کہ اسے حرج میں مبتلا کر دے۔"

اَبِیْ شُرَیْحٍ ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 586

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ ابْنِ مِرْبَعٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 587

587 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ الْجُمَحِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا مِنْ أَخْوَالِهِ مِنَ الْأَزْدِ يُقَالَ لَهُ يَزِيدُ بْنُ شَيْبَانَ قَالَ: أَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ الْأَنْصَارِيُّ وَنَحْنُ بِعَرَفَةَ فِي مَكَانٍ يُبَاعِدُهُ عَمْرٌو مِنْ مَوْقِفِ الْإِمَامِ قَالَ: فَقَالَ: إِنِّي رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُمْ يَقُولُ: «كُونُوا عَلَى مَشَاعِرِكُمْ هَذِهِ فَإِنَّكُمْ عَلَى إِرْثٍ مِنْ إِرْثِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ» قَالَ أَبُو بَكْرٍ: «وَكَانَ سُفْيَانُ رُبَّمَا قَالَ اثْبُتُوا وَرُبَّمَا قَالَ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ»

حضرت یزید بن شیبان ؓبیان کرتے ہیں۔ حضرت ابن مربع انصاریؓ ہمارے پاس تشریف لائے ہم اس وقت عرفہ میں ایسی جگہ وقوف کیے ہوئے تھے۔ جو نبی اکرم ﷺکے وقوف کی جگہ سے دور تھی انہوں نے بتایا: میں اللہ کے رسول ﷺکی طرف سے پیغام رساں کے طور پر تمہارے پاس آیا ہوں۔ آپ ﷺنے یہ ارشادفرمایا ہے: "تم اپنے اسی مقام تک رہنا کیونکہ تم حضرت ابراہیم ؑکی وراثت کے وارث ہو۔" امام حمیدی ؒ کہتے ہیں : سفيان نامی راوی بعض اوقات یہ کہا کرتے تھے۔ کہ تم ان الفاظ کو یاد رکھو اور بعض اوقات یہ کہتے تھے: تم اپنے جد امجد حضرت ابراہیم ؑ کے وارث ہو۔

عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ الْجُمَحِيُّ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 587

chevron_left Previous
1…484950…63
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter