Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الَّتِي قَالَ فِيهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 480

480 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: قَالَ سُفْيَانُ وَلِأَنَّ عَمْرًا حَدَّثَنَا أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ: «رُؤْيَا الْأَنْبِيَاءِ وَحْيٌ» وَقَرَأَ {إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ} [الصافات: 102]

سفیان کہتے ہیں: عمرو بن دینار نے ہمیں یہ بات بتائی ہے کہ انہوں نے عبيد بن عمیر کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے انبیائے کرام کے خواب وحی ہوتے ہیں ۔ اور انہوں نے (دلیل کے طور پر) یہ آیت تلاوت کی۔"میں نے خواب میں یہ دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں"۔

«رُؤْيَا الْأَنْبِيَاءِ وَحْيٌ» وَقَرَأَ {إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ} [الصافات: ← عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← أَنَّهُ ← سُفْيَانُ وَلِأَنَّ عَمْرًا ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 480

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الَّتِي قَالَ فِيهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 481

481 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ وَحَفِظْتُهُ مِنْهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «جِئْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ عَلَى أَتَانٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ فَمَرَرْنَا عَلَى بَعْضِ الصَّفِ فَنَزَلْنَا فَتَرَكْنَاهَا تَرْتَعُ، وَدَخَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ فَلَمْ يَقُلْ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا»

حضرت عبداللہ بن عباس ؓبیان کرتے ہیں: میں اور حضرت فضل بن عباسؓ ایک گدھی پر سوار ہو کر آئے ۔ نبی اکرم ﷺاس وقت عرفہ میں تھے۔ ہم ایک صف کے کچھ حصے کے آگے سے گزرے۔ ہم اس سے اترے اور ہم نے اسے چرنے کے لیے چھوڑ دیا۔ ہم نبی اکرم ﷺکی اقتداء میں نماز میں شامل ہو گئے، تو نبی اکرم ﷺنے ہمیں کچھ بھی نہیں کہا۔

جِئْت ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيَّ وحَفِظْتُهُ مِنْهُ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 481

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الَّتِي قَالَ فِيهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 482

482 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَنَّهُ صَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ يَوْمَ الْعِيدِ، ثُمَّ خَطَبَ فَرَأَى أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعِ النِّسَاءَ فَأَتَاهُنَّ فَوَعَظَهُنَّ وَذَكَّرَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ» وَمَعَهُ بِلَالٌ قَائِلٌ بِثَوْبِهِ هَكَذَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ: كَأنَّهُ يَتَلَقَّى بِثَوْبِهِ فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي الْخَاتَمَ، وَالْخِرْصَ، وَالشَّيْءَ

عطاء بن ابی رباح بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا۔ میں نبی اکرم ﷺکے بارے میں گواہی دے کر یہ بات کہتا ہوں کہ آپﷺنے عید کے دن خطے سے پہلے نماز ادا کی تھی پھر خطبہ دیا تھا۔ پھر آپ ﷺنے یہ محسوس کیا، شاید آپ ﷺنے خواتین تک آواز نہیں پہنچائی تو آپ ﷺان کے پاس تشریف لے گئے آپ ﷺنے انہیں وعظ نصیحت کی اور انہیں صدقہ کرنے کا حکم دیا۔ آپ ﷺکے ساتھ حضرت بلال ؓ تھے ،جنہوں نے اپنے کپڑے کو اس طرح پھیلایا ہوا تھا۔ امام حمیدی ؒ کہتے ہیں: یعنی انہوں نے اپنے کپڑے کو پھیلایا ہوا تھا، تو خواتین نے اپنی انگوٹھیاں، بالیاں اور دیگر چیزیں اس میں ڈالنا شروع کیں۔

أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللهِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 482

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الَّتِي قَالَ فِيهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 483

483 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ فِي ص وَلَيْسَتْ مِنْ عَزَايِمِ السُّجُودِ»

حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺکوسورة ص میں سجدہ تلاوت کرتے ہوئے دیکھا ہے، تاہم یہ لازمی سجدہ نہیں ہے۔

«رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ يَسْجُدُ فِي ص وَلَيْسَتْ مِنْ عَزَايِمِ السُّجُودِ» ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 483

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الَّتِي قَالَ فِيهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 484

484 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرٌو قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْحُوَيْرِثِ يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: «كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ مِنَ الْغَائِطِ فَأُتِيَ بِطَعَامٍ» فَقِيلَ لَهُ أَلَا تَوَضَّأُ؟ فَقَالَ: «لَمْ أُصَلِّ فَأَتَوَضَّأُ»

حضرت عبد الله بن عباس ؓبیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرمﷺکے پاس موجود تھے ۔ آپ ﷺقضائے حاجت کر کے تشریف لائے ۔ آپ ﷺکی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا، تو عرض کی گئی کہ آپ ﷺوضو نہیں کریں گے؟ تو نبی اکرم ﷺنے فرمایا: "میں نمازتو نہیں پڑھنے لگا، جو وضو کروں“۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 484

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الَّتِي قَالَ فِيهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 485

485 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ أَتَى الْغَائِطَ ثُمَّ خَرَجَ فَأُتِيَ بِطَعَامٍ فَقِيلَ لَهُ أَلَا تَتَوَضَّأُ؟ فَقَالَ: «إِنَّمَا أَسْتَطِيبُ بِشِمَالِي وَإِنَّمَا آكُلُ بِيَمِينِي»

ہشام بن عروہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ حضرت عمرؓ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے ۔ جب وہ واپس تشریف لائے ،تو ان کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا۔ ان سے کہا گیا: آپ وضونہیں کریں گے ،تو وہ بولے : میں نے اپنے بائیں ہاتھ کے ذر یعےطہارت حاصل کی تھی اور دائیں ہاتھ کے ذریعے اسے کھانا ہے۔

هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 485

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الَّتِي قَالَ فِيهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 486

486 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرٌو قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو مَعْبَدٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: «مَا كُنَّا نَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا بِالتَّكْبِيرِ» [ص:432] قَالَ عَمْرٌو فَذَكَرْتُ بَعْدَ ذَلِكَ لِأَبِي مَعْبَدٍ فَأَنْكَرَهُ، وَقَالَ: لَمْ أُحَدِّثْكَ بِهِ فَقُلْتُ: بَلَى قَدْ حَدَّثْتَنِيهِ قَبْلَ هَذَا قَالَ سُفْيَانُ كَأَنَّهُ خَشِيَ عَلَى نَفْسِهِ

حضرت عبد الله بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں : ہم لوگوں کو نبی اکرم ﷺ کی نماز ختم ہونے کا پتہ تکبیر کے ذریعے چلتاتھا۔ عمرو بن دینار نامی راوی یہ کہتے ہیں: میں اپنے استاد ابو معمر کے سامنے بعد میں یہ روایت ذکر کی، تو انہوں نے اس کا انکار کردیا اور بولے:میں نے تو یہ حدیث سنائی ہےمیں نے کہا:جی ہاں۔آپ اس سے پہلے یہ حدیث مجھے سنا چکے ہیں۔ سفیان کہتے ہیں۔ گویا انہیں اپنی ذات کے حوالے سے اندیشہ تھا۔

سُفْيَانُ كَأَنَّهُ خَشِيَ عَلَى نَفْسِهِ ← لَمْ أُحَدِّثْكَ بِهِ فَقُلْتُ بَلَى قَدْ حَدَّثْتَنِيهِ قَبْلَ هَذَا ← عَمْرٌو فَذَكَرْتُ بَعْدَ ذَلِكَ لِأَبِي مَعْبَدٍ فَأَنْكَرَهُ، ← «مَا كُنَّا نَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ إِلَّا بِالتَّكْبِيرِ» [ص:432] ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبُو مَعْبَدٍ، ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 486

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الَّتِي قَالَ فِيهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 487

487 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِدَلُوٍ مِنْ زَمْزَمَ فَنُزِعَ لَهُ فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ»

حضر ت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں :میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا ۔آپ ﷺ کے حکم کے تحت آب زم زم کا ڈول نکالا گیا۔ آپ ﷺنے اسے کھڑے ہوکر پیا۔

«رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ أَمَرَ بِدَلُوٍ مِنْ زَمْزَمَ فَنُزِعَ لَهُ فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ» ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 487

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الَّتِي قَالَ فِيهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 488

488 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خَالَتِي مَيْمُونَةَ وَمَعَنَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَقَالَتْ لَهُ مَيْمُونَةُ: أَلَا نُقَدِّمُ إِلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ شَيْئًا أَهْدَتْهُ لَنَا أُمُّ غُفَيْقٍ فَأَتَتْهُ بِضِبَابٍ مَشْوِيَّةٍ «فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَفَلَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهَا، وَأَمَرَنَا أَنْ نَأْكُلَ» ثُمَّ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ فِيهِ لَبَنٌ فَشَرِبَ وَأَنَا عَنْ يَمِينِهِ وَخَالِدٌ عَنْ يَسَارِهِ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الشَّرْبَةُ لَكَ يَا غُلَامُ وَإِنْ شِئْتَ آثَرْتَ بِهَا خَالِدًا» فَقُلْتُ: مَا كُنْتُ لِأُوثِرَ بِسُؤْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَطْعَمَهُ اللَّهُ طَعَامًا فَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَأَبْدِلِنَا مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ، وَمَنْ سَقَاهُ اللَّهُ لَبَنًا فَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَزِدْنَا مِنْهُ؛ فَإِنِّي لَا أَعْلَمُ يُجْزِئُ مِنَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ غَيْرُهُ "

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم ﷺکے ساتھ اپنی خالہ میمونہؓ کے ہاں گیا۔ ہمارے ساتھ حضرت خالد بن ولیدؓ بھی تھے۔ سیدہ میمونہؓ نے آپﷺکی خدمت میں گزارش کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! کیا ہم آپ ﷺکی خدمت میں وہ چیز کھانے کے لیے پیش نہ کریں۔ جواُم عفیق نے ہمیں تحفے کے طور پر دی ہے ،وہ کچھ بھوئی ہوئی گوہ لے آ ئیں جب نبی اکرم ﷺنے انہیں ملاحظہ کیا، تو تین مرتبہ تھوک پھینکا ،لیکن آپ ﷺنے انہیں کھایانہیں۔ آپ ﷺنے ہمیں یہ ہدایت کی کہ ہم اسے کھالیں ۔ پھر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ایک برتن پیش کیا گیا۔ جس میں دودھ موجود تھا۔ نبی اکرم ﷺنے اسے نوش فرمایا۔ میں آپ ﷺکے دائیں طرف موجود تھا، اور حضرت خالدؓ بائیں طرف بیٹھے ہوئے تھے، تو نبی اکرم ﷺنے مجھ سے فرمایا: "لڑ کے پینے کا حق تو تمہارا بنتا ہے اگر تم چاہو تو خالد کے لیےایثار کر دو“۔میں نے عرض کی: میں، اللہ کے رسول ﷺکے بچائے ہوئے کے بارے میں ،کسی کے لیےایثار نہیں کروں گا۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا: "جب اللہ تعالیٰ کسی کو کھانے کے لیے کچھ عطا کرے ،تو وہ یہ پڑھے: "اے اللہ تو ہمارے لیے اس میں برکت دے اور ہمیں اس کے بدلے میں اس سے زیادہ بہتر عطا کر"۔ اور جس شخص کو الله تعالی پینے کے لیے دودھ عطا کرے، تو وہ یہ پڑ ھے: ”اے اللہ تو ہمارے لیے اس میں برکت عطا کر اور ہمیں یہ مزید عطا کر"۔ (نبی اکرمﷺنے فرمایا:) "میرے علم کے مطابق اس (دودھ)کے علاوہ ایسی کوئی چیز نہیں ہے ،جو کھانے اور پینے(یعنی بھوک اور پیاس )دونوں کےلیے کافی ہو"۔

لَهُ مَيْمُونَةُ: أَلَا نُقَدِّمُ إِلَيْكَ ← دَخَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ عَلَى خَالَتِي مَيْمُونَةَ وَمَعَنَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَمْر بن حرملة، ← عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 488

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الَّتِي قَالَ فِيهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 489

489 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ عَمْرٌو: قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: «إِنَّكُمْ مُلَاقُوا اللَّهَ مُشَاةً حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا»

حضرت عبدالله بن عباس ؓکا بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺکومنبر پرخطبہ دیتے ہوئے یہ ارشاد فرماتے ہو ئے سناہے: "تم لوگ الله تعالیٰ کی بارگاہ میں پیدل برہنہ پاؤں برہنہ جسم اور ختنے کے بغیر حاضر ہو گئے"۔

«إِنَّكُمْ مُلَاقُوا اللَّهَ مُشَاةً حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا» ← رَسُولَ اللَّهِ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 489

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الَّتِي قَالَ فِيهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 490

490 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: «مَا عَلِمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَ يَوْمًا يَتَحَرَّى فَضْلَهُ عَلَى الْأَيَّامِ إِلَّا هَذَا الْيَوْمِ يَعْنِي عَاشُورَاءَ وَهَذَا الشَّهْرَ يَعْنِي شَهْرَ رَمَضَانَ»

حضرت عبد الله بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں: میرے علم کے مطابق نبی اکرم ﷺنے کبھی کسی مخصوص دن کی فضیلت کو اہتمام سے حاصل کرنے کے لیے اس دن روزہ نہیں رکھا صرف یہ ایسا دن ہے ۔حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی مراد عاشورہ کا دن تھا ۔ یا یہ مہینہ ہے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی مراد رمضان کا مہینہ تھا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ1 بْنِ أبي يزيد، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 490

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الَّتِي قَالَ فِيهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 491

491 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَإِنْ بَقِيتُ لَآمُرَنَّ بِصِيَامِ يَوْمٍ قَبْلَهُ أَوْ يَوْمٍ بَعْدَهُ» يَعْنِي يَوْمَ عَاشُورَاءَ

داود بن علی اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے نبی اکرم ﷺکایہ فرمان نقل کرتے ہیں: "اگر میں زندہ رہ گیا، تو میں اس سے ایک دن پہلےیا ایک دن بعد روزہ رکھنے کا حکم ضرور دوں گا“۔ نبی اکرم ﷺکی مراد عاشورہ کا دن تھا۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← دَاوُدَ بْنِ عَلِي، ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 491

chevron_left Previous
1…404142…63
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter