Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 384

384 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ [ص:371]، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: «مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَأَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ فَكَأَنَّمَا صَامَ الدَّهْرَ» قَالَ أَبُو بَكْرٍ فَقُلْتُ لِسُفْيَانَ أَوْ قِيلَ لَهُ إِنَّهُمْ يَرْفَعُونَهُ قَالَ: اسْكُتْ عَنْهُ قَدْ عَرَفْتُ ذَلِكَ

حضرت ابو ایوب انصاریؓ بیان کرتے ہیں: جوشخص رمضان کے روزے رکھے اس کے بعد شوال کے 6 روزہ رکھے تو گویا اس نے ہمیشہ نفلی روزے رکھے۔امام حمیدی ؒ کہتے ہیں میں نے سفیان سے کہا : یا شاید سفیان سے یہ کہا گیا : دیگرلوگ تو اسے "مرفوع "حدیث کے طور پر نقل کرتے ہیں، تو وہ بولے تم اس حوالے سے خاموش رہو میں یہ بات جانتا ہوں۔

اسْكُتْ عَنْهُ قَدْ عَرَفْتُ ذَلِكَ ← أَبُو بَكْرٍ فَقُلْتُ لِسُفْيَانَ أَوْ قِيلَ لَهُ إِنَّهُمْ يَرْفَعُونَهُ ← مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَأَتْبَعَهُ ستا من شوال فكأنما صام الدهر. ← أَبِي أَيُّوبَ، ← عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ [ص:371]، ← سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 384

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 385

385 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، وَسَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَأَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ فَكَأَنَّمَا صَامَ الدَّهْرَ» [ص:372]

حضرت ابو ایوب انصاری ؓنبی اکرم ﷺکایہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جوشخص رمضان کے روزے رکھے۔ اس کے بعد شوال کے 6 روزے رکھ لے ،تو گویا اس نے ہمیشہ نفلی روزے رکھے"۔

اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ← عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ، ← صَفْوَانُ بْنُ سُلَیْمٍ وَسَعْدُ بْنُ سَعِیْدٍ ← عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 385

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 386

386 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّائِغُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ ذَلِكَ

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت ابو ایوب انصاری ؓکے حوالے سے نبی اکرم ﷺسے منقول ہے۔

النَّبِيِّ بِمِثْلِ ذَلِکَ ← أَبِي أَيُّوبَ، ← عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← إسماعيل بن إبراهيم الصائغ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 386

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 387

387 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: «صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِجَمْعٍ جَمِيعًا»

حضرت ابو ایوب انصاریؓ بیان کرتے ہیں : میں نے مزدلفہ میں نبی اکرم ﷺکی اقتداء میں مغرب اور عشاء کی نماز یں ایک ساتھ ادا کی تھیں۔

«صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِجَمْعٍ جَمِيعًا» ← أَبِي أَيُّوبَ، ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 387

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 388

388 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعْدٍ الْأَعْمَى يُحَدِّثُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ يَقُولُ: خَرَجَ أَبُو أَيُّوبَ إِلَى عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ وَهُوَ بِمِصْرَ يَسْأَلُهُ عَنْ حَدِيثٍ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَبْقَ أَحَدٌ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَهُ وَغَيْرَ عُقْبَةَ فَلَمَّا قَدِمَ أَتَى مَنْزِلَ مَسْلَمَةَ بْنِ مَخْلَدٍ الْأَنْصَارِيِّ وَهُوَ أَمِيرُ مِصْرَ فَأُخْبِرَ بِهِ فَعَجَّلَ فَخَرَجَ إِلَيْهِ فَعَانَقَهُ، ثُمَّ قَالَ: مَا جَاءَ بِكَ يَا أَبَا أَيُّوبَ؟ فَقَالَ: حَدِيثٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَبْقَ أَحَدٌ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرِي وَغَيْرَ عُقْبَةَ فَابْعَثْ مَنْ يَدُلُّنِي عَلَى مَنْزِلِهِ قَالَ فَبَعَثَ مَعَهُ مَنْ يَدُلُّهُ عَلَى مَنْزِلِ عُقْبَةَ فَأُخْبِرَ عُقْبَةُ بِهِ فَعَجَّلَ فَخَرَجَ إِلَيْهِ فَعَانَقَهُ وَقَالَ مَا جَاءَ بِكَ يَا أَبَا أَيُّوبَ؟ فَقَالَ حَدِيثٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَبْقَ أَحَدٌ سَمِعَهُ غَيْرِي وَغَيْرَكَ فِي سَتْرِ الْمُؤْمِنِ قَالَ عُقْبَةُ نَعَمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ سَتَرَ مُؤْمِنًا فِي الدُّنْيَا عَلَى خِزْيِهِ سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» فَقَالَ لَهُ أَبُو أَيُّوبَ: صَدَقْتَ، ثُمَّ انْصَرَفَ أَبُو أَيُّوبَ إِلَى رَاحِلَتِهِ فَرَكِبَهَا رَاجِعًا إِلَى الْمَدِينَةِ فَمَا أَدْرَكَتْهُ جَائِزَةُ مَسْلَمَةَ بْنِ مَخْلَدٍ إِلَّا بَعَرِيشِ مِصْرَ

عطاء بن ابی رباح بیان کرتے ہیں : حضرت ابو ایوب انصاری ؓ حضرت عقبہ بن عامر ؓکے پاس گئے ۔ وہ اس وقت مصرمیں تھے۔ انہوں نے ان سے اس حدیث کے بارے میں دریافت کیا: جو انہوں نےنبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی تھی اور اب کوئی بھی شخص ایسا باقی نہیں رہا تھا جس نے نبی اکرمﷺ کی زبانی وہ حدیث سنی ہو۔ صرف حضرت ابو ایوب انصاری ؓاور حضرت عقبہؓ نے وہ حدیث سنی ہوئی تھی۔جب حضرت ابو ایوب انصاری ؓ مصر آئے ،تووہ مسلمہ بن مخلد انصاری کے گھرٹھہر ے۔ جو مصر کا امیر تھا۔ اسے اس بارے میں بتایا گیا، تو وہ تیزی سے نکل کر ان کے پاس آیا۔ اس نے ان کے ساتھ معانقہ کیا۔ پھر بولا:اے ابو ایوب انصاری ؓ!آپ کیوں تشریف لائے ہیں؟ تو حضرت ابو ایوب ؓ نے بتایا: میں نے نبی اکرمﷺکی زبانی ایک حدیث سنی تھی۔ اب میرے اور عقبہ بن عامر کے علاوہ ایسا کوئی شخص نہیں رہا۔ جس نے نبی اکرم ﷺکی زبانی وہ حدیث سنی ہو، تو تم کسی ایسے شخص کو میرے ساتھ بھیجو جو مجھے ان کے گھر تک پہنچا دے ۔ راوی کہتے ہیں : تو امیر نے حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے ہمراہ اس شخص کو بھیجا جو انہیں حضرت عقبہ بن عامرکے گھر تک پہنچا دے۔ جب حضرت عقبہؓ کو ان کے بارے میں پتہ چلا تو وہ تیزی سے نکل کر باہرآئے اور ان سے گلے ملے اور دریافت کیا: اے ابو ایوب ؓ! آپ کیوں تشریف لائے ہیں؟ تو انہوں نے بتایا: میں نے ایک حدیث نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی تھی اب میرے اور آپ کے علاوہ ایسا کوئی شخص باقی نہیں رہا۔ جس نے نبی اکرم ﷺسے وہ حدیث سنی ہو اور وہ حدیث مومن کی پردہ داری کے بارے میں ہے ،تو حضرت عقبہؓ بولے : "جی ہاں" میں نے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:"جوشخص دنیا میں کسی مومن کی خامی کی پردہ پوشی کرتا ہے ،تو الله تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کرے گا"۔ تو حضرت ابو ایوب انصاری ؓ نے ان سے کہا: آپ نےسچ بیان کیا ہے ،پھر حضرت ابو ایوب انصاریؓ واپس اپنی سواری کی طرف آئے اس پر سوار ہوئے اور واپس مدینہ منورہ آگئے۔ مسلمہ بن مخلدکی مہمانی مصر کے شہر عریش میں ہی تھی کہ (آپ ؓواپس بھی آ گئے یعنی وہ مہمانی کرنے کا ارادہ کر رہا تھا)

عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← أَبَا سَعْدٍ الْأَعْمَى ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 388

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 389

389 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عُبَيْدَةُ الضَّبِّيُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، عَنْ سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ، عَنْ قَزَعَةَ، عَنِ الْقَرْثَعِ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ يُصَلِّي أَرْبَعًا وَيَقُولُ: «إِنَّ أَبْوَابَ السَّمَاءِ تُفْتَحُ أَوِ الْجَنَّةِ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ»

حضرت ابو ایوب انصاریؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺسورج ڈھل جانے کے بعد چار رکعات ادا کرتےتھے اور یہ ارشاد فر مایا کرتے تھے :"سورج ڈھلنے کے وقت آسمان (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں"۔

أَبِي أَيُّوبَ، ← الْقَرْثَعِ ← قَزَعَةَ ← سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ، ← إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، ← عُبَيْدَةَ الضَّبِّيِّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 389

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 390

390 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ سَمِعْتُ مَحْمُودَ بْنَ الرَّبِيعِ يُحَدِّثُ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا يَقْرَأُ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ»

حضرت عبادہ بن صامت ؓبیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺنے ارشادفرمایا ہے۔ "اس شخص کی نماز ( کامل) نہیں ہوتی جواس میں سورة فاتحہ نہیں پڑھتا"۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 390

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 391

391 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخُولَانِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ يَقُولُ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسٍ فَقَالَ: «تُبَايِعُونِي أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا تَسْرِقُوا، وَلَا تَزْنُوا الْآيَةَ فَمَنْ وَفَّا مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعُوقِبَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَسَتَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ فَهُوَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ» قَالَ سُفْيَانُ كُنَّا عِنْدَ الزُّهْرِيِّ فَلَمَّا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ أَشَارَ إِلِيًّ أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيِّ أَنْ أَحْفَظَهُ فَكَتَبْتُهُ فَلَمَّا قَامَ الزُّهْرِيُّ أَخْبَرْتُ بِهِ أَبَا بَكْرٍ

حضرت عبادہ بن صامت ؓبیان کرتے ہیں: ہم ایک محفل میں نبی اکرم ﷺکے پاس موجود تھے۔ آپﷺنے ارشادفرمایا:"تم میری بیعت کرو کہ تم کسی اللہ کا شریک نہیں ٹھہراو گے تم چوری نہیں کرو گے ۔تم زنا نہیں کرو گ ۔ تم میں سے جو شخص اسے پورا کر لے گا ،تو اس کا اجر الله تعالیٰ کے ذمے ہوگا۔ اور جوشخص ان میں سے کسی ایک جرم کا مرتکب ہوجائے اور اسے سزادے دی جائے، تو یہ اس کے لیے کفارہ بن جائے گی۔ اور جو شخص ان میں سے کسی ایک جرم کا مرتکب ہو اور الله تعالیٰ اس کی پردہ پوشی کرے ،تو اس کا معاملہ الله تعالیٰ کے سپرد ہوگا۔ اگر وہ چاہے تو اس کی مغفرت کر دے اور اگر چاہے، تو اسے عذاب دے"۔

أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 391

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 392

392 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ أَنَّ الْمُخْدَجِيِّ قَالَ لِعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ: إِنَّ أَبَا مُحَمَّدٍ يَقُولُ: الْوِتْرُ وَاجِبٌ، فَقَالَ عُبَادَةَ كَذِبَ أَبُو مُحَمَّدٍ؛ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «خَمْسُ صَلَوَاتٍ كَتَبَهُنَّ اللَّهُ عَلَى الْعِبَادِ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ فَمَنْ أَتَى بِهِنَّ لَمْ يَنْتَقِصْ مِنْ حَقِّهِنَّ شَيْئًا لِلْقَادِرِينَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَمْ يَأْتِ بِهِنَّ فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ إِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ، وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ»

مخدجی بیان کرتے ہیں: حضرت عبادہ بن صامت ؓسے کہا گیا: ابو محمد یہ کہتے ہیں: وتر واجب ہیں، تو حضرت عبادہ ؓبولے : ابومحمد نے غلط کہا ہے۔ میں نے نبی اکرم ﷺکویہ ارشادفرماتے ہوئے سنا ہے: "پانچ نمازیں ہیں جنہیں الله تعالیٰ نے دن اور رات میں بندوں پر لازم قرار دیا ہے۔ جو انہیں ادا کرے۔ اور ان کے حق میں سے کسی چیز کی کوئی کمی نہ کرے ،تو الله تعالیٰ پر یہ بات لازم ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے اور جوشخص انہیں ادا نہیں کرتا ،تو اس کے بارے میں الله تعالیٰ کے پاس کوئی عہد نہیں ہوگا۔ اگر وہ چاہے گا، تو اس کی مغفرت کر دے گا اگر چاہے گا ،تو اسے عذاب دے گا“۔

رَسُولِ اللَّهِ ← عُبَادَةُ کَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ ← الوتر واجب ← لِعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ: إِنَّ أَبَا مُحَمَّدٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ أَنَّ الْمُخْدَجِيِّ ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 392

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 393

393 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ سَمِعْتُ عُبَادَةَ بْنَ الْوَلِيدِ يُحَدِّثُ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: «بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْعُسْرِ وَالَيُسْرِ وَالْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ، وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ، وَأَنْ نَقُولَ بِالْحَقِّ حَيْثُ مَا كُنَّا لَا نَخَافُ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَوْمَةَ لَائِمٍ»

حضرت عبادہ بن صامت ؓ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم ﷺکے دست اقدس پر تنگی اور آسانی۔ خوشی اور ناخوشی (ہر حالت میں) اطاعت وفرمانبرداری کی بیعت کی۔ اور یہ کہ ہم حکمرانوں سے ان کی حکومت کے بارے میں جھگڑا نہیں کریں گے اور ہم جہاں کہیں بھی ہوں گےحق کے مطابق بات کہیں گے اور الله تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 393

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 394

394 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ [ص:377]، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ مِثْلٌ بِمِثْلٍ، وَالُوَرِقُ بِالْوَرِقِ مِثْلٌ بِمِثْلٍ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ مِثْلٌ بِمِثْلٍ، وَالْحِنْطَةُ بِالْحِنْطَةِ مِثْلٌ بِمِثْلٍ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ مِثْلٌ بِمِثْلٍ حَتَّى خَصَّ الْمِلْحَ بِالْمِلْحِ فَمَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ فَهُوَ رِبًا»

حضرت عبادہ بن صامت ؓکرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے :"سونے کے عوض میں سونے کا لین دین برابر، برابر ہو گا۔ چاندی کے عوض میں چاندی کا لین دین برابر، برابر ہوگا۔ کھجور کے عوض میں کھجور کا لین دین برابر ،برابر ہوگا ۔ گندم کے عوض میں گندم کا لین دین برابر، برابر ہوگا ۔ جو کے عوض میں جوکا لین دین برابر، برابر ہوگا، یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺنے بطور خاص نمک کے عوض میں نمک کے لین دین کابھی ذکر کیا (اور یہ فرمایا )جو شخص زیادہ ادائیگی کرے یا زیادہ ادائیگی کا طلبگار ہو ، تویہ سود ہوگا"۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ [ص:377]، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 394

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 395

395 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رَفِيعٍ، عَنْ أَبِي صَالِحْ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ} [يونس: 64] فَقَالَ: مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ مُنْذُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا غَيْرُكَ إِلَّا رَجُلًا وَاحِدًا سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا فَقَالَ: «مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ مُنْذُ أُنْزِلَتْ غَيْرُكَ إِلَّا رَجُلًا وَاحِدًا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ»

عطاء بن یسارمصر سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ میں نے حضرت ابودر داءؓ سےاللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا۔"وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے پرہیز گاری اختیار کی ان کے لیے دنیاوی زندگی میں اور آخرت میں خوشخبری ہے"۔تو حضرت ابودرداء ؓبولے: جب سے میں نے نبی اکرم ﷺسے اس بارے میں دریافت کیا ہے۔ اس وقت سے لے کر اب تک کسی نے تمہارے علا وہ مجھ سے اس بارے میں دریافت نہیں کیا۔ صرف ایک اورشخص نے یہ سوال کیا تھا۔ میں نے نبی اکرم سﷺے اس بارے میں یہ دریافت کیا تو آپ ﷺنے ارشاد فرمایا:"جب سے یہ آیت نازل ہوئی ہے اس وقت سے لے کر اب تک تمہارے علاوہ اور کسی نے بھی اس کے بارے میں مجھ سے سوال نہیں کیا۔ صرف ایک شخص نے کیا ہے(اس سے مراد )وہ سچے خواب ہیں ۔ جنہیں کوئی مسلمان دیکھتا ہے۔ (راوی کوشک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جو کسی مسلمان کو دکھائے جاتے ہیں"۔

قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: ← سَأَلْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ ← رجل من أهل مصر، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 395

chevron_left Previous
1…323334…63
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter