Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ مَعْبَدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 360

360 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عَمِّهِ أَوْ عَنْ أُمِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «تَعَلَّمْنَ يَا هَؤُلَاءِ أَنَّ الْبَذَاذَةَ مِنَ الْإِيمَانِ»

معبد بن کعب اپنے چچایا شاید اپنی والدہ کے حوالے سے نبی اکرم ﷺکا فرمان نقل کرتے ہیں: "اے خواتین !تم لوگ یہ بات جان لو۔ لباس میں، تواضع اختیار کرنا ایمان کا حصہ ہے"۔

أُمِّهِ2، ← عَمِّهِ أَوْ ← مَعْبَدِ بْنِ كَعْبٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 360

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ أُمِّ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 361

361 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ أَنَّهُ سَمِعَ سُلَيْمَانَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ يُحَدِّثُ عَنْ أُمِّهِ قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي الْجَمْرَةَ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي وَهُوَ عَلَى بَغْلَةٍ وَهُوَ يَقُولُ: «أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمُ السَّكِينَةَ لَا يَقْتُلُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، وَعَلَيْكُمْ مِثْلَ حَصَى الْخَذْفِ»

سلیمان بن عمرو اپنی والدہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے نبی اکرمﷺکو بطن وادی سے جمرہ کو کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا ۔ آپ ﷺ اس وقت خچر پر سوار تھے :اے لوگو!اطمینان رکھو تم ایک دوسرے کو تنگ نہ کرو اور تم پر لازم ہے کہ اتنی (چٹکی میں آجانے والی)کنکریاں استعمال کرو۔

«أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمُ السَّكِينَةَ لَا يَقْتُلُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، وَعَلَيْكُمْ مِثْلَ حَصَى الْخَذْفِ» ← رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ يَرْمِي الْجَمْرَةَ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي وَهُوَ عَلَى بَغْلَةٍ وَهُوَ ← أُمِّهِ2، ← سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الأَحْوَص ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 361

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ أُمِّ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 362

362 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ، عَنِ الْعِيزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ أُمِّ الْحُصَيْنِ قَالَتْ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَخْطُبُ وَهُوَ مَتَلَفِّعٌ بِبُرْدَةٍ، وَعَضَلَتُهُ تَرْتَجُّ "

سیدہ ام حصینؓ بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرمﷺکو خطبہ دیتے ہوئے دیکھا آپ ﷺنے چادر اوڑھی ہوئی تھی اور آپﷺکے پٹھے حرکت کر رہے تھے (یعنی جوش کا اظہار ہورہا تھا)۔

رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ يَخْطُبُ وَهُوَ مَتَلَفِّعٌ بِبُرْدَةٍ، وَعَضَلَتُهُ تَرْتَجُّ ← أُمِّ الْحُصَيْنِ ← الْعَيْزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 362

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 363

363 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا أَيُّوبُ بْنُ أَبِي تَمِيمَةَ السِّخْتِيَانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نُغَسِّلُ ابْنَتَهُ فَقَالَ: «اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا، أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا، أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي» فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ فَقَالَ: «أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ»

سیدہ ام عطیہ ؓ بیان کرتی ہیں :نبی اکرم ﷺہمارے پاس تشریف لائے ہم آپ ﷺ کی صاحبزادی کو غسل دینے لگی تھیں۔ آپ ﷺنے فرمایا :تم اسے تین یا پانچ یا اگرتم مناسب سمجھو تو اس سے زیادہ مرتبہ پانی اور بیری کے پتوں کے ذریعے غسل دینا اور آخر میں کافوربھی ملا دینا (رادی کوشک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) تھوڑا سا کافورملادینا۔ جب تم فارغ ہو جاؤ تو مجھےبتانا ۔(وہ خاتون بیان کرتی ہیں) جب ہم لوگ فارغ ہوئے اور ہم نے نبی اکرم ﷺکو اطلاع دی تو آپ ﷺنے اپنی چادر ہمیں دی اور ارشادفرمایا: اسے اس کے جسم پر لپیٹ دو۔

أُمِّ عَطِيَّةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ السَّخْتِيَانِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 363

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 364

364 - قَالَ سُفْيَانُ: وَحَدَّثَنَاهُ أَيُّوبُ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، وَزَادَ فِيهِ قَالَتْ: وَجَعَلْنَا رَأْسَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ

سیدہ ام عطیہ ؓ کے حوالے سے یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے ،تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں۔ سیدہ ام عطیہ ؓبیان کرتی ہیں۔ "ہم نے ان صاحبزادی کی تین چوٹیاں بنادی تھیں"۔

وَجَعَلْنَا رَأْسَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ ← النَّبِيِّ بِمِثْلِهِ، وَزَادَ فِيهِ ← أُمِّ عَطِيَّةَ ← حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، ← سُفْيَانُ: وَحَدَّثَنَاهُ أَيُّوبُ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 364

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 365

365 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا أَيُّوبُ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ عَنْ امْرَأَةٍ عَنْ أُخْتِهَا وَكَانَ زَوْجُهَا قَدْ غَزَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً وَهِيَ مَعَهُ فِي سِتِّ غَزَوَاتٍ مِنْهَا فَقَالَتْ: كُنَّا نُدَاوِي الْكَلْمَى وَنَقُومُ عَلَى الْمَرَضَى، قَالَتْ: فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ عَلَى إِحْدَانَا جُنَاحٌ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهَا جِلْبَابٌ أَنْ لَا تَشْهَدَ الْعِيدَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «لِتُلْبِسْهَا أُخْتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا، وَتَشْهَدَ الْعِيدَ، وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ»

حفصہ بنت سیر ین ایک خاتون کے حوالے سے ان کی بہن کا یہ بیان نقل کرتی ہیں۔ ان کے شوہر نے نبی اکرم ﷺکے ساتھ دس سے زیادہ غزوات میں شرکت کی تھی اور وہ خودنبی اکرم ﷺکے ساتھ چھ غزوات میں شریک ہوئی تھیں۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: ہم خواتین زخمیوں کو دوائی دیا کرتی تھیں اور بیماروں کا خیال رکھا کرتی تھیں۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺسے یہ سوال کیا: کیا ہم میں سے کسی ایک (عورت کو) کوئی گناہ ہوگا کہ اگر اس کے پاس چادر نہ ہو تو وہ عید کی نماز میں شریک نہ ہو؟ تونبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا: اس کی بہن اپنی چادر میں سے کچھ ایسے بھی پہنادے لیکن وہ عورت عید اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہو۔

امْرَأَةٌ ← حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، ← أَيُّوبَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 365

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 366

366 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا أَيُّوبُ، عَنْ حَفْصَةَ قَالَتْ: فَسَأَلْنَا أُمَّ عَطِيَّةَ هَلْ سَمِعْتِ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ: نَعَمْ بِأَبَا وَكَانَتْ إِذَا حَدَّثَتْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: بِأَبَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَخْرِجُوا الْعَوَاتِقَ، وَذَوَاتِ الْخُدُورِ فَلْيَشْهَدْنَ الْعِيدَ، وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ، وَلْيَعْتَزِلِ الْحُيَّضُ مُصَلَّى الْمُسْلِمِينَ»

حفصہ بنت سیر ین بیان کرتی ہیں: ہم نے سیدہ ام عطیہؓ سے دریافت کیا:کیا آپ نے نبی اکرم ﷺکی زبانی یہ بات سنی ہے انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ میرے والد کی قسم۔ (راوی خاتون کہتی ہیں) سیدہ ام عطیہؓ کا یہ معمول تھا کہ جب بھی وہ نبی اکرم ﷺکے حوالے سے کوئی بات بیان کرتی تھیں، تو ساتھ یہ کہتی تھیں میرے والد کی قسم۔(انہوں نے بتایا) میں نے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشادفرماتے ہوئے سنا ہے: "عید کے دن جوان پرده دار خواتین کو بھی ( گھروں سے)لے آ ووہ عید اور مسلمانوں کی دعا میں شامل ہوں البتہ حیض والی خواتین مسلمانوں کی نماز کی جگہ سے الگ رہیں گی"۔

«أَخْرِجُوا الْعَوَاتِقَ، وَذَوَاتِ الْخُدُورِ فَلْيَشْهَدْنَ الْعِيدَ، وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ، وَلْيَعْتَزِلِ الْحُيَّضُ مُصَلَّى الْمُسْلِمِينَ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← بِأَبَا ← رَسُولِ اللَّهِ ← هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَتْ: نَعَمْ بِأَبَا وَكَانَتْ إِذَا ← فَسَأَلْنَا أُمَّ عَطِيَّةَ هَلْ ← حَفْصَةَ، ← أَيُّوبَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 366

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ الْفِهْرِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 367

367 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: قَدِمَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ الْكُوفَةَ عَلَى أَخِيهَا الضَّحَاكِ بْنِ قَيْسٍ وَكَانَ عَامِلًا عَلَيْهَا، فَأَتَيْنَاهَا فَسَأَلْنَاهَا، فَقَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَ أَبِي عَمْرِو بْنِ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ فَطَلَّقَنِي فَبَتَّ طَلَاقِي، وَخَرَجَ إِلَى الْيَمَنِ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ وَطَلَبْتُ النَّفَقَةَ فَقَالَ بِكُمِّهِ هَكَذَا وَاسْتَتَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَرْأَةِ، وَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ كُمَّهُ فَوْقَ رَأْسِهِ، «اسْمَعِي مِنِّي يَا بِنْتَ آلِ قَيْسٍ، إِنَّمَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ لِلْمَرْأَةِ إِذَا كَانَ لِزَوْجِهَا عَلَيْهَا رَجْعَةٌ، فَإِذَا لَمْ يَكُنْ لَهُ عَلَيْهَا رَجْعَةٌ فَلَا سُكْنَى لَهَا وَلَا نَفَقَةَ» ثُمَّ قَالَ لِي: «اعْتَدِّي عِنْدَ أُمِّ شَرِيكٍ بِنْتِ أَبِي الْعَكَرِ» ثُمَّ قَالَ: «تِلْكَ امْرَأَةٌ يُتَحَدَّثُ عِنْدَهَا، اعْتَدِّي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ رَجُلٌ مَحْجُوبُ الْبَصَرِ فَتَضَعِينَ ثِيَابَكِ فَلَا يَرَاكِ»

امام شعبی بیان کرتے ہیں : سیدہ فاطمہ بنت قیس ؓ کوفہ تشریف لائیں وہ اپنے بھائی ضحاک بن قیس کے ہاں آئی تھیں جو وہاں کے گورنر تھے ،تو ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نے اس خاتون سے سوال کیا ،تو انہوں نے بتایا: میں عمرو بن حفص کی بیوی تھی اس نے مجھے طلاق دی تو طلاق بتہ دے دی ورخودیمن چلے گئے میں نبی اکرم ﷺکی خدمت میں حاضرہوئی میں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم ﷺسے کیا اور خرچ کا مطالبہ کیا تو نبی اکرم ﷺنے اپنی آستین کو اس طرح کرتے ہوئےفرمایا۔ نبی اکرم ﷺنے اس خاتون سے پردہ کیا تھا۔ امام حمیدی ؒ نے اپنی آستین اپنے سر پر بلند کر کے (یہ کر کے دکھایا) (نبی اکرمﷺنے فرمایا:) اے قیس کی اولاد! کی صاحبزادی ۔ رہائش اور خرچ کا حق اس عورت کو ملتا ہے، جب اس کے شوہر کو اس سے رجوع کرنے کا حق ہو ،لیکن جب شوہر کے لیے اس سے رجوع کرنے کا حق نہ ہو، تو عورت کو رہائش اور خر چ کا حق نہیں ملے گا۔پھر نبی اکرم ﷺنے مجھ سے فرمایا: تم ام شریک بنت ابوالعکر ؓکے ہاں عدت بسرکرو۔ پھر نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا: وہ ایک ایسی عورت ہے ،جس کے ہاں لوگوں کی آمد ورفت رہتی ہے تو ابن ام مکتوم کے ہاں عد ت بسر کرو ،کیونکہ وہ ایک نا بیناشخص ہے۔اگرتم اپنی چادر اتار دوگی، تو بھی وہ تمہیں دیکھ نہیں سکے گا۔

الشَّعْبِيِّ، ← مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 367

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ الْفِهْرِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 368

368 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: قَدِمَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ الْفِهْرِيَّةُ الْكُوفَةَ عَلَى أَخِيهَا الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ وَكَانَ قَدِ اسْتُعْمِلَ عَلَيْهَا فَأَتَيْنَاهَا نَسْأَلُهَا فَقَالَتْ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ، فَقَالَ: " إِنِّي لَمْ أَخْطُبْكُمْ لِرَغْبَةٍ وَلَا لِرَهْبَةٍ وَلَكِنْ لِحَدِيثٍ حَدَّثَنِيهِ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ مَنَعَنِي سُرُورُهُ الْقَايِلَةَ حَدَّثَنِي تَمِيمٌ الدَّارِيُّ عَنْ بَنِي عَمٍّ لَهُ أَنَّهُمْ أَقْبَلُوا فِي الْبَحْرِ مِنْ نَاحِيَةِ الشَّامِ فَأَصَابَتْهُمْ فِيهِ رِيحٌ عَاصِفٌ فَأَلْجَأَتْهُمْ إِلَى جَزِيرَةٍ فِي الْبَحْرِ فَإِذَا هُمْ فِيهَا بِدَابَّةٍ أَهْدَبَ الْقُبَالِ ? فَقُلْنَا: مَا أَنْتِ يَا دَابَّةُ؟ فَقَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ فَقُلْنَا: أَخْبِرِينَا، فَقَالَتْ: مَا أَنَا بِمُخْبِرَتِكُمْ وَلَا مُسْتَخْبِرَتِكُمْ شَيْئًا، وَلَكِنْ فِي هَذَا الدَّيْرِ رَجُلٌ بِالْأَشْوَاقِ إِلَى أَنْ يُخْبِرَكُمْ وَتُخْبِرُونَهُ، فَدَخَلْنَا الدَّيْرَ فَإِذَا نَحْنُ بِرَجُلٍ أَعْوَرَ مَوْثُوقٍ بِالسَّلَاسِلِ يُظْهِرُ الْحُزْنَ كَثِيرَ التَّشَكِّي، فَلَمَّا رَآنَا قَالَ: أَفَاتَّبَعْتُمْ، فَأَخْبَرْنَاهُ فَقَالَ: مَا فَعَلَتْ بُحَيْرَةُ الطَّبَرِيَّةِ؟ قُلْنَا عَلَى حَالِهَا تَسْقِي أَهْلَهَا مِنْ مَائِهَا وَتَسْقِي زَرْعَهُمْ [ص:357]، قَالَ: فَمَا فَعَلَ نَخْلٌ بَيْنَ عَمَّانَ وَبَيْسَانَ؟ فَقَالُوا: يُطْعِمُ جَنَاهُ كُلَّ عَامٍ، قَالَ: فَمَا فَعَلَتْ عَيْنُ زُغَرَ قَالُوا: يَشْرَبُ مِنْهَا أَهْلُهَا، وَيَسْقُونَ مِنْهَا مَزَارِعَهُمْ قَالَ: فَلَوْ يَبِسَتْ هَذِهِ أَنْفَلِتُ مِنْ وَثَاقِي هَذَا فَلَمْ أَدَعْ بِقَدَمَيَّ هَاتَيْنِ مَنْهَلًا إِلَّا وَطِئْتُهُ إِلَّا الْمَدِينَةَ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَإِلَى هَذَا انْتَهَى سُرُورِي» ثُمَّ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا مِنْهَا شُعْبَةٌ إِلَّا وَعَلَيْهَا مَلَكٌ شَاهِرٌ سَيْفَهُ يَرُدُّهُ مِنْ أَنْ يَدْخُلَهَا» قَالَ الشَّعْبِيُّ: فَلَقِيتُ الْمُحَرَّرَ بْنَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَحَدَّثَنِي بِهِ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَادَ فِيهِ «وَمَكَّةَ» وَقَالَ: مِنْ نَحْوِ الْمَشْرِقِ مَا هُوَ مِنْ نَحْوِ الْمَشْرِقِ مَا هُوَ قَالَ الشَّعْبِيُّ فَلَقِيتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ فَحَدَّثَنِي بِهِ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ

امام شعبی بیان کرتے ہیں : سیده فاطمہ بنت قیںؓ کوفہ میں اپنے بھائی حضرت ضحاک بن قیس ؓکے ہاں تشریف لائیں جنہیں وہاں کا گورنر بنایا گیا تھا۔ تو ہم اس خاتون کی خدمت میں ان سے دریافت کرنے کے لیے حاضر ہوئے اس خاتون نے بتایا:نبی اکرم ﷺنے عین دوپہر کے وقت ہمیں خطبہ دیا۔ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا: میں نے تمہیں کسی چیز کی رغبت دلانے کے لیے یا کسی چیز سے ڈرانے کے لیے خطبہ نہیں دیا بلکہ ایک واقعے کی وجہ سے میں تمہیں خطبہ دے رہا ہوں جو تمیم داری نے مجھے بتایا ہے۔ اور اس خوشی کی وجہ سے میں نے دوپہر کو آرام نہیں کیا۔ تمیم داری نے اپنے چچازاد کے حوالے سے یہ بات بتائی کہ وہ لوگ سمندر میں سفر کرتے ہوئے شام کی طرف جارہے تھے۔ اسی دوران تیز ہو ا چلنے لگی ، تو ان لوگوں نے سمندر میں موجود ایک جزیرے میں پناہ لی تو وہاں ایک جانور تھا جس کی بھنویں لمبی تھیں ہم نے کہا: اے جانور !تم کیا چیز ہواس نے جواب دیا: میں جثاثہ ہوں ہم نے کہا :تم ہم کو کچھ بتاؤ۔ اس نے کہا: نہ تو میں تمہیں کچھ بتاو ں گی اور نہ ہی میں تم سے کچھ معلوم کرنا چاہتی ہوں۔تاہم اس عبادت گاہ میں ایک شخص ہے ،جو اس بات کا مشتاق ہے کہ وہ تمہیں کچھ بتائے اورتم اسے کچھ بتاؤ۔(وہ صاحب کہتے ہیں)ہم اس عبادت گاہ میں داخل ہوئے ،تو وہاں ایک کا ناشخص موجودتھا جو بیڑیوں میں جکڑا ہوا تھا، اورغم کا اظہار کر رہا تھا وہ شکایت بکثرت کر رہا تھا، جب اس نے ہمیں دیکھا تو بولا: کیا تم لوگوں نے نبی اکرم ﷺکی پیروی کر لی ہے؟ ہم نے اسے اس بارے میں بتایا۔اس نے دریافت کیا: بحیرہ طبریہ کا کیا حال ہے؟ ہم نے کہا: وہ اپنی اصل حالت میں ہے اس کے آس پاس کے لوگ اس کےپانی سے سیراب ہوتے ہیں اور اپنے کھیتوں کوبھی سیراب کرتے ہیں۔اس نے دریافت کیا: عمان اور بیسان کے درمیان موجود کھجوروں کے باغ کا کیا حال ہے؟ تو ان لوگوں نے بتایا:وہ ہر سال اپنا پھل دیتے ہیں اس نے دریافت کیا: "زرع‘‘ کے چشمے کا کیا حال ہے؟لوگوں نے کہا: وہاں کے لوگ اس کا پانی پیتے ہیں اور اس کے ذریعے اپنے کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں۔ تو وہ بولا : اگر یہ خشک ہو جائے ،تو میں اپنی ان زنجیروں سے آزاد ہو جاؤں گا اور پھر میں پوری روئے زمین کو اپنے قدموں تلے رونددوں گاصرف مدینہ میں نہیں جاسکوں گا۔ (راوی کہتے ہیں:) پھر نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا: "اس بات پر میں بہت خوش ہواہوں"۔ پھر آپﷺنے فرمایا: اس ذات کی قسم !جس کے دست قدرت میں میری جان ہے یہاں (یعنی مدینہ منورہ) کے ہر ایک راستے پر ایک فرشتہ تلوار سونت کر کھڑا ہوا ہے، جو اس (دجال)کو اس میں داخل ہونے سے روک دے گا۔ امام شعبی یہ کہتے ہیں: بعد میں میری ملاقات حضرت ابو ہریرہ ؓ کے صاحبزادے محرر سے ہوئی تو انہوں نے اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم ﷺکے حوالے سےیہی حدیث مجھے سنائی تاہم انہوں نے اس میں یہ الفاظ ز ائد نقل کیے (کہ وہ مکہ میں بھی داخل نہیں ہو سکےگا) انہوں نے یہ بات بھی بیان کی یہ مشرق کی سمت سے ہو گا اور وہ کیا ہے ،جومشرق کی سمت سے ہوگا وہ کیا ہے؟ امام شعبی بیان کرتے ہیں : میری ملاقات قاسم بن محمد سے ہوئی تو انہوں نے سیدہ عائشہؓ کے حوالے سے نبی اکرمﷺسے اسی کی مانند روایت نقل کی۔

الشَّعْبِيِّ، ← مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 368

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ سَكَنٍ الْأَشْهَلِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 369

369 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا ابْنُ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ بْنِ سَكَنٍ تَقُولُ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّجَّالِ فَقَرَّبَ أَمْرَهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَأَعْجِنُ لِأَهْلِيَ الْعَجِينَ فَمَا أَظُنُّ أَنْ يَبْلُغَ حَتَّى يَخْرُجَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيكُمْ فَأَنَا حَجِيجُهُ دُونَكُمْ، وَإِنْ يَخْرُجْ بَعْدِي فَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ»

سیدہ اسماء بنت یزید ؓبیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺنے ہمیں دجال کے بارے میں بتایاتو آپ ﷺنے اس کے معاملے کو قریب کر کے ظاہر کیا۔ میں نے عرض کی: یارسول الله (ﷺ)! میں اپنے گھر والوں کے لیے آٹا گوندھ کے آئی ہوں اور مجھے یوں لگ رہا ہے کہ میرے وہاں پہنچنے سے پہلے ہی دجال نکل آئےگا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر وہ اس وقت ظاہر ہوا جب میں تمہارے ان کے درمیان موجود ہوا تو میں تمہاری طرف سے اس سے مقابلہ کروں گا اور اگر وہ میرے بعد نکلا تو میری جگہ الله تعالی ٰہر مسلمان کا نگہبان ہوگا۔

الدَّجَّالِ فَقَرَّبَ أَمْرَهُ، فَقُلْتُ: ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ بْنِ سَكَنٍ تَقُولُ: ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، أَنَّهُ ← ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 369

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ سَكَنٍ الْأَشْهَلِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 370

370 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا ابْنُ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ سَكَنٍ أَنَّهُ سَمِعَهَا تَقُولُ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا فِي نِسْوَةٍ فَسَلَّمَ عَلَيْنَا ثُمَّ قَالَ: «إِيَّاكُنَّ وَكُفْرَ الْمُنْعِمِينَ» قُلْتُ: وَمَا كُفْرُ الْمُنْعِمِينَ؟ قَالَ «لَعَلَّ إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَطُولَ أَيْمَتُهَا بَيْنَ أَبَوَيْهَا وَتَعْنِسُ، ثُمَّ يَرْزُقُهَا اللَّهُ [ص:359] عَزَّ وَجَلَّ زَوْجًا وَيَرْزُقُهَا مِنْهُ مَالًا وَوَلَدًا فَتَغْضَبُ الْغَضْبَةَ فَتَكْفُرَهَا، فَتَقُولُ مَا رَأَيْتُ مِنْكَ مَكَانَ يَوْمٍ بِخَيْرٍ قَطُّ»

سیدہ اسماء بنت یزید ؓ بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺمیرے پاس سے گزرے میں کچھ خواتین کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی نبی اکرم ﷺنے ہمیں سلام کیا پھر آپ ﷺنے ارشادفرمایا :تم لوگ انعام دینے والوں کی ناشکری سے بچو۔ میں نے دریافت کیا: انعام دینے والوں کی ناشکری سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: کوئی عورت بیوہ یا مطلقہ ہو جانے کے بعد ،یا شادی سے پہلے، ایک طویل عرصے تک اپنے ماں باپ کے ہاں رہتی ہے ،پھر الله تعالی ٰاسے شوہر عطا کر دیتا ہے اور الله تعالی ٰاس شوہر کی طرف سے اسے مال اور اولاد عطا کرتا ہے ،لیکن (کسی موقع )پر اس کو غصہ آجاتا ہے اور وہ اس کی ناشکری کرتی ہے اور یہ کہتی ہے: میں نے تمہاری طرف سے ایک بھی دن بھلائی کا کبھی نہیں دیکھا۔

«إِيَّاكُنَّ وَكُفْرَ الْمُنْعِمِينَ» قُلْتُ: وَمَا كُفْرُ الْمُنْعِمِينَ؟ ← فِي نِسْوَةٍ فَسَلَّمَ عَلَيْنَا ثُمَّ ← أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ سَكَنٍ أَنَّهُ سَمِعَهَا تَقُولُ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 370

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ سَكَنٍ الْأَشْهَلِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 371

371 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا ابْنُ أَبِي الْحُسَيْنِ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ قَالَ: أَتَيْتُ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ فَقَرَّبَتْ إِلِيَّ قِنَاعًا فِيهِ تَمْرٌ أَوْ رُطَبٌ، فَقَالَتْ: كُلْ، فَقُلْتُ: لَا أَشْتَهِيهِ، فَصَاحَتْ بِي كُلْ فَإِنِّي أَنَا الَّتِي قَيَّنْتُ عَائِشَةَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَأَجْلَسْتُهَا عَنْ يَمِينِهِ، فَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ فِيهِ لَبَنٌ فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَهَا وَطَأْطَأَتْ رَأْسَهَا وَاسْتَحْيَتْ، فَقُلْتُ: خُذِي مِنْ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَتْ فَشَرِبَتْ ثُمَّ قَالَ لَهَا «نَاوِلِي تِرْبَكِ» فَقُلْتُ: بَلْ أَنْتَ فَاشْرَبْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ثُمَّ نَاوِلْنِي فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَنِي، فَأَدَرْتُ الْإِنَاءَ لِأَضَعَ فَمِي عَلَى مَوْضِعِ فِيهِ ثُمَّ قَالَ «أَعْطِي صَوَاحِبَاتِكِ» فَقُلْنَ: لَا نَشْتَهِيهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَجْمَعْنَ كَذِبًا وَجُوعًا» قَالَتْ: فَأَبْصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى إِحْدَاهُنَّ سِوَارًا مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ: «أَتُحِبِّينَ أَنْ يُسْوِرَكِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَكَانَهُ سِوَارًا مِنْ نَارٍ» قَالَتْ: فَأَعْتَوْنَا عَلَيْهِ حَتَّى نَزَعْنَاهُ فَرَمَيْنَا بِهِ فَمَا نَدْرِي أَيْنَ هُوَ حَتَّى السَّاعَةِ؟ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا يَكْفِي إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَتَّخِذَ جُمَانًا مِنْ فِضَّةٍ ثُمَّ تَأْخُذَ شَيْئًا مِنْ زَعْفَرَانَ فَتُدِيفَهُ ثُمَّ تُلَطِّخَهُ عَلَيْهِ فَإِذَا هُوَ كَأَنَّهُ ذَهَبٌ»

شہربن حوشب بیان کرتے ہیں: میں سیدہ اسماء بنت یزیدرؓ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے ایک تھال میری طرف بڑھایا جس میں خشک اور تاز ہ کجھوریں تھیں انہوں نے فرمایا تم کھاؤ! میں نے گزارش کی مجھے اس کی خواہش نہیں ہے ،تو انہوں بلند آوازمیں مجھ سے فرمایا:تم کھاو !میں نےگزارش کی مجھے اس کی خواہش نہیں ہے'تو انہوں نے بلند آواز میں مجھ سےفرمایا:تم کھاو !میں وہ عورت ہوں 'جس نے سیدہ عائشہ ؓکو (شادی کے موقع پر)نبی اکرم ﷺکے لیے تیار کیا تھا۔ میں سیدہ عائشہ ؓ کو ساتھ لے کر نبی اکرمﷺکے پاس آئی میں نے انہیں نبی اکرم ﷺکے دائیں طرف بٹھادیا پھرنبی اکرم ﷺکی خدمت میں ایک برتن لایا گیا جس میں دودھ موجودتھا نبی اکرم ﷺنے اسے پیا پھر آپ ﷺنے سیدہ عائشہ ؓکی طرف بڑھایا تو انہوں نے اپنا سر جھکا لیا اور وہ شرما گئیں۔ میں نے کہا: آپ نبی اکرم ﷺکے ہاتھ سے اسے حاصل کر لیں انہوں نے اسے لیا اور پی لیا پھر نبی اکرم ﷺنے ان سے فرمایا: تم اسے اپنی ہم عمرلڑ کیوں کی طرف بڑھادو۔ میں نے عرض کی: یارسول الله (ﷺ)! آپ ﷺاسے نوش فرمالیں پھر مجھے عطا کر دیئجے گا، تو نبی اکرم ﷺنے اسے پیاپھرآپ ﷺنے مجھے عطا کیا ،تو میں نے برتن کو گھمایا ،تاکہ اپنا منہ اسی جگہ پر رکھوں جہاں نبی اکرم ﷺنے رکھا تھا۔ پھرنبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا: تم اپنی سہیلیوں کو بھی دو۔ ان خواتین نے عرض کی :ہمیں اس کی خواہش نہیں ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم غلط بیانی اور بھوک کو جمع نہ کرو۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺنے ان لڑکیوں میں سے ایک خاتون کے ہاتھ میں سونے کے کنگن دیکھے تو ارشاد فرمایا:کیاتم اس بات کو پسند کرتی ہو کہ اللہ تعالی ٰاس جگہ آگ سے بنے ہوئے کنگن تمہیں پہنائے؟وہ خاتون بیان کرتی ہیں'تو ہم نے اسے اتار دیا اور ایک طرف رکھ دیا، ہمیں نہیں معلوم کہ اب وہ کہاں ہوگا؟ پھر نبی اکرمﷺ نے ارشادفرمایا: کیا کسی عورت کے لیے یہ کافی نہیں کہ وہ چاندی کا بنا ہوادانہ حاصل کرے ،پھر تھوڑا سا زعفران لے اور وہ دانہ اس میں ملادے اور اسے اس میں لت پت کر دے تو وہ سونے کی مانند ہو جائے گا۔

الَّتِي قَيَّنْتُ عَائِشَةَ لِرَسُولِ اللَّهِ فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَأَجْلَسْتُهَا ← كُلْ، فَقُلْتُ: لَا أَشْتَهِيهِ، فَصَاحَتْ بِي كُلْ فَإِنِّي ← أَتَيْتُ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ فَقَرَّبَتْ إِلِيَّ قِنَاعًا فِيهِ تَمْرٌ أَوْ رُطَبٌ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← ابْنُ أَبِي الْحُسَيْنِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 371

chevron_left Previous
1…303132…63
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter