Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ كُرْزٍ الْخُزَاعِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 348

348 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ سِبَاعَ بْنَ ثَابِتٍ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ كُرْزٍ الْكَعْبِيَّةَ تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ لَا يَضُرُّكُمْ ذُكْرَانًا كُنَّ أَمْ إِنَاثًا»

سیدہ ام کرز کعبیہؓ بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرمﷺکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: عقیقہ کرتے ہوئے لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری قربان کی جائے گی۔ وہ مذکر ہوں ی،ا مؤنث ہوں (لین بکرا ہو یا بکری) تمہیں کوئی نقصان نہیں ہوگا۔

الْغُلاَمِ شَاتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ لاَ يَضُرُّكُمْ ذُكْرَانًا كُنَّ أَمْ إِنَاثًا. ← رَسُولِ اللَّهِ ← أُمَّ كُرْزٍ الْكَعْبِيَّةَ تَقُولُ: ← أَنَّهُ ← سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ، ← أَبِي أَنَّهُ ← عُبَيْدِ اللَّهِ1 بْنِ أبي يزيد، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 348

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ كُرْزٍ الْخُزَاعِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 349

349 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ مَيْسَرَةَ الْفِهْرِيَّةِ مَوْلَاتَهُ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَمِعَتْ أُمَّ كُرْزٍ الْخُزَاعِيَّةَ تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «فِي الْعَقِيقَةِ عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ»

سیدہ ام کرزخزاعیہؓ بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :عقیقہ میں لڑکے کی طرف سے دو برابر کی بکریاں ذبح کی جائیں گی اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ذبح کی جائے گی۔

الْغُلَامِ شَاتَانِ مُکَافَأَتَانِ وَعَنْ الْجَارِيَةِ شَاةٌ ← فِي الْعَقِيقَةِ: ← رَسُولِ اللَّهِ ← أُمَّ كُرْزٍ الْخُزَاعِيَّةَ تَقُولُ: ← عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ مَيْسَرَةَ الْفِهْرِيَّةِ مَوْلَاتَهُ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 349

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ كُرْزٍ الْخُزَاعِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 350

350 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ سِبَاعَ بْنَ ثَابِتٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أُمَّ كُرْزٍ الْكَعْبِيَّةَ تَقُولُ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ أَطْلُبُ مِنْهُ مِنْ لُحُومِ الْهَدْيِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَى مَكِنَاتِهَا»

سیده ام کرزکعبیہؓ بیان کرتی ہیں : میں حدیبیہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تا کہ آپ ﷺسے قربانی کے جانور کا گوشت طلب کروں ،میں نے آپ ﷺکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ـپرندوں کو ان کے گھونسلوں میں رہنے دو"۔

أَبِي ← عُبَيْدِ اللَّهِ1 بْنِ أبي يزيد، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 350

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ كُرْزٍ الْخُزَاعِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 351

351 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ سِبَاعَ بْنَ ثَابِتٍ يُحَدَّثُ: أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ كُرْزٍ تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «ذَهَبَتِ النُّبُوَّةُ وَبَقِيَتِ الْمُبَشِّرَاتُ» وَكَانَ سُفْيَانُ يُحَدَّثُ بِهَذَا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا زَمَانًا، ثُمَّ حَدَّثَ بِهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سِبَاعٍ، عَنْ أُمَّ كُرْزٍ وَذَكَرَ أَنَّهُ كَانَ يَتْرُكُ إِسْنَادَهَ حَتَّى أَثْبَتَهُ بَعْدُ

سیدہ ام کرزؓ بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: نبوت ختم ہوگئی ہے اوربشارت آمیز خواب باقی رہ گئے ہیں۔(امام حمیدیؒ کہتے ہیں) سفیان ایک طویل عرصے تک اس روایت کوعبید اللہ نامی راوی کے حوالے سے نبی اکرم ﷺسے "مرسل "حدیث کے طور نقل کرتے رہے۔ پھر انہوں نے یہ روایت اس کے والد کے حوالے سے "سباع‘‘ نامی راوی کےحوالے سے سیده ام کر زؓکے حوالے سے نقل کی۔ پھر انہوں نے یہ بات ذکر کی کہ پہلے انہوں نے اس کی سند کوترک کیا تھا اور بعد میں اسے ثابت رکھا۔

أُمَّ كُرْزٍ وَذَكَرَ أَنَّهُ كَانَ يَتْرُكُ إِسْنَادَهَ حَتَّى أَثْبَتَهُ بَعْدُ ← سِبَاعٍ، ← أَبِيهِ ← النَّبِيِّ مُرْسَلًا زَمَانًا، ثُمَّ حَدَّثَ بِهِ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← بِهَذَا. ← «ذَهَبَتِ النُّبُوَّةُ وَبَقِيَتِ الْمُبَشِّرَاتُ» وَكَانَ سُفْيَانُ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أُمَّ كُرْزٍ تَقُولُ: ← أَنَّهُ ← سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ، ← أَبِي أَنَّهُ ← عُبَيْدِ اللَّهِ1 بْنِ أبي يزيد، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 351

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ حرَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 352

352 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ قَالَ: ثنا هِلَالُ بْنُ مَيْمُونٍ الْجُهَنِيُّ الرَّمِلِيُّ، عَنْ يَعْلَى بْنِ شَدَّادٍ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أُمِّ حَرَامٍ قَالَتْ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُزَاةَ الْبَحْرِ لِلْمَائِدِ أَجْرُ شَهِيدٍ، وَلِلْغَرِيقِ أَجْرُ شَهِيدَيْنَ " قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ «اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا مِنْهُمْ» فَغَزَتِ الْبَحْرَ فَلَمَّا خَرَجَتْ رَكِبَتْ دَابَّتَهَا فَسَقَطَتْ فَمَاتَتْ

سیدہ ام حرام ؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺنے بحری جنگ کا تذکرہ کیا اور ارشاد فرمایا: اس میں جس شخص کا سر چکرائے گا اسے بھی شہید کا اجر ملے گا اور جوشخص ڈوب جائے گا اسے دوشہیدوں کا اجر ملے گا۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: یارسول اللہ (ﷺ)! آپﷺاللہ تعالی ٰ سے دعا کیجئےکہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر دے ،تو نبی اکرم ﷺنے دعا کی۔ اے اللہ! "تو اسے بھی ان میں شامل کردے"۔ وہ خاتون بحری جنگ میں شریک ہوئیں جب وہ وہاں سے باہر آئیں، تو سواری پر سوار ہوئیں تو اس سے گر کر فوت ہوگئیں۔

فَقُلْتُ: ← رَسُولُ اللَّهِ غُزَاةَ الْبَحْرِ لِلْمَائِدِ أَجْرُ شَهِيدٍ، وَلِلْغَرِيقِ أَجْرُ شَهِيدَيْنَ ← أُمِّ حَرَامٍ، ← يَعْلَى بْنِ شَدَّادٍ أَبِي ثَابِتٍ، ← هِلَالُ بْنُ مَيْمُونٍ الْجُهَنِيُّ الرَّمِلِيُّ، ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 352

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ أُمِّ شَرِيكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 353

353 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ الْحَجَبِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يَقُولُ: أَخْبَرَتْنِي أُمُّ شَرِيكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَمَرَهَا بِقَتْلِ الْأَوْزَاغِ»

سیدہ ام شریک ؓبیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺنے انہیں گرگٹ (یا چھپکلی) کومارنے کی ہدایت کی تھی۔

أَخْبَرَتْنِي أُمُّ شَرِيكٍ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ الْحَجَبِيُّ أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 353

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ بَقِيرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 354

354 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ بَقِيرَةَ امْرَأَةِ الْقَعْقَاعِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: «يَا هَؤُلَاءِ إِذَا سَمِعْتُمْ بِجَيْشٍ قَدْ خُسِفَ بِهِ قَرِيبًا فَقَدْ أَظَلَّتِ السَّاعَةُ»

سیدہ بکیرہ ؓ جو حضرت قعقاع بن ابو حدردؓ کی اہلیہ ہیں ، وہ بیان کرتی ہیں :میں نے نبی اکرمﷺکو منبر پر یہ ارشادفرماتے ہوئے سنا:"اے لوگو! جب تم کسی لشکر کے بارے میں یہ سنو کہ اسے زمین میں دھنسا دیا گیا ہے ،تو پھر(سمجھ لینا) قیامت قریب ہو گی"۔

«يَا هَؤُلَاءِ إِذَا سَمِعْتُمْ بِجَيْشٍ قَدْ خُسِفَ بِهِ قَرِيبًا فَقَدْ أَظَلَّتِ السَّاعَةُ» ← رَسُولَ اللَّهِ عَلَى الْمِنْبَرِ ← بَقِيرَةَ امْرَأَةِ الْقَعْقَاعِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 354

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 355

355 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ قَالَ: تَذَاكَرَ أَبِي وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ مَا يُتَوَضَّأُ مِنْهُ، فَذَكَرَ عُرْوَةُ مَسَّ الذَّكَرِ، فَقَالَ أَبِي: إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ مَا سَمِعْتُ بِهِ قَالَ عُرْوَةُ: بَلَى، أَخْبَرَنِي مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ أَنَّهُ سَمِعَ بُسْرَةَ بِنْتَ صَفْوَانَ تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ» فَقُلْتُ لِمَرْوَانَ فَإِنِّي أَشْتَهِي أَنْ تُرْسِلَ إِلَيْهَا، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا، وَأَنَا شَاهِدٌ رَجُلًا، أَوْ قَالَ حَرَسِيٍّ فَجَاءَ الرَّسُولُ مِنْ عِنْدِهَا فَقَالَ: إِنَّهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ»

عبدالله بن ابوبکر کہتے ہیں: میرے والد اور عروہ بن زبیر کے درمیان اس بارے میں بحث ہوگئی کہ کون سے عمل کے بعد وضو کیا جاتا ہے (یعنی وضو کو توڑنے والی چیزیں کون سی ہیں؟) تو عروہ نے ان میں شرمگاہ کو چھونے کا بھی ذکر کیا ،تو میرے والد نے یہ بات بتائی یہ ایک ایسی چیز ہے جس کے بارے میں، میں نے کچھ نہیں سناعروہ نے کہا: ایساہی ہے۔ مجھے مردان بن حکم نے یہ بات بتائی ہے کہ اس نے سیدہ بسرہ بنت صفوانؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: وہ کہتی ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشادفرماتے ہوئے سنا ہے: "جو شخص اپنی شرمگاہ کو چھولے وہ وضوکرے“۔ تومیں نے مروان سے کہا: میری یہ خواہش ہےتم ان خاتون کو پیغام بھجواو اس نے انہیں پیغام بھجوایا میں اس وقت وہاں موجود تھا ۔شاید اس نے ایک آدمی کو بھیجایا کسی سپاہی کو بھیجا تو اس خاتون کے پاس سے وہ پیغام رساں واپس آیا اور بولا:انہوں نے یہ بات بیان کی ہے نبی اکرم ﷺنے یہ بات ارشاد فرمائی ہے، جوشخص اپنی شرمگاہ کو چھولے اسے وضو کر لینا چاہئے۔

أَنَّهَا ← حَرَسِيٍّ فَجَاءَ الرَّسُولُ مِنْ عِنْدِهَا ← شَاهِدٌ رَجُلًا، أَوْ ← بُسْرَةَ بِنْتَ صَفْوَانَ تَقُولُ: ← مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ أَنَّهُ ← عُرْوَةُ: بَلَى، ← بِهِ ← أَبِي: إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ مَا ← عُرْوَةُ مَسَّ الذَّ ← تَذَاكَرَ أَبِي وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ مَا يُتَوَضَّأُ مِنْهُ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 355

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ امْرَأَةِ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 356

356 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ عُبَيْدٍ سَنُوطَا قَالَ: سَمِعْتُ خَوْلَةَ بِنْتَ قَيْسٍ امْرَأَةَ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُذَاكِرُ حَمْزَةَ الدُّنْيَا فَقَالَ: «إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ فَإِنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا بُورِكَ لَهُ فِيهَا، وَرُبَّ مَتَخَوِّضٍ فِي مَالِ اللَّهِ وَمَالِ رَسُولِهِ لَهُ النَّارُ يَوْمَ يَلْقَاهُ» وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ «يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

سیدہ خولہ بنت قیسؓ جوحضرت حمزہ بن عبدالمطلبؓ کی اہلیہ ہیں وہ بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺکو سنا آپ ﷺحضرت حمزہ ؓکے ساتھ دنیا کے بارے میں گفتگو کررہے تھے۔ آپ ﷺنے ارشادفرمایا: ” بے شک دنیامیٹھی اور سر سبز ہے ،جو اس کےحق کے ہمراہ اسے حاصل کرتا ہے اس کے لیے اس میں برکت ڈال دی جاتی ہے اور الله تعالیٰ کے مال اور اللہ کے رسولﷺکے مال میں تصرف کرنے والے (یعنی ناحق طور پر اسے حاصل کرنے والے) کے لیے اس دن آگ ہوگی جب وہ الله تعالی ٰکی بارگاہ میں حاضر ہوگا“۔ سفيان نامی راوی نے بعض اوقات یہ الفاظ نقل کیے ہیں: "قیامت کے دن"۔

خَوْلَةَ بِنْتَ قَيْسٍ امْرَأَةَ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ تَقُولُ: ← عُبَيْدِ سَنُوطَا، ← عُمَرَ بْنِ کَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 356

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ كَبْشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 357

357 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا يَزِيدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ جَدَّتِهِ كَبْشَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ «فَشَرِبَ مِنْ فِي قِرْبَةٍ مُعَلَّقَةٍ وَهُوَ قَائِمٌ» قَالَتْ: فَقَطَعْتُ فَمَ الْقِرْبَةِ وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ كَبْشَةُ أَوْ كُبَيْشَةُ وَأَكْثَرُ ذَلِكَ يَقُولُ كُبَيْشَةُ

سیدہ کبیشہ ؓ بیان کرتی ہیں: ایک دن نبی اکرم ﷺمیرے ہاں تشریف لائے ،تو آپ ﷺنے لٹکے ہوئے مشکیزے کے منہ سے کھڑے ہوکر پانی پیا۔وہ خاتون بیان کرتی ہیں : میں نے مشکیزے کےمنہ کو کاٹ لیا۔ سفیان نامی راوی نے بعض اوقات خاتون کا نام کبشہ ذکر کیا ہے اور بعض اوقات کبیشہ ذکر کیا ہے۔ اور اکثر اوقات انہوں نے ان کا نام کبیشہ ذکر کیا ہے۔

جَدَّتِهِ کَبْشَةِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ← يَزِيدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ الْأَزْدِيُّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 357

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ عَمَّةِ حُصَيْنِ بْنِ مُحْصَنٍ رَحِمَهَا اللَّهُ تَعَالَى · حديث 358

358 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ مِحْصَنٍ، عَنْ عَمَّةٍ لَهُ قَالَتْ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ الْحَاجَةِ فَقَالَ «يَا هَذِهِ أَذَاتُ بَعْلٍ أَنْتِ؟» قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ «فَأَيْنَ أَنْتِ مِنْهُ؟» قَالَتْ: فَقُلْتُ: مَا آلُو إِلَّا مَا عَجَزْتُ عَنْهُ؟ قَالَ «فَأَيْنَ أَنْتِ مِنْهُ؟ فَإِنَّهُ جَنَّتُكِ وَنَارُكِ»

حصین بن محصن اپنی پھوپھی کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں کسی کام کے سلسلے میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ ﷺنے ارشادفرمایا: اے عورت! کیاتم شادی شدہ ہو؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں۔ آپﷺنے فرمایا: پھرتم اپنے شوہر سے غافل کیوں ہو؟ وہ خاتون کہتی ہیں: میں نے عرض کی: میں اس کے حوالے سے صرف اسی کوتاہی کی مرتکب ہوتی ہوں؟ جس سے میں عاجز آجاؤں۔نبی اکرم ﷺنے فرمایا تم اس کا خیال کیوں نہیں رکھتی ہو؟ وہ تمہاری جنت ہے اور وہ تمہاری جہنم ہے۔

«فَأَيْنَ أَنْتِ مِنْهُ؟ فَإِنَّهُ جَنَّتُكِ وَنَارُكِ» ← فَقُلْتُ: مَا آلُو إِلَّا مَا عَجَزْتُ عَنْهُ؟ ← «فَأَيْنَ أَنْتِ مِنْهُ؟» ← «يَا هَذِهِ أَذَاتُ بَعْلٍ أَنْتِ؟» قُلْتُ: نَعَمْ ← أتيت رسول الله في بعض الحاجة ← عَمَّةٍ لَهُ ← حصين بن مُحْصِن ← بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 358

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ مَعْبَدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 359

359 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَعْبَدُ بْنُ كَعْبٍ، عَنْ أُمِّهِ وَكَانَتْ قَدْ صَلَّتِ الْقِبْلَتَيْنِ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يَنْهَى عَنِ الْخَلِيطَيْنِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ أَنْ يُنْتَبَذَ» قَالَ «انْتَبِذُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى حِدَتِهِ»

معبدبن کعب اپنی والدہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں:یہ وہ خاتون ہیں ،جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف رخ کرکے نماز ادا کی ہوئی ہے ،وہ بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺکودوملی ہوئی چیزوں کے استعمال سے منع کرتے ہوئے سناہے: یعنی کھجور اور کشمش کو ملا کر نبیذ تیار کی جائے۔ آپ ﷺنے فرمایا:ان دونوں میں سے ہر ایک کی الگ سے نبیذ تیار کرو۔

«انْتَبِذُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى حِدَتِهِ» ← الْخَلِيطَيْنِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ أَنْ يُنْتَبَذَ» ← رَسُولَ اللَّهِ «يَنْهَى ← أُمِّهِ وَكَانَتْ قَدْ صَلَّتِ الْقِبْلَتَيْنِ: ← مَعْبَدِ بْنِ كَعْبٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 359

chevron_left Previous
1…293031…63
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter