Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 25

25 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ، وَكَانَ مِمَّا أُنْزِلَ عَلَيْهِ آيَةُ الرَّجْمِ فَرَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَمْنَا بَعْدَهُ» [ص:162] قَالَ: فَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ بِطُولِهِ فَحَفِظْتُ مِنْهُ أَشْيَاءَ وَهَذَا مِمَّا لَمْ أَحْفَظْ مِنْهَا يَوْمَئِذٍ.

حضرت عبدالله بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عمر بن خطاب ؓ کومنبر پر یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: بے شک الله تعالیٰ نے حضرت محمدﷺ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے اس نے ان پر کتاب نازل کی، تو ان پر جو چیز نازل ہوئی اس میں "رجم" سے متعلق آیت بھی تھی۔ نبی اکرم ﷺ نے سنگسار کروایا ہے آپ ﷺکے بعد ہم نے بھی سنگسار کروایا ہے۔ سفیان کہتے ہیں : میں نے یہ روایت طویل روایت کے طور پر زہری سے سنی تھی اس وقت میں نے اس میں سے کچھ چیزیں، یاد کرلیں لیکن یہ حصہ اس میں شامل ہے، جسے میں نے اس دن یاد نہیں کیا تھا۔

عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَلَى الْمِنْبَرِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 25

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 26

26 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: أَتَيْنَا الزُّهْرِيَّ فِي دَارِ ابْنِ الْجَوَازِ، فَقَالَ: إِنْ شِئْتُمْ حَدَّثْتُكُمْ بِعِشْرِينَ حَدِيثًا، وَإِنْ شِئْتُمْ حَدَّثْتُكُمْ بِحَدِيثِ السَّقِيفَةِ وَكُنْتُ أَصْغَرَ الْقَوْمِ فَاشْتَهَيْتُ أَنْ لَا يُحَدِّثَ بِهِ لِطُولِهِ فَقَالَ الْقَوْمُ: حَدِّثْنَا بِحَدِيثِ السَّقِيفَةِ فَحَدَّثَنَا بِهِ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ فَحَفِظْتُ مِنْهُ أَشْيَاءَ، ثُمَّ حَدَّثَنِي بَقِيَّتَهُ بَعْدَ ذَلِكَ مَعْمَرٌ

سفیان کہتے ہیں: ہم ابن جواز کے گھر میں زہری کی خدمت میں حاضر ہوئے ،تو وہ بولے: اگرتم لوگ چاہو تو میں تمہیں بیسں حدیثیں سناتا ہوں اور اگر تم چاہوتو میں تمہیں ”سقیفہ‘‘ سے متعلق حدیث سناتا ہوں ۔( سفیان کہتے ہیں) میں حاضرین میں سے سب سے کم سن تھا اس لیے میں اس بات کا خواہش مند تھا کہ وہ طویل حدیث نہ سنائیں لیکن حاضرین نے کہا کہ آپ ہمیں’’سقیفہ‘‘سے متعلق حدث سنائیں۔ تو انہوں نے عبید الله بن عبداللہ کے حوالے سے حضرت عبد الله بن عباس ؓ کے حوالے سے حضرت عمؓر سے روایت نقل کی جس میں سے کچھ چیزیں میں نے یاد کر لیں اور اس روایت کا بقیہ حصہ اس کے بعد معمر نے مجھے سنایا تھا۔

أَتَيْنَا الزُّهْرِيَّ فِي دَارِ ابْنِ الْجَوَازِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 26

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 27

27 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَمَ فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُهُ فَقُولُوا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ»

حضرت عبدالله بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں، انہوں نے حضرت عمر بن خطاب ؓ کومنبر پر یہ بیان کرتے ہوئے سنا: وہ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ’’تم لوگ مجھے اس طرح نہ بڑھا دینا جس طرح عیسائیوں نے ابن مریم کو بڑھا دیا تھا میں (اللہ)کا بندہ ہوں ‘تو تم لوگ یوں کہو اس کے بندے اور اس کے رسول“۔

عَبْدُهُ فَقُولُوا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ← لَا تُطْرُونِي کَمَا أَطْرَتْ النَّصَارَی ابْنَ مَرْيَمَ فَإِنَّمَا ← النَّبِيِّ ← عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَلَى الْمِنْبَرِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 27

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 28

28 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ عَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَلَى الْمِنْبَرِ يُخْبِرُ بِذَلِكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوْ إِلَى امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ»

علقمہ بن وقاص لیثی بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عمر بن خطاب ؓ کومنبر پر نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ روایت بیان کرتے ہوئے سنا: وہ کہتے ہیں :میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ اعمال (کی جزا) کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر آدمی کو وہی جزا ملے گی جو اس نے نیت کی ہوگی‘تو جس شخص کی ہجرت اللہ اوراس کے رسول ﷺ کی طرف ہوگی اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف شمار ہو گی اور جس شخص کی ہجرت دنیا کے لیے ہوگی تا کہ وہ اسے حاصل کرلے یا کسی عورت کے ساتھ نکاح کرنے کے لیے ہوگی‘تو اس کی ہجرت اسی طرف شمار ہوگی، جس کی طرف نیت کر کے اس نے ہجرت کی تھی‘‘۔

رَسُولِ اللَّهِ ← رَسُولِ اللَّهِ ← عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَلَى الْمِنْبَرِ يُخْبِرُ بِذَلِكَ ← عَلْقَمَۃَ بْنِ وَقَّاصِ اللَّیْثِیِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ أَنَّهُ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 28

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 29

29 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا يَحْيَى بْنُ صَبِيحٍ الْخُرَاسَانِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ قَالَ عَلَى الْمِنْبَرِ: " رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ دِيكًا نَقَرَنِي ثَلَاثَ مَرَّاتٍ أَوْ نَقَرَنِي ثَلَاثَ نَقَرَاتٍ فَقُلْتُ: أَعْجَمِيٌّ وَإِنِّي قَدْ جَعَلْتُ هَذَا الْأَمْرَ بَعْدِي إِلَى هَؤُلَاءِ السِّتَّةِ الَّذِينَ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ عُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَالزُّبَيْرُ، وَطَلْحَةُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ فَمَنِ اسْتُخْلِفَ فَهُوَ الْخَلِيفَةُ "

معدان بن طلحہ حضرت عمر بن خطاب ؓ کے بارے میں یہ بات بیان کرتے ہیں ، انہوں نے منبر پر یہ بات ارشاد فرمائی:میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا ایک مرغ نے تین مرتبہ مجھے ٹھونگا مارا ہے (یہاں روایت کے الفاظ میں راوی کو شک ہے) میں نے سوچا: کوئی عجمی( مجھے شہید کر دے گا)میں اپنے بعد( نئے خلیفہ کے انتخاب ) کا معاملہ ان چھ افراد کو سونپ کر جارہا ہوں کہ جب نبی اکرم ﷺ دنیا سے رخصت ہوئے تھے‘تو آپ ﷺ ان حضرات سے راضی تھے یہ حضرات عثمان ،علی ، زبیر طلحہ، عبدالرحمن بن عوف اور حضرت سعد بن ابی وقاص ہیں‘تو جس شخض کوخلیفہ منتخب کر لیا جائے وہی خلیفہ شمار ہوگا۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ ← مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ، ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← قَتَادَةَ ← يَحْيَى بْنُ صُبَيْحٍ الْخُرَاسَانِيُّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 29

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 30

30 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ «كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِذَا صَلَّى صَلَاةً جَلَسَ لِلنَّاسِ فَمَنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ كَلَّمَهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لِأَحَدٍ حَاجَةٌ قَامَ فَدَخَلَ» [ص:165] قَالَ: " فَصَلَّى صَلَوَاتٍ لَا يَجْلِسُ لِلنَّاسِ فِيهِنَّ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَحَضَرْتُ الْبَابَ فَقُلْتُ: يَا يَرْفَأُ أَبِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ شَكَاةٌ؟ فَقَالَ: مَا بِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ مِنْ شَكْوًى فَجَلَسْتُ، فَجَاءَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَجَلَسَ فَخَرَجَ يَرْفَأُ فَقَالَ: قُمْ يَا ابْنَ عَفَّانَ، قُمْ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ فَدَخَلْنَا عَلَى عُمَرَ " فَإِذَا بَيْنَ يَدَيْهِ صُبَرٌ مِنْ مَالٍ عَلَى كُلِّ صُبْرَةٍ مِنْهَا كِنْفٌ فَقَالَ عُمَرُ: " إِنِّي نَظَرْتُ فِي أَهْلِ الْمَدِينَةِ وَجَدْتُكُمَا مِنْ أَكْثَرِ أَهْلِهَا عَشِيرَةً، فَخُذَا هَذَا الْمَالَ فَاقْتَسِمَاهُ، فَمَا كَانَ مِنْ فَضْلٍ فَرُدَّا، فَأَمَّا عُثْمَانُ فَحَثَا وَأَمَّا أَنَا فَجَثَوْتُ لِرُكْبَتَيَّ، وَقُلْتُ: وَإِنْ كَانَ نُقْصَانٌ رَدَدْتَ عَلَيْنَا، فَقَالَ عُمَرُ «نَشْنَشَةٌ مِنْ أَخْشَنَ - يَعْنِي حَجَرًا مِنْ جَبَلٍ - أَمَا كَانَ هَذَا عِنْدَ اللَّهِ إِذْ مُحَمَّدٌ وَأَصْحَابُهُ يَأْكُلُونَ الْقَدَّ» فَقُلْتُ: بَلَى وَاللَّهِ لَقَدْ كَانَ هَذَا عِنْدَ اللَّهِ وَمُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ، وَلَوْ عَلَيْهِ فُتِحَ لَصَنَعَ فِيهِ غَيْرَ الَّذِي تَصْنَعُ، قَالَ: فَغَضِبَ عُمَرُ وَقَالَ: «أَوْ صَنَعَ مَاذَا؟» قُلْتُ: إِذًا لَأَكَلَ وَأَطْعَمَنَا، قَالَ: فَنَشَجَ عُمَرُ حَتَّى اخْتَلَفَتْ أَضْلَاعُهُ، ثُمَّ قَالَ «وَدِدْتُ أَنِّي خَرَجْتُ مِنْهَا كَفَافًا لَا لِيَ وَلَا عَلَيَّ»

حضرت عبداللہ بن عباس ؓبیان کرتے ہیں :حضرت عمر بن خطابؓ نماز ادا کر لینے کے بعد لوگوں سے(بات چیت کے لیے) بیٹھ جاتے تھے‘تو جس شخص کو کوئی کام ہوتا تھا وہ ان کے ساتھ بات کر لیتا تھا اگر کسی کو کوئی کام نہیں ہوتا تھا، تو وہ اٹھ کر(اپنے گھر) تشریف لے جاتے تھے۔حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت عمرؓ نے کچھ نمازیں ادا کیں لیکن وہ ان کے بعد لوگوں سے ملاقات کے لیے نہیں بیٹھے ۔ حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں :میں ان کے دروازے پر آیا میں نے کہا:اے یرفا !(یہ حضرت عمرؓ کا خادم تھا) کیا امیرالمومنین بیمار ہیں ؟ اس نے جواب دیا:امیر المومنین بیمار تو نہیں ہیں۔(حضرت ابن عباس ؓکہتے ہیں) میں وہاں بیٹھ گیا اسی دوران حضرت عثمانؓ وہاں آگئے‘ تو وہ بھی وہاں بیٹھ گئے۔ یرفا باہر آیا‘ تو بولا: اے ابن عفان! اے ابن عباس! آپ آئیے تو ہم لوگ حضرت عمرؓ کے پاس آئے ان کے سامنے مال کے کچھ ڈھیر رکھے ہوئے تھے اور ہرڈھیر کے ساتھ برتن بھی رکھا ہوا تھا۔ حضرت عمر ؓ بولے :میں نے اہل مدینہ کا جائزہ لیا تو میں نے تم دونوں کو ایسا پا یا جن کے خاندان کے زیادہ افراد یہاں موجود ہیں ‘تو آپ لوگ اس مال کو حاصل کر کے تقسیم کریں جو بچ جائے وہ واپس کر دیں‘ تو حضرت عثمان ؓ نے دونوں ہاتھ ملا کر جو کچھ آیا تھاوہ لے لیا لیکن میں گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا میں نے کہا: اگر یہ کم ہوا تو آپ ہمیں اور دیں گے؟ حضرت عمر ؓ بولے : سخت ترین چیز کا ٹکڑا ہے۔ ( راوی کہتے ہیں:) اس سے مراد یہ ہے کہ پہاڑ کا پتھر ہے (یعنی حضرت عمرؓ نے حضرت ابن عباسؓ کو ان کے والد کے ساتھ تشبیہ دیتے ہوئے ان کی تعریف کی کہ یہ اپنی جرات میں اورصحیح رائے پیش کرنے میں اپنے والد کی مانند ہیں) حضرت عمر ؓ بولے: کیا الله تعالی کی بارگاہ میں اس چیز کی کوئی قدر نہیں ہوگی کہ جب حضرت محمد ﷺ اور ان کے اصحاب َکدُ کھایا کرتے تھے۔ میں نے عرض کی: جی ہاں! اللہ تعالی کی قسم! الله تعالی کی بارگاہ میں یہ بات قابل قدر ہے اگر نبی اکرم ﷺزندہ ہوتے اور آپﷺ کو فتوحات نصیب ہوتیں‘تو نبی اکرمﷺ کا طرز عمل اس سے مختلف ہوتا جو آپ کا ہے ‘تو حضرت عمر ؓ غصے میں آگئے اور بولے :پھر نبی اکرمﷺنے کیا کرنا تھا‘تو میں نے کہا:آپ ﷺنے خود بھی کھانا تھا‘ اور ہمیں بھی کھانے دینا تھا‘ تو حضرت عمرؓ رونے لگے یہاں تک کہ ان کی پسلیاں حرکت کرنے لگیں، پھر وہ بولے : میری یہ خواہش ہے کہ میں اس معاملے سے برابری کی بنیاد پرنکل جاؤں نہ مجھے کچھ ملے نہ میرے ذمے کچھ لا زم ہو۔

أَبِي ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 30

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 31

31 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: لَوْ عَلَيْنَا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ، وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي، وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا} [المائدة: 3] لَاتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا، فَقَالَ عُمَرُ: «إِنِّي لَأَعْلَمُ أَيَّ يَوْمٍ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ نَزَلَتْ يَوْمَ عَرَفَةَ وَفِي يَوْمِ جُمُعَةٍ»

طارق بن شہاب کہتے ہیں:یہودیوں سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا :اگر یہ آیت ہم لوگوں پر نازل ہوئی ہوتی۔"آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو مکمل کر دیا اورتم پر اپنی نعمت کو تمام کر دیا اور تمہارے لیے اسلام کے دین ہونے سے راضی ہوگیا"۔تو ہم اس دن کو عید کا دن قرار دیتے۔تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ بولے: میں یہ بات جانتا ہوں کہ یہ آیت کس دن نازل ہوئی تھی؟ یہ آیت عرفہ کے دن نازل ہوئی تھی اورجمعہ کے دن میں نازل ہوئی تھی۔

طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← مسعر وغيره ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 31

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 32

32 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ، عَنِ ابْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِيهِ [ص:167]، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ خَطَبَ لِلنَّاسِ بِالْجَابِيَةِ فَقَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَقِيَامِي فِيِكُمْ فَقَالَ: «أَكْرِمُوا أَصْحَابِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَظْهَرُ الْكَذِبُ حَتَّى يَشْهَدَ الرَّجُلُ وَلَمْ يُسْتَشْهَدْ، وَيَحْلِفُ وَلَمْ يُسْتَحْلَفْ، أَلَا لَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ فَإِنَّ ثَالِثَهُمَا الشَّيْطَانُ، أَلَا وَمَنْ سَرَّتْهُ بَحْبَحَةُ الْجَنَّةِ فَلْيَلْزَمِ الْجَمَاعَةَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ الْفَذِّ وَهُوَ مِنَ الِاثْنَيْنِ أَبْعَدُ، أَلَا وَمَنْ سَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ وَسَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ»

سلیمان بن یسا ر کے صاجزادےاپنے والدکےحوالے سے حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں نقل کرتے ہیں: آپ نے "جابیہ" کے مقام پر لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: نبی اکرم ﷺنے ہمارے درمیان کھڑے ہوئے تھے بالکل اس طرح جس طرح میں تمہارے درمیان کھڑا ہوا ہوں آپ نے ارشاد فرمایا:میرے ساتھیوں کی عزت افزائی کرو! پھر ان کے بعد والوں کی پھر ان کے بعد والوں کی پھر جھوٹ ظاہر ہو جائے گا ،یہاں تک کہ آدمی گواہی دے گا حالانکہ اس سے گواہی مانگی نہیں گئی ہوگی اور وہ قسم اٹھائے گا حالانکہ اس سے قسم نہیں لی گئی ہوگی۔ خبردار! جب بھی کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ نہا ہو تو ان کے ساتھ تیسرا شیطان ہوگا خبردار! جوشخص جنت میں رہائش اختیار کرنا چاہتا ہے (وہ مسلمانوں کی) جماعت کے ساتھ رہے کیونکہ شیطان تنہا شخص کے ساتھ ہوتا ہے اور وہ دو آدمیوں سے زیادہ دور ہوتا ہے خبردار! جس شخص کو اس کی نیکی خوشی کرے اور اس کی برائی اس کو رنجیدہ کرے وہ مومن ہے۔ الهداية - AIHidayah

قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ كَقِيَامِي فِيكُمْ، ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ خَطَبَ لِلنَّاسِ بِالْجَابِيَةِ ← أَبِيهِ، [ص:184] ← ابْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 32

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 33

33 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنِي نُبَيْهُ بْنُ وَهْبٍ الْحَجِّيُّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَانَ بْنَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمُحْرِمُ لَا يَنْكِحُ وَلَا يَخْطُبُ»

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ابان اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم ﷺکا یہ فرمان نقل کرتے ہیں"احرام والاشخص نکاح نہیں کرسکتا اور نکاح کا پیغام بھی نہیں بھیج سکتا"۔

أَبِيهِ ← أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، ← نُبَيْهُ بْنُ وَهْبٍ الْحَجِّيُّ أَنَّهُ ← أَيُّوبَ بْنِ مُوسَی ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 33

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 34

34 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنِي نُبَيْهُ بْنُ وَهْبٍ قَالَ: اشْتَكَى عُمَرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ عَيْنَهُ بِمَلَلٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَأَرْسَلَ إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ يَسْأَلُهُ بِأَيِّ شَيْءٍ يُعَالِجُهُ فَقَالَ لَهُ أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ: اضْمُدْهُمَا بِالصَّبِرِ فَإِنِّي سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ يُخْبِرُ بِذَلِكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «يُضَمِّدُهَا بِالصَّبِرِ»

نبیہ بن وہب بیان کرتے ہیں:"ململ "کے مقام پر عمر بن عبید اللہ کی آنکھیں دکھنےآگئیں وہ احرام باندھے ہوئے تھے۔ انہوں نے ابان بن عثمان کو پیغام بھیجا اور ان سے دریافت کیا: انہیں کس چیز کے ذریعے علاج کرنا چاہے؟ تو ابان بن عثمان نے انہیں کہا تم اس پرصبر(مخصوس قسم کی بوٹی) کا لیپ کرو کیونکہ میں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کونبی اکرمﷺ کے حوالے سےیہ بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے نبی اکرمﷺنے ارشاد فرمایا :آدمی اس پر صبر (مخصوص قسم کی بوٹی )کا لیپ کرے۔

نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، ← أَيُّوبَ بْنِ مُوسَی ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 34

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 35

35 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ قَالَ: تَوَضَّأَ عُثْمَانُ عَلَى الْمَقَاعِدِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ رَجُلٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ ثُمَّ يُصَلِّي إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصَّلَاةِ الْأُخْرَى حَتَّى يُصَلِّيَهَا»

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے غلام حمران بیان کرتے ہیں . حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے "مقاعد" کے مقام پر تین، تین مرتبہ وضو کیا اور یہ بات بیان کی : میں نے نبی اکرم ﷺکو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا ،پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں نے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشادفرماتے ہوئے سنا ہے: "جوشخص وضو کرتے ہوئے اچھی طرح وضو کرے پھر نماز ادا کرے تو الله تعالی اس نماز اور اس کے بعد والی نماز جب تک وہ اسے ادا نہیں کر لیتا، ان کے درمیان کے اس کے گناہوں کی مغفرت کردیتا ہے"۔

رَسُولِ اللَّهِ ← هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ يَتَوَضَّأُ، ثُمَّ ← تَوَضَّأَ عُثْمَانُ عَلَى الْمَقَاعِدِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ← حُمْرَانُ مَوْلَى عُثْمَانَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 35

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 36

36 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، ثني عِكْرِمَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: صَلَّى بِأَهْلِ مِنًى أَرْبَعًا فَأَنْكَرَ النَّاسُ عَلَيْهِ ذَلِكَ فَقَالَ: إِنِّي تَأَهَّلْتُ بِأَهْلِي بِهَا لَمَّا قَدِمْتُ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا تَأَهَّلَ الرَّجُلُ فِي بَلَدٍ فَلْيُصَلِّ بِهِ صَلَاةَ الْمُقِيمِ»

ابن ابو ذباب اپنے والد کے حوالے سے حضرت عثمان غنیؓ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: ان کے والد کہتے ہیں : حضرت عثمان ؓنے منٰی میں چار رکعات نماز پڑھائی تو لوگوں نے ان پر اعتراض کیا، تو وہ بولے : جب میں یہاں آیا تو میں نے اپنی بیوی کی وجہ سے اسے بھی اپناوطن بنالیا ہے اور میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشادفرماتے ہوئے سنا ہے:" جب آدمی کسی شہر میں شادی کر لے، تو اسے وہاں مقیم شخص کی سی نماز ادا کرنی چاہئے"۔

رَسُولِ اللَّهِ ← إِنِّي تَأَهَّلْتُ بِأَهْلِي بِهَا لَمَّا قَدِمْتُ، وَإِنِّي ← صَلَّى بِأَهْلِ مِنًى أَرْبَعًا فَأَنْكَرَ النَّاسُ عَلَيْهِ ذَلِكَ ← عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّهُ ← أَبِيهِ ← ابْنِ أَبِي ذُبَابٍ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَی بَنِي هَاشِمٍ ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 36

chevron_left Previous
1234…63
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter