Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ امْرَأَةِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 336

336 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي سُوَيْدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: زَعَمَتِ الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ خَوْلَةُ بِنْتُ حَكِيمٍ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ وَهُوَ مُحْتَضِنٌ أَحَدَ بَنِي ابْنَتِهِ وَهُوَ يَقُولُ «وَاللَّهِ إِنَّكُمْ لَتُجَهِّلُونَ، وَتُجَبِّنُونَ، وَتُبَخِّلُونَ، وَإِنَّكُمْ لَمِنْ رَيْحَانِ اللَّهِ وَإِنَّ آخِرَ وَطْأَةٍ وَطِئَهَا رَبُّ الْعَالَمِينَ بِوَجٍّ»

عمر بن عبدالعزیز بیان کرتے ہیں: ایک نیک خاتون سیدہ خولہ بنت حکیم ؓ جو حضرت عثمان بن مظعونؓ کی اہلیہ ہیں انہوں نے یہ بات بیان کی ہے۔ ایک دن نبی اکرم ﷺ تشریف لائے ،تو آپ ﷺنے اپنے ایک نواسے کو گود میں اٹھایاہوا تھا آپ ﷺنے یہ بات ارشاد فرمائی۔ "تم لوگ (یعنی اولا د ) آدمی کو لا پرواہ کر دیتی ہے ،اسے بزدل بنادیتی ہے ،اسے کنجوس کر دیتی ہے۔ بے شک تم اللہ تعالی ٰکا عطیہ ہو اور بے شک تمام جہانوں کا پروردگار کفار پر آخری گرفت’’وج‘‘ کے مقام پر کرے گا (یہ طائف کےقریب ایک جگہ ہے)“

زعمت المرأة الصالحة خولة بنت حكيم امرأة عثمان بن مظعون ← عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← ابْنِ أَبِي سُوَيْدٍ، ← اِبْرَاھِیْمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 336

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ امْرَأَةِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 337

337 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَ ثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِنْسَانٍ يَعْنِي ابْنَ إِنْسَانٍ بَطْنٌ مِنَ الْعَرَبِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ كَعْبٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: إِنَّ وَجًّا مُقَدَّسٌ مِنْهُ عَرَجَ الرَّبُّ إِلَى السَّمَاءِ يَوْمَ قَضَى خَلْقَ الْأَرْضِ، قَالَ الْحُمَيْدِيُّ وَجٌّ بِالطَّائِفِ

کعب الاحبار کہتے ہیں:”وج" ایک مقدس جگہ ہے، یہ وہ جگہ ہے کہ جب اللہ تعالی ٰنے زمین کو پیدا کیا تھا ،تو یہا ں سے اللہ تعالی ٰآسمان کی طرف بلند ہو گیا تھا۔حمیدی ؒکہتے ہیں:”وج‘‘ طائف میں ہے۔

الْحُمَيْدِيُّ وَجٌّ بِالطَّائِفِ ← إِنَّ وَجًّا مُقَدَّسٌ مِنْهُ عَرَجَ الرَّبُّ إِلَى السَّمَاءِ يَوْمَ قَضَى خَلْقَ الْأَرْضِ، ← كَعْبٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ ← أَبِي بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ بِشْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِنْسَانٍ يَعْنِي ابْنَ إِنْسَانٍ بَطْنٌ مِنَ الْعَرَبِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 337

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 338

338 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا إِسْحَاقُ قَالَ: ثنا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدٍ تَقُولُ «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ» قَالَ مُوسَى وَلَمْ أَسْمَعْ مِنْ أَحَدٍ سَمِعَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَهَا

سیدہ ام خالد بنت خالد ؓ بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺکو قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے ہوئے سنا ہے: موسیٰ بن عقبہ نامی راوی کہتے ہیں : میں نے اور کسی کی زبانی یہ بات نہیں سنی کہ سیدہ ام خالد ؓ کے علاوہ کسی اور نے نبی اکرمﷺکو (قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے ہوئے سنا: ہو)

مِنْ النَّبِيِّ غَيْرَهَا ← مُوسَى وَلَمْ أَسْمَعْ مِنْ أَحَدٍ ← رَسُولَ اللَّهِ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ← أُمَّ خَالِدٍ بِنْتَ خَالِدٍ، تَقُولُ: ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← إِسْحَاقُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 338

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 339

339 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ السَّعِيدِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدٍ قَالَتْ: قَدِمْتُ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ وَأنا جُوَيْرِيَةٌ فَكَسَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمِيصَةً لَهَا أَعْلَامٌ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ الْأَعْلَامَ بِيَدِهِ، وَيَقُولُ «سَنَاهُ سَنَاهُ» قَالَ أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي حَسَنٌ حَسَنٌ

سیدہ ام خالد ؓ بیان کرتی ہیں: میں حبشہ کی سرزمین سے آئی تو میں کم سن بچی تھی۔ نبی اکرم ﷺنے مجھے ایک چادر اوڑھنے کے لیے دی جس پرنقش و نگار بنے ہوئے تھے۔ نبی اکرمﷺاپنے دست مبارک کے ذریعے ان نقش ونگار پر ہاتھ پھیرتے ہوئے فرمارہے تھے ۔ یہ کتنے اچھے ہیں۔ یہ کتنے اچھے ہیں۔ امام حمیدی ؒکہتے ہیں: (روایت کے متن میں استعمال ہونے والے لفظ "سناہ‘‘ کا مطلب)اچھا ہونا ہے۔

أُمَّ خَالِدٍ بِنْتَ خَالِدٍ ← أَبِيهِ ← إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ السَّعِيدِيُّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 339

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 340

340 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ الْفَضْلِ قَالَتْ: " سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ {وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا} [المرسلات: 1] " فَقِيلَ لِسُفْيَانَ فَإِنَّهُمْ يَقُولُونَ تَمَّامُ بْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ: مَا سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ قَطُّ ذَكَرِ تَمَّامًا، مَا قَالَ لَنَا إِلَّا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُمِّهِ

حضرت عبد الله بن عباس ؓاپنی والدہ سیدہ ام فضل ؓکا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے نبی اکرمﷺکو مغرب کی نماز میں سور ه و المرسلٰت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا۔سفیان سے یہ کہا گیا: لوگ تو یہ کہتے ہیں تمام بن عباس ؓنے یہ روایت بیان کی ہے ،تو سفیان نے کہا: میں نے تو ز ہری کوکبھی تمام بن عباس کا ذکر کرتے ہو ئے نہیں سنا۔

أُمِّهِ2، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← لَنَا إِلَّا ← تَمَّامًا، مَا ← الزُّهْرِيَّ قَطُّ ← مَا ← أُمِّهِ أُمِّ الْفَضْلِ: ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 340

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 341

حدثنا الحمیدی، قال: حدثنا سفیان، قال: حدثنا سالم أبو النضر: أنہ سمع عمیراً مولی ام الفضل یحدث، عَنۡ أَمَّ الۡفَضۡل قَالَتۡ: شَکَّٔ النَّاسُ فِی سِیَامِ رَسُولِ اللہﷺ یَوۡمَ عَرَفَۃَ، فَأَرۡسَلۡتُ اِلَیۡہِ بِاِنَاءٍ فِیہِ لَبَنٌ، فَشَربَ۔ وَکَانَ سُفۡیَانَ رُبَمَا قَالَ فِی ھذَا الۡحَدیثِ: یَشُکَّٔ النَّاسُ فیِی صِیَامِ رَسُولِ اللہﷺ یَوۡمَ عَرَفَۃَ، فَأَرسَلَتۡ اِلۡیہِ أَمُّ الۡفَضۡلِ۔۔۔ فَاِذَا وُقِفَ عَلَیۡہِ، قَالَ: ھُوَ عَنۡ أُم الۡفَضۡلِ۔

سیدہ ام فضل ؓ بیان کرتی ہیں: عرفہ کے دن نبی اکرمﷺکے روزہ رکھنے کے بارے میں لوگوں کو شک ہواتو میں نے بنی اکرم ﷺکی خدمت میں ایک برتن بھجوایا جس میں دودھ موجود تھا ۔ نبی اکرم ﷺنے اسے پی لیا۔ سفیان نامی راوی اس روایت میں بعض اوقات یہ ا لفاظ نقل کرتے ہیں۔لوگوں نے نبی اکرم ﷺکے عرفہ کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں شک ظاہرکیا ،تو سیدہ ام فضل ؓنے نبی اکرمﷺکی خدمت میں بھجوایا...... جب سفیان کو اس بات پر تنبیہ کی گئی توانہوں نے کہا:یہ روایت سیدہ ام فضل ؓ سے منقول ہے۔

سَالِمُ أَبُو النَّضْرِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 341

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 342

342 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، أَنَّ أُمَّ أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّةَ أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ: نَزَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَكَلَّفْنَا لَهُ طَعَامًا فِيهِ مِنْ بَعْضِ هَذِهِ الْبُقُولِ فَكَرِهَهُ وَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: «كُلُوا فَإِنِّي لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ إِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُوذِيَ صَاحِبِي»

سیدہ ام ایوب انصار یہ ؓبیا ن کرتی ہیں :نبی اکرمﷺ ہمارے ہاں ٹھہرے توہم نے آپ ﷺکے لیے کھانے میں سبزی پکائی آپ ﷺکووہ پسند نہیں آئی آپ ﷺنے اپنے ساتھیوں سے کہا:تم لوگ اسے کھا لو، کیونکہ میں تمہاری مانند نہیں ہوں میں اس بات کو پسندنہیں کرتا کہ میں اپنے ساتھی (یعنی فرشتے) کو اذیت پہنچاوں۔ امام حمیدیؒ کہتے ہیں : سفیان نے یہ بات بیان کی ہے میں نے خواب میں نبی اکرم ﷺکی زیارت کی میں نے عرض کی یا رسول اللہ (ﷺ)! آپ ﷺکی کیا رائے ہے؟ اس روایت کے بارے میں جو آپ ﷺکے حوالے سے بیان کی جاتی ہے کہ فرشتوں کو بھی اس چیز سے اذیت ہوتی ہے ،جس سے انسانوں کو اذیت ہوتی ہے۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: یہ بالکل درست ہے۔

أَبِي، أَنَّ أُمَّ أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّةَ أَخْبَرَتْهُ ← عُبَيْدِ اللَّهِ1 بْنِ أبي يزيد، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 342

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 343

342 - قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: قَالَ سُفْيَانُ " وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّوْمِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ هَذَا الَّذِي يُحَدَّثُ بِهِ عَنْكَ أَنَّ الْمَلَائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ بَنُو آدَمَ «فَقَالَ» حَقٌّ " حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: نَزَلْتُ عَلَى أُمِّ أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّةِ فَأَخْبَرَتْنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ أَيَّهَا قَرَأْتَ أَصَبْتَ»

عبید الله بن ابو یزید اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں سیدہ ام ایوب انصاریہؓ کے ہاں ٹھہرا تو انہوں نے مجھے بتایانبی اکرم ﷺنے یہ بات ارشادفرمائی ہے:" قرآن سات حروف پرنازل ہوا ہے تم اس میں سے جوبھی قرات کروگے تو وہ ٹھیک ہوگی"۔

سُفْيَانُ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ فِي النَّوْمِ، فَقُلْتُ: ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 343

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رَقِيقَةَ نَسِيبَةِ خَدِيجَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 344

344 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ قَالَ: سَمِعْتُ أُمَيْمَةَ بِنْتَ رَقِيقَةَ تَقُولُ: بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نِسْوَةٍ فَقَالَ: «فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَقْتُنَّ» فَقُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَرْحَمُ بِنَا مِنْ أَنْفُسِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ بَايِعْنَا فَقَالَ «إِنِّي لَا أُصَافِحُكُنَّ إِنَّمَا قَوْلِي لِمِائَةِ امْرَأَةٍ كَقَوْلِي لِامْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ» قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قِيلَ لِسُفْيَانَ فَإِنَّهُمْ يَقُولُونَ فِيهِ أُمَيْمَةُ بِنْتُ رَقِيقَةَ نَسِيبَةُ خَدِيجَةَ فَقَالَ سُفْيَانُ هِيَ نَسِيبَةُ خَدِيجَةَ وَلَمْ يَقُلْهُ لَنَا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ

سیده امیمہ بنت رقیقہ ؓ بیان کرتی ہیں:مین چند خواتین سمیت نبی اکرم ﷺ کی بیعت کی آپ ﷺنے ارشاد فرمایا:"جہاں تک تمہاری استطاعت ہوگی اور جتنی تم میں طاقت ہو گی (تم ان احکام پر عمل کروگی)" میں نے عرض کی : الله اور اس کا رسول ﷺہمارے لیے ہماری اپنی جان سے زیادہ رحم دل ہے۔ یا رسول اللہ (ﷺ)!آپ ﷺہم سے بیعت لے لیجئے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں تمہارے ساتھ مصافحہ نہیں کروں گا میرا ایک سو خواتین کے ساتھ گفتگو کرنا اسی طرح ہے، جس طرح میں ایک خاتون کے ساتھ بات کروں۔ امام حمیدی ؒکہتے ہیں: سفیان سے یہ کہا گیا: دوسرے محدثین نے تو یہ بات بیان کی ہے کہ یہ روایت سیدہ امیمہ بنت رقیقہ ؓ سے منقول ہے ،جو سیدہ خدیجہ ؓ کی رشتہ دارتھیں ۔ تو سفیان نے کہا: وہ سیدہ خدیجہؓ کی بہن کی بیٹی (بھانجی)تھیں۔ تاہم ابن المنکدر نے ہمیں یہ روایت سناتے ہوئے ان الفاظ کا تذکرہ نہیں کیا۔

أُمَيْمَةَ بِنْتَ رَقِيقَةَ تَقُولُ: بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ فِي نِسْوَةٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 344

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 345

345 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: أَرْسَلَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ إِلَى الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ؛ أَسْأَلُهَا عَنْ وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ يَتَوَضَّأُ عِنْدَهَا فَأَتَيْتُهَافَأَخْرَجَتْ إِلِيَّ إِنَاءً يَكُونُ مُدًّا أَوْ مُدَّا وَرُبْعًا بِمُدِّ بَنِي هَاشِمٍ فَقَالَتْ «بِهَذَا كُنْتُ أُخْرِجُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَضُوءَ فَيَبْدَأُ فَيَغْسِلُ يَدَيْهِ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا الْإِنَاءَ، ثُمَّ يَتَمَضْمَضُ وَيَسْتَنْثِرُ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، وَيَغْسِلُ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ يَمْسَحُ بِرَأْسِهِ مُقْبِلًا وَمُدْبِرًا، وَيَغْسِلُ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا» قَالَتْ: وَقَدْ جَاءَنِي ابْنُ عَمَّتِكَ فَسَأَلَنِي عَنْهُ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: مَا عَلِمْنَا فِي كِتَابِ اللَّهِ إِلَّا غُسْلَيْنِ وَمَسْحَتَيْنِ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَوَصَفَ لَنَا سُفْيَانُ الْمَسْحَ فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى قَرْنَيْهِ ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا إِلَى جَبْهَتِهِ، ثُمَّ رَفَعَهُمَا وَوَضَعَهُمَا عَلَى قَرْنَيْهِ مِنْ وَسَطِ رَأْسِهِ، ثُمَّ مَسَحَ إِلَى قَفَاهُ قَالَ سُفْيَانُ: وَكَانَ ابْنُ عَجْلَانَ حَدَّثَنَاهُ أَوَّلًا عَنِ ابْنِ عَقِيلٍ، عَنِ الرُّبَيِّعِ فَزَادَ فِي الْمَسْحِ قَالَ: ثُمَّ مَسَحَ مِنْ قَرْنَيْهِ عَلَى عَارِضَيْهِ حَتَّى بَلَغَ طَرَفَ لِحْيَتِهِ، فَلَمَّا سَأَلْنَا ابْنَ عَقِيلٍ عَنْهُ، لَمْ يَصِفْ لَنَا فِي الْمَسْحِ الْعَارِضَيْنِ، وَكَانَ فِي حِفْظِهِ شَيْءٌ فَكَرِهْتُ أَنْ أَلْقَنَهُ

عبداللہ بن محمد کہتے ہیں: امام زین العابدین ؒ نے مجھے سیدہ ربیع بنت معوذؓ کی خدمت میں بھیجا تا کہ میں ان سے نبی اکرم ﷺکے وضو کے بارے میں دریافت کروں، کیونکہ نبی اکرم ﷺنے ان کے ہاں وضو کیا تھا میں اس خاتون کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے ایک برتن نکال کر مجھے دکھایا جس میں ایک "مد"یاایک شاید ایک"مد" اور ایک چوتھائی’’مد‘‘ پانی آتا ہوگا۔انہوں نے بتایا: میں اس برتن میں نبی اکرم ﷺکے وضوکا پانی رکھتی تھی۔ نبی اکرم ﷺآغاز کرتے ہوئے پہلے دونوں ہاتھ برتن میں داخل کرنے سے پہلے تین مرتبہ دھوتے تھے، پھر آپ ﷺتین مرتبہ کلی کرتے تھے اور تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالتے تھے اور تین مرتبہ اپنا چہرہ دھوتے تھے ،پھر دونوں بازو تین مرتبہ دھوتے تھے، پھر اپنے سر مبارک کا آگے سے پیچھے کی طرف اور پیچھے سے آگے کی طرف مسح کرتے تھے۔ پھر دونوں پاؤں تین ،تین مرتبہ دھوتے تھے۔ پھر اس خاتون نے بتایا ،تمہارے چچازادمیرے پاس آئے تھے۔ انہوں نے مجھ سے اس بارے میں دریافت کیا تھا میں نے انہیں بتایا تو وہ بولے : مجھے الله کی کتاب میں صرف دو چیزوں کو دھونے اور دو چیزوں پرمسح کا حکم ملتاہے۔اس خاتون کی مراد حضرت عبداللہ بن عباسؓ تھے۔ امام حمیدی ؒ کہتے ہیں : سفیان نے ہمارے سامنے مسح کا طریقہ کر کے دکھایا انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ مانگ کے دونوں اطراف پررکھے پھر ان کے ذریعے اپنی پیشانی تک مسح کیا پھر انہوں نے سر کے درمیان میں مانگ کے دونوں کناروں پر دونوں ہاتھ ر کھے پھر پیچھے گردن تک مسح کیا۔سفیان کہتے ہیں: ابن عجلان نے پہلے یہ روایت ابن عقیل کے حوالے سے سیدہ ربیعؓ سےنقل کی تھی اور انہوں نے مسح کےبارے میں مزید یہ الفاظ نقل کئے۔" پھر وہ اپنے دونوں کناروں کامسح کرتے ہوئے رخساروں تک آئے،یہاں تک کہ داڑھی کے کنارے تک آئے"۔ جب ہم نے ابن عقیل سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نےرخساروں پر مسح کرنے کا تذکرہ نہیں کیا۔ ان کے حافظے میں کچھ کمزوری تھی اس لیے میں نے انہیں تلقین کرنے کو پسندنہیں کیا۔

أَرْسَلَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ إِلَى الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ؛ أَسْأَلُهَا ← عبد الله بن محمد بن عقيل بن أبي طالب ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 345

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مُحْصَنٍ الْأَسَدِيَّةِ أَسَدِ خُزَيْمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 346

346 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ قَيْسِ بِنْتَ مُحْصَنٍ الْأَسَدِيَّةَ تَقُولُ: «دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لِي لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ فَبَالَ عَلَيْهِ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ فَرَشَّهُ عَلَيْهِ»

سیدہ ام قیس بنت محصن ؓ بیان کرتی ہیں : میں اپنے ایسے چھوٹے بیٹے کو ساتھ لے کر نبی اکرمﷺکی خدمت میں حاضر ہوئی جو ابھی کھانا تھا اس نے نبی اکرم ﷺ پر پیشاب کردیا تو نبی اکرم ﷺ نے پانی منگوا کراس پر چھڑک دیا۔

عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّهُ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 346

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مُحْصَنٍ الْأَسَدِيَّةِ أَسَدِ خُزَيْمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 347

347 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ قَيْسٍ بِنْتِ مُحْصَنٍ تَقُولُ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لِي وَقَدْ أَعْلَقْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَى مَا تَدْغُرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذَا الْعَلَاقِ؟ عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ يُسَعَّطُ مِنَ الْعُذْرَةِ، وَيَلَدُّ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ» [ص:339] قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَسَّرَ لَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ اثْنَيْنِ وَلَمْ يُفَسِّرْ لَنَا خَمْسَةً قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: الْعُودُ الْهِنْدِيُّ هُوَ الْقُسْطُ

سیدہ ام قیس بنت محصن ؓبیان کرتی ہیں : میں اپنے بیٹے کو لے کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی میں نے اس کے حلق میں ورم کی وجہ سے اس کا گلا ملا ہوا تھا۔ نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا :تم اس طرح گلا مل کر اپنے بچوں کو کیوں تکلیف پہنچاتی ہو؟تم پر لازم ہے کہ تم عود ہندی استعمال کرو ،کیونکہ اس میں سات قسم کی شفائیں ہیں۔ حلق میں ورم کی صورت میں اسے ناک میں ڈالا جائے گا اور ذات الجنب کی صورت اسے زبان کے نیچے ٹپکایا جائے گا۔ زہری کہتے ہیں : عبید الله نامی راوی نے دو چیزوں کا ذکر کر دیا باقی پانچ کا تذ کرہ نہیں کی(یعنی باقی کون سی پانچ بیماریوں کے لیے شفا ہے؟) امام حمیدی ؒکہتے ہیں : عود ہندی سے مراد "قُسط"ہے۔

عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 347

chevron_left Previous
1…282930…63
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter