Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 324

324 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ جَدَّتِهَا أَسْمَاءَ قَالَتْ: «نَحَرْنَا فَرَسًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلْنَاهُ»

سیده اسما ءؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺکے زمانہ اقدس میں ہم نے ایک گھوڑ اذبح کیا تھا، اور اسے کھا لیا تھا۔

«نَحَرْنَا فَرَسًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ فَأَكَلْنَاهُ» ← جدتها أسماء ← فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 324

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 325

325 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ ابْنِ تَدْرُسَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ {تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ} [المسد: 1] أَقْبَلَتِ الْعَوْرَاءُ أُمُّ جَمِيلٍ بِنْتُ حَرْبٍ وَلَهَا وَلْوَلَةٌ وَفِي يَدِهَا فِهْرٌ وَهِيَ تَقُولُ: مُذَمَّمٌ أَبَيْنَا، وَدِينَهُ قَلَيْنَا، وَأَمْرَهُ عَصَيْنَا، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ قَرَأَ قُرْآنًا وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ فَلَمَّا رَآهَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ أَقْبَلَتْ وَأَنَا أَخَافُ أَنْ تَرَاكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهَا لَنْ تَرَانِي» وَقَرَأَ قُرْآنًا اعْتَصَمَ بِهِ، كَمَا قَالَ وَقَرَأَ {وَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ حِجَابًا مَسْتُورًا} [الإسراء: 45] فَأَقْبَلَتْ حَتَّى وَقَفَتْ عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَلَمْ تَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا أَبَا بَكْرٍ إِنِّي أُخْبِرْتُ أَنَّ صَاحِبَكَ هَجَانِي فَقَالَ: لَا وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ مَا هَجَاكِ قَالَ: فَوَلَّتْ وَهِيَ تَقُولُ: قَدْ عَلِمَتْ قُرَيْشٌ أَنِّي بِنْتُ سَيِّدِهَا [ص:324] قَالَ فَقَالَ الْوَلِيدُ فِي حَدِيثِهِ أَوْ قَالَ غَيْرُهُ: تَعَثَّرَتْ أُمُّ جَمِيلٍ وَهِيَ تَطُوفُ بِالْبَيْتِ فِي مِرْطِهَا فَقَالَتْ: تَعِسٌ مُذَمَّمٌ فَقَالَتْ أُمُّ حَكِيمِ ابْنَةُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: إِنِّي لَحَصَانٌ فَمَا أُكَلَّمُ، وَثَقَافٌ فَمَا أُعَلَّمُ، فَكِلْتَانَا مِنْ بَنِي الْعَمِّ قُرَيْشٍ بَعْدُ أَعْلَمُ

سیدہ اسماءبنت ابو بکر ؓ بیان کرتی ہیں :جب یہ آیت نازل ہوئی:"ابولہب کے دونوں ہاتھ برباد ہو جائیں۔" تو ام جمیل بنت حرب (جوا بو جہل کی بیوی تھی)بڑ ے غصے میں آئی اس نے ہاتھ میں مٹھی بھر پتھر پکڑے ہوئے تھے اورکہہ رہی تھی۔”وہ قابل مذمت ہیں، جن کا ہم نے انکار کر دیا ہے اور ان کے دین کو ہم نے چھوڑ دیا ہے اور ان کے معاملے کی ہم نے نافرمانی کی ہے"۔نبی اکرم ﷺاس وقت مسجد میں تشریف فرما تھے۔ آپ ﷺنے قرآن کی تلاوت کی آپ ﷺکے ساتھ حضرت ابوبکرؓ بھی تھے حضرت ابوبکر ؓنے جب اس عورت کو دیکھا تو انہوں نے عرض کی: یارسول الله (ﷺ)! یہ عورت آرہی ہے مجھے یہ اندیشہ ہے کہ یہ آپ ﷺکو دیکھ لے گی(اور بدتمیزی کا مظاہرہ کرے گی) نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا : وہ مجھے نہیں دیکھ سکے گی پھر آپ ﷺقرآن پڑھنے لگے۔ آپ ﷺاس کے ذریعے مضبوطی حاصل کررہے تھے، جس طرح آپ ﷺنے ارشادفرمایا تھا،آپﷺنےیہ آیت پڑھی:"اور جب تم قرآن پڑھو تو ہم تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان ،جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں، ایک مستور پرده ڈال دیں گے"۔وہ عورت آئی وہ حضرت ابوبکر ؓکے پاس آکر ٹھہرگئی اسے نبی اکرم ﷺنظر نہیں آئے وہ بولی:اے ابوبکر ! مجھے پتہ چلا ہے تمہارے آقا ﷺنے ہماری ہجو بیان کی ہے۔ حضرت ابو بکرؓبولے : جی نہیں! اس گھر کے پروردگار کی قسم !انہوں نے تمہاری ہجوبیان نہیں کی ہے۔حضرت ابوبکرؓ کہتے ہیں: تو وہ عورت مڑگئی جاتی ہوئی دہ یہ کہہ رہی تھی: قریش یہ بات جانتے ہیں کہ میں ان کےسردارکی بیٹی ہوں۔یہاں ولید نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں:یا شاید دوسرے کسی راوی نےنقل کیے ہیں: "تو ام جمیل غصے میں تھی وہ اپنی چادر اوڑھ کر بیت اللہ کا طواف کر رہی تھی اس نےکہا وہ شخص برباد ہو جائے جس کی مذمت کی گئی ہے "تو جناب عبدالمطلب کی صاجزادی ام حکیم نے کہا: "میں پاکدامن ہوں مجھ پرالزام عائد نہیں کیا جاسکتا۔ میں سمجھدار ہوں مجھے تعلیم نہیں دی جاسکتی ہم دونوں خواتین چچازاد ہیں اور قریش اس بات سے بخوبی واقف ہیں"۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ← ابْنِ تَدْرُسَ، ← الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 325

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 326

326 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ ابْنِ تَدْرُسَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهُمْ قَالُوا لَهَا: مَا أَشَدَّ مَا رَأَيْتِ الْمُشْرِكِينَ بَلَغُوا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: كَانَ الْمُشْرِكُونَ قَعَدُوا فِي الْمَسْجِدِ يَتَذَاكَرُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا يَقُولُ فِي آلِهَتِهِمْ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامُوا إِلَيْهِ، وَكَانُوا إِذَا سَأَلُوا عَنْ [ص:325] شَيْءٍ صَدَقَهُمْ، فَقَالُوا: أَلَسْتَ تَقُولُ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ: «بَلَى» فَتَشَبَّثُوا بِهِ بِأَجْمَعِهِمْ فَأَتَى الصَّرِيخُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقِيلَ لَهُ: أَدْرِكْ صَاحِبَكَ فَخَرَجَ مِنْ عِنْدِنَا، وَإِنَّ لَهُ غَدَايِرَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ وَهُوَ يَقُولُ: وَيْلَكُمْ أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ رَبِّكُمْ، قَالَ: فَلَهَوْا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَقْبَلُوا عَلَى أَبِي بَكْرٍ فَرَجَعَ إِلَيْنَا أَبُو بَكْرٍ فَجَعَلَ لَا يَمَسُّ شَيْئًا مِنْ غَدَايِرِهِ إِلَّا جَاءَ مَعَهُ وَهُوَ يَقُولُ: تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ

سیدہ اسماء بنت ابوبکر ؓ بیان کرتی ہیں:لوگوں نے ان سے دریافت کیا: آپ نے مشرکین کی طرف سے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سب سے زیادہ سخت سلوک کیا دیکھا ہے ،تو انہوں نے بتایا مشرکین مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے وہ نبی اکرم ﷺ کا اور اپنے معبودوں کے بارے میں نبی اکرم ﷺکی رائے کا تذکرہ کررہے تھے وہ لوگ اسی حالت میں تھے کہ اسی دوران نبی اکرم ﷺتشریف لائے وہ لوگ اٹھ کر نبی اکرمﷺ کے پاس گئے جب وہ لوگ نبی اکرم ﷺسے کسی چیز کے بارے میں دریافت کرتے تھے تو نبی اکرم ﷺان کی بات کو سچ قرار دیتے تھے۔ "انہوں نے دریافت کیا: کیا آپ ﷺنے ایسی ایسی بات نہیں کہی ہے؟ نبی اکرمﷺنے جواب دیا : جی ہاں ،تو وہ سب لوگ مل کر نبی اکرم ﷺپر جھپٹ پڑے تو کسی شخص نے بلند آواز میں حضرت ابوبکرؓ کو پکارا ان سے کہا گیا: آپ اپنے آقاﷺکے پاس پہنچیں تو حضرت ابو بکر ؓ ہمارے ہاں سے نکلے اس وقت ان کے لمبے لمبے بال تھے۔وہ مسجد میں داخل ہوئے اور یہ کہتے جارہے تھے : تمہارا ستیانا س ہو کیا تم ایک ایسے صاحب کو قتل کرنا چاہتے ہو جو یہ کہتے ہیں :تو ان لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کو چھوڑا اور حضرت ابو بکر ؓ کی طرف متوجہ ہوگئے (اور ان پر حملہ کر دیا)جب حضرت ابو بکر ؓ ہمارے ہاں تشریف لائے ،تو ان کے جس بھی بال کو ہاتھ لگایا جاتا و ہ ہاتھ میں آجاتاتھا، لیکن حضرت ابوبکرؓ یہی کہہ رہے تھے"اے جلال ادرا کرام والے ،تو برکت والا ہے"۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ← ابْنِ تَدْرُسَ، ← الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 326

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 327

327 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: «يَا أَسْمَاءُ لَا تُوكِي فَيُوكَا عَلَيْكِ»

سیدہ اسماء بنت ابوبکر ؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺنے ان سے فرمایا۔ "اے اسماء !تم (الله کی راہ میں) خرچ کرنے سے نہ رکوورنہ تم سے رزق کو روک لیا جائے گا"۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 327

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 328

328 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا أَبُو الْمُحَيَّاةِ، عَنْ أُمِّهِ أَنَّهَا قَالَتْ [ص:326]: لَمَّا قَتَلَ الْحَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ دَخَلَ الْحَجَّاجُ عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ لَهَا: يَا أُمَّهْ إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَوْصَانِي بِكِ، فَهَلْ لَكِ مِنْ حَاجَةٍ؟ قَالَتْ: مَالِي مِنْ حَاجَةٍ وَلَسْتُ لَكَ بِأُمٍّ وَلَكِنِّي أُمُّ الْمَصْلُوبِ عَلَى رَأْسِ الثَّنِيَّةِ وَلَكِنِ انْتَظِرْ أُحَدِّثْكَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَخْرُجُ مِنْ ثَقِيفٍ كَذَّابٌ وَمُبِيرٌ» فَأَمَّا الْكَذَّابُ فَقَدْ رَأَيْنَاهُ يَعْنِي الْمُخْتَارَ وَأَمَّا الْمُبِيرُ فَأَنْتَ فَقَالَ الْحَجَّاجُ: مُبِيرٌ لِلْمُنَافِقِينَ

ابومحیاۃ اپنے والد کایہ بیان نقل کرتے ہیں: جب حجاج بن یوسف نے حضرت عبداللہ بن زبیر ؓکو شہید کر دیا تو حجاج ،سیدہ اسماء بنت ابوبکرؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے گزارش کی:اے اماں جان! امیر المومنین نے مجھے آپ کے بارے میں تلقین کی ہے ،تو کیا آپ کو کوئی ضر ورت ہے؟ سیدہ اسماءؓ نے کہا: مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے اور میں تمہاری ماں نہیں ہوں ۔ میں اس شخص کی ماں ہوں، جسے گھاٹی کے سرے پرمصلوب کیا گیا ہے۔تم رکو!میں تمہیں وہ بات بتاتی ہوں جو میں نے نبی اکرم ﷺکی زبانی سنی ہے(نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا ہے:) "ثقيف قبیلے سے ایک نبوت کا جھوٹا دعوے دار اور ایک قتل و غارت گری کرنے والا پیدا ہوگا"۔ جہاں تک جھوٹےکاتعلق ہے، تو اسے تو ہم دیکھ چکے ہیں۔سیدہ اسماءؓکی مراد مختار ثقفی تھا،اور جہاں تک خون بہانے والے کا تعلق ہے، تووہ تم ہو، تو حجاج بولا:میں منافقوں کا خون بہانے والا ہوں۔

أُمِّهِ2، ← أبو المحياة ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 328

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 329

329 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا أَخُو الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا مَعْشَرَ الْمُؤْمِنَاتِ لَا تَرْفَعَنَّ امْرَأَةٌ مِنْكُنَّ رَأْسَهَا قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ الْإِمَامُ رَأْسَهُ؛ مِنْ ضِيقِ ثِيَابِ الرِّجَالِ»

سیدہ اسماء بنت ابوبکر ؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا: "اے مومن خواتین کے گروہ!کوئی بھی عورت اپنا سر امام کے اٹھنے سے پہلے نہ اٹھائے (نبی اکرمﷺ نے یہ بات اس لیے فرمائی) کیونکہ مردوں کے کپڑے چھوٹے ہوتے تھے"۔

أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ تَقُولُ ← مَنْ ← أَخُو الزُّهْرِيِّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 329

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مَعِيطٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 330

330 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: أَخْبَرُونِي عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مَعِيطٍ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الْكَاشِحِ» قَالَ سُفْيَانُ: وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: الْكَاشِحُ الْعَدَوُّ

سیدہ ام کلثوم بنت عقبہؓ بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشادفرماتے ہوئے سناہے: "سب سے افضل صدقہ وہ ہے ،جو دشمنی رکھنے والے رشتے دار پرکیا جائے"۔ سفیان کہتے ہیں: میں نے یہ روایت ز ہری سے نہیں سنی ہے۔ امام حمیدی ؒکہتے ہیں:(روایت کے متن میں استعمال ہونے والے لفظ)"کا شح"کا مطلب دشمن ہے۔

أَبُو بَكْرٍ: الْكَاشِحُ الْعَدَوُّ ← سُفْيَانُ: وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ ← أفضل الصدقة على ذي الرحم الكاشح ← رَسُولِ اللَّهِ ← أُمِّهِ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ، ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← أَخْبِرُونِي ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 330

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مَعِيطٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 331

331 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثَنِي صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ هَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ أَنْ أَكْذِبَ أَهْلِي؟ قَالَ: «لَا فَلَا يُحِبُّ اللَّهُ الْكَذِبَ» قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَسْتَصْلِحُهَا وَأَسْتَطِيبُ نَفْسَهَا قَالَ: «لَا جُنَاحَ عَلَيْكَ»

عطاء بن یسار بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرمﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یارسول اللہ(ﷺ)! اللہ تعالیٰ آپ ﷺپر رحمت نازل کرے کیا مجھے کوئی گناہ ہو گا اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ جھوٹ بولتا ہوں۔ نبی اکرمﷺنے فرمایا نہیں !لیکن اللہ تعالیٰ جھوٹ کو پسند نہیں کرتا۔ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ (ﷺ)!میں اس کے ساتھ مصالحت کرنے کے لیے ایسا کرتا ہوں ۔ یا اسے خوش کرنے کے لیے ایسا کرتا ہوں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: پھر تمہیں کوئی گناہ نہیں ہوگا۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 331

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 332

332 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بَنِي جَعْفَرٍ تُصِيبُهُمُ الْعَيْنُ أَفَأَسْتَرْقِي لَهُمْ؟ فَقَالَ: «نَعَمْ، لَوْ كَانَ شَيْءٌ سَابِقُ الْقَدَرِ لَسَبَقَتْهُ الْعَيْنُ»

سیدہ اسماء بنت عمیسں ؓ بیان کرتی ہیں: انہوں نے عرض کی :یارسول الله (ﷺ)!حضرت جعفرؓ کے بچوں کو نظر لگ جاتی ہے، تو کیا میں انہیں دم کر دیا کروں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جی ہاں! اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت لے جاسکتی ،تو نظر لگنا اس سے سبقت لے جاتا۔

أسماء بنت عميس أنها ← عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، ← عُرْوَةَ بْنِ عَامِرٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 332

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 333

333 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلٍ عَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ: أَتَانِي يَوْمَ الْفَتْحِ حَمَوَانِ لِي فَأَجَرْتُهُمَا فَجَاءَ عَلِيٌّ يُرِيدُ قَتْلَهُمَا فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي قُبَّتِهِ بِالْأَبْطَحِ بِأَعْلَى مَكَّةَ فَلَمْ أَجِدْهُ وَوَجَدْتُ فَاطِمَةَ فَلَهِيَ كَانَتْ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ عَلِيٍّ فَقَالَتْ تُؤْوِينَ الْكُفَّارَ وَتُجِيرِينَهُمْ وَتَفْعَلِينَ وَتَفْعَلِينَ، فَلَمْ أَلْبَثُ أَنْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى وَجْهِهِ رَهْجَةُ الْغُبَارِ فَقَالَ «يَا فَاطِمَةُ اسْكُبِي لِي غُسْلًا» فَسَكَبَتْ لَهُ غُسْلًا فِي جَفْنَةٍ لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَثَرِ الْعَجِينِ فِيهَا ثُمَّ سَتَرَتْ عَلَيْهِ بِثَوْبٍ «فَاغْتَسَلَ ثُمَّ صَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُخَالِفًا بَيْنَ طَرَفَيهِ ثَمَانِ رَكَعَاتٍ» مَا رَأَيْتُهُ صَلَّاهَا قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا فَلَمَّا انْصَرَفَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجَرْتُ حَمَوَيْنِ لِي، وَإِنَّ ابْنَ أُمِّي عَلِيٌّ أَرَادَ قَتْلَهُمَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ ذَلِكَ لَهُ إِنَّا قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ، وَأَمَّنَّا مَنْ أَمَّنْتِ»

سیده ام ہانی ؓ بیان کرتی ہیں : فتح مکہ کے موقع پر میرے دودیور میرے پاس آئے میں نے ان دونوں کو پناہ دے دی حضرت علی ؓ آئے تاکہ ان دونوں کو قتل کر دیں ، تومیں نبی اکرم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئی آپ ﷺ اس وقت مکہ کے بالائی علاقے "ابطح" میں اپنے خیمے میں تشریف فرما تھے وہاں میری نبی اکرمﷺسے ملاقات نہیں ہوئی۔ میرا سامنا سیده فاطمہ ؓ سے ہوا تو وہ میرے لیے حضرت علیؓ سے بھی زیادہ سخت تھیں انہوں نے کہا:تم کفارکوٹھکانہ دے رہی ہو،تم انہیں پناہ دے رہی ہو ،تم یہ کر رہی ہو اور وہ تم کر رہی ہو۔ میں وہیں ٹھہری رہی۔ اسی دوران نبی اکرم ﷺوہاں تشریف لے آئے آپ ﷺکے چہرہ مبارک پر گردوغبار کے اثرات تھے۔ آپ ﷺنے فرمایا: اے فاطمہ!تم میرے لیے پانی تیار کرو تو سیده فاطمہؓ نے ایک بڑے ٹب میں نبی اکرم ﷺکے لیے پانی تیار کیا جس میں گندھے ہوئے آٹے کانشان میں دیکھ رہی تھی۔پھر انہوں نے نبی اکرم ﷺکے لیے پردہ تان دیا۔ نبی اکرم ﷺنے غسل کیا پھر آپ ﷺنے ایک ہی کپڑا اوڑھ کر اس کے مخالف سمتوں کو دونوں کندھوں پر ڈال کر آٹھ رکعات نماز ادا کی۔ میں نے نبی اکرم ﷺکو اس سے پہلے اور بعد میں کبھی یہ نماز ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ جب آپ ﷺنے نمازمکمل کرلی تو میں نے عرض کی: یارسول اللہ(ﷺ)! میں نے اپنےدو د یوروں کو پناہ دی ہے۔ اور میرے ماں جائے حضرت علی ؓ ان دونوں کوقتل کرنا چاہتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: وہ ایسا نہیں کرسکتا ،جسےتم نے پناہ دی ہے اسے ہم بھی پناہ دیتے ہیں اور جس پرتم آمین کہتی ہو اس پر ہم بھی آمین کہتے ہیں۔ (یعنی جو تم قبول کرتی ہواسے ہم بھی قبول کرتے ہیں)

أُمِّ هَانِئٍ ← أَبِي مُرَّةَ مَوْلَی عَقِيلٍ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 333

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 334

334 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ يُحَدِّثُ [ص:330] عَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ صَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُخَالِفًا بَيْنَ طَرَفِيهِ»

سیدہ ام ہانی ؓبیان کرتی ہیں : فتح مکہ کے موقع پر میں نے نبی اکرم ﷺکو دیکھا کہ آپ ﷺنے ایک کپڑا اوڑھ کر اسے مخالف سمت میں کندھوں پر ڈال کر آٹھ رکعات نماز ادا کی۔

أُمِّ هَانِئٍ ← [ص:149] ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 334

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 335

335 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ أَبُو أُمَيَّةَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ وَلَمْ يَقُلْ لَنَا فِيهِ سَمِعْتُ قَالَ: سَأَلْتُ عَنْ صَلَاةِ الضُّحَى فِي إِمَارَةِ عُثْمَانَ وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَافِرُونَ فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا أَثْبَتَ لِي صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا أُمُّ هَانِئٍ قَالَتْ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّاهَا مَرَّةً وَاحِدَةً يَوْمَ الْفَتْحِ ثَمَانِ رَكَعَاتٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُخَالِفًا بَيْنَ طَرَفَيهِ» 335/م- قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ: إِنْ كُنْتُ لَأَمُرُّ عَلَى هَذِهِ الْآيَةِ {يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالْإِشْرَاقِ} [ص: 18] فَأَقُولُ: أَيُّ صَلَاةٍ صَلَاةُ الْإِشْرَاقِ فَهَذِهِ صَلَاةُ الْإِشْرَاقِ

عبداللہ بن حارث بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عثمان غنیؓ کے عہد خلافت میں چاشت کی نماز کے بارے میں سوال کیا۔ اس وقت صحابہ کرام ؓکی کثیر تعداد موجودتھی لیکن مجھے کوئی ایسا شخص نہیں مل سکا جو مجھے یہ بتا سکے کہ نبی اکرم ﷺنے یہ نماز ادا کی ہے صرف سیده ام ہانیؓ تھیں انہوں نے یہ بتایامیں نے نبی اکرم ﷺکوفتح مکہ کے موقع پر ایک مرتبہ یہ نماز اداکرتے ہوئے دیکھا ہے۔ آپ ﷺنے ایک کپڑے کو اس کے کنارے مخالف سمت میں اوڑھ کر آٹھ رکعات ادا کی تھیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓبیان کرتے ہیں : میں جب یہ آیت تلاوت کرتا ہوں۔ "وہ شام کے وقت اور اشراق کے وقت پاکی بیان کرتی ہیں"۔ تو میں دریافت کرتا ہوں کہ اشراق کی نماز کون کون سی ہے، تو یہ اشراق کی نماز ہے۔

عَبْدُ الْكَرِيمِ أَبُو أُمَيَّةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 335

chevron_left Previous
1…272829…63
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter