Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 312

312 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مَنْبُوذٌ الْمَكِّيُّ، عَنْ أُمِّهِ قَالَتْ: كُنَّا عِنْدَ مَيْمُونَةَ فَدَخَلَ عَلَيْهَا ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَتْ: أَيْ بُنَيَّ مَالِي أَرَاكَ شَعِثًا رَأْسُكَ؟ قَالَ: إِنَّ مُرَجِّلَتِي أُمَّ عَمَّارٍ حَايِضٌ فَقَالَتْ: أَيْ بُنَيَّ وَأَيْنَ الْحَيْضَةُ مِنَ الْيَدَيْنِ؟ «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَضَعُ رَأْسَهُ فِي حِجْرِ إِحْدَانَا وَهِيَ حَائِضٌ ثُمَّ يَتْلُو الْقُرْآنَ، وَإِنْ كَانَتْ إِحْدَانَا لَتَقُومُ إِلَيْهِ بِخُمْرَتِهِ فَتَبْسُطُهَا لَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَيُصَلِّي عَلَيْهَا» أَيْ بُنَيَّ ‍‍‍‍‍‍فَأَيْنَ الْحَيْضَةُ مِنَ الْيَدِ؟

منبوذ مکی اپنی والدہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں :ہم لوگ سیدہ میمونہؓ کے پاس موجود تھے حضرت عبداللہ بن عباسؓ ان کے ہاں تشریف لائے سیدہ میمونہؓ نے فرمایا: اے میرے بیٹے ! کیا وجہ ہے کہ میں دیکھ رہی ہوں کہ تمہارے بال بکھرے ہوئے ہیں، تو حضرت عبد الله بن عباسؓ نے عرض کی: میرے بال سنوارنے والی ام عمار حیض کی حالت میں ہے ،تو سیدہ میمونہؓ نے فرمایا: اے میرے بیٹے!حیض کا ہاتھوں کے ساتھ کیا واسطہ۔ نبی اکرم اﷺاپنا سر مبارک ہم (ازواج) میں سے کسی ایک کی گود میں رکھ دیتے تھے وہ خاتون اس وقت حیض کی حالت میں ہوتی تھی، لیکن نبی اکرمﷺتلاوت کر لیا کرتے تھے اور ہم میں سے کوئی ایک اپنی چادر لے کر نبی اکرم ﷺکے لیے بچھا دیتی تھی، حالانکہ وہ خاتون اس وقت حیض کی حالت میں ہوتی تھی ،لیکن نبی اکرم ﷺاس چادر پر نماز ادا کر لیتے تھے ۔ اے میرے بیٹے!حیض کا ہاتھ کے ساتھ کیا واسطہ؟

إِنَّ مُرَجِّلَتِي أُمَّ عَمَّارٍ حَايِضٌ ← أَيْ بُنَيَّ مَالِي أَرَاكَ شَعِثًا رَأْسُكَ؟ ← كُنَّا عِنْدَ مَيْمُونَةَ فَدَخَلَ عَلَيْهَا ابْنُ عَبَّاسٍ ← أُمِّهِ2، ← مَنْبُوذٌ الْمَكِّيُّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 312

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 313

313 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ أَوْ يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ سُفْيَانَ الَّذِي يَشُكُّ [ص:317] عَنْ مَيْمُونَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي عَلَى الْخُمُرِ»

سیدہ میمونہ ؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺبڑی چادر پر نماز ادا کر لیتے تھے۔

مَيْمُونَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ أَوْ يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ سُفْيَانَ الَّذِي يَشُكُّ [ص:317] ← أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 313

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 314

314 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ عَنْ مَيْمُونَةَ أَنَّ فَأْرَةً وَقَعَتْ فِي سَمْنٍ فَمَاتَتْ، فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا، فَقَالَ: «أَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا وَكُلُوهُ» قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَقِيلَ لِسُفْيَانَ فَإِنَّ مَعْمَرًا يُحَدِّثُهُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سُفْيَانُ: مَا سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُهُ إِلَّا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ مِرَارًا

حضرت عبدالله بن عباس ؓسیدہ میمونہؓ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک چوہا گھی میں گر کر مرگیا ،نبی اکرم ﷺسےاس بارے میں دریافت کیاگیا، آپ ﷺارشاد فرمایا: اسے اوراس کے آس پاک والے(جمے ہوئے)گھی کو پھینک دواور(باقی بچ جانے والے) کو کھالو۔ امام حمیدی ؓکہتے ہیں: سفیان سے یہ کہا گیا:معمر نے یہ روایت زہری کے حوالے سے سعید کے حوالے سے حضرت ابوہریرہ سے نقل کی ہے ،تو سفیان نے جواب دیا: میں نے تو زہری کو یہی بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ یہ روایت عبیداللہ کے حوالے سے حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے حوالے سے سیدہ میمونہؓ سے منقول ہے اور یہ روایت میں نے ان کی زبانی کئی مرتبہ سنی ہے۔

مِنْهُ مِرَارًا ← النَّبِيِّ وَلَقَدْ ← مَيْمُونَةَ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُهُ إِلَّا ← سفيان ما ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٌ، ← الزُّهْرِيِّ، ← أَبُو بَكْرٍ: فَقِيلَ لِسُفْيَانَ فَإِنَّ مَعْمَرًا يُحَدِّثُهُ، ← أَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا وَکُلُوهُ ← مَيْمُونَةَ، أَنَّ فَأْرَةً وَقَعَتْ فِي سَمْنٍ فَمَاتَتْ، فَسُئِلَ رَسُولُ اللهِ عَنْهَا ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 314

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 315

315 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِّ [ص:318]، عَنْ مَيْمُونَةَ قَالَتْ: «صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَوْبٍ مِرْطٍ كَانَ بَعْضُهُ عَلَيْهِ وَبَعْضُهُ عَلَيَّ، وَأَنَا حَائِضٌ»

سیدہ میمونہؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺنے ایک اونی چادر اوڑھ کر نماز ادا کی جس کا بعض حصہ نبی اکرم ﷺپر تھا، اور بعض حصہ مجھ پر تھا حالانکہ میں اس وقت حیض کی حالت میں تھی۔

حَائِضٍ ← «صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ فِي ثَوْبٍ مِرْطٍ كَانَ بَعْضُهُ عَلَيْهِ وَبَعْضُهُ عَلَيَّ، ← مَيْمُونَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِّ [ص:318]، ← أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 315

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 316

316 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا أَبُو سُلَيْمَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ابْنُ أَخِي يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ الْأَكْبَرِ مِنْهُمَا عَنْ عَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ مَيْمُونَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ لَوْ أَرَادَتْ بَهْمَةٌ أَنْ تَمُرَّ مِنْ تَحْتِهِ لَمَرَّتْ مِمَّا يُجَافِي»

سیدہ میمونہ ؓ بیان کرتی ہیں :نبی اکرم ﷺسجدے میں جاتے ، اگر بکری کا کوئی بچہ آپ ﷺکے نیچے سے گزرنا چاہتا تو وہ گزرسکتا تھایعنی آپ ﷺاپنے بازوؤں کو پہلو سے اتنادور رکھتے تھے۔

مَيْمُونَةَ، ← عَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ← أَبُو سُلَيْمَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ابْنُ أَخِي يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ الْأَكْبَرِ مِنْهُمَا ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 316

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 317

317 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشَاةٍ لِمَوْلَاةِ مَيْمُونَةَ قَدْ أُعْطِيَتْهَا مِنَ الصَّدَقَةِ مَيِّتَةً فَقَالَ: «مَا عَلَى أَهْلِ هَذِهِ لَوْ أَخَذُوا إِهَابَهَا فَدَبَغُوهُ، فَانْتَفَعُوا بِهِ» فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ: إِنَّهَا مَيِّتَةٌ، فَقَالَ: «إِنَّمَا حُرِّمَ أَكْلُهَا» [ص:319] فَقِيلَ لِسُفْيَانَ: فَإِنَّ مَعْمَرًا لَا يَقُولُ فِيهِ «فَدَبَغُوهُ» وَيَقُولُ: كَانَ الزُّهْرِيُّ يَنْكِرُ الدِّبَاغَ، فَقَالَ سُفْيَانُ: لَكِنِّي قَدْ حَفِظْتُهُ، وَإِنَّمَا أَرَدْنَا مِنْهُ هَذِهِ الْكَلِمَةَ الَّتِي لَمْ يَقُلْهَا غَيْرُهُ «إِنَّمَا حُرِّمَ أَكْلُهَا» وَكَانَ سُفْيَانُ رُبَّمَا لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ مَيْمُونَةَ فَإِذَا وَقَفَ عَلَيْهِ قَالَ فِيهِ مَيْمُونَةُ

حضرت عبداللہ بن عباس ؓسیدہ میمونہؓ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ کا گزر سیدہ میمونہؓ کی کنیز کی بکری کے پاس سے ہوا جو مردہ تھی اور وہ ان کی کنیز کوصدقے کے طور پر دی گئی تھی۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: اس کے مالک کوکوئی نقصان نہیں ہوگا اگر وہ اس کی کھال کو حاصل کر کے اس کی دباغت کر کے استعمال کرے انہوں نے عرض کی: یارسول الله (ﷺ)!یہ تو مردار ہے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اسے کھانا حرام قرار دیا گیا ہے۔ سفیان سے یہ کہا گیا ہے۔ معمر اس روایت کونقل کرتے ہوئے یہ الفاظ استعمال نہیں کرتے۔"وہ اس کی دباغت کرلیں"۔ وہ یہ کہتے ہیں :زہری دباغت کے الفاظ کا انکار کرتے تھے، تو سفیان نے کہا: میں نے تو اسے اسی طرح یاد رکھا ہے اور ہم اس روایت کے ان الفاظ کو بطور خاص توجہ کا مرکز بناتے ہیں جو ان کے علاوہ اور کسی نے نقل نہیں کیے یعنی یہ الفاظ کہ "اسے کھانا حرام قرار دیا گیا ہے"۔سفیان نامی راوی بعض اوقات اس میں سیدہ میمونہ ؓ کا تذکرہ نہیں کرتے جب انہیں اس پر تنبیہ کی گئی ہو، تو انہوں نے کہا : اس میں سیدہ میمونہ ؓ کا تذکرہ ہے۔

مَيْمُونَةَ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 317

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 318

318 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ فَغَسَلَ فَرْجَهُ بِيَدِهِ ثُمَّ دَلَّكَ بِهَا الْحَايِطَ ثُمَّ غَسَلَهَا ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ غَسَلَ رِجْلَيْهِ»

حضرت عبدالله بن عباس ؓسیدہ میمونہؓ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے غسل جنابت کرتے ہوئے اپنے دست مبارک کے ذریعے اپنی شرمگاہ کو دھویا پھر آپﷺنے اپناہاتھ دیوار پر ملا پھر آپﷺنے اسے دھویا پھر آپﷺنے نماز کے وضو کی طرح وضو کیا جب آپﷺغسل کر کے فارغ ہو گئے، تو آپﷺنے اپنے دونوں پاؤں دھو لیے۔

مَيْمُونَةَ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← كُرَيْبٍ، ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 318

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 319

319 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ بْنُ السَّبَّاقِ أَنَّهُ سَمِعَ جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ تَقُولُ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ: «هَلْ مِنْ طَعَامٍ؟» فَقُلْتُ: لَا إِلَّا عَظْمٌ قَدْ أُعْطِيَتْهُ مَوْلَاةٌ لَنَا مِنَ الصَّدَقَةِ، فَقَالَ النَّبِيًّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «قَرِّبِيهِ فَقَدْ بَلَغَتْ مَحِلَّهَا» قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَعْنِي لَيْسَ هِيَ الْآنَ صَدَقَةً

عبيد بن سباق بیان کرتے ہیں :انہوں نے سیدہ جویریہ بنت حارثؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے :ایک دن نبی اکرم ﷺمیرے ہاں تشریف لائے آپ ﷺنے دریافت کیا: کیا کچھ کھانے کے لیے ہے؟ میں نے عرض کی:جی نہیں ! صرف ایک ہڈی (والا گوشت ہے) جو ہماری کنیز کوصدقے کے طور پر دیا گیا تھا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:وہی لے آؤ کیونکہ وہ اپنی جگہ تک پہنچ گیاہے۔امام حمیدی ؒ کہتے ہیں: یعنی اب اس کی حیثیت صدقے کی نہیں رہی ہے۔

عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 319

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 320

320 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يَقُولُ: أَخْبَرَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَتْ: أَتَتْنِي أُمِّي رَاغِبَةً فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصِلُهَا؟ قَالَ «نَعَمْ» قَالَ سُفْيَانُ وَفِيهَا نَزَلَتْ {لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ} [الممتحنة: 8] الْآيَةَ

سیدہ اسماء بنت ابو بکرؓ بیان کرتی ہیں: قریش کے عہد میں میری والدہ (جو مسلمان نہیں ہوئی تھی) میرے پاس ( کچھ مالی امداد)کے لیے تشریف لائیں میں نے نبی اکرم ﷺسے دریافت کیا: کیا میں ان کے ساتھ اچھا سلوک کروں؟ نبی اکرم ﷺنے جواب دیا: جی ہاں۔سفیان کہتے ہیں: تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی :"الله تعالی ٰتمہیں ان لوگوں سے منع نہیں کرتا جو تمہارے ساتھ جنگ نہیں کرتے ہیں"۔

الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ} [الممتحنة: الْآيَةَ ← سُفْيَانُ وَفِيهَا نَزَلَتْ {لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ ← نَعَمْ ← أَتَتْنِي أُمِّي رَاغِبَةً فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ أَصِلُهَا؟ ← أَخْبَرَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ← أَبَاهُ ← هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 320

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 321

321 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ أَنَّهُ سَمِعَ امْرَأَتَهُ فَاطِمَةَ بِنْتَ الْمُنْذِرِ تُحَدِّثُ عَنْ جَدَّتِهَا أَسْمَاءَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يَنَلْ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ»

فاطمہ بنت منذر اپنی دادی سیده اسما ؓ کا یہ بیان نقل کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ نے یہ ارشادفرمایا ہے: "آدمی کے پاس جو کچھ نہ ہو ،اسے اپنے پاس موجود ظاہر کرنے والا اسی طرح ہے، جس طرح اس نے جھوٹ کے دوکپڑے پہنے ہوئے ہیں"۔

جدتها أسماء ← امْرَأَتَهُ فَاطِمَةَ بِنْتَ الْمُنْذِرِ تُحَدِّثُ ← هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 321

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 322

322 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ: ثنا بِشْرٌ قَالَ: ثنا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ أَنَّهُ سَمِعَ امْرَأَتَهُ فَاطِمَةَ بِنْتَ الْمُنْذِرِ تُحَدِّثُ أَنَّهَا سَمِعَتْ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ تَقُولُ: إِنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ دَمِ الْحَيْضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حُتِّيهِ ثُمَّ اقْرُصِيهِ بِالْمَاءِ ثُمَّ رُشِّيهِ بِالْمَاءِ وَصَلِّي فِيهِ»

فاطمہ بنت منذر بیان کرتی ہیں. انہوں نے سیدہ اسماء بنت ابوبکرؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا: ایک خاتون نے نبی اکرم ﷺ سے حیض کے خون کے بارے میں دریافت کیا: جو کپڑے پرلگ جاتا ہے، تو نبی اکرم ﷺنے فرمایا: تم اسے کھرچ دواور پھر پانی کے ذریعےدھو دو پھراس پر پانی چھڑ کو اور اس میں نماز ادا کرلو۔

دَمِ الْحَيْضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ ← أسماء بنت أبي بكر تقول أن امرأة سألت رسول الله ← امْرَأَتَهُ فَاطِمَةَ بِنْتَ الْمُنْذِرِ تُحَدِّثُ أَنَّهَا ← هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرٌ، ← مُحَمَّدٍ

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 322

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 323

323 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ أَنَّهُ سَمِعَ فَاطِمَةَ بِنْتَ الْمُنْذِرِ تَقُولُ سَمِعْتُ أَسْمَاءَ تَقُولُ: سَأَلَتِ امْرَأَةٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنَتِي أَصَابَتْهَا الْحَصْبَةُ فَأَمْرَقَ شَعْرُهَا، وَإِنِّي زَوَّجْتُهَا أَفَأَصِلُ فِيهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمَوْصُولَةَ»

سیدہ اسماء ؓبیان کرتی ہیں: ایک خاتون نے نبی اکرم ﷺسے سوال کیا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! میری بیٹی کو بخار ہوا جس کے نتیجے میں اس کے بال گر گئے اب میں نے اس کی شادی کرنی ہے کیا میں اسے مصنوعی بال لگوادوں؟ نبی اکرم ﷺنےارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مصنوعی بال لگانے والی اور جس کے مصنوعی بال لگائے جائیں ان پر لعنت کی ہے۔

أَسْمَاءَ تَقُولُ: سَأَلَتِ امْرَأَةٌ رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَتْ: ← فَاطِمَةَ بِنْتَ الْمُنْذِرِ تَقُولُ ← هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 323

chevron_left Previous
1…262728…63
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter