Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْمُهَا هِنْدُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 300

300 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مْنَ الْحَقِّ هَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ مِنْ غُسْلٍ إِذَا هِيَ احْتَلَمَتْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا رَأَتْ إِحْدَاكُنَّ الْمَاءَ فَلْتَغْسِلْ» فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: وَهَلْ تَحْتَلِمُ الْمَرْأَةُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَرِبَتْ يَمِينُكِ فَبِمَ يَكُونُ الشَّبَهُ؟

سیدہ زینب بنت ابوسلمہ ؓ اپنی والدہ سیدہ ام سلمہ ؓ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، نبی اکرمﷺ میرے ہاں تشریف لائے وہاں ایک ہیجڑا موجود تھا۔ نبی اکرم ﷺنے اسے عبد الله بن ابوامیہ کو یہ کہتے ہوئے سنا:اے عبداللہ!اگر الله تعالیٰ نے آئندہ تمہارے لیے طائف کوفتح کر دیا توتم غیلان کی بیٹی کو ضرور حاصل کرنا کیونکہ وہ بڑی صحت مند(اور خوبصورت جسم کی مالک) ہے راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا:یہ (ہیجڑے ) تمہارے ہاں نہ آیا کریں ۔سفیان کہتے ہیں: ابن جریج نے یہ بات بیان کی اس ہیجْرے کا نام"ہیت‘‘ تھا۔

أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَتْ: ← زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 300

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْمُهَا هِنْدُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 301

301 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ مَوْلَى لِأُمِّ سَلَمَةَ [ص:310]، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ بَعْدَ الصُّبْحِ «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا طَيِّبًا، وَعَمَلًا مَقْبُوَلًا»

سیدہ زینب بنت ابوسلمہؓ اپنی والدہ سیدہ ام سلمہؓ کا یہ بیان نقل کرتی ہیں۔ سیدہ ام سلمہؓ نے نبی اکرمﷺ سے یہ مسئلہ دریافت کیا: انہوں نے عرض کی یارسول الله (ﷺ)!الله تعالیٰ حق بات سے حیانہیں کرتا اگر عورت کو احتلام ہو جائے ،تو کیا اس پر غسل کر نالا زم ہوگا؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر کوئی عورت پانی دیکھتی ہے، تو اسے غسل کرنا پڑے گا ۔سیدہ ام سلمہؓ نے عرض کی: کیا عورت کوبھی احتلام ہوتا ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تمہارا ہاتھ خاک آلود ہو پھر (بچے کی اس کے ساتھ) مشابہت کس بنیاد پر ہوتی ہے؟

أُمِّ سَلَمَةَ ← مَوْلَى لِأُمِّ سَلَمَةَ [ص:310]، ← مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ← عَمْرُو بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 301

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْمُهَا هِنْدُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 302

302 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي سَلَمَةُ - رَجُلٌ مِنْ وَلَدِ أُمِّ سَلَمَةَ - أَنَّ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ خَاصَمَ رَجُلًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «فَقَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ» فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنَّمَا قَضَى لَهُ لِأَنَّهُ ابْنُ عَمَّتِهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {فَلَا وَرِبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} [النساء: 65]

سیدہ ام سلمہؓ بیان کرتی ہیں ،نبی اکرم ﷺصبح کے بعد یہ پڑھتے تھے۔ "اے اللہ !میں تجھ سے نفع دینے والے علم ،پاکیزہ رزق اور قبول ہونے والے عمل کا سوال کرتا ہوں۔"

سَلَمَةُ، رَجُلٌ مِنْ وَلَدِ أُمِّ سَلَمَةَ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 302

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْمُهَا هِنْدُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 303

303 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي سَلَمَةُ - رَجُلٌ مِنْ وَلَدِ أُمِّ سَلَمَةَ - عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا أَسْمَعُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ذَكَرَ النِّسَاءَ فِي الْهِجْرَةِ بِشَيْءٍ " فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّي لَا أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِنْكُمْ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى} [آل عمران: 195] " الْآيَةَ

سیدہ ام سلمہ ؓ کی اولاد سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب سلمہ بیان کرتے ہیں: حضرت زبیر بن عوام ؓ ٰ کا ایک شخص کے ساتھ جھگڑا ہوگیا وہ اپنا مقدمہ لے کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آئے، تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت زبیر ؓ کے حق میں فیصلہ دے دیا تو وہ شخص بولا :آپ ﷺنے ان کے حق میں اس لیے فیصلہ دیا ہے کیو نکہ یہ آپ ﷺ کے پھوپھی زاد ہیں،تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : "تمہارے پروردگار کی قسم یہ لوگ اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتے جب تک آپس کے اختلافی معاملات میں تمہیں حاکم تسلیم نہیں کرتے اور پھر تم نے جو فیصلہ دیا ہو اس کے بارے میں اپنے من میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتےاوراسے مکمل طور پر تسلیم نہیں کرتے ہیں۔"

أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا ← سَلَمَةُ، رَجُلٌ مِنْ وَلَدِ أُمِّ سَلَمَةَ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 303

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْمُهَا هِنْدُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 304

304 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ [ص:311]، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ تُسْتَحَاضُ فَسَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ «إِنَّهُ لَيْسَ بِالْحَيْضَةِ، وَلَكِنَّهُ عِرْقٌ وَأَمَرَهَا أَنْ تَدَعَ الصَّلَاةَ قَدْرَ أَقْرَائِهَا أَوْ قَدْرَ حَيْضَتِهَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ، فَإِنْ غَلَبَهَا الدَّمُ اسْتَدْفَرَتْ بِثَوْبٍ وَصَلَّتْ»

سیدہ ام سلمہؓ بیان کرتی ہیں، انہوں نے عرض کی یارسول الله (ﷺ )! میں نے یہ نہیں سنا کہ الله تعالیٰ نے ہجرت کے حوالے سے خواتین کا تذکرہ کیا ہو،تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : "تو ان کے پروردگار نے ان کی دعا کوقبول کیا ،تو میں تمہارے عمل کرنے والوں میں سے کسی کے عمل کو ضائع نہیں کروں گا خواہ وہ مذکرر ہو یا مؤنث۔"

كَانَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ تُسْتَحَاضُ فَسَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ ← أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ [ص:447]، ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 304

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْمُهَا هِنْدُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 305

305 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا فُضَيلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ قَالَ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَزِلَّ، أَوْ أَضِلَّ، أَوْ أَظْلِمَ، أَوْ أُظْلَمَ، أَوْ أَجْهَلَ، أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ»

سیدہ ام سلمہ ؓبیان کرتی ہیں، نبی اکرمﷺجب گھر سے باہر تشریف لے جاتے تھے، تویہ پڑھتے تھے۔ ”اے اللہ میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں پھسل جاؤں ،یا مجھے گمراہ کر دیا جائے یا میں ظلم کروں ،یا میرے اوپر ظلم کیا جائے یا میں جہالت کا مظاہرہ کروں ، یا میرے خلاف جہالت کا مظاہرہ کیا جائے ۔"

أُمِّ سَلَمَةَ ← الشَّعْبِيِّ، ← مَنْصُورٌ، ← فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 305

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْمُهَا هِنْدُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 306

306 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنَتِي مَاتَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَإِنَّهَا تَشْتَكِي عَيْنَهَا، أَفَتَكْتَحِلُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ لَتَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ وَإِنَّمَا هِيَ الْآنَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ» قَالَ يَحْيَى فَقُلْتُ لِحُمَيِدِ بْنِ نَافِعٍ مَا قَوْلُهُ: إِنْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ لَتَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ؟ فَقَالَ: كَانَتِ الْمَرْأَةُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَلْبَسُ مِنْ ثِيَابِهَا أَطْمَارَهَا مِنْ أَدْنَى ثِيَابِهَا ثُمَّ تَدْخُلُ أَدْنَى بُيُوتِهَا فَإِذَا كَانَ عِنْدَ رَأْسِ الْحَوْلِ أَخَذَتْ بَعْرَةً فَرَمَتْ بِهَا عَلَى ظَهْرِ غَيْرِهَا كَذَا وَرُبَّمَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِلَى خَلْفٍ وَقَالَتْ: قَدْ حَلَلْتُ

سید ہ ز ینب بنت ابو سلمہ ؓاپنی والدہ سیدہ ام سلمہؓ کا یہ بیان نقل کرتی ہیں : ایک خاتون نبی اکرمﷺکی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی :یا رسول اللہ (ﷺ)! میری بیٹی کا شو ہر انتقال کر گیا ہے اور میری بیٹی کی آنکھوں میں تکلیف ہے، تو کیا وہ سرمہ لگا لے ،تو نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا: پہلے کوئی عورت ایک سال گزرنے کے بعد مینگنی پھینکتی تھی (یعنی ایک سال بعد اس کی عدت ختم ہوتی تھی) یہ تو چار ماہ دس دن ہیں۔ یحییٰ کہتے ہیں : میں نے حمید بن نافع سے دریافت کیا: نبی اکرمﷺکی ان الفاظ سے مراد کیا ہے، پہلے کوئی عورت ایک سال گزرنے کے بعدمینگنی پھینکتی تھی ،تو انہوں نے بتایا: زمانہ جاہلیت میں کوئی عورت (سوگ کے دوران) انتہائی برے کپڑے پہن لیتی تھی پھر وہ گھر کے دور دراز کے کمرے میں چلی جاتی تھی ایک سال گزر جانے کے بعد وہ مینگنی لے کر اسے اپنی پشت کے پچھے پھینکتی تھی یہاں امام حمیدیؒ نے بعض اوقات یہ الفاظ نقل کیے ہیں وہ اپنے پیچھے پھینکتی تھی اور یہ کہتی تھی میں حلال ہوگئی ہوں۔

أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ فَقَالَتْ: ← زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، ← حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 306

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 307

307 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَا: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ شَوَّالٍ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ: «كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُغْلِسُ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ إِلَى مِنًى» قَالَ سُفْيَانُ وَسَالِمُ بْنُ شَوَّالِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ لَمْ نَسْمَعْ أَحَدًا يُحَدِّثُ عَنْهُ إِلَّا عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ هَذَا الْحَدِيثَ

نبی اکرمﷺکی زوجہ محترمہ سیدہ ام حبیبہؓ بیان کرتی ہیں ،ہم لوگ نبی اکرم ﷺکے زمانہ اقدس میں یہ کرتے تھے کہ صبح اندھیرے میں ہی مزدلفہ سے منیٰ کی طرف روانہ ہو جاتے تھے۔ سفیان کہتے ہیں : سالم بن شوال نامی راوی مکہ سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب ہیں میں نے ایسے کسی شخص کونہیں سنا جس نے ان کے حوالے سے روایات بیان کی ہوں صرف عمرو بن دینار نے ان کے حوالے سے یہ روایت بیان کی ہے۔

عَنْهُ إِلَّا عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ هَذَا الْحَدِيثَ ← سُفْيَانُ وَسَالِمُ بْنُ شَوَّالِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ لَمْ نَسْمَعْ أَحَدًا ← «كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ نُغْلِسُ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ إِلَى مِنًى» ← أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجَةِ النَّبِيِّ أَنَّهَا ← سَالِمِ بْنِ شَوَّالٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 307

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 308

308 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ قَالَتْ: لَمَّا جَاءَ نَعْيُ أَبِي سُفْيَانَ مِنَ الشَّامِ دَعَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِصُفْرَةٍ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ فَمَسَحَتْ بِهِ عَارِضَيْهَا وَذِرَاعَيْهَا، وَقَالَتْ: إِنِّي كُنْتُ عَنْ هَذَا لَغَنِيَّةٌ لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا» فَقِيلَ لِسُفْيَانَ فَإِنَّ مَالِكًا يَقُولُ فِيهِ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَعَنْ صَفِيَّةَ، وَأُمِّ حَبِيبَةَ [ص:314] فَقَالَ سُفْيَانُ مَا قَالَ لَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى إِلَّا أُمَّ حَبِيبَةَ

سیدہ زینب بنت ابوسلمہؓ بیان کرتی ہیں، جب حضرت ابوسفیانؓ کے انتقال کی اطلاع شام سے آئی تو سیده ام حبیبہؓ نے تیسرے دن زردرنگ منگوایا اور اسے اپنے رخساروں اور کلائیوں پر لگایا اور یہ بات بیان کی مجھے اس کی ضرورت نہیں تھی، لیکن میں نے نبی اکرم ﷺکویہ ارشادفرماتے ہوئے سناہے: "الله تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی کسی بھی عورت کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے ،وہ کسی کے مرنے پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے البتہ اس کے شوہرکا حکم مختلف ہے کیونکہ وہ اس پر چار ماہ دس دن سوگ کرے گی۔“ سفیان سےیہ کہا گیا: امام مالک نے اس روایت کے بارے میں یہ کہا ہے ،یہ حمید بن نافع کے حوالے سے سیدہ زینب بنت جحشؓ سے یاسیدہ صفیہ ؓسے یا سیدہ ام جیبہ ؓسے منقول ہے ،تو سفیان نے کہا: ایوب بن موسی ٰ نے ہمیں یہ روایت سناتے ہوئے صرف سیدہ ام حبیبہ ؓکا تذکرہ کیا ہے۔

زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، ← حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ ← أَيُّوبَ بْنِ مُوسَی ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 308

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 309

309 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لَكَ فِي دُرَّةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ؟ قَالَ «فَأَفْعَلُ مَاذَا» ؟ قَالَتْ: قُلْتُ: تَنْكِحُهَا قَالَ: «أَوَتُحِبِّينَ ذَلِكَ» ؟ قُلْتُ: لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ وَأَحَبُّ مَنْ يُشْرِكُنِي فِيكَ أُخْتِي قَالَ: «فَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي» قُلْتُ فَإِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَخْطُبُ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ فَقَالَ: «ابْنَةُ أُمِّ سَلَمَةَ» ؟ قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: «فَوَاللَّهِ لَوْ لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حِجْرِي مَا حَلَّتْ لِي لَقَدْ أَرْضَعَتْنِي وَأَبَاهَا ثُوَيْبَةُ فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ»

سیدہ زینب بنت ابوسلمؓہ سیدہ بنت ام حبیبہؓ کا یہ بیان نقل کرتی ہیں انہوں نے عرض کی: یارسول اللہ(ﷺ)!کیا آپ ﷺکوابوسفیان کی صاجزادی "درہ "میں دلچسپی ہے؟ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: میں کیا کروں؟ سیدہ ام حبیبہؓ نے عرض کی آپ ﷺاس کے ساتھ شادی کر لیں نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: کیا تمہیں یہ بات پسند ہے؟ میں نے جواب دیا : میں آپ ﷺ کی اکلوتی بیوی نہیں ہوں میں یہ چاہتی ہوں کہ میری بہن بھی میری شراکت دار ہو جائے ۔ بنی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ میرے لیے حلال نہیں ہے، تو میں نے عرض کی مجھے تو یہ پتہ چلا ہے ، آپ ﷺزینب بنت ابو سلمہ کے لیے نکاح کا پیغام بھیجنے والے ہیں۔ نبی اکرمﷺنے دریافت کیا:ام سلمہ کی بیٹی کے لیے؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر وہ میری سوتیلی بیٹی نہ ہوتی تو بھی میرے لیے حلال نہ ہوتی، تو بھی میرے لیے حلال نہ ہو تی کیونکہ مجھے اور اس کے والد کوثویبہ نے دودھ پلایا ہے ،تم لوگ اپنی بیٹیوں یا بہنوں کا رشتہ میرے سامنے نہ پیش کیا کرو۔

أم حبيبة زوج النبي أنها ← زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 309

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ الْأَسَدِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 310

310 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ لَا نَحْتَاجُ فِيهِ إِلَى أَحَدٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ أُمِّ حَبِيبَةَ عَنْ أُمِّهَا أُمِّ حَبِيبَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ قَالَتْ: اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَوْمٍ وَهُوَ مُحْمَرٌّ وَجْهُهُ وَهُوَ يَقُولُ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَيْلٌ لِلْعَرْبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ؛ فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ» وَعَقَدَ سُفْيَانُ عَشَرَةً، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ؟ قَالَ: «نَعَمْ إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ» قَالَ سُفْيَانُ: أَحْفَظُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَرْبَعَ نِسْوَةٍ مِنَ الزُّهْرِيِّ وَقَدْ رَأَيْنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثِنْتَيْنِ مِنْ أَزْوَاجِهِ أُمُّ حَبِيبَةَ وَزَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ وَثِنْتَيْنِ رَبِيبَتَاهُ زَيْنَبُ بِنْتُ أُمِّ سَلَمَةَ وَحَبِيبَةُ بِنْتُ أُمِّ حَبِيبَةَ أَبُوهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَحْشٍ مَاتَ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ

سیدہ زینب بنت ابوسلمہؓ سیده حبیبہ بنت ام حبیبہؓ کے حوالے سے ان کی والدہ سیدہ ام حبیبہؓ کے حوالے سے سیدہ زینب بنت جحش ؓکا یہ بیان نقل کرتی ہیں ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺنیند سے بیدار ہوئے ،تو آپ ﷺکا چہرہ مبارک سرخ تھا ، اور آپ ﷺیہ فرمارہے تھے۔ "الله تعالی ٰکے علاوہ اور کوئی معبودنہیں ہے، اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبودنہیں ہے، عربوں کے لیے اس شر کے حوالے سے بربادی ہے ،جوقریب آچکا ہے آج یاجوج ماجوج کی رکاوٹ کا اتنا حصہ کھل گیا ہے"۔ سفیان نامی راوی نے دس کا نشان بنا کر یہ بات بتائی۔ میں نے عرض کی :یارسول الله (ﷺ)! کیا ہم لوگ ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے ،جبکہ ہمارے درمیان نیک لوگ بھی موجود ہوں گے؟ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: جی ہاں!جب برائی زیادہ ہو جائے گی (توسب لوگ ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے) سفیان کہتے ہیں : میری یاداشت کے مطابق اس روایت میں چار خواتین کا تذکرہ ہے اور یہ سب صحابیات ہیں ان میں سے دو نبی اکرم ﷺکی ازواج ہیں سیدہ ام حبیبہؓ ا ور سیدہ زینب بنت جحشؓ اور دو نبی اکرم ﷺکی سوتیلی صاحبزادیاں ہیں یعنی سیدہ زینب بنت ام سلمہ ؓاو رسیده حبیبہ بنت ام حبیبہؓ ۔ ان کے والد کا نام عبیداللہ بن جحش ؓتھا جن کا انتقال حبشہ کی سرزمین پر ہوا تھا۔

اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ مِنْ نَوْمٍ وَهُوَ مُحْمَرٌّ وَجْهُهُ وَهُوَ ← زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ ← أُمِّهَا أُمِّ حَبِيبَةَ، ← حَبِيبَةَ بِنْتِ أُمِّ حَبِيبَةَ ← زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيُّ لَا نَحْتَاجُ فِيهِ إِلَى أَحَدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 310

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا · حديث 311

311 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الشَّعْثَاءِ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: أَخْبَرَتْنِي مَيْمُونَةُ «أَنَّهَا كَانَتْ تَغْتَسِلُ هِيَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ» ثُمَّ قَالَ سُفْيَانَ: هَذَا الْإِسْنَادُ كَانَ يُعْجِبُ شُعْبَةَ سَمِعْتُ، أَخْبَرَنِي، سَمِعْتُ، أَخْبَرَنِي كَأَنَّهُ اشْتَهَى تَوْصِيلَهُ

حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں : سیدہ میمونہ ؓ نے مجھے یہ بات بتائی کہ وہ اور نبی اکرم ﷺایک ہی برتن سے غسل کر لیا کرتے تھے۔سفیان نے یہ بات بیان کی اس سند کو شعبہ بہت پسند کرتے تھے (جس میں یہ الفاظ ہیں)"میں نے سنا انہوں نے مجھے بتایا ، میں نے سنا انہوں نے مجھے بتایا"۔گویا ,وہ اس بات کے خواہش مند تھے کہ یہ روایت موصول ہو جائے۔

كَأَنَّهُ اشْتَهَى تَوْصِيلَهُ ← سُفْيَانَ: هَذَا الْإِسْنَادُ كَانَ يُعْجِبُ شُعْبَةَ ← أَخْبَرَتْنِي مَيْمُونَةُ «أَنَّهَا كَانَتْ تَغْتَسِلُ هِيَ وَالنَّبِيُّ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ» ثُمَّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبُو الشَّعْثَاءِ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّهُ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 311

chevron_left Previous
1…252627…63
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter