Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 240

240 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ: اخْتَصَمَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَمْعَةَ فِي ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَخِي عُتْبَةَ أَوْصَانِي فَقَالَ: إِذَا قَدِمْتَ مَكَّةَ فَانْظُرِ ابْنَ أَمَةِ زَمْعَةَ فَاقْبِضْهُ فَإِنَّهُ ابْنِي، وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَمْعَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخِي وَابْنُ أَمَةِ أَبِي، وَوُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ وَقَالَ: «هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ» [ص:278] فَقِيلَ لِسُفْيَانَ فَإِنَّ مَالِكًا يَقُولُ: وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، فَقَالَ سُفْيَانُ لَكِنَّا لَمْ نَحْفَظْ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں، نبی اکرم ﷺکے سامنے سعد بن ابی وقاص ؓاورعبد بن زمعہ نے مقدمہ پیش کیا جوز معد کی کنیز کے بیٹے کے بارے میں تھا۔ حضرت سعدؓ نے عرض کی : یا رسول الله(ﷺ)! میرے بھائی عتبہ نے مجھےو صیت کی تھی اس نے یہ کہا تھا کہ جب تم مکہ جاوتو زمعہ کی کنیز کے بیٹے کا جائزہ لینا اور اسے اپنے قبضے میں لے لینا کیونکہ وہ میرا بیٹا ہے تو عبد بن زمعہ نے عرض کی :یارسول الله (ﷺ)!وہ میرا بھائی ہے میرے والد کی کنیز کا بیٹا ہے جو میرے والد کے فراش پر پیدا ہوا ہے (راوی کہتے ہیں) نبی اکرم ﷺنے اس بچے کی عتبہ کے ساتھ واضح مشابہت ملاحظ فرمالی لیکن آپ ﷺنے ارشادفرمایا: اے عبدبن زمعہ !یہ تمہیں ملے گا کیونکہ بچہ فراش والے کوملتا ہے۔اے سودہ! تم اس سے پردہ کرو۔ سفیان سے کہا گیا :امام مالک تو اس روایت میں یہ الفاظ بھی نقل کرتے ہیں۔"زنا کرنے والے کومحرومی ملتی ہے۔“تو سفیان نے کہا: ہم نے زہری سے یہ الفاظ یاد نہیں رکھے ہیں کہ انہوں نے اس روایت میں یہ الفاظ بھی بیان کیے ہیں۔

سَعْدٍ، ← قَّاصٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَمْعَةَ فِي ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ ← عَائِشَةَ تَقُولُ: اخْتَصَمَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ سَعْدُ بْنُ أَبِي ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 240

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 241

241 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مَسْرُورًا فَقَالَ: " يَا عَائِشَةُ أَلَمْ تُرِي أَنَّ مُجَزِّزًا الْمُدْلِجِيَّ دَخَلَ عَلَيَّ فَرَأَى زَيْدًا وَأُسَامَةَ وَعَلَيْهِمَا قَطِيفَةٌ قَدْ غَطَّيَا رُءُوسَهُمَا وَبَدَتْ أَقْدَامُهُمَا، فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ الْأَقْدَامُ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ "

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں ،ایک دن نبی اکرم ﷺبہت خوش میرے ہاں تشریف لائے آپ ﷺنے فرمایا : اے عائشہؓ! کیا تمہیں پتہ ہے محزز مدلجی میرے پاس آیا اس نے زید اور اسامہ کودیکھا ان پر چادر پڑی ہوئی تھی جس نے ان کے سروں کو ڈھانپا ہوا تھا اور ان دونوں کے پاؤں ظاہر تھے؟ تو وہ بولا یہ باپ بیٹے کے پاؤں ہیں۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 241

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 242

242 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا وَقَالَ سُفْيَانُ: وَسَمِعْتُ ابْنَ جُرَيْجٍ يُحَدِّثُ بِهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ فَقَالَ فِيهِ: «أَلَمْ تَرَى أَنَّ مُحَرِّزًا الْمُدْلِجِيَّ» فَقُلْتُ: يَا أَبَا الْوَلِيدِ إِنَّمَا هُوَ مُجَزِّزٌ الْمُدْلِجِيُّ فَانْكَسَرَ وَرَجَعَ

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کیا تم نے محززمد لجی کو دیکھا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے اپنے استاد سے کہا: اے ابوالولید اس کا نام محززمد لجی ہے ،تو انہوں نے انکساری کا مظاہرہ کرتےہوئے(اپنی غلطی سے) رجوع کرلیا۔

الزُّهْرِيِّ، ← بِهِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 242

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 243

243 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ فَأُعْتِقَهَا فَاشْتَرَطَ عَلَيَّ مَوَالِيهَا أَنْ أَعْتِقَهَا وَيَكُونُ الْوَلَاءُ لَهُمْ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: «اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ» ، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ: «مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ؟ فَمَنْ شَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَلَيْسَ لَهُ، وَإِنْ شَرَطَ مِائَةَ مَرَّةٍ، إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں، میں نے بریرہ کوخریدنے کا ارادہ کیا تاکہ اسے آزاد کر دوں تو اس کے مالکان نے یہ شرط عائد کی کہ میں اسے آزاد کر دوں گی لیکن ولاءان کے لیے رہے گی میں نے اس کی بارے میں نبی اکرم ﷺسے دریافت کیا، تو آپ ﷺنے فرمایا:تم اسے خرید کر اسے آزاد کر دو ،کیونکہ ولا ءکا حق آزاد کرنے والے کوملتا ہے، پھر نبی اکرم ﷺنے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشادفرمایا:"لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، وہ ایسی شرائط عائد کرتے ہیں، جن کی اجازت اللہ کی کتاب میں نہیں ہے ،تو جوشخص کوئی ایسی شرط عائد کرے جس کی اجازت اللہ کی کتاب میں نہیں ہے تو اسےحق نہیں ہوگا اگر چہ اس نے سومرتبہ یہ شرط عائد کی ہو،ولاء کاحق آزاد کرنے والے کوملتا ہے۔“

أَرَدْتُ ← عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 243

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 244

244 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ هِنْدَ بِنْتَ عُتْبَةَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ وَلَيْسَ لِي مِنْهُ إِلَّا مَا أُدْخِلَ بَيْتِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں، ہند بنت عتبہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں انہوں نے عرض کی: یا رسول الله (ﷺ)!ابوسفیان ایک کنجوس آدمی ہے مجھے ان کی طرف سے وہی کچھ ملتا ہے، جو وہ گھر میں لا کر دے دیتے ہیں لیکن مجھے مزید خرچ کی ضرورت ہوتی ہے تو نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا:تم اتنا حاصل کر لیا کرو جو تمہارے اور تمہاری اولاد کے لیےمناسب طور پر کافی ہو۔

عَائِشَةَ أَنَّ هِنْدَ بِنْتَ عُتْبَةَ أَتَتِ النَّبِيَّ فَقَالَتْ: ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 244

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 245

245 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَأَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ لَتَصَدَّقَتْ فَهَلْ لَهَا مِنْ أَجْرٍ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا؟ قَالَ «نَعَمْ» قَالَ سُفْيَانُ: وَحَفِظَهُ النَّاسُ عَنْ هِشَامٍ كَلِمَةً لَمْ أَحْفَظْهَا أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ أُمِّي افْتَلَتَتْ نَفْسُهَا فَمَاتَتْ وَلَمْ أَحْفَظْ مِنْ هِشَامٍ إِنَّمَا هَذِهِ الْكَلِمَةُ أَخْبَرَنِيهَا أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ عَنْ هِشَامٍ

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں، ایک صاحب نے نبی اکرمﷺکی خدمت میں عرض کی: میری والدہ کاانتقال ہوگیا ہے ان کے بارے میں میرایہ گمان ہے ،اگر انہیں بات کرنے کا موقع ملتا تو وہ صدقہ کرنے کے لیے کہتیں اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کردوں ،تو کیا انہیں اجر ملے گا؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جی ہاں۔ یہاں سفیان نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے لوگوں نے ہشام کے حوالے سے ایک کلمہ یاد رکھا ہے ،جسے میں، یاد نہیں رکھ سکا ان صاحب نے یہ عرض کی تھی میری والدہ کا اچانک انتقال ہوگیا لیکن ہشام کے حوالے سے مجھے یہ لفظ یاد نہیں ہیں۔ ایوب سختیانی نے ہشام کے حوالے سے اس لفظ کے بارے میں مجھے بتایا ہے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 245

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 246

246 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ»

سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺقرض کے غلبے سے پناہ مانگا کرتے تھے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 246

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 247

247 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَلَمْ يَسْمَعْهُ سُفْيَانُ مِنَ الزُّهْرِيِّ

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔امام حمیدی ؒ کہتے ہیں : سفیان نے یہ روایت زہری سے نہیں سنی ہے۔

أَبُو بَكْرٍ: وَلَمْ يَسْمَعْهُ سُفْيَانُ مِنَ الزُّهْرِيِّ ← النَّبِیِّ بمثلہ۔ ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 247

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 248

248 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَمَّةٍ لَهُ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِكُمْ فَكُلُوا مِنْ كَسْبِكُمْ»

سیدہ عائشہ ؓبیان کرتی ہیں، نبی اکرم ﷺنے یہ بات ارشادفرمائی ہے:تمہاری اولا تمہاری سب سے عمدہ کمائی ہے ،تو تم اپنی کمائی میں سے کھالو۔

عَائِشَةَ ← عَمَّةٍ لَهُ ← عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 248

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 249

249 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ قَالَ: جَلَسَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِلَى جَنْبِ حُجْرَةِ عَائِشَةَ وَهِيَ تُصَلِّي فَجَعَلَ يُحَدِّثُ وَيَقُولُ: اسْمَعِي يَا رَبَّةَ الْحُجْرَةِ [ص:282]، فَلَمَّا قَضَتْ صَلَاتَهَا، قَالَتْ لِي: يَا ابْنَ أُخْتِي أَلَا تَعْجَبُ إِلَى هَذَا وَإِلَى حَدِيثِهِ «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا كَانَ يُحَدِّثُ حَدِيثًا لَوْ عَدَّهُ الْعَادُّ أَحْصَاهُ» قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَمْ يَسْمَعْهُ سُفْيَانُ مِنَ الزُّهْرِيِّ

عروہ بیان کرتے ہیں: حضرت ابو ہریرہ ؓسیدہ عائشہؓ کے حجرے کے پاس آ کر بیٹھے وہ اس وقت نماز ادا کررہی تھیں حضرت ابو ہریرہؓ نے حدیث بیان کرنی شروع کی اور یہ کہنے لگے: اے اس حجرے کی مالک خاتون! آپ سنیے جب سیدہ عائشہ ؓنے نماز مکمل کی، تو انہوں نے مجھ سے کہا: اے میرے بھانجے ! کیا تمہیں اس شخص پر اور اس کے طرز بیان پر حیرت نہیں ہورہی؟ نبی اکرم ﷺجب کوئی بات کرتے تھے ،تو اگر کوئی گننے والا ( آپ ﷺکے الفاظ کو) گنناچاہتاتو وہ گن سکتا تھا (یعنی نبی اکرم ﷺٹھہر، ٹھہر کر بیان کرتے تھے) امام حمیدی ؒ کہتے ہیں : سفیان نے یہ روایت بھی زہری سے نہیں سنی ہے۔

لي: يا ابن أختي! ألا تعجب إلى هذا وإلى حديثه؟ ← وَيَقُولُ: اسْمَعِي يَا رَبَّةَ الْحُجْرَةِ [ص:282]، فَلَمَّا قَضَتْ صَلَاتَهَا، ← جَلَسَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِلَى جَنْبِ حُجْرَةِ عَائِشَةَ وَهِيَ تُصَلِّي فَجَعَلَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 249

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 250

250 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَهْطًا مِنَ الْيَهُودِ دَخَلُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكَ أَبَا الْقَاسِمِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكُمْ» فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ: بَلْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ» قَالَتْ: قُلْتُ: أَوَلَمْ تَسْمَعْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا قَالُوا؟ قَالُوا: السَّامُ عَلَيْكُمْ فَقَالَ: «قَدْ قُلْتُ عَلَيْكُمْ» قَالَ أَبُو بَكْرٍ وَكَانَ سُفْيَانُ رُبَّمَا قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ «وَعَلَيْكُمْ» فَإِذَا وَقَفَ عَلَيْهِ تَرَكَ الْوَاوَ

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓبیان کرتی ہیں، کچھ یہودی نبی اکرمﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے کہا : اےابوالقاسم سام علیک تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا علیکم (تمہیں بھی آئے) سیدہ عائشہؓ نے انہیں کہا: بلکہ تم کو موت بھی آئے اورتم پرلعنت بھی ہو۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے عائشہ!الله تعالیٰ ہر معاملے میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔ سیدہ عائشہؓ کہتی ہیں: میں نے عرض کی یارسول اللہ(ﷺ)! کیا آپ ﷺنے سنا نہیں؟انہوں کیا کہا ہے ؟انہوں نے کہا ہے :آپ ﷺکو موت آئے ۔نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :تو میں نے یہ کہہ دیا ہے "تمہیں بھی آئے "۔ امام حمیدی ؒ کہتے ہیں: سفيان بعض اوقات اس روایت میں یہ الفاظ کہتے تھے "اور تمہیں بھی آئے "تو جب انہیں اس پرتنبیہ کی گئی تو انہوں نے حرف "و"کو ترک کر دیا ۔

قُلْتُ: أَوَلَمْ تَسْمَعْ ← النَّبِيُّ «يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ» ← عَائِشَةُ فَقُلْتُ: بَلْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ، ← النَّبِيُّ «عَلَيْكُمْ»، ← السَّامُ عَلَيْكَ أَبَا الْقَاسِمِ ← عَائِشَةَ أَنَّ رَهْطًا مِنَ الْيَهُودِ دَخَلُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 250

مسند الحميدي · کتاب ‹ فی الأقضیۃ عن عائشۃ رضی اللہ عنھا · حديث 251

251 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهُ سَمِعَهَا تَقُولُ: اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ايذَنُوا لَهُ فَبِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ» أَوْ قَالَ: «أَخُو الْعَشِيرَةِ» فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ أَلَانَ لَهُ الْقَوْلَ، فَلَمَّا خَرَجَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْتُ لَهُ الَّذِي قُلْتَ ثُمَّ أَلَنْتَ لَهُ الْقَوْلَ فَقَالَ: «يَا عَائِشَةُ إِنَّ شَرَّ النَّاسِ مَنْزِلَةً عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ تَرَكَهُ النَّاسُ» أَوْ قَالَ «وَدَعَهُ النَّاسُ اتِّقَاءَ فُحْشِهِ» قَالَ سُفْيَانُ: فَقُلْتُ لِمُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ: رَأَيْتُكَ أَنْتَ أَبَدًا تَشُكُّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ

سیده عائشہ صدیقہ ؓبیان کرتی ہیں، نبی اکرم ﷺکے ہاں ایک صاحب نے اندر آنے کی اجازت مانگی۔نبی اکرمﷺ نے فرمایا :اسے اندر آنے کی اجازت دے دو! یہ اپنے خاندان کا انتہائی برا شخص ہے (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) جب وہ شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا نبی اکرمﷺنے اس کے ساتھ نرمی سے بات کی جب وہ شخص چلا گیاتو میں نے عرض کی:یارسول الله(ﷺ)! آپﷺنے اس کے بارے میں پہلے ایک بات کہی تھی پھر آپﷺنے اس کے ساتھ نرمی سے گفتگو کی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے عائشہ!قیامت کے دن مرتبے اور مقام کے اعتبارسے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ برا وہ شخص ہوگا ،جس کی بدزبانی سے بچنے کے لیے لوگ اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں۔سفیان کہتے ہیں: میں نے محمد بن منتظر سے کہا:میں نے آپ کا جائزہ لیا ہے ،آپ ہمیشہ اس روایت میں شک کا اظہار کرتے ہیں (یعنی آپ کو اس کے الفاظ میں شک محسوس ہوتا ہے)

رَسُولُ اللَّهِ «ايذَنُوا لَهُ فَبِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ» أَوْ ← عَائِشَةَ أَنَّهُ سَمِعَهَا تَقُولُ: اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ رَجُلٌ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← محمد بن المنكدر أنه ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 251

chevron_left Previous
1…202122…63
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter