Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 13

13 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي طَاوُسٌ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: بَلَغَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَنَّ سَمُرَةَ بَاعَ خَمْرًا فَقَالَ: قَاتَلَ اللَّهُ سَمُرَةَ أَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ [ص:155] رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ فَجَمَلُوهَا فَبَاعُوهَا»

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں حضرت عمر بن خطاب ؓ کو یہ اطلاع ملی کہ حضرت سمرہ ؓ شراب فروخت کرتے ہیں تو وہ بولے :الله تعالی سمرہ کو برباد کر نے کیا اسے اس بات کا پتہ نہیں ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے:الله تعالی یہودیوں پر لعنت کرے کہ جب ان کے لیے چربی کو حرام قرار دیا گیا، تو انہوں نے اسے پگھلا کر فروخت کیا‘۔ یعنی انہوں نے اسے پگھلا دیا۔

لَعَنَ اللهُ الْيَهُودَ، حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ، فَجَمَلُوهَا فَبَاعُوهَا ← قَاتَلَ اللَّهُ سَمُرَةَ أَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ [ص:155] رَسُولَ اللَّهِ ← بَلَغَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَنَّ سَمُرَةَ بَاعَ خَمْرًا ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوْسٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 13

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 14

14 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ثنا مِسْعَرٌ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي فُلَانٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ بِيَدِهِ عَلَى الْمِنْبَرِ هَكَذَا - يَعْنِي يُحَرِّكُهَا يَمِينًا وَشِمَالًا - عُوَيْمِلٌ لَنَا بِالْعِرَاقِ، عُوَيْمِلٌ لَنَا بِالْعِرَاقِ خَلَطَ فِي فَيْءِ الْمُسْلِمِينَ أَثْمَانَ الْخَمْرِ وَالْخَنَازِيرِ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ فَجَمَلُوهَا فَبَاعُوهَا» يَعْنِي أَذَابُوهَا

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں :میں نے حضرت عمر بن خطاب ؓ کومنبر پر اپنے ہاتھ کے ذریعے اس طرح اشارہ کر تے ہوئے یعنی اپنے ہاتھ کو با ئیں طرف اور د ائیں طرف حرکت دیتے ہوئےکہتے ہوے سنا:عراق میں ہمارے ایک چھوٹے اہل کار نے مسلمانوں کے مال فے میں شراب اورخنزیر کی قیمت بھی خلط ملط کردی ہے، حالانکہ نبی اکرمﷺنے یہ بات ارشاد فرمائی ہے:"الله تعالی یہودیوں پر لعنت کرے ان کے لیے چربی کو حرام قرار دیا گیا، تو انہوں نے اسے پگھلا کر اسے فروخت کر دیا"۔ (راوی کہتے ہیں: ) یعنی انہوں نے اسے پگھلا دیا۔

رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، عَلَى الْمِنْبَرِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← فُلَانٌ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← مِسْعَرٍ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 14

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 15

15 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ يَسْأَلُ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ فَقَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: حَمَلْتُ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَرَأَيْتُهُ يُبَاعُ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْتَرِيهِ؟ فَقَالَ «لَا تَشْتَرِهِ، وَلَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ» [ص:156]

امام مالک بن انس نے زید بن اسلم سے سوال کیا، تو زید نے بتایا:میں نے اپنے والد کویہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے حضرت عمر بن خطاب ؓ نے یہ بات بیان کی ہے میں نے اپنا ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں( جہاد میں حصہ لینے کے لیے )دیا پھر بعد میں، میں نے اس گھوڑے کو فروخت ہوتے ہوئے دیکھا تو میں نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا : کیا میں اسے خرید لوں؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا تم اسے نہ خرید و اورتم اپنی صدقہ کی ہوئی چیز کو واپس نہ لو۔

أَبِي ← مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ يَسْأَلُ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 15

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 16

16 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ، سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ السِّخْتِيَانِيِّ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: رَآهَا تُبَاعُ أَوْ بَعْضَ نِتَاجِهَا

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت عمر بن خطاب ؓسے منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں حضرت عمر ؓنے اسے فروخت ہوتے ہوئے دیکھا تھایا شاید اس کی اولاد میں سے کسی جانور کو فروخت ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔

رَآهَا تُبَاعُ أَوْ بَعْضَ نِتَاجِهَا ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ ← ابْنِ سِيرِينَ، ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 16

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 17

17 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَابِعْ مَا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فَإِنَّ مُتَابَعَةً بَيْنَهُمَا يَزِيدَانِ فِي الْأَجَلِ، وَيَنْفِيَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوبَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ الْخَبَثَ» قَالَ سُفْيَانُ: هَذَا الْحَدِيثُ حَدَّثَنَاهُ عَبْدُ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيُّ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ عَاصِمٍ فَلَمَّا قَدِمَ عَبْدَةُ أَتَيْنَاهُ لِنَسْأَلَهُ عَنْهُ فَقَالَ: إِنَّمَا حَدَّثَنِيهِ عَاصِمٌ وَهَذَا عَاصِمٌ حَاضِرٌ فَذَهَبْنَا إِلَى عَاصِمٍ فَسَأَلْنَاهُ فَحَدَّثَنَا بِهِ هَكَذَا، ثُمَّ سَمِعْتُهُ مِنْهُ بَعْدَ ذَلِكَ فَمَرَّةً يَقِفُهُ عَلَى عُمَرَ وَلَا يَذْكُرُ فِيهِ عَنْ أَبِيهِ وَأَكْثَرُ ذَلِكَ كَانَ يُحَدِّثُهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سُفْيَانُ وَرُبَّمَا سَكَتْنَا عَنْ هَذِهِ الْكَلِمَةِ يَزِيدَانِ فِي الْأَجَلِ فَلَا نُحَدِّثُ بِهَا مَخَافَةَ أَنْ يَحْتَجَّ بِهَا هَؤُلَاءِ - يَعْنِي الْقَدَرِيَّةَ - وَلَيْسَ لَهُمْ فِيهَا حُجَّةٌ

حضرت عمر بن خطابؓ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے: "حج اور عمرے کو آگے پیچھے کرو‘کیونکہ ان دونوں کو آگے پیچھے کرنا زندگی میں اضافہ کرتا ہے غربت اور گناہوں کو ختم کر دیتا ہے ،جس طرح بھٹی لوہے کے زنگ کوختم کر دیتی ہے"۔ سفیان کہتے ہیں: یہ روایت عبدالکریم نامی راوی نے عبده نامی راوی کے حوالے سےاور انہوں نے عاصم کے حوالے سے بیان کی تھی۔ جب عبدہ آ ئے،توہم اس روایت کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے بتایا:عاصم نے یہ روایت مجھے سنائی ہے اور عاصم بھی یہاں موجود ہیں یعنی اسی شہر میں ہیں تو ہم لوگ عام کے پاس گئے اور ان سے اس روایت کے بارے میں دریافت کیا ‘ تو انہوں نے یہ روایت اسی طرح ہمیں سنائی ۔پھر اس کے بعد میں نے انہیں سنا کہ ایک مرتبہ انہوں نے اس روایت کو حضرت عمؓر تک’’موقوف‘‘روایت کے طور بیان پر کیا اور ایک مرتبہ انہوں نے اس کی سند میں اپنے والد کا تذکرہ نہیں کیا۔ تا ہم اکثر اوقات وہ اس روایت کوعبد الله بن عامر کے حوالے سے وہ ان کے والد کے حوالے سے وہ حضرت عمر ؓ کے حوالے سے اور وہ اسے نبی اکرمﷺ سے نقل کرتے تھے۔ سفیان کہتے ہیں، بعض اوقات وہ ہمارے سامنے یہ الفاظ بھی بیان نہیں کرتے تھے ’’یہ دونوں زندگی میں اضافہ کرتے ہیں۔‘‘ تو ہم ان کلمات کو حدیث میں بیان نہیں کرتے ہیں اس اندیشے کے تحت کہ کہیں وہ لوگ اس کے ذریعے استدلال نہ کریں۔ سفیان کی مراد وہ لوگ تھے ‘جو تقدیر کا انکار کرتے ہیں حالانکہ اس روایت میں ان لوگوں کے لیے کوئی دلیل نہیں ہے۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ← عاصم بن عبيد الله العمري ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 17

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 18

18 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ حَفِظْنَاهُ مِنْهُ غَيْرَ مَرَّةٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ شَقِيقَ بْنَ سَلَمَةَ يَقُولُ كَثِيرًا مَا يَقُولُ: ذَهَبْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ إِلَى الصُّبَيِّ بْنِ مَعْبَدٍ نَسْتَذْكِرُهُ هَذَا الْحَدِيثَ فَقَالَ الصُّبَيُّ: كُنْتُ رَجُلًا نَصْرَانِيًّا فَأَسْلَمْتُ فَخَرَجْتُ أُرِيدُ الْحَجَّ فَلَمَّا كُنْتُ بِالْقَادِسِيَّةِ أَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ جَمِيعًا، فَسَمِعَنِي سَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ وَزَيْدُ بْنُ صُوحَانَ فَقَالَا: لَهَذَا أَضَلُّ مِنْ بَعِيرِ أَهْلِهِ، فَكَأَنَّمَا حُمِلَ عَلَيَّ بِكَلِمَتِهِمَا جَبَلٌ، فَلَقِيتُ عُمَرَ [ص:157] بْنَ الْخَطَّابِ فَأَخْبَرْتُهُ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِمَا فَلَامَهُمَا ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ فَقَالَ: «هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ» فَقَالَ سُفْيَانُ: يَعْنِي أَنَّهُ قَدْ جَمَعَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَجَازَهُ وَلَيْسَ أَنَّهُ فَعَلَهُ هُوَ

ابووائل شقیق بن سلمہ بیان کرتے ہیں :میں اور مسروق ‘ صبی بن معبد کے پاس گئے تا کہ ان سے اس حدیث کے بارے میں گفتگوکریں ،تو صبی بولے :میں ایک عیسائی شخص تھامیں نے اسلام قبول کیامیں حج کرنے کے ارادے سے روانہ ہونے لگا، جب میں’’قادسیہ‘‘پہنچا تو وہاں میں نے حج اور عمرے دونوں کو ساتھ کرنے کا احرام باندھا (یا تلبیہ پڑھا) سلمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان نے مجھے سنا تو وہ بولے:یہ شخص اپنے گھر کے اونٹ سے زیادہ گمراہ ہے۔ ان کے ان کلمات کی وجہ سے گویا میرے اوپر پہاڑ کا وزن آگیا میری ملاقات جب حضرت عمر بن خطاب ؓ سے ہوئی تو میں نے انہیں اس بارے میں بتایا تو حضرت عمر ؓ ان دونوں لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ان دونوں کو ملامت کی پھر وہ میری طرف متوجہ ہوے اور بولے:تمہارے نبیﷺ کی سنت کی طرف تمهاری رہنمائی کی گئی ہے ۔تمہارے نبیﷺ کی سنت کی طرف تمہاری رہنمائی کی گئی ہے۔ سفیان کہتے ہیں: اس سے مراد یہ ہے کہ حضرت عمرؓ نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ حج اور عمرہ اکٹھے ادا کیا تھا‘اور نبی اکرم ﷺ نے اسے درست قرار دیا تھا۔اس سے مراد یہ نہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے خود ایسا کیا تھا۔

أَبَا وَائِلٍ شَقِيقَ بْنَ سَلَمَةَ ← عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ حَفِظْنَاهُ مِنْهُ غَيْرَ مَرَّةٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 18

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 19

19 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَبِشْرُ بْنُ بَكْرٍ قَالاَ: ثنا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ: ثني يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، ثني عِكْرِمَةُ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ بِوَادِي الْعَقِيقِ: " أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتٍ مِنْ رَبِّي، فَقَالَ: صَلِّ فِي هَذَا الْوَادِي الْمُبَارَكِ وَقُلْ عُمْرَةٌ فِي حِجَّةٍ "

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عمر بن خطاب ؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سناہے‘ وہ کہتے ہیں:میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سناہے آپ ﷺاس وقت ’’وادی عقیق ‘‘ میں موجود تھے۔"گزشتہ رات میرے پروردگار کا فرستاده میرے پاس آیا اور بولا:آپﷺ اس مبارک وادی میں نماز ادا کیجئے اور یہ کہیے عمرہ‘حج میں ہے (یعنی آپ ﷺ حج کے ساتھ عمرہ کرنے کا بھی تلبیہ پڑھئے)"

وَهُوَ بِوَادِي الْعَقِيقِ: أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتٍ مِنْ رَبِّي، ← رَسُولِ اللَّهِ ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَبِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 19

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 20

20 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ مِنْ هَاهُنَا، وَأَدْبَرَ النَّهَارُ مِنْ هَاهُنَا، وَغَابَتِ الشَّمْسُ فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ»

عاصم بن عمر بن خطاب اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا فرمان نقل کرتے ہیں:"جب رات اس طرف سے آجائے اور دن اس طرف سے رخصت ہو جائے اور سورج غروب ہو جائے ،تو روزہ دار شخص روزہ کھول لے"۔

أَبِيهِ ← عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ← أَبِي ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 20

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 21

21 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَعْمَرٍ وَغَيْرِهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ حُوَيْطِبِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى، عَنِ ابْنِ السَّعْدِيِّ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنَ الشَّامِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَلِي أَعْمَالًا مِنْ أَعْمَالِ الْمُسْلِمِينَ فَتُعْطَى عُمَالَتَكَ فَلَا تَقْبَلُ، فَقُلْتُ: أَجَلْ إِنَّ لِي أَفْرَاسًا أَوْ لِي أَعْبُدًا وَأَنَا بِخَيْرٍ، وَأُرِيدُ أَنْ يَكُونَ عَمَلِي صَدَقَةً عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ عُمَرُ: فَلَا تَفْعَلْ فَإِنِّي قَدْ أَرَدْتُ مِثْلَ الَّذِي أَرَدْتَ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعْطِينِي الْعَطَاءَ فَأَقُولُ: أَعْطِهِ مَنْ هُوَ أَحْوَجُ مِنِّي، وَإِنَّهُ أَعْطَانِي مَرَّةً مَالًا فَقُلْتُ: أَعْطِهِ مَنْ هُوَ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنِّي فَقَالَ: «يَا عُمَرُ مَا أَتَاكَ اللَّهُ بِهِ مِنْ هَذَا الْمَالِ عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافِ نَفْسٍ فَخُذْهُ، فَتَمَوَّلْهُ وَتَصَدَّقْ بِهِ، وَمَا لَا فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ»

ابن سعدی بیان کرتے ہیں: وہ ’’ شام ‘‘ سے حضرت عمر بن خطاب ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو حضرت عمرؓ نے ان سے فرمایا مجھے پتہ چلا ہے کہ تم کوئی سرکاری فرائض سرانجام دیتے رہے ہو اور جب تمہیں تنخواہ دی جانے لگی، تو تم نے اسے قبول نہیں کیا؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں میرے پاس گھوڑے ہیں۔( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) میرے پاس غلام ہیں اور میں اچھی حالت میں ہوں۔ تو میں یہ چاہتا ہوں کہ میری تنخواہ مسلمانوں کے لیے صدقہ ہو جائے تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا تم ایسا نہ کرو، کیونکہ جوارادہ تم نے کیا ہے اس طرح کا ارادہ ایک مرتبہ میں نے بھی کیا تھا۔ نبی اکرم ﷺ جب مجھے کچھ عطا کرتے تھے، تو میں یہ گزارش کرتا تھا کہ آپ ﷺ یہ اسے دے دیں جس کو مجھ سے زیادہ اس کی ضرورت ہو۔ ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے مجھے مال دیا تو میں نے عرض کی : آپ ﷺ یہ اسے عطا کر دیجئے جسے مجھ سے زیادہ اس کی ضرورت ہو، تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فر مایا:"اے عمر !اللہ تعالیٰ مانگے بعیر اور تمہاری دلچسپی ظاہر کیے ،بعیر اس مال میں سے ،جو کچھ تمہیں عطا کرتا ہے ، اسے حاصل کر لو اور اس کے ذریعے اپنے مال میں اضافہ کرو، اسے صدقہ کرو اور جو مال ایسا نہ ہو، تو تم اس کے پیچھے اپنے آپ کو نہ لگاو"ٔ۔

ابْنِ السَّعْدِيِّ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنَ الشَّامِ ← حُوَيْطِبِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى، ← السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٍ، وَغَيْرِهِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 21

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 22

22 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، وَمَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ سَمِعَ مَالِكَ بْنَ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ: «إِنَّ أَمْوَالَ بَنِي النَّضِيرِ كَانَتْ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِمَّا لَمْ يُوجِفِ الْمُسْلِمُونَ عَلَيْهِ بِخَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ» فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِصَةً، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ مِنْهُ نَفَقَةَ سَنَةٍ وَمَا بَقِي جَعَلَهُ فِي الْكُرَاعِ وَالسِّلَاحِ عُدَّةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ " قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَكَانَ سُفْيَانُ إِنَّمَا قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: يَحْبِسُ مِنْهُ نَفَقَةَ سَنَةٍ

مالک بن اوس بیان کرتے ہیں :میں نے حضرت عمر بن خطاب ؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: بنو نضیر کی زمینیں وہ ہیں، جو الله تعالی ٰنے اپنے رسول ﷺ کو مال فے کے طور پر عطا کی تھیں ۔ مسلمانوں نے ان کے لیے گھوڑے نہیں دوڑائے تھے، سواریاں نہیں دوڑائیں تھیں یہ صرف نبی اکرمﷺ کے لیے مخصوص تھیں ۔ نبی اکرم ﷺ ان کی آمدن میں سے اپنے اہل خانہ کے سال بھر کا خرچ حاصل کرتے تھے اور جو باقی بچ جا تا تھا اسے گھوڑوں اور اسلحے کے لیے ، یعنی اللہ کی راہ میں تیاری کے لیے استعمال کرتے تھے۔ حمیدی ؒ کہتے ہیں : سفیان نے اس روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ’’نبی اکرم ﷺ اس میں سے سال بھر کا خرچ روک لیتے تھے۔‘‘

ابْنِ شِهَابٍ، ← عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ وَمَعْمَرٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 22

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 23

23 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ: " أَلَا لَا تُغْلُوا صُدُقَ النِّسَاءِ فَإِنَّهَا لَوْ كَانَتْ مَكْرُمَةً فِي الدُّنْيَا، أَوْ تَقْوًى عِنْدَ اللَّهِ كَانَ أَوْلَاكُمْ أَوْ أَحَقُّكُمْ بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا عَلِمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ، وَلَا أَنْكَحَ ابْنَةً مِنْ بَنَاتِهِ عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً، وَإِنَّ أَحَدَكُمُ الْيَوْمَ لَيُغْلِي بِصَدَقَةِ الْمَرْأَةِ حَتَّى تَكُونَ لَهَا عَدَاوَةً فِي نَفْسِهِ يَقُولُ: كَلِفْتُ إِلَيْكِ عَلَقَ الْقِرْبَةِ [ص:160] قَالَ: وَكُنْتُ غُلَامًا شَابَّا فَلَمْ أَدْرِ مَا عَلَقُ الْقِرْبَةِ " قَالَ: وَأُخْرَى تَقُولُونَهَا لِبَعْضِ مَنْ يُقْتَلُ فِي مَغَازِيكُمْ هَذِهِ قُتِلَ فُلَانٌ شَهِيدًا، أَوْ مَاتَ فُلَانٌ شَهِيدًا، وَلَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ قَدْ أَوْقَرَ دُفَّ رَاحِلَتِهِ أَوْ عَجُزَهَا ذَهَبًا، وَقَامَ يَلْتَمِسُ التِّجَارَةَ فَلَا تَقُولُوا ذَاكُمْ، وَلَكِنْ قُولُوا كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ كَمَا قَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ» قَالَ سُفْيَانُ: كَانَ أَيُّوبُ أَبَدًا يَشُكُّ فِيهِ هَكَذَا أَوْ قَالَ سُفْيَانُ: فَإِنْ كَانَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَ بِهِ هَكَذَا وَإِلَّا فَلَمْ يَحْفَظْ

ابو عجفاء سلمی بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عمر بن خطاب ؓ کویہ فرماتے ہوئے سنا : خبردار ! تم لوگ عورتوں کے مہر زیادہ مقرر نہ کرو، کیونکہ اگر یہ چیز دنیا میں عزت افزائی کا‘یا الله تعالی ٰکی بارگاہ میں تقوی ٰکاذر یعہ ہوتی ، تو تم میں سے زیادہ لائق تم میں سے زیادہ حقدار نبی اکرمﷺ تھے۔ میرے علم کے مطابق نبی اکرم ﷺنے اپنی ازواج میں سے جس خاتون کے ساتھ بھی شادی کی، یا اپنی صاحبزادیوں میں سے جس صاحبزادی کی بھی شادی کی، ان میں سے کسی کا مہر ’’بارہ اوقیہ ‘‘سے زیادہ نہیں تھا، لیکن آج تم میں سے کوئی ایک شخص اپنی بیوی کا مہر زیادہ ادا کرتا ہے ، یہاں تک کہ اس کے دل میں اس عورت کے لیے عداوت پیدا ہو جاتی ہے اور وہ یہ کہتا ہے :تمہاری وجہ سے مجھے پریشانی اٹھانا پڑی ہے۔ راوی کہتے ہیں میں ایک نوجوان شخص تھامجھے یہ سمجھ نہیں آئی کہ ’’ علق القر بہ ‘‘سے مراد کیا ہے۔ حضرت عمر نے بھی ارشادفرمایا: دوسری بات یہ ہے کہ تم لوگ جنگ میں قتل ہو جانے والے کے بارے میں یہ کہتے ہو فلاں شخص شہادت کی موت مارا گیا ہے یا فلاںشخص شہادت کی موت مرا ہے‘ حالانکہ ہوسکتا ہے اس نے اپنی سواری کے جانور پر بوجھ لادا ہوا ہو ، وہ سونے اور چاندی کو لے کر تجارت کرنے جارہا ہو ، تو تم لوگ یہ بات نہ کہو، بلکہ یوں کہو ؛ جو اللہ کے رسول ﷺنے ارشاد فرمایا ہے ۔(راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جوحضرت محمد ﷺ نے ارشاد فر مایا ہے ’’جو شخص اللہ کی راہ میں قتل ہو گا وہ جنت میں جائے گا‘‘۔ سفیان کہتے ہیں: ایوب نامی راوی ہمیشہ اس روایت کے الفاظ میں اسی طرح شک کا اظہار کرتے تھے۔ سفیان نامی راوی کہتے ہیں: اگر تو حماد بن زید نے بھی اس روایت کو انہی الفاظ میں نقل کیا ہے پھر تو ٹھیک ہے، ورنہ یہ روایت محفوظ نہیں ہے۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِي ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 23

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 24

24 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثني عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ: أَرْسَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى شَيْخٍ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ مِنْ أَهْلِ دَارِنَا قَدْ أَدْرَكَ الْجَاهِلِيَّةَ فَجِئْتُ مَعَ الشَّيْخِ إِلَى عُمَرَ وَهُوَ فِي الْحِجْرِ، فَسَأَلَهُ عُمَرُ عَنْ وِلَادٍ مِنْ وِلَادِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ الشَّيْخُ: أَمَّا النُّطْفَةُ فَمِنْ فُلَانٍ، وَأَمَّا الْوَلَدُ فَعَلَى فِرَاشِ فُلَانٍ، فَقَالَ عُمَرُ صَدَقْتَ «وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بَالْفِرَاشِ» فَلَمَّا وَلَّى الشَّيْخُ دَعَاهُ عُمَرُ فَقَالَ " أَخْبِرْنِي عِنْ بِنَاءِ الْكَعْبَةِ فَقَالَ إِنَّ قُرَيْشًا تَقَرَّبَتْ لِبِنَاءِ الْكَعْبَةِ فَعَجَزُوا وَاسْتَقْصَرُوا فَتَرَكُوا بَعْضًا فِي الْحِجْرِ فَقَالَ عُمَرُ: صَدَقْتَ "

عبيد الله بن ابو یزید بیان کرتے ہیں:میرے والد نے مجھے یہ بات بتائی ہے ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطاب ؓنے ’’بنوزہرہ‘‘ سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ کو پیغام بھیج کر اسے بلوایا وہ ہمارے محلے میں رہتاتھا اس نے زمانہ جاہلیت پایا ہوا تھا۔ میں اس بزرگ کے ساتھ حضرت عمر ؓ کے پاس آیا ۔ حضرت عمرؓ اس وقت ’’حطیم‘‘ میں موجود تھے حضرت عمرؓ نے اس سے زمانہ جاہلیت میں پیدا ہونے والی(نا جائز اولاد کے بارے میں) دریافت کیا ،تو وہ بزرگ بولا : جہاں تک نطفے کا تعلق ہے تو وہ فلاں شخص کا تھا جہاں پیدائش کا تعلق ہے، تو وہ فلاں شخص کے فراش پر ہوئی تو حضرت عمر ؓبولے تم نے ٹھیک کہا ہے، لیکن نبی اکرمﷺنے فراش کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔ جب وہ عمررسیدہ شخص واپس مڑ گیا تو حضرت عمر ؓانے اسے بلایا و دریافت کیا: تم مجھے خانہ کعبہ کی تعمیر کے بارے میں بتاؤ۔ اس نے بتایا: قریش خانہ کعبہ کی تعمیر کر کے نیکی حاصل کرنا چاہتے تھے، لیکن وہ اس کو بنانے سے عاجز ہو گئے‘ان کے پاس (ساز و سامان) کم ہوگیا، توانہوں نے "حطیم"والی جنگ کا کچھ حصہ چھوڑ دیا۔ تو حضرت عمر ؓ بولے تم نے سچ کہا ہے۔

أَبِي ← عُبَيْدِ اللَّهِ1 بْنِ أبي يزيد، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 24

chevron_left Previous
1234…63
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter