Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 156

156 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ قَالَ: سَأَلْنَا خَبَّابًا هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ؟ قَالَ «نَعَمْ» فَقُلْنَا: بِأَيِّ شَيْءٍ كُنْتُمْ تَعْرِفُونَ ذَلِكَ؟ قَالَ «بِاضْطِرَابِ لِحْيَتِهِ»

ابو معمر بیان کرتے ہیں: ہم نے حضرت خبابؓ سے دریافت کیا: نبی اکرمﷺظہر اور عصر کی نماز میں تلاوت کیا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ ہم نے دریافت کیا: آپ کو اس بات کا کیسے پتہ چلتا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا: جی نبی اکرم ﷺکی داڑھی مبارک کے ہلنے کی وجہ سے۔

بِاضْطِرَابِ لِحْيَتِهِ"1. ← «نَعَمْ» فَقُلْنَا: بِأَيِّ شَيْءٍ كُنْتُمْ تَعْرِفُونَ ذَلِكَ؟ ← سَأَلْنَا خَبَّابًا هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ؟ ← أَبِي مَعْمَرٍ ← عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 156

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 157

157 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا بَيَانُ بْنُ بِشْرٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ قَالَا: سَمِعْنَا قَيْسًا يَقُولُ: سَمِعْتُ خَبَّابًا يَقُولُ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَهُ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ وَقَدْ لَقِينَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ شِدَّةً شَدِيدَةً فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَدْعُو اللَّهَ لَنَا؟ فَقَعَدَ وَهُوَ مُحْمَرٌّ وَجْهُهُ فَقَالَ: «إِنْ كَانَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ لَيُمْشَطُ أَحَدُهُمْ بِأَمْشَاطِ الْحَدِيدِ مَا دُونَ عَظْمِهِ مِنْ لَحْمٍ أَوْ عَصَبٍ مَا يَصْرِفُهُ ذَلِكَ عَنْ دِينِهِ، وَيُوضَعُ الْمِنْشَارُ عَلَى مَفْرِقِ رَأْسِهِ فَيُشَقُّ بِاثْنَيْنِ مَا يَصْرِفُهُ ذَلِكَ عَنْ دِينِهِ، وَلَيُتِمَّنَّ اللَّهُ هَذَا الْأَمْرَ حَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ مِنْ صَنْعَاءَ إِلَى حَضْرَمَوْتَ لَا يَخَافُ إِلَّا اللَّهَ» زَادَ بَيَانٌ «وَالذِّئْبَ عَلَى غَنَمِهِ»

قیس بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت خباب بؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا: میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضرہوا اس وقت آپ ﷺ اپنی چادر کے ساتھ ٹیک لگا کر خانہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے ہمیں مشرکین کی طرف سے شدید تکالیف کا سامنا کرنا پڑا تھا میں نے عرض کیا: یا رسول الله (ﷺ)! آپﷺالله تعالیٰ سے ہمارے لیے دعا کیوں نہیں کرتے؟ تو کیا نبی اکرم ﷺسید ھے ہوکر بیٹھ گئے آپ ﷺ کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا ۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم سئ پہلے ایسے لوگ بھی تھے جن میں سے کسی ایک پر لوہے کی کنگھی پھیری گئی ۔ جو اس کے گوشت اور پٹھوں میں سے ہو کر ہڈی تک پہنچی لیکن اس چیز نے بھی انہیں ان کے دین سے نہیں پھیرا کسی شخص کے سر پر آری رکھ کر اسے دوٹکروں میں کاٹ دیا گیا تو اس چیز نے بھی انہیں ان کے دین سے نہیں پھیرا ،الله تعالی اس معاملے کو ضرورمکمل کرے گا، یہاں تک کہ ایک سوار "صنعاء" سے چل کر"حضرموت" تک جائے گا اور اسےصرف اللہ تعالی کا خوف ہوگا۔بیان نامی راوی نے یہ الفاظ اضافی نقل کیے ہیں۔"اور اسے اپنی بکریوں کے حوالے سے بھیڑیے کا خوف ہوگا۔“

خَبَّابًا، ← قَيْسًا ← بَيَانُ بْنُ بِشْرٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 157

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 158

158 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ [ص:240]: عَادَتْ خَبَّابًا بَقَايَا مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: أَبْشِرْ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ؛ تَرِدُ عَلَى إِخْوَانِكَ الْحَوْضَ، فَقَالَ: «وَعَلَيْهَا رِجَالٌ إِنَّكُمْ ذَكَرْتُمْ لِي أَقْوَامًا، وَسَمَّيْتُمْ لِي إِخْوَانًا مَضَوْا لَمْ يَنَالُوا مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَإِنَّا بَقِينَا بَعْدَهُمْ حَتَّى نِلْنَا مِنَ الدُّنْيَا مَا نَخَافُ أَنْ يَكُونَ ثَوَابُنَا لِتِلْكَ الْأَعْمَالِ»

طارق بن شہاب بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺکے کچھ اصحاب حضرت خباب ؓ کی عیادت کرنے کے لیے آئے انہوں نے کہا: اے ابوعبداللہ آپ کو مبارک ہو کہ آپ حوض کوثر پر اپنے بھائیوں سے مل لیں گے ،تو انہوں نے فرمایا: اس پرکئی لوگ ہوں گے تم نے میرے سامنے کچھ لوگوں کا تذکرہ کیا ہے تم نے انہیں میرا بھائی قرار دیا ہے، حالانکہ وہ لوگ (دنیا سے) رخصت ہوگئے اورانہوں نے اپنے اجر میں سے کوئی بھی چیز حاصل نہیں کی ان کے بعد ہم باقی رہ گئے ہم نے دنیا بھی حاصل کی جس کے نتیجےمیں ہمیں یہ اندیشہ ہے کہیں یہ (ملنے والی دنیا) ہمارے ان اعمال کا بدلہ نہ ہو۔

أَبْشِرْ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ؛ تَرِدُ عَلَى إِخْوَانِكَ الْحَوْضَ، ← عَادَتْ خَبَّابًا بَقَايَا مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ ← طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← مِسْعَرٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 158

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 159

159 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: ثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ فِي الْقَدَحِ وَهُوَ الْفَرَقُ وَكُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَهُوَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں، نبی اکرم ﷺ"قدح"یعنی "فرق"(بڑے ٹب) سے غسل کر لیتے تھے میں اور نبی اکرم ﷺایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے۔میں اور نبی اکرم ﷺ ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے۔

وَهُوَ مِنْ إنَاءٍ وَاحِدٍ. ← عَائِشَةَ تَقُولُ «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَغْتَسِلُ فِي الْقَدَحِ وَهُوَ الْفَرَقُ وَكُنْتُ أَغْتَسِلُ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 159

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 160

160 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ، فَسَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، وَأَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ وَتُصَلِّي، فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَتَجْلِسُ فِي الْمِرْكَنِ فَيَعْلُوَ الدَّمُ»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ام حبیبہ بن حجش کو سات سال استحاضہ کی شکایت رہی انہوں نے نبی اکرم ﷺسے سوال کیا، تو آپ ﷺنے ارشادفرمایا:یہ کسی دوسری رگ کا خون ہے ۔یہ حیض نہیں ہے نبی اکرم ﷺنے اسے یہ ہدایت کی کہ وہ غسل کر کے نماز ادا کیا کرے ،تو وہ ہرنماز کے لیے غسل کیا کرتی تھی، وہ ایک بڑے ٹب میں بیٹھتی تھی ، تو خون (پانی پر)غالب آجاتا تھا۔

عَائِشَةَ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ، فَسَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ ← عَمْرَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 160

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 161

161 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: تَوَضَّأَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عِنْدَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ: أَسْبِغِ الْوُضُوءَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ؛ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ»

ابوسلمہ بن عبدالرحمان بیان کرتے ہیں: حضرت عبدالرحمان بن ابوبکرؓنے سیدہ عائشہ ؓ کی موجودگی میں وضو کیا تو سیدہ عائشہ ؓ نے فرمایا: اے عبدالرحمان! اچھی طرح وضو کرو! کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشادفرماتے ہوئے سنا ہے:( کچھ ) ایڑیوں کے لیے جہنم کی بربادی ہے۔

«وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ». ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَسْبِغِ الْوُضُوءَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ؛ فَإِنِّي ← تَوَضَّأَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عِنْدَ عَائِشَةَ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 161

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 162

162 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَتِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِّ مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں، نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا ہے :مسواک منہ کو صاف کرتی ہے اور پروردگارکی رضامندی کا ذریعہ ہے۔

عَائِشَةَ ← ابن أبي عتيق ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 162

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 163

163 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَغْتَسِلَ مِنَ الْجَنَابَةِ بَدَأَ فَغَسَلَ يَدَهُ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهَا فِي الْإِنَاءِ، ثُمَّ يَغْسِلُ فَرْجَهُ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ يُشْرِبُ شَعْرَهُ الْمَاءَ ثُمَّ يُحْثِي عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ»

سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں، نبی اکرم ﷺنے جب غسل جنابت کا ارادہ کرنا ہوتا تو آپ ﷺبرتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے ہاتھ دھوتے تھے ،پھر آپ اپنی شرمگاہ کو دھوتے تھے پھر آپﷺنماز کے وضو کی طرح وضو کرتے تھے پھر آپﷺاپنے بالوں تک پانی پہنچاتے تھے ،پھر آپ ﷺاپنے سرتین لپ ڈال لیتے تھے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 163

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 164

164 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى بِالصِّبْيَانِ فَيَدْعُوَ لَهُمْ، فَأُتِيَ بِصَبِيٍّ فَبَالَ عَلَيْهِ فَأَتْبَعَ بَوْلَهُ الْمَاءَ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺکی خدمت میں بچے لائے جاتے تھے آپ ﷺان کے لیےدعائے خیر کیا کرتے تھے ایک مرتبہ ایک بچہ لایا گیا تو اس نے آپ ﷺپر پیشاب کر دیا تونبی اکرمﷺنے اس کے پیشاب پرپانی بہا دیا۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 164

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 165

165 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّهَا سَقَطَتْ قِلَادَتُهَا لَيْلَةَ الْأَبْوَاءِ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فِي طَلَبِهَا فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ وَلَيْسَ مَعَهُمَا مَاءٌ فَلَمْ يَدْرِيَا كَيْفَ يَصْنَعَانِ؟ فَنَزَلَتْ آيَةُ التَّيَمُّمِ فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ: جَزَاكِ اللَّهُ خَيْرًا مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ قَطُّ فَكَرِهْتِهِ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ لَكِ مَخْرَجًا، وَجَعَلَ لِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ خَيْرًا "

سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں، ”ابواء"کی رات ان کا ہار گر گیا نبی اکرم ﷺ نے مسلمانوں میں سے دو آدمی اس کی تلاش میں بھجوائے اسی دوران نماز کا وقت ہو گیا ان دونوں کے ساتھ پانی نہیں تھا انہیں یہ سمجھ نہیں آئی کہ وہ کیا کریں، تو تیمم سے متعلق آیت نازل ہوگئی اس پر حضرت اسید بن خضیر ؓنے (سیدہ عائشہ ؓکے بارے میں)کہا:الله تعالی آپ کو جزائے خیر عطاء کرے آپ کے ساتھ جب بھی کوئی معاملہ پیش آیا جو آپ کو ناپسند ہو، تو الله تعالی نے آپ کے لیے اس میں نکلنے کا راستہ بنادیا اور مسلمانوں کے لیے اس میں بھلائی پیدا کردی۔

أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 165

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 166

166 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَظْمَ وَأَنَا حَائِضٌ فَأَتَعَرَّقُهُ، ثُمَّ يَأْخُذُهُ فَيُدِيرُهُ حَتَّى يَضَعَ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فَمِي»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں، نبی اکرم ﷺمجھے ہڈی دیتے تھے میں اس وقت حیض کی حالت میں ہوتی تھی میں اسے چوستی پھر نبی اکرمﷺ اسے لے کر اپنا منہ اسی جگہ رکھتے تھے جہاں میں نے اپنا منہ رکھا ہو تا تھا ۔

«كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُعْطِينِي الْعَظْمَ ← عَائِشَةَ أَنَّهَا ← أَبِيهِ ← الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، ← مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 166

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 167

167 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَجَبِيُّ قَالَ: أَخْبَرَتْنِي أُمِّي أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ تَقُولُ: سَأَلَتِ امْرَأَةٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْغُسْلِ فِي الْحَيْضَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُذِي فِرْصَةً مِنْ مِسْكٍ فَتَطَهَّرِي بِهَا» فَقَالَتْ: كَيْفَ أَتَطَهَّرُ بِهَا؟ قَالَ: «تَطَهَّرِي بِهَا» قَالَ قُلْتُ: كَيْفَ أَتَطَهَّرُ بِهَا؟ فَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا: «سُبْحَانَ اللَّهِ تَطَهَّرِي بِهَا [ص:244] وَاسْتَتَرَ بِثَوْبِهِ» قَالَتْ عَائِشَةُ: فَعَرَفَتُ الَّذِي أَرَادَ فَاجْتَذَبْتُهَا، وَقُلْتُ لَهَا: تَتَبَّعِي بِهَا أَثَرَ الدَّمِ

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں: ایک خاتون نے نبی اکرمﷺسے حیض کے بعد غسل کرنے کے بارے میں دریافت کیا تو نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا تم مشک سے بسی ہوئی روئی لو اور اس کے ذریے طہارت حاصل کرو ،اس نے دریافت کیا: میں اس کے ذریعے کیسے طہارت حاصل کروں ،تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تم اس کے ذریعے طہارت حاصل کرو اس نےدریافت کیا: میں اس کے ذریعے کیسے طہارت حاصل کروں ۔ نبی اکرم ﷺنے اپنے دست مبارک کے ذریعے اس طرح اشاره کرتے ہوئے فرمایا: سبحان اللہ!تم اس کے ذریعے طہارت حاصل کرواورنبی اکرم ﷺنے اپنے کپڑے کے ذریعے پردہ کر لیا۔سیدہ عائشہؓ کہتی ہیں: نبی اکرم ﷺکی مراد مجھے سمجھ میں آگئی میں نے اس عورت کو اپنی طرف کھینچا اور اس سے کہا تم اس کےذریعے خون کے اثرات کو صاف کرو۔

بِيَدِهِ هَكَذَا: «سُبْحَانَ اللَّهِ تَطَهَّرِي بِهَا [ص:244] وَاسْتَتَرَ بِثَوْبِهِ» ← قلت: كيف أتطهر بها؟ ← تَطَهَّرِي بِهَا ← كيف أتطهر بها ← رسول الله خذي فرصة من مسك فتطهري بها ← الْغُسْلِ فِي الْحَيْضَةِ ← عائشة تقول: سألت امرأة رسول الله ← أَخْبَرَتْنِي أُمِّي أَنَّهَا ← مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَجَبِيُّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 167

chevron_left Previous
1…131415…63
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter