Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 120

120 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: أَمَا أَنَّا قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ يَعْنِي أَرْوَاحَ الشُّهَدَاءِ، فَقِيلَ " جُعِلَتْ فِي أَجْوَافِ طَيْرٍ خُضْرٍ تَأْوِي إِلَى قَنَادِيلَ تَحْتَ الْعَرْشِ، تَسْرَحُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءَتْ، فَاطَّلَعَ إِلَيْهِمْ رَبُّكَ اطِّلَاعَةً، فَقَالَ: " هَلْ تَسْتَزِيدُونِي شَيْئًا فَأَزِيدُكُمْ؟ فَقَالُوا: وَمَا نَسْتَزِيدُكَ وَنَحْنُ فِي الْجَنَّةِ نَسْرَحُ مِنْهَا حَيْثُ نَشَاءُ؟ ثُمَّ اطَّلَعَ إِلَيْهِمْ رَبُّكَ اِطِّلَاعَةً فَقَالَ: «هَلْ تَسْتَزِيدُونِي شَيْئًا فَأَزِيدُكُمْ؟» فَلَمَّا رَأَوْا أَنَّهُ لَا بُدَّ أَنْ يَسْأَلُوهُ، قَالُوا: تَرُدَّ أَرْوَاحَنَا فِي أَجْسَادِنَا فَنُقْتَلُ فِي سَبِيلِكَ مَرَّةً أُخْرَى " [ص:220]

حضرت عبداللہ بن مسعودؓبیان کرتے ہیں: ہم نے اس بارے میں سوال کیا تھا یعنی شہداء کی ارواح کے بارےمیں سوال کیا تھا، تو یہ بات بتائی گئی کہ یہ سبز پرندوں کے پیٹ میں رکھ دی جاتی ہیں اور عرش کے نیچےقندیلوں میں رہتی ہیں۔ یہ جنت میں جہاں چاہتی ہیں اڑ کے چلی جاتی ہیں ان کا پروردگار ان کی طرف متوجہ ہوکر دریافت کرتا ہے: کیاتم مجھ سے مزید کسی چیز کے طلبگار ہوتا کہ میں تمہیں وہ مزید چیز عطا کروں؟ تو انہوں نے عرض کی : ہم مزید کسی چیز کے طلبگار ہوں گے؟ جبکہ ہم جنت میں ہیں اور ہم اس میں جہاں چاہیں جاسکتے ہیں۔ پھر ان کا پروردگاران کی طرف متوجہ ہو کرفرمائے گا: کیاتم مزید کسی چیز کے طلبگار ہوتا کہ میں تمہیں وہ مزید چیزبھی عطا کروں؟ جب ان لوگوں نے یہ بات دیکھی کہ انہیں ضرور کوئی نہ کوئی سوال کرنا پڑے گا تو انہوں نے عرض کی : تو ہماری ارواح ہمارے جسموں کو واپس کر دے تاکہ ہمیں ایک مرتبہ پھر تیری بارگاہ میں شہیدکیاجائے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← مَسْرُوقٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 120

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 121

121 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مِثْلَهُ وَزَادَ «وَتُقْرِئُ نَبِيَّنَا مِنَّا السَّلَامَ، وَتُخْبِرُ قَوْمَنَا أَنْ قَدْ رَضِينَا وَرُضِيَ عَنَّا»

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے منقول ہے ،تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں۔ "تو ہماری طرف سے ہمارے نبی ﷺتک سلام پہنچا دینا اور ہماری قوم کو یہ بتا دینا کہ ہم راضی ہیں اور (پروردگار)ہم سے راضی ہے"۔

أَبِي عُبَيْدَةَ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 121

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 122

122 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ سَعْدِ بْنِ الْأَخْرَمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَتَّخِذُوا الضَّيْعَةَ فَتَرْغَبُوا فِي الدُّنْيَا» ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَبِرَاذَانَ مَا بِرَاذَانَ وَبِالْمَدِينَةِ مَا بِالْمَدِينَةِ

حضرت عبد الله بن مسعود ؓبیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے ہم سے فرمایا: تم لوگ عمارتیں نہ بناؤ ورنہ تم دنیامیں راغب ہوجاؤ گے۔پھر حضرت عبد اللهؓ نے فرمایا: براذ ان میں جو کچھ ہے (وہ بھی تمہارے سامنے ہے) اور مدینہ میں جو کچھ ہے (وہ بھی تمہارے سامنے ہے)

عَبْدُ اللَّهِ وَبِرَاذَانَ مَا بِرَاذَانَ وَبِالْمَدِينَةِ مَا بِالْمَدِينَةِ ← لَنَا رَسُولُ اللَّهِ «لَا تَتَّخِذُوا الضَّيْعَةَ فَتَرْغَبُوا فِي الدُّنْيَا» ثُمَّ ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أَبِيهِ ← الْمُغِيرَةِ بْنِ سَعْدِ بْنِ الْأَخْرَمِ ← شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 122

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 123

123 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ قَالَ: قَالَ لِي مَسْرُوقٌ، أَخْبَرَنِي أَبُوكَ، «أَنَّ شَجَرَةً أَنْذَرَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِنِّ»

ابوعبیدہ کہتے ہیں: مسروق نے مجھ سے کہا: مجھے تمہارے والد(یعنی حضرت عبدالله بن مسعود ؓنے یہ بات بتائی ہے کہ جنات سے ملاقات کی رات ایک درخت نے نبی اکرمﷺکو ڈرانے کی کوشش کی تھی۔

أَبُوكَ، «أَنَّ شَجَرَةً أَنْذَرَتِ النَّبِيَّ بِالْجِنِّ» ← لِي مَسْرُوقٌ: ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← مِسْعَرٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 123

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 124

124 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ [ص:221]، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ «مِنْ كُلِّ شَيْءٍ قَدْ أُوتِيَ نَبِيُّكُمْ عِلْمَهُ إِلَّا مِنْ خَمْسٍ إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ إِلَى آخِرِ السُّورَةِ»

حضرت عبد الله بن مسعودؓ بیان فرماتے ہیں: تمہارے نبیﷺ کو ہر چیز کاعلم عطا کیا گیا تھاصرف پانچ چیزوں کا(حکم مختلف ہے) (ارشاد باری تعالیٰ ہے)”بے شک قیامت کا علم الله تعالیٰ کے ہی پاس ہے"۔سورت کے آخر تک ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، [ص:372] ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← مِسْعَرٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 124

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 125

125 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ الْيَشْكُرِيِّ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ: اللَّهُمَّ أَمْتِعْنِي بِزَوْجِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِأَبِي أَبِي سُفْيَانَ وَبِأَخِي مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعَوْتِ اللَّهَ لِآجَالٍ مَضْرُوبَةٍ، وَلِآمَادٍ مَبْلُوغَةٍ، وَلِأَرْزَاقٍ مَقْسُومَةٍ لَا يَتَقَدَّمُ مِنْهَا شَيْءُ قَبْلَ أَجَلِهِ، وَلَا يَتَأَخَّرُ مِنْهَا شَيْءٌ بَعْدَ حِلِّهِ، وَلَوْ كُنْتِ سَأَلْتِ اللَّهِ أَنْ يُنْجِيَكِ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ، وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ كَانَ خَيْرًا أَوْ أَفْضَلَ» قَالَ: وَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ تَرَاهُمْ مِنْ نَسْلِ الَّذِينَ كَانُوا مُسِخُوا أَوْ مِنْ شَيْءٍ كَانَ قَبْلَ ذَلِكَ فَقَالَ: «لَا بَلْ مِنْ شَيْءٍ كَانَ قَبْلَ ذَلِكَ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَمْ يُهْلِكْ قَوْمًا قَطُّ فَيَجْعَلُ لَهُمْ نَسْلًا وَلَا عَاقِبَةً، وَلَكِنَّهُمْ مِنْ شَيْءٍ كَانَ قَبْلَ ذَلِكَ»

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں : سیدہ اُم حبیبہؓ نے دعا کی۔”اے اللہ! تو میرے شوہرنبی اکرمﷺ میرے والد ابوسفیان اور میرے بھائی معاد یہ کولمبی زندگی دینا“۔ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :تم نے الله تعالیٰ سے ایسی چیز کے بارے میں دعا کی ہے، جس کا وقت متعین مدت ہے، جس کی آخری حد مقرر ہے اور جس کا رزق مقررشدہ ہے ۔ اس کی متعین مدت سے پہلے کوئی چیز نہیں آسکتی اور کوئی چیز اس سے تاخیر نہیں کر سکتی۔ جب وہ وقت ختم ہوجائے گا۔ اگرتم الله تعالیٰ سے یہ دعامانگتی کہ الله تعالیٰ تمہیں جہنم کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے نجات دے تو زیادہ بہتر تھا۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں )افضل تھا ۔راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺسے بندروں اور خنزیروں کے بارے میں دریافت کیا گیا: آپ ﷺکی کیا رائے ہے کہ یہ ان لوگوں کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں جنہیں مسخ کر دیا گیا تھا؟ یا یہ اس سے پہلے کی کوئی چیز ہے؟ نبی اکرم ﷺنے فرمایا نہیں!یہ اس سے پہلے کی کوئی چیز ہے ،کیونکہ الله تعالیٰ جب بھی کسی قوم کو ہلاکت کا شکار کرتا ہے ،تو ان کی نسل اور ان لوگوں کا انجام ان لوگوں کی شکل میں ہوتا ہے، جو ان سے پہلےبھی موجود ہوں۔

وَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ← بِأَبِي أَبِي سُفْيَانَ وَبِأَخِي مُعَاوِيَةَ ← أُمُّ حَبِيبَةَ: اللَّهُمَّ أَمْتِعْنِي بِزَوْجِي رَسُولِ اللَّهِ ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ← المغيرة اليشكري ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← مُرَّۃُ ← مِسْعَرٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 125

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 126

126 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ قَالَ: ثنا الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ [ص:222]: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ: " إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، فَيَكُونَ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهَ إِلَيْهَ الْمَلَكَ بِأَرْبَعٍ كَلِمَاتٍ فَيَقُولُ اكْتُبْ عَمَلَهُ، وَأَجَلَهُ، وَشَقِيًّا أَوْ سَعِيدًا، ثُمَّ يَنْفُخُ فِيهِ الرُّوحَ، ثُمَّ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلَ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ فَلْيَسْبِقْ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلَ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلَهَا، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلاَّ ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلُهَا"

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں۔ بنی اکرم ﷺ نے ہمیں یہ حدیث سنائی آپ ﷺ سچے ہیں اور آپ ﷺ کی تصدیق کی گئی۔(آپ ﷺ نے فرمایا:)"ہر شخص کے نطفے کو اس ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک رکھا جاتا ہے ، پھر وہ اتنے ہی عرصے تک جمے ہوئے خون کی صورت میں رہتا ہے ، پھر وہ اتنے ہی عرصے تک گوشت کے لوتھڑے کی صورت میں رہتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ چار چیزوں کے ہمرا ہ فرشتے کو اس کی طرف بھیجتا ہے اور فرماتا ہے تم اس کا عمل کی زندگی کی آخری حد، اس کا بد بخت یانیک بخت ہونا تحریر کر دو۔ پھر وہ فرشتہ اس میں روح پھونک دیتا ہے"۔پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، آدمی اہل جہنم کے سے عمل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کے جہنم کے درمیان ایک بالشت کا فاصلہ رہ جاتا ہے ۔ تو تقدیر کا لکھا ہو ا اس سے آگے نکل جاتا ہے اور اہل جنت کا سا عمل کرتا اور جنت میں داخل ہو جاتا ہے ۔ اور ایک شخص زندگی بھر اہل جنت کے سے عمل کرتا رہتا ہے ،یہاں تک کہ اس کے اور اہل جنت کے درمیان ایک بالشت کا فاصلہ رہ جاتا ہے ، تو تقدیر کا لکھا ہوا اس سے آگے نکل جاتا ہے اور وہ اہل جہنم کا سا عمل کرتا ہے اور اس میں داخل ہو جاتا ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 126

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 127

127 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ: لَا يَجْعَلَنَّ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ مِنْ صَلَاتِهِ جُزْءًا يَرَى أَنَّ حَتْمًا عَلَيْهِ أَنْ لَا يَنْصَرِفَ يَعْنِي إِلَّا عَنْ يَمِينِهِ وَقَدْ «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرُ مَا يَنْصَرِفُ عَنْ شِمَالِهِ»

حضر ت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں : کوئی بھی شخص نماز میں سے شیطان کے لیے کوئی حصہ مقر ر ہر گز نہ کرے۔ وہ یہ نہ سمجھے کہ اس پر یہ بات لازم ہے کہ وہ (نماز سے فارغ ہونے کے بعد ) صرف دائیں طرف سے ہی اٹھ سکتا ہے ، کیو نکہ میں نے نبی اکرمﷺ کو کئی مرتبہ بائیں طرف سے اٹھتے ہوئے دیکھا ہے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ← عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 127

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 128

128 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا ذَرٍّ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَإِنَّ الرَّحْمَةَ تُواجِهُهُ فَلَا يَمْسَحِ الْحَصَى» قَالَ سُفْيَانُ: فَقَالَ لَهُ سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ: مَنْ أَبُو الْأَحْوَصِ؟ كَالْمُغْضَبِ عَلَيْهِ حِينَ حَدَّثَ عَنْ رَجُلٍ مَجْهُولٍ لَا يَعْرِفُهُ فَقَالَ لَهُ الزُّهْرِيُّ: أَمَا تَعْرِفُ الشَّيْخَ مَوْلَى بَنِي غِفَارٍ الَّذِي كَانَ يُصَلِّي فِي الرَّوْضَةِ؟ وَجَعَلَ يَصِفُهُ لَهُ وَسَعْدٌ لَا يَعْرِفُهُ

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرمﷺ نے ارشادفرمایا ہے: "جب کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہو،تو رحمت اس کے مد مقابل ہوتی ہے ، تو وہ کنکریوں پر ہا تھ نہ پھیرے"سفیان کہتے ہیں :سعد بن ابراہیم نے ان سے دریافت کیا: ابو الاحوص کون ہیں؟ گویا سعد نے زہری پر ناراضگی کا اظہار کیا، کہ انہوں نے ایک مجہول شخص کے حوالے سے حدیث بیان کی ہے ،جس سے وہ واقف نہیں ہیں، تو زہری نے ان سے کہا: کیا آپ بنو غفار کے اس عمر رسیدہ غلام سےواقف نہیں ہیں؟جو باغ میں نماز ادا کیا کرتا تھا، تو زہری اس کا تعارف بیان کرتے رہے ، لیکن سعد بن ابراہیم اس کو نہیں پہچان سکے۔

أَبَا ذَرٍّ ← أَنَّهُ ← أَبَا الْأَحْوَصِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 128

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 129

129 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ جُعْدُبَةَ اللَّيْثِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مِخْرَاقٍ يَحَدِّثُ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ فِي الْجَنَّةِ رِيحًا بَعْدَ الرِّيحِ تِسْعَ سِنِينَ، وَإِنَّ مِنْ دُونِهَا بَابًا مُغْلَقًا، وَإِنَّمَا يَأْتِيكُمُ الرِّيحُ مِنْ خَلَلِ ذَلِكَ الْبَابِ وَلَوْ فُتِحَ لَأَذْرَتْ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ وَهِيَ عِنْدَ اللَّهِ الْأَزْيَبُ وَهِيَ فِيكُمُ الْجَنُوبُ»

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: "بے شک الله تعالی نے جنت میں ہوا کو پیدا کرنے کے سات سال بعد جنت میں ایک بو پیدا کی ہے اس کے آگے ایک بند دروازہ ہے یہ ہو اتمہارے پاس اس دروازے میں موجود دروازے کے درمیان میں موجود کشادہ جگہ سے آتی ہے۔ اگر اس دروازے کو کھول دیا جائے ،تویہ ہوا آسمان اور زمین میں موجود ہر چیزتک پہنچ جائے۔ الله تعالی کی بارگاہ میں یہ ازیب یعنی (تیزی سے چلنے والی ہوا) ہے۔تمہارے درمیان (یہ جنوب سے آنے والی ہواہے)" ۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِخْرَاقٍ، ← يَزِيدُ بْنُ جُعْدُبَةَ اللَّيْثِيُّ أَنَّهُ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 129

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 130

130 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ قُلْتُ لِمُحَمَّدِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ بَرَكَةَ هَلْ رَأَيْتَ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيَّ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، كَانَ يَنْزِلُ عَلَيْنَا فَقُلْتُ: هَلْ سَمِعْتَ مِنْهُ شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يَقُولُ: كُنْتُ أَمْشِي خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي: «يَا أَبَا ذَرٍّ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟» فَقُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ»

عمرو بن میمون بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے سنا :میں نبی اکرمﷺکے پیچھے چلتا ہو اجا رہا تھا آپ ﷺنے مجھ سے فرمایا: اے ابوذر! کیا میں تمہار ی رہنمائی جنت کے خزانے کی طرف نہ کروں؟ میں نے عرض کی:یارسول الله (ﷺ)جی ہاں۔ نبی اکرمﷺنے فرمایا:وہ یہ ہے۔ لا حول ولا قوة إلا بالله . "الله تعالی کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا"۔

كُنْتُ أَمْشِي خَلْفَ رَسُولِ اللهِ ← أَبَا ذَرٍّ ← عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← نَعَمْ ← مِنْهُ شَيْئًا. ← نَعَمْ، كَانَ يَنْزِلُ عَلَيْنَا فَقُلْتُ: هَلْ ← قُلْتُ لِمُحَمَّدِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ بَرَكَةَ هَلْ رَأَيْتَ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيَّ؟ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 130

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 131

131 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ الْغِفَارِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «إِيمَانُ بِاللَّهِ وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ» [ص:225] قَالَ: قُلْتُ: فَأَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «أَغْلَاهَا أَثْمَانًا وَأَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا» قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَقْدِرْ عَلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: «فَتُعِينُ صَانِعًا أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ» قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ ذَلِكَ؟ قَالَ «فَتَكُفُّ أَذَاكَ عَنِ النَّاسِ فَإِنَّهَا صَدَقَةُ تَصَّدَّقُ بِهَا عَلَى نَفْسِكَ»

حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی یارسول الله (ﷺ)! کون ساعمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟آپ ﷺنے فرمایا: الله تعالی پر ایمان رکھنا اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی :کون ساغلام زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا: جس کی قیمت زیادہ ہو جو اپنے مالک کے نزدیک عمدہ ہو۔ میں نے عرض کی :اگر میں اس کی قدرت نہ رکھوں۔ آپﷺ نے فرمایا: پھرتم کسی کام کرنے والے کی مددکر د یا کسی جاہل یا(اپاہج) کے لیے کوئی کام کر دو۔ میں نے عرض کی: اگر میں اس کی بھی استطاعت نہ رکھوں۔ آپ ﷺنے فرمایا: پھرتم لوگوں کو تکلیف پہنچانے سے بچو،کیونکہ یہ صدقہ ہے، جوتم اپنے آپ پرکروگے۔

قُلْتُ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← اَبِیُ مُرَاوِحِ الْغِفَارِیِّ ← أَبِي ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 131

chevron_left Previous
1…101112…63
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter