Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1

1 - أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ أَبُو مُحَمَّدٍ، ثنا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْوَالِبِيِّ، عَنْ أَسْمَاءِ بْنِ الْحَكَمِ الْفَزَارِيِّ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: كُنْتُ إِذَا سَمِعْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا نَفَعَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِمَا شَاءَ أَنْ يَنَفَعَنِي مِنْهُ، وَإِذَا حَدَّثَنِي غَيْرُهُ اسْتَحْلَفْتُهُ فَإِذَا حَلَفَ لِي صَدَّقْتُهُ، فَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ وَصَدَقَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَيْسَ مِنْ عَبْدٍ يُذْنِبُ ذَنْبًا فَيَقُومُ فَيَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ» . قَالَ سُفْيَانُ وَحَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَادَ فِيهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «وَيَتَبَرَّرُ» يَعْنِي يُصَلِّي

اسماء بن حکم فراری بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت علی بن طالبؓ ‏ کو یہ ارشادفرماتے ہوئے سنا: جب میں نبی اکرمﷺ کی زبانی کوئی حدیث سنتا تھا، تو الله تعالیٰ نے اپنی مشیت کے مطابق مجھے اس سے جونفع دینا ہوتا تھا الله تعالیٰ مجھے وہ نفع دے دیتا تھا اور جب کوئی دوسرا شخص مجھے کوئی حدیث سناتا تھا، تو میں اس سے حلف لیتا تھا، جب وہ میرے سامنے حلف اٹھا لیتا، تو میں اس کی بات کی تصدیق کردیتا تھا۔حضرت ابو بکر ؓنے مجھے یہ حدیث سنائی اور حضرت ابوبکرؓ نے مجھے سچ بیان کیاوہ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشادفرماتے ہوئے سنا ہے ،جوبھی بندہ کسی گناہ کا ارتکاب کرے اور پھر اٹھ کر وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے ،پھر دو رکعت نمازادا کرے ، پھر الله تعالیٰ سے مغفرت طلب کرے ، تو الله تعالی ٰاس کی مغفرت کردیتا ہے۔ سفیان نامی راوی کہتے ہیں: یہ روایت ایک اور سند کے ہمراہ اسی کی مانند منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ شخص نیکی حاصل کرنے کی کوشش کرے (راوی کہتے ہیں:) یعنی وہ نماز ادا کرے۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← أَسْمَاءَ بْنِ الْحَكَمِ الْفَزَارِيِّ ← عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْوَالِبِيِّ ← عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيِّ ← مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ أَبُو مُحَمَّدٍ،

Hadith 1

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 2

2 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ الدِّمَشْقِيُّ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ سُلَيْمَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَوْسَطَ الْبَجَلِيَّ وَهُوَ عَلَى مِنْبَرِ حِمْصٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ يَقُولُ وَهُوَ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ خَنَقَتْهُ الْعَبْرَةُ ثُمَّ عَادَ فَخَنَقَتْهُ الْعَبْرَةُ ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَامَ الْأَوَّلِ: «سَلُوا اللَّهَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فَإِنَّهُ مَا أُوتِيَ عَبْدٌ بَعْدَ يَقِينٍ شَيْئًا خَيْرًا مِنَ الْعَافِيَةِ»

اوسط بجلی نے ’’حمص‘‘ کے منبر پر یہ بات بیان کی وہ کہتے ہیں: میں نے حضرت ابوبکر صدیق ؓکو نبی اکرمﷺ کے منبر پر یہ ارشادفرماتے ہوئے سنا ہے ،وہ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺکو سنا‘ تو رونے کی وجہ سے حضرت ابوبکرؓ کی آواز حلق میں اٹک گئی پھر انہوں نے دوبارہ بات شروع کرنا چاہی تو ان کی آواز پھر اٹک گئی۔ پھر انہوں نے یہ بات بیان کی میں نے گزشتہ سال نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: تم لوگ اللہ تعالیٰ سے معافی اور عافیت مانگو‘ کیونکہ کسی بھی بندے کو یقین کے بعد کوئی ایسی چیزنہیں دی گئی ‘جو عافیت سے بہتر ہو۔

رَسُولِ اللَّهِ ← رَسُولَ اللَّهِ ثُمَّ خَنَقَتْهُ الْعَبْرَةُ ثُمَّ عَادَ فَخَنَقَتْهُ الْعَبْرَةُ ثُمَّ ← وَهُوَ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ ← أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، ← أَوْسَطَ الْبَجَلِيَّ وَهُوَ عَلَى مِنْبَرِ حِمْصٍ ← سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ الدِّمَشْقِيُّ ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 2

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 3

3 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ قَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ هَذِهِ الْآيَةَ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ} [المائدة: 105] وَإِنَّا سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «النَّاسُ إِذَا رَأَوُا الظَّالِمَ فَلَمْ يَأْخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ يُوشِكُ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابٍ» .

قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : حضرت ابوبکر صدیقؓ نے کھڑے ہوئے انہوں نے الله تعالی کی حمد وثناء بیان کی پھر انہوں نے یہ بات بیان کی:اے لوگو! تم لوگ یہ آیت تلاوت کرتے ہو۔’’ اے ایمان والو تم پر اپنی فکر لازم ہے ‘ اگر تم ہدایت یافتہ ہو‘تو جو شخص گمراہ ہے ‘وہ تمہیں کچھ نقصان نہیں پہنچائے گا‘‘(حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا :)ہم نے اللہ کے رسولﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :"لوگ جب ظالم کو دیکھیں گے اور اس کے ہاتھوں کو نہیں پکڑیں گے تو عنقریب ان سب لوگوں پر الله تعالی کا عذاب نازل ہوگا“۔

إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 3

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 4

4 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، ثنا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْوَالِبِيِّ، عَنْ أَسْمَاءِ بْنِ الْحَكَمِ الْفَزَارِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: كُنْتُ إِذَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا نَفَعَنِي اللَّهُ بِمَا شَاءَ مِنْهُ، فَإِذَا حَدَّثَنِي غَيْرُهُ اسْتَحْلَفْتُهُ، فَإِذَا حَلَفَ لِي صَدَّقْتُهُ وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ حَدَّثَنِي [ص:1 50] وَصَدَقَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ رَجُلٍ يُذْنِبُ ذَنْبًا فَيَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ» قَالَ مِسْعَرٌ «ثُمَّ يُصَلِّي» وَقَالَ سُفْيَانُ «ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ فَيَسْتَغْفِرُ اللَّهَ إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ»

اسماء بن حکم فزاری حضرت علی ابو طالبؓ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: جب میں نبی اکرم ﷺ کی زبانی کوئی حدیث سنتا تھا‘ تو الله تعالی کو جومنظور ہوتا تھا وہ اس حدیث کے ذریعے مجھے نفع عطا کر دیتا تھا‘ لیکن جب کوئی دوسراشخص مجھے کوئی حدیث سناتا تھا تو میں اس سے حلف لیا کرتا تھا، جب وہ میرے سامنے حلف اٹھالیتا‘ تو میں اس کی بات کی تصدیق کر دیتا تھا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے مجھے یہ حدیث سنائی اور حضرت ابوبکرؓ نے سچ بیان کیا۔ انہوں نے یہ بات بیان کی نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا ہے: جوبھی بندہ کسی گناہ کا ارتکاب کرے اور پھر وہ وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے۔ یہاں مسعرنامی راوی نے یہ ا لفاظ نقل کیے ہیں:’’ پھر وہ نماز ادا کرے۔‘‘ جبکہ سفیان نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: "پھر وہ دو رکعت نماز ادا کرے اور الله تعالی سے مغفرت طلب کرے تو اس کی مغفرت ہوجاتی ہے"۔

[ص:1 وَصَدَقَ أَبُو بَكْرٍ ← غَيْرُهُ اسْتَحْلَفْتُهُ، فَإِذَا حَلَفَ لِي صَدَّقْتُهُ وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ ← مِنْ رَسُولِ اللهِ حَدِيثًا نَفَعَنِي اللَّهُ بِمَا شَاءَ مِنْهُ فَإِذَا ← كُنْتُُ إذَا ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← أَسْمَاءَ بْنِ الْحَكَمِ الْفَزَارِيِّ ← عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْوَالِبِيِّ ← عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيِّ ← مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، ← وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 4

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 5

5 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ثنا سَعْدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ يَقُولُ: مَا حَدَّثَنِي مُحَدِّثٌ حَدِيثًا لَمْ أَسْمَعْهُ أَنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا أَمَرْتُهُ أَنْ يُقْسِمَ بِاللَّهِ لَهُوَ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا أَبُو بَكْرٍ فَإِنَّهُ كَانَ لَا يَكْذِبُ، فَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا ذَكَرَ عَبْدٌ ذَنْبًا أَذْنَبَهُ فَقَامَ حِينَ يَذْكُرُ ذَنْبَهُ ذَلِكَ فَيَتَوَضَّأُ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ اسْتَغْفَرَ اللَّهَ لِذَنْبِهِ ذَلِكَ إِلَّا غُفِرَ لَهُ»

ابوسعید مقبری بیان کرتے ہیں انہوں نے حضرت علی بن ابوطالبؓ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا جب بھی کسی حدیث بیان کرنے والے نے مجھے کوئی ایسی حدیث سنائی جو میں نے خود نبی اکرم ﷺ کی زبانی نہ سنی ہو تو میں اسے یہ ہدایت کرتا تھا کہ وہ اللہ کے نام کی قسم اٹھائے کہ اس نے نبی اکرم ﷺکی زبانی یہ بات سنی ہے۔ صرف حضرت ابو بکرؓ کے ساتھ ایسا نہیں کرتا تھا، کیونکہ وہ غلط بیانی نہیں کرتے تھے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی کہ انہوں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جب کسی شخص کو کوئی ایسا گناہ یاد آئے جس کا ارتکاب اس نے کیا ہو‘ تو جب اسے اپنا گناہ یاد آئے اس وقت اگر وہ اٹھ کر وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرلے پھر دو رکعت نماز ادا کرے ‘پھر اپنے اس گناہ کی الله تعالی سے مغفرت طلب کرے ‘تو اس کی مغفرت ہوجاتی ہے۔

جَدِّهِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، ← سَعْدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 5

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 6

6 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ: مَرَرْتُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَهُوَ يَتَغَيَّظُ عَلَى رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقُلْتُ: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ مَنْ هَذَا الَّذِي تَغَيَّظُ عَلَيْهِ؟ قَالَ: وَلِمَ تَسْأَلُ عَنْهُ؟ قُلْتُ: أَضْرِبُ عُنُقَهُ، قَالَ: فَوَاللَّهِ لَأَذْهَبَ غَضَبَهُ مَا قُلْتَ , ثُمَّ قَالَ: «مَا كَانَتْ لِأَحَدٍ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

ابوبرزہ بیان کرتے ہیں: میں حضرت ابو بکر صدیقؓ کے پاس سے گزراوہ اپنے ساتھیوں میں سے ایک صاحب پر ناراضگی کا اظہار کر رہے تھے۔میں نے دریافت کیا :اے اللہ کے رسول ﷺ کے خلیفہ ! یہ کون شخص ہے،جس پر آپ ناراضگی کا اظہار کررہے ہیں؟ حضرت ابوکرؓ نےدریافت کیا:تم اس کے بارے میں کیوں پوچھ رہے ہو؟ میں نے جواب دیا میں اس کی گردن اڑادیتا ہوں۔راوی کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں نے جو کہا تھا اس بات نے حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے غصے کو ختم کر دیا پھر انہوں نے ارشاد فرمایا : حضرت محمد (ﷺ)! کے بعد اور کسی کے لیے یہ بات مناسب نہیں( کہ اس کی ناراضگی کی وجہ سے کسی کوقتل کیا جائے)۔

أَبِي بَرْزَةَ: ← أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الْاَعْمَشِ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 6

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 7

7 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ الرَّصَاصِيُّ، ثنا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَ بْنَ عَامِرٍ رَجُلًا مِنْ حِمْيَرَ يُحَدِّثُ عَنْ أَوْسَطَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَوْسَطَ الْبَجَلِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ حِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْأَوَّلِ مَقَامِيَ هَذَا ثُمَّ بَكَى فَقَالَ: «عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ فَإِنَّهُ مَعَ الْبِرِّ وَهُمَا فِي الْجَنَّةِ، وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ فَإِنَّهُ مَعَ الْفُجُورِ وَإِنَّهُمَا فِي النَّارِ، وَاسْأَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ فَإِنَّهُ لَمْ يُؤْتَ عَبْدٌ بَعْدَ الْيَقِينِ خَيْرًا مِنَ الْعَافِيَةِ» قَالَ: «وَلَا تَقَاطَعُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا» .

اوسط بن اسماعیل بجلی حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: جب نبی اکرم ﷺ کا وصال ہوا تو انہوں نے حضرت ابو بکر ؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا : گزشتہ سال نبی اکرم ﷺ اسی جگہ کھڑے ہوئے تھے‘ پھر وہ (یعنی حضرت ابو بکرؓ ) رونے لگے تو نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا:"تم پر سچائی اختیارکرنا لازم ہے کیونکہ وہ نیکی کے ساتھ ہوتی ہے اور یہ دونوں جنت میں ہوں گی اور تم پر جھوٹ سے بچنالازم ہے کیونکہ وہ گناہوں کے ساتھ ہوتا ہے اور یہ دونوں جہنم میں ہوں گے ۔ تم لوگ اللہ تعالی سے عافیت طلب کرو، کیونکہ کسی بھی بندے کویقین کے بعد ایسی کوئی چیز نہیں دی گئی ، جوعا فیت سے زیادہ بہتر ہو"۔نبی اکرمﷺ نے یہ بات بھی ارشادفرمائی : ’’ آپس میں لاتعلقی اختیار نہ کرو‘ ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرو، ایک دوسرے پرغصہ نہ رکھو۔ ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، اللہ کے بندے اور بھائی‘ بھائی بن کے رہو‘‘۔

أَبِي بَكْرٍ،أَنَّهُ سَمِعَهُ حِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ ← أوسط بن إسماعيل بن أوسط البجلي ← سُلَيْمَ بْنَ عَامِرٍ، رَجُلًا مِنْ حِمْيَرَ ← يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ الرَّصَاصِيُّ ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 7

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 8

8 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ثنا الزُّهْرِيُّ سَمِعْتُ أَبَا عُبَيْدٍ يَقُولُ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ صِيَامِ هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ: يَوْمِ الْفِطْرِ، وَيَوْمِ الْأَضْحَى , فَأَمَّا يَوْمُ الْفِطْرِ فَيَوْمُ فِطْرِكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ، وَأَمَّا يَوْمُ الْأَضْحَى فَكُلُوا فِيهِ مِنْ لَحْمِ نُسُكِكُمْ " ثُمَّ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَوَافَقَ ذَلِكَ يَوْمَ جُمُعَةٍ , فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ هَذَا يَوْمٌ اجْتَمَعَ فِيهِ عِيدَانِ لِلْمُسْلِمِينَ فَمَنْ كَانَ هَاهُنَا مِنْ أَهْلِ الْعَوَالِي فَأَحَبَّ أَنْ يَذْهَبَ فَقَدْ أَذِنَّا لَهُ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَمْكُثَ فَلْيَمْكُثْ» ثُمَّ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ قَالَ: «لَا يَأْكُلَنَّ أَحَدُكُمْ مِنْ لَحْمِ نُسُكِهِ فَوْقَ ثَلَاثٍ» قَالَ أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ قُلْتُ لِسُفْيَانَ: إِنَّهُمْ يَرْفَعُونَ هَذِهِ الْكَلِمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ سُفْيَانُ لَا أَحْفَظُهَا مَرْفُوعَةً وَهِيَ مَنْسُوخَةٌ

ابوعبیدہ بیان کرتے ہیں: میں حضرت عمر بن خطابؓ کے ساتھ عید کی نماز میں شریک ہوا انہوں نے خطبہ دینے سے پہلے نماز ادا کی پھر یہ بات بیان کی۔ نبی اکرم ﷺ نے ان دودنوں کا روزہ رکھنے سے منع کیا ہے۔ عید الفطر کا دن اور عید الا ضحیٰ کا دن، جہاں تک عید الفطر کے دن کا تعلق ہے، تو یہ ایک ایسا دن ہے ‘جب تم روزے رکھنے ختم کر دیتے ہو‘ تو اس دن تم کھاؤ پیو گے۔ جہاں تک عید الاضحیٰ کے دن کاتعلق ہے، تو اس دن تم اپنی قربانی کا گوشت کھاؤ۔ (راوی کہتے ہیں:) پھر میں حضرت عثمان غنی ؓ کی اقتداء میں عید کی نماز میں شریک ہوا تو اس دن جمعہ بھی تھا انہوں نے خطے سے پہلے نماز ادا کی پھر یہ بات بیان کی: آج وہ دن ہے‘ جس میں الله تعالی نے مسلمانوں کے لیے دو عیدیں اکٹھی کر دی ہیں‘ تو یہاں نواحی علاقوں میں رہنے والے جولوگ موجود ہیں ان میں سے اگر کوئی شخص واپس جانا چاہے ، تو ہم اسے اجازت دیتے ہیں اور جو شخص ٹھہرنا چاہے وہ ٹھہر جائے۔(راوی کہتے ہیں:) پھر میں حضرت علی بن ابوطالب ؓ کی اقتداء میں عید کی نماز میں شریک ہوا توانہوں نے خطبے سے پہلے نماز ادا کی اور یہ بات ارشاد فرمائی۔ کوئی بھی شخص اپنی قربانی کے گوشت کو تین دن سے زیادہ ہرگز نہ کھائے۔ امام ابوبکر حمیدی ؒ بیان کرتے ہیں : محدثین نے تو یہ کلمات حضرت علی بن ابوطالبؓ کے حوالے سے’’مرفوع‘‘حدیث کے طور پر منقول نہیں ہے ویسے بھی یہ روایت’’منسوخ‘‘ہے۔

شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَبَدَأَ بِالصَّلاَةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ وَقَالَ ← أَبَا عُبَيْدٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 8

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 9

9 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَرْجِسَ يَقُولُ: رَأَيْتُ الْأُصَيْلِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَتَى الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ فَقَبَّلَهُ، ثُمَّ قَالَ: «وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ»

عبدالله بن سرجس بیان کرتے ہیں : میں نے’’آگے سے کم بالوں والے‘‘ حضرت عمر بن خطاب ؓکو دیکھا وہ حجر اسود کے پاس آئے ، انہوں نے اس کا بوسہ لیا پھر وہ بولے: الله کی قسم ! میں یہ بات جانتا ہوں کہ تم ایک پتھر ہو تم کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے اگر میں نے نبی اکرم ﷺ کوتمہیں بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا، تو میں تمہیں بوسہ نہ دیتا۔

رَأَيْتُ الْأُصَيْلِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَتَى الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ فَقَبَّلَهُ، ثُمَّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 9

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 10

10 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا يَحْيَى بْنُ صَبِيحٍ الْخُرَاسَانِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ قَالَ: إِنِّي أَحْسَبُ أَنَّكُمْ تَأْكُلُونَ شَجَرَتَيْنِ يَعْنِي خَبِيثَتَيْنِ الْبَصَلَ وَالثُّومَ فَإِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ فَاعِلِينَ فَاقْتُلُوهُمَا بِالنُّضْجِ ثُمَّ كُلُوهُمَا فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجِدُ رِيحَهُ مِنَ الرَّجُلِ فَيَأْمُرُ بِهِ فَيَخْرُجُ إِلَى الْبَقِيعِ "

معدان بن ابوطلحہ یعمری ، حضرت عمر بن خطابؓ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، میں یہ سمجھتا ہوں کہ تم لوگ ان دو درختوں ۔ حضرت عمر ؓ کی مراد دو بودار درخت پیاز اور لہسن تھے ( کی پیداوار کھاتے ہو ) اگر تم نے ضرور ایسا کرنا ہے تم پکا کر ان کی بو کو ختم کر دو پھر انہیں کھاؤ ، کیونکہ مجھے نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات یاد ہے کہ اگر آ پﷺ کو کسی شخص سے اس کی بو محسوس ہوتی تو آپ اس کے بارے میں حکم دیتے تھے، تو اسے ’بقيع‘ کی طرف نکال دیا جاتا تھا۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ ← مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ، ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← قَتَادَةَ ← يَحْيَى بْنُ صُبَيْحٍ الْخُرَاسَانِيُّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 10

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 11

11 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا حُصَيْنٌ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ يُحَدِّثُ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِثْلَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَذْكُرْ حُصَيْنٌ مَعْدَانَ

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت عمر بن خطاب ؓ کے حوالے سے منقول ہے اس میں حصین نامی راوی نے معدان نامی راوی کا تذکرہ نہیں کیا۔

النَّبِيِّ وَلَمْ يَذْكُرْ حُصَيْنٌ مَعْدَانَ ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِثْلَهُ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← حُصَيْنٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 11

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 12

12 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَوَّلًا قَبْلَ أَنْ نَلْقَى الزُّهْرِيَّ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ قَالَ: أَتَيْتُ بِمِائَةِ دِينَارٍ أَبْغِي بِهَا صَرْفًا، فَقَالَ طَلْحَةُ: عِنْدَنَا صَرْفٌ انْتَظِرْ يَأْتِي خَازِنُنَا مِنَ الْغَابَةِ وَأَخَذَ مِنِّي الْمِائَةَ دِينَارٍ [ص:154] فَقَالَ لِي عُمَرُ: " لَا تُفْارِقْهُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا» فَلَمَّا جَاءَ الزُّهْرِيُّ لَمْ يَذْكُرْ هَذَا الْكَلَامَ وَسَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ النَّصْرِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا» قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: قَالَ سُفْيَانُ: وَهَذَا أَصَحُّ حَدِيثٍ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا يَعْنِي فِي الصَّرْفِ

حضرت مالک بن اوس ؓبیان کرتے ہیں : میں ایک سو دینار لے کہ آیا میں ان کے ذریعے بیع صرف کرنا چاہتا تھا‘ تو حضرت طلحہ ؓ بولے: ہم بیع صرف کرنا چاہتے ہیں تم انتظار کرو تا کہ ہمارا خزانچی’’غابہ‘‘سے آجائے انہوں نے مجھ سے ایک سو دینار وصول کر لیے تو حضرت عمر بن خطاب ؓنے مجھ سے فرمایا:تم اس سے الگ نہ ہونا، کیونکہ میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :چاندی کے عوض میں سونے کا لین دین سود ہے ماسوائے اس کے جو دست بدست ہو۔ گندم کے عوض میں گندم کا لین دین سود ہے ماسوائے اس کے جو دست بدست ہو۔ جو کے عوض میں جو کالین دین سود ہے ماسوائے اس کے جو دست بدست ہو ۔کھجور کے عوض میں کھجور کالین دین سود ہے ماسوائے اس کے جودست بدست ہو۔( راوی کہتے ہیں:) جب زہری آئے ‘ تو انہوں نے اس کلام کو نقل نہیں کیا۔ ویسے میں نے زہری کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے مالک بن اوس کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، وہ کہتے ہیں : میں نے حضرت عمر بن خطاب ؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے وہ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرمﷺکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: چاندی کے عوض میں سونے کا لین دین سود ہے ماسوائے اس کے جو دست بدست ہو۔ گندم کے عوض میں گندم کالین دین سود ہے ماسوائے اس کے جو دست بدست ہو۔ جو کے عوض میں جو کا لین دین سود ہے ماسوائے اس کے جو دست بدست ہو۔ کھجور کے عوض میں کھجور کالین دین سود ہے ماسوائے اس کے جو دست بدست ہو۔ حمیدی ؓ کہتے ہیں: سفیان نے یہ بات بیان کی ہے اس بارے میں منقول احادیث میں یہ روایت سب سے زیاد ه مستند ہے۔ سفیان کی مرادیہ تھی کہ ’’بیع صرف“ کے بارے میں جو روایات منقول ہیں۔

عمرو بن دينار أولا قبل ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Hadith 12

chevron_left Previous
1234…63
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter